جوتی کلش چھلکے
آصف فرخی نے کسی زمانے میں اپنے ایک انگریزی مضمون میں محمد سلیم الرحمن کو Invisible Man لکھا تھا. اب ان وزیبل مین کا ترجمہ کیا ہو ؟ "نادیدنی آدمی” مگر نہیں؛ یا شاید "غیر مرئی آدمی”! غیر مرئی یعنی جسے کوئی دیکھ نہ سکے چھو نہ سکے!
مگر سب سے سچی بات تو میر صاحب نے کہہ رکھی ہے
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر اتا ہے میاں
ہمارے سلیم صاحب ہیں ایسے ہی ادمی: دیدنی آدمی اور دیدنی بھی وہ جس کے دید کی تاب لانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں:
وہ ادمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
سورج کو دیکھنے کی تاب بھلا کون لا سکتا ہے؟ سلیم صاحب علم و حلم خاکساری و کم امیزی کم سخنی و گم متھنی خواص والے وہ سورج ہیں جن میں تابش رخشندگی و نورانیت تو بدرجہ اتم ہے مگر تپش تمازت تابکاری حدت و شدت نام کو نہیں جو لمعانیت و تابانیت کا خزانہ اور نورانیت اور تزہر کا گنج شائگانی اور طلسمات لمعانی کا مخزن بےپایانی ہے۔
اپ ہی کہیے ایسے سورج مکھ کو دیکھنے چھونے سمجھںے کی تاب بھلا کسے ہو اور کیسے ہو؟
نہیں ہے تاب نظارہ اسی لئے شاید
وہ رخ پہ زلف سجا لیتے ہیں گہن کی طرح
مگر یہ باتیں سوشلستان بہ المعروف سوشل میڈیا کے عام ہونے سے پہلے کی ہیں۔ اپنے اپ میں سمٹے سمٹائے سلیم صاحب نے خود کو سیپ میں موتی کی طرح چھپائے رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ نہ وہ کسی ادبی محفل میں نظر آتے نہ ریڈیو ٹی وی اخبارات کی زینت بنتے۔ اب کوئی انہیں دیکھے تو کیسے دیکھے؟
تب سلیم صاحب کو زیادہ تر کچھ ثقہ ادیب و شاعر اور چند جغادری قسم کے لکھاری ہی جانتے تھے۔ جو جانتے تھے ان میں سے بھی مجھ جیسے اکثر ان کے نام سے ہی واقف ہوتے تھے انہیں دیکھا بہت کم لوگوں نے تھا۔ اس نہ دیکھنے میں بھی قصور ان لوگوں کا نہیں تھا۔ سلیم صاحب نے خود ہی اپنے آپ کو کچھ ایسا لُکا چھپا رکھا تھا جیسے اگلے زمانوں کی بہو بیٹیاں خود کو پردوں کے پیچھے گپت رکھتی تھیں۔
چار پانچ سال پہلے سلیم صاحب کے بارے میں ایک چھوٹی سی تحریر لکھتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ
” آج کے سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والی نئی پود کو شاید معلوم نہ ہو کہ محمد سلیم الرحمن کون ہے؟”۔
تب یہ بات بالکل درست تھی۔ لیکن پچھلے پانچ سات سال میں سوشل میڈیا پر متحرک محمود الحسن اور ان جیسے چند اور جواں عمر لکھاریوں کی بدولت ہی اب یہ ممکن ہوا ہے کہ سلیم صاحب کا نام اور کام روایتی ذرائع ابلاغ، طباعت خانوں اور اشاعت گھروں کی نسبت زیادہ تیزی سے عام پڑھنے والوں تک پہنچنے لگا ہے۔ ایک اعتبار سے یہ مقام شکر ہی ہے ورنہ اگر سلیم صاحب کے بس میں ہوتا تو وہ اب بھی اپنے اسی گریز پا مزاج اور مسلکِ تنہائی، محفل گریزی و گوشہ گیری پر پہلے جیسے خشوع و خضوع کیساتھ ہی کار بند رہتے۔ مگر صاحب پھول کی خوشبو آخر ظاہر ہو کے رہتی ہے۔ آہوئے ختن خود کو جتنا بھی بچا کے رکھے مشکِ نافہ سب راز کھول دیتی ہے
مُشک ہے، سُنبُلِستانِ زلف ہیں ، گردِ سواد
اپنی چند سال پہلے کی محولہ بالا تحریر کے سرنامے میں دل کے نگار خانے میں سجی اس درویشِ مست حال کی کچھ تصویری جھلکیاں دکھاتے ہوئے راقم نے لکھا تھا کہ
"اگر اپ نے انوکھی چھب والے اس خاموش طبع، سادھو منش، اپنے ہی انداز کی بامرادانہ زیست کرنے والے ادیب اور اپنے طور کے منفرد انسان محمد سلیم الرحمن کی شخصیت اور مزاج کی کچھ جھلکیاں دیکھنا چاہیں تو اس زمانے میں میر کے شعر
شهروں ملکوں میں جو یه میر کہتا هے میاں
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا هے میاں
