بہاول نگر اور ذکر میر


پاکستان کے شہر بہاول نگر میں دو باوردی حکومتی اداروں کے درمیان مار پیٹ، ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کے اصول کا ادارہ جاتی اظہار ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کو غلط رنگ دے کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید پولیس اور فوج کے درمیان کوئی محاذ آرائی ہوئی ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں اداروں کی جانب سے ان ویڈیوز کے جائزے کے بعد مشترکہ تحقیقات کی گئی اور حقائق کا جائزہ لینے کے بعد معاملے کو پرامن طور پر حل کر لیا گیا ہے۔

اس بیانیہ سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ ”کچھ تو ہوا ہے جس کی پردہ داری ہے“

دوسری طرف اس سے پہلے اسلام آباد کی عدالت عالیہ کے چھ ججز نے 25 مارچ کو عدلیہ پر ’دباؤ‘ سے متعلق ایک خط تحریر کر ڈالا تھا

ججز کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ مئی 2023 میں ہائیکورٹ کے ایک جج کے برادر نسبتی کو مسلح افراد نے اغوا کیا اور 24 گھنٹے بعد چھوڑا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ جج کے بیٹے اور فیملی کے لوگوں کی سرویلنس کی گئی جس کے بعد برادر نسبتی کو اغوا کرنے کا فیصلہ ہوا۔

خط میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ جج کے برادر نسبتی کو حراست کے دوران بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور وڈیو بیان ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

خط میں ایک جج سرکاری گھر میں شفٹ ہوئے تو ان کے ڈرائنگ روم اور ماسٹر بیڈ روم میں کیمرے نصب تھے اور کیمرے کے ساتھ سم کارڈ بھی موجود تھا، جو آڈیو وڈیو ریکارڈنگ کسی جگہ ٹرانسمٹ کر رہا تھا۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج کے ماسٹر بیڈ روم میں بھی کیمرا لگا تھا، جج اور اس کے خاندان کی نجی وڈیو اور یو ایس بی بھی برامد ہوئی۔

مغل زمانے کی تاریخ بیان کرنے والے بزرجہمر اورنگ زیب عالمگیر کا ذکر کرنے کے بعد ایک دم آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کی درد ناک کہانی سنانے لگتے ہیں حالانکہ اورنگ زیب کی وفات کا سن 1707 ہے اور ان کا جانشین ساتواں مغل بادشاہ اعظم شاہ تھا جب کہ بہادر شاہ ظفر اس کے ایک سو تیس سال بعد 1837 میں تخت نشین ہوئے بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ اس ایک سو تیس سال کے عرصے میں کتنے مغل بادشاہوں نے عنان حکومت سنبھالی اور کس طرح امور مملکت چلاتے رہے۔

بس عام خیال یہ ہے کہ اس عرصے میں مغلوں کی سلطنت زوال پذیر ہوتی رہی اور آخرکار بہادر شاہ ظفر کو معزول کر کے رنگون بھیج دیا گیا اورنگ زیب کی وفات کے بچپن سال بعد 1760 میں شاہ عالم دوئم مغل سلطنت کے وارث بنے۔ اردو کے مشہور شاعر میر تقی میر اپنی خود نوشت سوانح حیات ”ذکر میر“ میں اپنے زمانے کے اس مغل بادشاہ کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔

”غلام قادر کا جور و ستم“

اس اثناء میں بادشاہ کے ناظر نے جو غلام قادر کو اپنا بیٹا کہا کرتا تھا غلام قادر کو لکھا کہ بادشاہ اس کی کچھ نہیں سنتا اور مرہٹوں کی طرفداری سے باز نہیں آتا اس لیے تم یہاں چلے آؤ۔ چنانچہ غلام قادر اور مرزا اسماعیل دونوں شہر پہنچے۔ بادشاہ کا خود تو کوئی زور نہیں چلتا تھا لہذا ناظر نمک حرام کے مشورہ سے غلام قادر نے قلعہ کے اندر اپنی حسب مرضی ہر طرح بندوبست کر کے بادشاہ کو اٹھا لیا۔ اس کے ساتھ انتہائی بد سلوکی سے پیش آیا اور سارے قلعہ میں تباہی مچا دی۔

شاہزادہ کو بھی ساتھ لیا اور وہ کچھ کیا جو نہ کرنا تھا۔ کثیر مال اس کے ہاتھ لگا۔ بادشاہ کی آنکھیں نکلوا دیں اور کسی اور کو بادشاہ بنالیا۔ جب اس کا مکمل تسلط ہو گیا تو خود ناظر کو بھی قید میں ڈال دیا اور شہر کے اندر سارے لوگوں کا جینا حرام کر دیا۔ اب اس کے اقتدار کی کوئی انتہا نہ تھی لہذا مرزا اسماعیل کے ساتھ معمولی سی بات پر اس کی چپقلش ہو گئی اور مال غنیمت سے اس کو ذرا سا حصہ بھی دینے سے انکار کر بیٹھا یہ صورت حال دیکھ کر مرزا اسماعیل نے مرہٹوں سے صلح کر لی۔

چنانچہ اس دوران مرہٹوں کی فوج قریب ہی پہنچ گئی اور ان کے بعض سردار شہر میں داخل ہو گئے۔ غلام قادر روہیلہ پہلے تو قلعہ بند ہو گیا۔ لیکن راتوں رات اپنی فوج اور سامان جنگ اور سارا مال و زر لے کر شہزادہ کو ہمراہ لیا، ناظر اور ان کے تمام لواحقین کو ساتھ لے کر خضری دروازہ کے راستے چپ چاپ قلعہ سے فرار ہو گیا۔

پھر شاہدرہ کے مقام پر اپنی فوج آراستہ کردی۔ مرہٹے اس کی بے حیائی دیکھ کر دریا کے اس جانب چل پڑے اور جنگ چھیڑ دی مقابلہ میں کبھی تو وہ ملعون غالب آتا اور کبھی مرہٹوں کا پلہ بھاری ہو تا قریب ایک ماہ تک جنگ ہوتی رہی۔ ایسے میں دکن کا سردار علی بہادر وہاں پہنچا اور غلام قادر کے خلاف نبرد آزما ہو گیا۔ دو تین جھڑپیں ہوئیں پھر اس نے بڑی جرات سے کام لے کر غلام قادر کو قید کر لیا۔ اس کا سارا مال و اسباب بھی چھین لیا۔ شہزادہ کو اس کے قبضہ سے چھڑا کر اپنی حراست میں لے لیا اور اسی اندھے شاہ عالم کو دوبارہ بادشاہ بنا کر قلعہ جاٹوں کے حوالہ کر دیا مرہٹوں نے بادشاہ کے لئے ایک سو روپے روزینہ مقرر کر دیا۔ لیکن سارے ملک پر خود متصرف ہو گئے۔ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ دیکھیں یہ حالت کب تک رہتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ 1947 میں ہمارے وطن میں اورنگ زیب کے جانشین ”اعظم شاہ“ نے عنان اقتدار
سنبھالی تھی اور ڈرتا ہوں کہ آج 76 سال بعد خدانخواستہ کوئی ”شاہ عالم دوئم“ منصۂ شہود پر نمودار نہ ہو جائے۔
نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے
اللّہ میرے وطن اور اس کے پچیس کروڑ عوام کی حفاظت کرے۔

Facebook Comments HS