نام میں کیا رکھا ہے : کیف الحال سے چوتھا انتخاب
پچیس سال پرانی یہ تحریر اردو ادب کی مزاحیہ صنف میں موجود قحط کو کم کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد نہ تو اہل عرب کی تذلیل ہے اور نہ ان کا مذاق اڑانا بلکہ یہ بتانا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست سے بنے انسان ہیں، جن کے زندگی گزارنے کے اپنے قاعدے قانون ہیں اب ان سے ہماری نا واقفیت کیا کیا گل کھلاتی ہے یہ ہمارا قصور ہے۔ تحریر کہ بعض حصوں سے مصنف خود بھی متفق نہیں۔ بہر حال اہالیان سعودیہ سے انتہائی معذرت کے ساتھ پڑھیں نام میں کیا رکھا ہے۔ اس مضمون کا بنیادی مقصد طرح طرح کے عجیب نام تھے جن سے لکھاری کا دوران ملازمت، سعودی عرب میں واسطہ پڑا۔
٭٭٭
قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے موہن داس کرم چند عرف گاندھی جی سے کہا تھا کہ ”گلاب کو جس نام سے بھی پکارا جائے اس سے اس کی خوش بو اور حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا“ ، مگر سعودی عرب آ کر ایسے ایسے نام سننے اور پڑھنے کو ملے کہ کہنا پڑا کہ واقعی، نام میں کیا رکھا ہے۔
رمضان کے ایک مبارک دن ”مکتب شرطہ مرور“ (یعنی دفتر ٹریفک پولیس) کام سے جانا پڑا، وہاں کے انچارج آدھے کرنل (لیفٹیننٹ کرنل، جسے عربی میں ”مقدم“ کہتے ہیں ) کو ایک تگڑا سلیوٹ کر کے پریشان کرنے کے بعد جب اپنا مدعا بیان کیا تو حضرت نے ہمارے سلیوٹ سے خوش ہو کر، درخواست پر کچھ بلا اعراب کی قرآنی عربی لکھی اور مسکرا کر عربی میں جو کچھ کہا، اس کا مطلب ہم نے صرف اتنا جانا کہ: ”سامنے کمرے میں ’بندر‘ بیٹھا ہے اُس سے مل لو!“ ۔
ہم سمجھے کہ پولیس کے ”مقدم“ ( لیفٹیننٹ کرنل) صاحب مذاق کر رہے ہیں، کمرہ مذکورہ میں گئے تو ہماری طرح ایک انتہائی خوب صورت ”نقیب“ (کیپٹن کا عربی رینک) کاندھوں پر تین نجوم سجائے بحالت روزہ، مسلسل مسواک کرتے ہوئے، اپنے اور دوسروں کے روزے سے کشتی لڑ رہا تھا۔ ہم نے اِدھر اُدھر، بندر کو ڈھونڈا مگر نہ ملا، غور سے کپتان صاحب کے سینے پر سجی نام کی عربی تختی دیکھی تو ”لوح“ پر بندر ہی کھدا دیکھا۔ ہم نے قدرے ڈرتے ”نقیب بندر“ سے انگریزی میں کنفرم کیا۔
” کیا آپ ہی بندر ہیں؟“ ۔
کپتان صاحب نے چند لمحوں کے لئے مسواک سے معذرت کی اور ہمیں شک کی نظروں سے دیکھتے کہا: ”کیا آپ داڑھی والے سانولے انگریز ہیں جو میری نیم پلیٹ پر بندر لکھا نہیں پڑھ سکتے“ ۔
عرض کی: ”یا اخی، نہیں، ہیں تو پاکستانی، مگر تصدیق چاہتے تھے“ ، اور یہ کہتے ہی اپنی درخواست معہ ”ملاحظات مقدم“ (یعنی کرنل کے ریمارکس) بھی ان کے سامنے پیش کردی۔ حضرت اپنے نام کی طرح ہنس مکھ نکلے اور چند ہی لمحوں بعد وہ ہمارے دوست بن چکے تھے۔