کے ائینے میں لاہور کی ایک قدیمی بستی داروغہ والا کے اس مکین کو دیکھئے جس کے نام کا خط ڈاکیہ صرف نام اور داروغہ والا، لاہور دیکھ اس کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ جو لاہور جیسے مرکز میں رہ کر لاہور کے تمام ادبی حلقوں سے بے نیاز ہے جو کسی قسم کی ادبی تقریبات میں شرکت نہیں کرتا جو کتابوں کی تقریب رونمائی میں مضمون نہیں پڑھتا۔ جو ہر قسم کی پبلک ریلیشنگ سے کوسوں دور رہتا ہے۔ مگر اس کے باوجود جو نہ صرف لاہور، نہ صرف ملک بلکہ ساری دنیا کی ادبی اور علمی سرگرمیوں سے اس حد تک واقف رہتا ہے کہ بڑے بڑے با خبر لوگ بھی ان معاملات کی آگاہی اسی کے اردو انگریزی کالموں سے پاتے ہیں۔ اسی درویش بے نوا کا نام محمد سلیم الرحمن ہے۔”
محمود الحسن نے بہت اچھا کیا کہ بیسویں اور اکیسویں صدی کے اس منفرد ترین انسان کے 90 سالہ جنم دن کو ایک تقریباتی رنگ دیتے ہوئے شایان شان طریقے پر منانے کے لیے ان کے بارے میں مسلسل کئی روز تک لکھنے لکھانے کا سلسلہ آغاز کیا ہے
اس صدی بھر کے عرصے میں سلیم صاحب نے جو کام کیا وہ پون صدی کے فعال کارکرد سفر کے اعتبار سے بلحاظ مقدار بعض لوگوں کو شاید بہت زیادہ نہ لگے مگر یہ کام جس معیار اور سطح کا ہے اس کے لیے تو کئی عمریں بھی ناکافی ہیں۔ جو ادمی بہت زیادہ رسمی تعلیمی ڈگریاں حاصل کیے بنا ہی صرف 22 سال کی عمر میں اوڈیسی جیسے فنپارے کا شاہکار ترجمہ کر کر گزرا ہو، اس جہت مئں مسلسل اشتغال کی بنا پر ترجمے کی دنیا میں ایک منفرد مثال بن چکا ہو، شاعری، افسانہ نگاری, تحقیق و تدوین اور تخلیق و تخئیل کے بحر ہائے طلسمات سر کر چکا ہو، اس کی تخلیقاتی مہمات کو جاننے سمجھنے اور اس سے لطف کشید کرنے کی حس پیدا کرنے کے لیے ہمیں کم سے کم 90 دن تو سلیم صاحب کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریبات کا یہ سماجی سلسلہ جاری رکھنا ہی چاہیے کیونکہ اس ادیبِ بے بدل، مترجمِ اجٌِل اور اپنی زندگی میں ہی ایک طلسمی داستان بن جانے والے درویشِ گوشہ نشین نے اردو ادب میں ترجمہ نگاری، نظم و نثر کے منفرد اسلوب، زبان دانی اور نئی حسیٌت کے شعور، تحقیق و تدوین اور سب سے بڑھ کر شہرت طلبی و اشتہار بازی کے اس میڈیائی دور میں گوشہ گمنامی میں رہ کر انکسار و ایثار اور بے غرضی و بے نفسی کی وہ جوت جگائی ہے جو راگ بھوپالی کے مشک و عنبر کی طرح ہمیشہ زبان و ادب اور تہذیب و فن کے مشام معطر کرتا رہے گا۔
مجھ ایسے زبان و ادب اور شعر و ثقافت کے نام لیواؤں کو اس بات پر ہمیشہ فخر کرنا چاہیے کہ ہم محمد سلیم الرحمن کے زمانے میں زندہ ہیں اور ان سے دور پار کا تعلق ہی سہی لیکن عقیدت و مؤدت کا رشتہ رکھتے ہیں۔
1961 میں بننے والی ایک فلم میں لتا منگیشکر نے راگ بھوپالی کی خوشبوؤں میں لپٹا ہوا ایک لافانی گیت گایا تھا
"جوتی کلش چھلکے”
سلیم صاحب کے 90 سالہ یوم پیدائش کے موقع پر یہ خاکسار راقم اردو کے اس نادر جوت جگا ادیب شہیر اور جگ اجیار و جگت اجیار منارۂ نور کی خدمت میں یہ چمکتا دمکتا اجلے اجالوں جیسا معطر گیت پیش کرتا ہے۔ گر قبول افتد زہے شرف
جیوتی کلش چھلکے
ہوئے گلابی، لال سنہرے
رنگ دل بادل کے
جوتی کلش چھلکے
گھر آنگن ون اپون اپون
کرتی جوتی امرت کے سینچن
منگل گھٹ ڈھلکے
جوتی کلش چھلکے
امبر کم کم کَن برسائے
پھول پنکھڑیو پر مسکائے
بِندو توہِن جل کے بندو توہن جل کے
جوتی کلش چھلکے
پات پات بروا ہریالا
دھرتی کا مکھ ہوا اُجالا
سچ سپنے کل کے سچ سپنے کل کے
جوتی کلش چھلکے
اوشا نے آنچل پھیلایا
پھیلی سکھ کی شیتل چھایا
نیچے آنچل کے نیچے آنچل کے
جوتی کلش چھلکے
جوتی یشودا، دھرتی گیٌا
نیل گگن گوپال کنہیا
شامَل چھوی جھلکے
جوتی کلش چھلکے



