کمزور ریاست کے طاقتور ستون


فزکس کے کچھ قوانین ہیں جن کے تحت کائنات کی گہرائیوں میں گردش کرتے ستارے مسلسل اپنے سفر پر گامزن رہتے ہیں، ایک اصول اور قانون کے تحت کلسٹر کی شکل میں نیبولاز کی وجہ سے نئے ستاروں کی تخلیق ہوتی ہے اور کچھ ستاروں کا خاتمہ ہوتا ہے جو بلیک ہول کا سبب بنتے ہیں۔ خدا نے قوانین اور اصولوں کے تحت ہی کائنات اور رقص کرتے ستاروں کی تخلیق کی جو ہر ستارے کو اپنے مدار تک محدود رکھتے ہیں۔

ریاست بھی کچھ اصولوں اور قوانین کے تحت چلتی ہے، وہ اصول جس کو ملک کا آئین طے کرتا ہے اور ان اصولوں کو ملک میں نافذ کرنے اور ملک چلانے کے لئے ان ستونوں کا سہارا لیا جاتا جو ریاست کو اس کی رٹ قائم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاست کے یہ ستون ملک کو ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بنائیں لیکن کچھ کیسز میں اس کے برعکس ہوتا ہے جس میں اس کے ستون تو طاقتور ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن ریاست کمزور اور کھوکھلی ہوتی جاتی ہے۔

ایک وقت وہ آتا ہے کہ جب یہ ستون جو کہ ملک کو ایک نظام کے تحت چلانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کا سبب بن جاتے ہیں، ریاست کے ستون جب خود ریاست پر ہی بوجھ بن جائیں اور ریاست کو ہی بند کرنے پر لگ جائیں تو ایسی لڑکھڑاتی ریاست کیا ہی کسی دوسرے ترقی یافتہ ملک کو چنوتی دینے کی قابلیت رکھتی ہوگی۔

یہی ستون جب اسٹیبلشمنٹ کی شکل میں ہوتا ہے تو ملک کی حکومت کو بچوں کے کھلونے کی طرح تبدیل کر کے جمہوری تسلسل کو متاثر کرنے اور جمہوریت کی کمزوری کی وجہ بنتا ہے، ملک میں سب سے اثرانداز ادارے ہونے کی وجہ سے ملک کا سارا نظام اپنے تابع کرنے کے بعد ایسی پالیسیز کو بنانا مقصد بن جاتا ہے جو ذاتی بزنسز کو پروموٹ کرنے کے لئے استعمال ہوں، مختلف محکموں میں ٹیکسز کی چھوٹ لے کر خود کو ایلیٹ کلاس اور فیوڈل کلاس طبقے میں شامل کرنا ہدف بن جاتا ہے۔

اس سے نقصان صرف ملک اور ملک کی معیشت کو ہوتا ہے جو براہ راست ملک کی عوام کو متاثر کرتی ہے۔ بہاولنگر جیسے واقعات عام ہونے لگتے ہیں جس میں ایک گروہ بتاتا ہے کہ وہ ملک کے قانون سے بالاتر اور باقی سب اداروں سے طاقتور ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک کلاس، طبقہ اور ستون تو طاقتور اور امیر ہو جاتا ہے جبکہ ریاست کمزور اور اس کا خزانہ خالی ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہی ستون جب بیوروکریسی ہو تو اسکندر مرزا کی صورت میں ملک میں پہلے مارشل لاء لگائے جانے کا سبب بنتی ہے، ایوب خان کے ساتھ مل کر ایسی سازشی کلچر کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہے جو ملک کے فقط 10 سالوں میں 8 وزیراعظم کے تبدیلی کا غیر جمہوری بیج ملکی سیاست میں بو دیتی ہے۔ غلام اسحاق خان کا بینظیر اور نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنا ایک اور اندھیر نگری کی اپنی مثال ہے، بھارت کے آزاد ہونے کے بعد سویلین بیوروکریسی نے ملک کے آئین اور ملک کے سیاستدانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا جس سے وہاں آمریتی سوچ کو پنپنے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا، نتیجتاً حکومت پر عوام کے اعتماد اور پالیسیز کے تسلسل کی وجہ سے وہاں کی معیشت نے ترقی کی اور آج انوسٹمنٹ کے لئے دنیا کی سب سے بڑی منڈی بن کے ابھر رہا ہے لیکن پاکستان کی سویلین بیوروکریسی نے سیاستدانوں کے بجائے ڈکٹیٹرز کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جس سے آمریت نے ملک میں پنجے گاڑے اور افراتفری حالات کی وجہ سے یہاں نہ انوسٹمنٹ آ سکی نہ معیشت مضبوط ہو سکی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ براہ راست فیصلوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے ریاست کا ستون تو طاقتور ہوتا چلا گیا لیکن ریاست کمزور ہوتی رہی