[ یاد رہے زیادہ تر عرب ملکوں کہ محکمہ کسٹم (جمرک) ، پاسپورٹ (جوازات) ، پولیس والے (یعنی شرطہ) ، ائر فورس اور نیوی کے اہل کار، یہ سب لوگ بھی وہی رینک استعمال کرتے ہیں جو ہمارے یہاں آرمی کے رینک ہوتے ہیں۔ ونگ کمانڈر، ایڈمرل، اے ایس پی، ڈی ایس پی، پر یونٹیو افسر یا آئی جی وغیرہ نہیں۔ لیکن یہاں کیپٹن کو ”نقیب“ ، میجر کو ”رائد“ ، لیفٹیننٹ کرنل کو ”مقدم“ ، کرنل کو ”عقید“ اور بریگیڈیئر کو ”عمید“ کہا جاتا ہے ]۔
اپنا کام نکلنے کے بعد ، از راہ معلومات اور پاکستانیوں کی پنگا لینے کی عادت سے مجبور، ہم نے چلتے چلتے بھائی بندر سے پوچھا: ”یا اخی! ایک سوال ہے، آپ کا نام بندر کس نے رکھا تھا؟“ ۔
مسواک کو سائڈ پہ رکھتے ہوئے بغیر سوچے کہنے لگے، ”میرے والد بزرگوار نے میرا نام ہمارے بادشاہ حضرت عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے بیٹے شہزادہ بندر بن عبدالعزیز کے نام پر رکھا تھا“ ۔
کہا بھائی یہ تو آپ نے اپنے نام کی کافی مفید تاریخی اہمیت بتلا دی، لگے ہاتھوں یہ بھی انکشاف کریں کہ بندر کے عربی معنی کیا ہیں؟
ان ہوں نے ہمیں پہلے ایسے دیکھا، جیسے ہم کون بنے گا کروڑ پتی کے میزبان ہوں اور امیتابھ بچن کی طرح انہیں تین چار آپشن بھی دیں گے مگر ہمارے کمپیوٹر سے اِن آپشن کو نہ پاکر انہوں نے ایک ایسا جواب دیا کہ ہم بغلیں جھانکنے لگے۔
معصومیت سے کہنے لگے : ”اس کی کیا ضرورت ہے، حضرت عبدالعزیز نے اپنے بیٹے کا نام بندر رکھا تھا تو کچھ سوچ کر ہی رکھا ہو گا“ ۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا، ”بھائی سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کے تو کم از کم سولہ بیویوں سے چالیس پینتالیس لڑکے تھے، کیا پتہ ناموں کی“ قاموس ”یعنی ڈکشنری ختم ہونے بعد جو بھی چیز سامنے آئی ہو ان ہوں نے اسی پر بیٹے کا نام رکھ دیا ہو!“ ۔
کیپٹن بندر، نے لمحے بھر کے لئے سوچا اور پھر اندھیرے میں تیر چلاتے کہا:
”میں نے کسی سے سنا ہے کہ اس کا مطلب ’بہت خوبصورت‘ کے ہوتے ہیں“ ۔
چند لمحوں بعد ہم نے اپنی معلومات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لئے ازراہ تفنن خاصی گستاخی سے حضرت بندر سے پوچھا: ”کیا آپ کے والد محترم نے اپنی کسی بیٹی کا نام ’باندری‘ بھی رکھا تھا؟“ ۔
حیرت میں پڑ کر اور تیوریوں پر بل لاتے ہماری اْن کی خاندانی معاملات میں مداخلت کو پیتے بولے،
”ہاں! مگر آپ کو کیسے علم ہوا؟“ ۔
پھر خود ہی بولے : ”سنا ہے، میرے باپ کی ایک اور ماں سے میری ایک بہن بھی ہے جس کا نام، بادشاہ عبدالعزیزؒ کی ہی ایک بیٹی شہزادی ’بندری‘ کے نام پر ہے“ ۔
ہم نے مسکرا کر، بعد شکریہ رخصت کی اجازت مانگی تو بولے : ”یا نقیب رضا، آپ کو قسم ہے، اب میرا سوال ہے کہ آپ بار بار مسکرائے کیوں!“ ۔ (نام کے آخر میں سادہ ’ی‘ کو عرب کھڑی زبر کے ساتھ الف پڑھتے ہیں جیسے اقصی کی آواز اقصا، یمنی کی یمنا اور ایسے ہی رضی کو نیا شخص رضا ہی پڑھتا تھا۔ رضی کو رضی ہی پڑھنے کے لئے ی کے نیچے دو نقطے لگانے پڑتے تھے ) ۔
ہم نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا مناسب نہ سمجھتے ہوئے، بیوقوفی کی اور سچ سچ سب کچھ بتا دیا کہ تمہارے ”قِرد“ یعنی انگریزی کے منکی کو ہم پاکستانی بندر کہتے ہیں! ۔
اپنے انتہائی خوب صورتی کے زعم میں گرفتار، ”کیپٹن بندر“ کے دل پر جیسے کئی چھریاں ایک ساتھ چل گئیں۔ ہونٹ سکڑے، پیشانی پر لمحے بھر کو تیوریاں چڑھیں، آنکھوں کی پتلیاں بھی پھڑپھڑائیں، مگر اگلے ہی لمحے وہ ہنستے ہوئے خدا حافظ کہہ کر ہم کو رخصت کر رہے تھے۔
سوئے اتفاق، چند دنوں بعد ہمیں ایک بار پھر ”مکتب شرطہ مرور“ ، میں فلائٹ لیفٹیننٹ فہیم شہزاد کیانی (بعد میں ائر وائس مارشل) کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا اور ”نقیب بندر القحطانی“ کے سامنے پھر حاضری ہوئی۔
ہم لہک کر پاس پہنچے اور ”کیف الحال یا بندر“ ، کہہ کر ان پر جھپٹ پڑے اور ”تبادلہ خشم و بوسہ“ کیا یعنی سعودی اسٹائل میں پہلے ناک سے ناک رگڑی اور پھر ایک دوسرے کے گالوں پر چوما چاٹی کی پچ پچ کی۔
بیٹھنے لگے، تو نقیب بندر شرمندہ شرمندہ سے بولے :
”یا نقیب رضا، آپ مجھے بندر نہ کہا کرو، آپ تو اپنے ہو، مجھے پلیز ابو فیصل کہہ کر پکارو“ ۔ ) اہل عرب میں بہت نزدیک دوست، احباب اور رشتے دار ایک دوسرے کو اصل نام کی بجائے پہلے بیٹے کے نام کے ساتھ ”ابو“ یا ”ام“ لگا کر پکارتے ہیں۔ کیپٹن بندر نے مجھ جیسے خارجی سے خود کو بندر کہلوانے کی بجائے گہرا دوست بنا لینا افضل جانا اور یوں اپنی کنیت ”ابو فیصل“ کے نام سے پکارنے کی دعوت دی) ۔
ہم نے یہاں کے کئی اہل زبان سے بندر کا عربی مطلب پوچھا تو اکثریت سے پتہ چلا کہ اس کے کوئی معنی نہیں، بجز ملک عبدالعزیز نے اپنے بیٹے کا نام بندر رکھا تھا۔ لیکن ایک بہت تگڑی عربی کی قاموس یعنی ڈکشنری سے پتہ چلا کہ اس کے عمومی معنی بندرگاہ، ساحلی شہر وغیرہ کے زمرے میں بھی آتے ہیں، اسی لئے آج بھی کراچی بندر، کیٹی بندر، شاہ بندر اور گدو بندر (گدو بیراج کے پاس دریائی بندرگاہ) کے الفاظ اردو دانوں کی نظروں سے گزر رہے ہیں۔ ویسے ہمیں شک ہے، کہیں ایسا نہ ہوا ہو کہ پہلے عرب بندر بچے کی دائی برصغیر سے رہی ہو اور بچہ دیکھ کر اس کے منہ سے بلا اختیار ”بندر“ نکل گیا ہو اور بعد میں گردن بچانے کے لئے اس نے کہہ دیا ہو کہ اس کے معنی بہت خوب صورت کے ہیں بلکہ تین بندر تو میرے اپنے گھر میں بھی ہیں!