یہی ستون جب عدلیہ کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے تو جسٹس منیر اور جسٹس انوار الحق جیسے کردار نظریہ ضرورت کا نام دے کر غیر آئینی اقدام کو بھی قانونی جواز پیش کر دیتے ہیں، ضیا اور مشرف کے مارشل لاء کو عدلیہ کی حمایت دے کر ملک میں جمہوریت کا بچا کچھا گلا بھی گھونٹ دیتے ہیں۔ عدلیہ ہی نے وہ ٹول بننے کی حامی بھری جس کی وجہ سے نواز شریف کو اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا، گیلانی کو وزیراعظم کی کرسی سے اترنا پڑا، 1990 کی دہائی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور نواز شریف کے ٹکراؤ کی پالیسی سے ملک میں جمہوری راج کو اور کمزور کیا گیا جس سے آمریتی سوچ پروان چڑھی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست کو یہ ستون تو خود کو طاقتور منوا لیتا ہے جو ملک کے سویلین حکومت کو کمزور کر دینے کا سبب بنا اور ریاست کی کمزوری اور نمایاں ہوئی۔

یہی ستون جب پارلیمنٹ کی صورت میں ہو تو لیگل فریم ورک اور پی سی او جیسے آرڈیننس کی حمایت کر کے غیر آئینی حکومت کو آئینی بنانے کا جواز دیتی ہے، کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے آرٹیفیشل سیکرٹ ایکٹ اور پیکا جیسے قانون کی منظوری کر کے کنٹرولڈ جمہوریت کو مزید تقویت دیتی ہے، اپنے مفادات کی خاطر جنرل باجوہ کی ایکسٹنشن کی حمایت کر کے قانونی رکاوٹ بھی دنوں میں دور کرلی جاتی ہے جبکہ عوامی فلاح کے بل سالہا سال منظور ہونے کی راہ تکتے رہتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی خودمختاری تب بھی سوال بن جاتی ہے جب سینیٹ سے بلز غائب ہونے لگ جائیں، صدر سے آرڈیننس کے ذریعے ملکی معاملات چلنے لگ پڑیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے اس سے ایک طبقہ تو طاقتور بن جاتا ہے لیکن جمہوریت اور ریاست کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔

یہی ستون جب میڈیا کی صورت میں ہو تو پیمرا قوانین کے ذریعے اس کو بھی بلیک میل کیا جانے لگتا ہے، ریاست کے اندر کی ریاست میں جو موقف بنایا جاتا ہے اس کو حقیقت بنا کر پیش کیا جانے کا ٹاسک میڈیا کو سونپ دیا جاتا ہے، جو ایسا کرنے سے انکار کرے اس پر پیمرا ایکٹ کی خلاف ورزی کا نام دے کر چینل کو بند کر دیا جاتا ہے اور اس کو حکومتی اشتہار نہ دے کر اس کے بزنس کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اب چونکہ ملک کا زیادہ تر میڈیا بزنس مین کے ہاتھوں میں ہے تو ظاہر ہے کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کا بزنس متاثر ہو۔

پس وہ یک طرفہ اور کنٹرولڈ پالیسی اپنا کر ہمیں وہ دکھاتے چلے جاتے ہیں جو ریاست کے کردار چاہتے ہیں اور ہمیں حقیقت سے پرے دھکیل دیتے ہیں ہم اگر مگر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس سے ایک طبقے کا بیانیہ تو طاقتور ہو سکتا ہے لیکن حقیقت جھٹلا کر ہم ذہنی غلامی اور قومی تقسیم کی طرف چل پڑتے ہیں جس سے جمہوریت مزید کھوکھلی ہوتی جاتی ہے۔

یہ سب کچھ ہمیں یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ آج تک ریاست تو مضبوط نہیں ہو سکی لیکن ریاست کے اندر کام کرنے والے کچھ طبقے ضرور مضبوط ہو گئے، ریاست تو آج تک معاشی میدان میں دنیا سے مقابلے کے لئے تیار نہ ہو سکی لیکن اسی ریاست کے اندر مختلف طبقات ریاستی وسائل یوز کر کے فیوڈل لارڈ اور سرمایہ دار بنتے گئے۔ چنانچہ اب ایسے لگتا ہے کہ ریاست عوام کے لئے نہیں مخصوص طبقات کے لئے کام کر رہی ہو اور اس طرح کا خیال عوامی ذہنوں میں ابھرنا آج نہیں تو کل کے انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ہو سکتا ہے۔

 

Facebook Comments HS