ویسے تو ہمارے ملک کے شمال مغربی علاقے کے لوگوں کا یہ کام ہے کہ وہ عید تو عید، بچے کی پیدائش کے دن الیکشن یا ریفرنڈم ہوا ہو، زلزلہ آیا ہو، جنگ چھڑی ہو یا اسکائی لیب گرا ہو، حسب موقع بچے کا نام رکھ دیتے ہیں، تاکہ آگے جاکر کم از کم سنہ پیدائش یاد رکھنے کا ٹنٹا تو نہ رہے۔ جانوروں کے نام پر نام رکھنا خاصہ عجیب سا لگتا لیکن ”شیر خان، شیر باز“ اور ”اسداللہ“ ٹائپ کے ناموں کے علاوہ ہم نے اپنے خان صاحبان کو کسی جانور کو عزت دیتے نہیں دیکھا یا سنا، البتہ علامہ اقبال کے شاہین کو ان ہوں نے عالم مسرت میں اتنی زیادہ عزت دے دی کہ اب رحمن کے فضل والا کوئی کوئی مولوی ہی اب یہ نام استعمال کرتا ملتا ہے۔
ویسے سن 2000 میں ”آٹھ دس سال کی عمر والے“ ، آدھے سے زائد پٹھان لڑکوں کے نام غالباً صدام ہی ہوں گے۔ بہر حال سعودیہ کے لوگ صرف اسد کو ہی قابل عزت نہیں سمجھتے بلکہ، بے مفہوم کے بندر کے علاوہ، فہد یعنی چیتا، نمل یعنی چیونٹی، نمر یعنی تیندوا، باز، شاہین، بکری، نعیمی یعنی دنبہ، غنم یا غانم اور عقاب وغیرہ کو بھی اہم سمجھتے ہیں اور اپنے بچوں کا نام ان کے نام پر بھی رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ایک مولوی صاحب سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا کہ علاقے میں آئے زلزلے کی یاد میں وہ ”ابو زلزلہ“ کہلاتے ہیں۔
ہمارے غریب پاکستان میں لوگ اپنی اولاد کا نام امیر رکھ دیتے ہیں اور امارت کا مزا لیتے ہیں چاہے بچہ ساری زندگی غریب ہی کیوں نہ رہے۔ سعودیوں کا مسئلہ الٹا ہے یہ کسر نفسی میں یا ٹوٹکے کے طور پر اپنی اولاد کا نام غریب رکھ دیتے ہیں جو ساری عمر کروڑ پتی ہونے کے باوجود نام کا غریب رہتا ہے۔ ویسے ان کے یہاں صرف لوگ ہی نام کے غریب نہیں ہوتے بلکہ یہاں ایک قبیلہ بھی ہے جس کا نام ”آل غریب“ ہے۔ (عراق کا بدنام زمانہ ابو غریب جیل یاد رہے جسے پڑھتے غُریب ہیں ) ۔
ایک صاحب سے ملے تو ان کی نیم پلیٹ پر نام لکھا تھا ”غریب آل غریب“ یعنی غریب قبیلہ سے تعلق رکھنے والے غریب صاحب۔ ویسے امیر غریب کو چھوڑیں ان کے یہاں تو ایک قبیلہ ہے جس کا نام سن کر پیٹ میں گڑبڑ شروع ہوجاتی ہے یعنی ”آل جلاب“ ۔ وجہ تسمیہ کی تحقیق کرنے کی جرات نہ ہو سکی، غالب امکان یہ ہے کہ قبیلے کا نام کسی جلاب صاحب کے نام پر پڑا ہو گا، جو ہو سکتا ہے دنیا میں جلاب کی وجہ سے آئے ہوں یا جن کا جلاب کی ایکسپورٹ امپورٹ سے کوئی تعلق رہا ہو۔ اُسی طرح جس طرح ہمارے کراچی میں کئی مولوی صاحبان ہیں جن کے خاندانی نام میں ”دارو والا“ آتا ہے، ایک ہیں جو چائے بیچتے ہیں مگر ”گینڈا والا“ کہلاتے ہیں۔
سعودی عرب میں نا ممکن ہے کہ آپ کسی ایسے سعودی سے ملیں جس کے نام میں تین سے کم لفظ ہوں۔ عموماً ہر سعودی کا نام چار لفظوں کا ہوتا ہے، پہلے دو اس کے اپنے نام، تیسرا اس کے والد کا نام اور چوتھا لفظ، قبیلے یعنی خاندان کا نام (بعض اوقات یہ دادا کا نام ہوتا ہے ) ۔ [ یہاں کسی بھی بایو ڈاٹا کے فارم میں آپ کو اپنے نام کے چار حصے بھرنے ہوتے ہیں، اسم الاول یعنی فرسٹ نیم سے اسم الاربع یعنی فورتھ نیم تک]۔
ہمارے یہاں بھی زیادہ تر سید، چوہدری وغیرہ نام کے شروع میں اور بٹ، چودھری، صدیقی، جعفری وغیرہ نام کے آخر میں استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اگر سابقہ اور لاحقہ کے بغیر کوئی ایسا بندہ سامنے آ جائے مثلاً، عمر حیات یا اقبال قاسم وغیرہ تو اس کا کوئی مذاق نہیں اڑاتا یا اس کا جینا دوبھر نہیں کرتا۔ مگر یہاں ایسا ناممکن ہے کہ کوئی باپ اور قبیلہ یا جد کے نام کے بغیر اپنا نام استعمال کر کے تو دیکھ لے۔
) آج 2024 میں البتہ بلاول زرداری جیسے نابغہ روزگار لوگ بھی دیکھ لئے جو اپنے نام کے ساتھ دادا اور نانا دونوں کا خاندانی نام ساتھ لے کر سیاست کر رہے ہیں۔ بقول ہمارے 36 سالہ بلاول کی شادی اگر کسی سید گھرانے میں ہو گئی تو مستقبل میں ہمارے وزیراعظم کا نام ”سید بلاول شاہ بھٹو زرداری“ بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی شادی کے بعد یہ سسرال (یا بیگم) کا خاندانی نسب بھی ساتھ لے کر چلیں گے ) ۔
ہمیں دفاع المدنی (شہری دفاع) کے ہیڈکوارٹر واقع شہر ریاض میں، ”مہندس الطیران“ Aviation Engineer، ”رائد (اسکواڈرن لیڈر) وقاص منیر“ کا جدہ سے سفارشی پیغام ملا کہ مجھے بحیثیت ”میجر“ مملکت آئے 3 ماہ ہوچکے ہیں۔ مگر میری تنخواہ ابھی تک میرے بنک اکاؤنٹ میں نہیں پہنچی؟ جب کہ میں تمام ”فارمیلیٹیز“ عرصہ پہلے پوری کرچکا ہوں اور کسی سے پتہ کرانے پر پتہ چلا ہے کہ تنخواہ لینے والے افسران کی فہرست میں ابھی تک میرا نام شامل نہیں ہوا ہے۔
بقول شاعر: ”کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر“
کام ہمارا نہ تھا مگر یہ علم تھا کہ مملکت میں آ کر پہلے عمرے اور بیوی، بچوں کی مملکت آمد کے لئے تڑپ اگر صرف بری ہوتی ہے تو اْن سے بھی زیادہ بری اور بڑی تڑپ پہلی تنخواہ کے لئے ہوتی ہے، سو مدد کرنی پڑی۔
دفاع المدنی کے کمپیوٹر سسٹم سے کھیلنا ہماری روٹی روزی تھی۔ اس لئے افسران کی ”ملف رواتب“ (یعنی تنخواہ کی فائل) میں جھانکا تو واقعی وقاص منیر نہ ملے جب کہ ان کے بعد آنے والے تمام لوگ اپنے اپنے ناموں اور تنخواہوں سمیت موجود تھے اور پاکستانی اسکواڈرن لیڈر صاحب کا شکوہ بجا تھا۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ابھی تک مخصوص personnel number جس کو یہاں ”رقم العام“ (سروس نمبر) اور پاک فضائیہ میں ”پاک نمبر“ کہا جاتا ہے، ”شؤن الضباط“ یعنی officers directorate سے ہی جاری نہیں ہوا تھا۔ طریقہ کار کے مطابق رقم العام، آمد کے دو ہفتے بعد تک جاری ہو جانا چاہیے تھا اور اِن کے بعد آنے والوں کو مل بھی چکا تھا، لیکن یہ بچارے، وائے رے قسمت ان کی!
بہرحال ”شؤن الضباط“ میں حاضری دے کر مسئلہ مذکورہ کی بابت استفسار کیا تو ”متعلقہ نائب مدیر“ (ڈپٹی ڈائریکٹر) نے پہلے ہم کو عزت سے ”اِجلس“ کیا یعنی بٹھایا، پھر ”تمر و گہوہ“ (کھجور و قہوہ ) پیش کیا اور آخر میں جب ہم نے ”سعودی چینک“ کو ہتھیلی سے ڈھانپتے اور ہلاتے ہوئے ”نو مور ٹی“ کا سگنل دیا تو نائب مدیر نے یک دم عربی میں جھاڑ پلانا شروع کردی کہ تم پاکستانی کیسے لوگ ہو، ایک ایسے شخص کو سعودیہ بھیج دیا جس کے باپ اور حسب نسب کا بھی نہیں پتہ؟
ہم ہکا بکا، حیران پریشان، ان کا منہ تکتے رہ گئے، انہیں کیا بتاتے کہ کتنی بڑی گالی وہ ہمیں اور ہمارے fellow کو دے گئے ہیں۔ انہیں تمیز سے ٹوٹی پھوٹی عربی میں سمجھا کر ان کی غلطی کا احساس دلایا تو بولے مجھے پتہ ہے کہ یہ گالی ہے کیوں کہ یہاں بھی اس کا وہی مطلب ہے جو تم مجھے سمجھا رہے ہو! تلملا کر پوچھا: ”یا اخی، کس اتھارٹی پر آپ نے اتنی بڑی بات کہہ دی؟“ ۔
کہنے لگے، سیدھی سی بات ہے۔ میجر صاحب کا اصل نام ہے، ”وقاص“ ، ”منیر“ ، ان کا سیکنڈ نیم ہے اور چونکہ تیسرا یعنی باپ کا نام اور چوتھا یعنی قبیلے کا نام، میجر صاحب کے نام کے ساتھ نہیں لکھے، اس لئے تم چاہے کچھ کہو، اور بہتر ہو گا یہاں کسی اور سے بھی پوچھ بھی لو ہر ایک یہی کہے گا کہ میری بات سچ ہے کیونکہ بالفاظ دیگر، ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ ۔
بار ثبوت، انہوں نے اسکواڈرن لیڈر وقاص کے ہاتھ سے بھرا ان کے بایو ڈاٹا کا فارم ان کی فائل سے نکال کر ہمارے سامنے کر دیا۔ جس میں اسم الثلاثہ (تھرڈ نیم) اور اسم الاربع خالی تھے۔ (اپنا سر پیٹتے دل چاہا بتلا دیں کہ تمہارے ریکارڈ میں ہمارے والد کا نام بھی ”الدین“ اور قبیلہ کا نام ”احمد“ لکھا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ) ۔
ہم نے لاکھ سمجھایا کہ ہمارے پاکستان میں خاندان کا نام اور باپ کا نام، پورے نام کے ساتھ لکھنا آپ کے ملک کے قانون کی طرح ضروری نہیں تو وہ بھڑک کر بولے، ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تو غیر اسلامی، غیر شرعی اور سنت کے عین خلاف ہے“ ۔ پھر انہوں نے ثقیل عربی میں ایک حدیث سنائی اور ساتھ میں بتایا کہ اس کی رو سے ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور اپنی اولاد کے نام کے ساتھ ”ابا“ اور ”اجداد“ کا نام ضرور استعمال کرے۔
ہم نے کہا آپ کی بات یقیناً درست ہوگی مگر ہم نے کہیں بھی اپنے پیارے نبی ﷺ کا نام ”محمد بن عبداللہ القریشی“ یا ”محمد بن عبداللہ الابراہیمی“ لکھا نہیں پڑھا بلکہ خود ہمارے نبی ﷺنے جو خطوط دوسرے ممالک کے فرماں رواؤں کو لکھے اس میں صرف ”محمد بن عبداللہ“ تحریر تھا، اور چلیں اگر انہوں نے نہیں بھی لکھا تو آپ لوگ کیوں ان متبرک ہستیوں یعنی انبیاء اور صحابہ اکرام کے پورے نام نہیں لکھتے؟ ، اس لئے آپ کی یہ دلیل ہمارے حلق سے تو نیچے نہیں اترتی۔
نائب مدیر، بجائے ہماری اسلامی تاریخ سے متاثر ہو کر ہماری پیٹھ ٹھونکتے، ان ہوں نے ہمیں ایسے کھا جانے والی نظروں سے غصہ کے ساتھ دیکھا کہ ہمیں لگا کہ ہم نے پاکستان میں کسی کے سامنے کہہ دیا ہو کہ قرآن کے فاضل کاغذات کو احترام سے جلانا جائز ہے! اور بس ہمارے قتل کا فتوی نکلنے ہی والا ہو۔ بہر حال، دوسرے ہی لمحے، ہم نے پینترا بدلتے ہوئے گناہ کا سارا بوجھ، گوروں پر ڈال دیا جو ہم پر نوے سال حکومت کر کے ہماری نو سو سال کی عادات بگاڑ کر چلے گئے تھے اور رائد (اسکواڈرن لیڈر) وقاص منیر کے ادھورے نام کو اسی سازش کا شاخسانہ قرار دے دیا۔
ہماری تدبیر کچھ کارگر ثابت ہوئی اور مقدم صاحب کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا۔ اب ہم نے اپنے ترکش کا آخری تیر اس خوب صورتی سے چلایا کہ حضرت بولڈ ہو گئے۔ کہا، جب حکومت پاکستان نے افسر مذکورہ کے کاغذات آپ لوگوں کو بھجوائے تھے تو آپ لوگوں نے، اس وقت باپ اور حسب نسب کی فرمائش کیوں نہیں کی تھی؟ میجر صاحب یہاں آنے کے چکر میں کچھ نہ کچھ بندوبست کر کے اپنے ساتھ لاتے۔ اب تو میجر صاحب اپنا پروبیشن کا دور بھی مکمل کرچکے ہیں، اس لئے برداشت کریں، اور رقم العام جاری کریں۔
اس تیکنیکی نکتہ سے متاثر ہونے کے بعد ، ان ہوں نے ایک ایسا مسئلہ پیش کیا کہ بقلم خود، میں مشکل میں پھنس گیا اور اس لمحے ہم نے اپنی برانچ کے جد امجدوں ونگ کمانڈر معین اور ونگ کمانڈر ریاض قدیر (بعد ازاں ائر کموڈور) کو یاد کیا جنہوں نے سالوں پہلے دفاع المدنی کے مرکز معلومات کا کمپیوٹر سسٹم، سعودیوں کی ضرورت کے مطابق ڈیزائن کیا تھا۔
مسئلہ یہ نکلا کہ کمپیوٹر میں چیک لگا ہوا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کا نام ہی قبول ہی نہیں کرتا تھا جس کے نام کے ساتھ باپ اور قبیلے کا نام موجود نہ ہو یا بلینک spaces ہو (البتہ سیکنڈ نیم کا خالی ہونا ممکن تھا) اور جو فارم ہمارے اسکواڈرن لیڈر نے جدہ سے بھر کر بھیجا تھا اس میں بھی ظاہر ہے دونوں متنازعہ خانے خالی تھے۔ لازماً اب ہمیں ہی کچھ کرنا تھا اور وہ بھی اس طرح کہ جو کچھ بھی کریں وہ قانون، ”اقامے“ پر موجود نام اور پاسپورٹ پر موجود نام سے مکمل ہم آہنگ ہو۔ نائب مدیر نے ہمیں ایک ظالمانہ مسکراہٹ دیتے ہوئے رخصت کی اجازت دی اور کہا۔
”جاؤ موج کرو، اس مسئلہ کا حل تلاش کرو اور جب کمپیوٹر میں اس طرح کے نام کا اضافہ کرنے کی سہولت آ جائے تو میں حاضر ہوں گا“ ۔
اپنے دفتر جاکر سعودی شائے پی اور پروگراموں میں جھانکتے رہے مگر کوئی حل نہ ملا، نام کی جگہ خالی spaces ڈالنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ بہر حال سعودی شائے کہ چوتھے کپ کے بعد استخارہ نکالا تو قرآن سے پتہ چلا کہ ہر آدم کی ابتداء ایک نطفہ سے ہوتی ہے، نطفہ سے ایک نقطہ ذہن میں آیا اور یوں ہمارا مسئلہ حل ہو پایا اور حضرت وقاص منیر کا نام کمپیوٹر میں چلا گیا۔ بھاگم بھاگ شؤن الضباط پہنچے اور نائب مدیر کو ”شاشہ“ یعنی مونیٹر پر نام ڈسپلے کروا کر ہاتھ کے ہاتھ رقم العام لگوایا (وہ بھی اس عالم میں کہ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا) اور پھر واپس دوسرے دفتر جاکر رقیب مسفر الشمرانی یعنی طبیب رواتب (پے اکاؤنٹنٹ) سے تنخواہ بنوائی اور یوں اہالیان جدہ سے ثواب سمیٹا۔
اب یہ راز ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا۔ اسکواڈرن لیڈر وقاص منیر کے باپ کے نام کی جگہ چھوٹا سا نقطہ اور قبیلے کے نام کی جگہ بھی ڈاٹ ٹائپ کر کے داخل ملف (فائل) کیا۔ اب جب بھی ان کے نام کی انکوائری ہوتی ہے، اسکرین پر بظاہر عربی میں رائد وقاص منیر ہی لکھا آتا ہے مگر جس کے ساتھ لگے دو چھوٹے سے نقطے بھی صرف صاحب بصارت کو ہی نظر آرہے ہوتے ہیں (یعنی ہم کو ) ، لیکن ہم نے اس واقعہ کے بعد سے سر وقاص کا نام ”وقاص نقطین“ یعنی ”دو نقطوں والا وقاص“ رکھ دیا۔ (کچھ عرصے بعد ہم نے سسٹم میں ایک چیک لگا دیا کہ ڈسپلے اور پرنٹ کرتے وقت اگر نام کی جگہ نقطہ ہو تو اس کو سسٹم سنگل اسپیس متصور کرے۔ یوں کچھ دنوں بعد سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی) ۔
واقعی نام میں کیا رکھا ہے لیکن اگر غلط رکھ دیا جائے تو بہت کچھ رکھا ہے۔


