انسانی غلطی خدا کے سر ڈالنے کا چلن


آج کل ایک رواج سا بن گیا ہے کہ جو بھی کام بگڑ جائے اس کی ذمہ داری خودی قبول کرنے اور اس غلطی کو دوبارہ نہ دہرانے کے بجائے اس کا ملبہ یہ کہہ کر خدا کے سر ڈال دیا جاتا ہے کہ:

”اللہ کی مرضی ہی یہی تھی“
اب ہم بات کرتے ہیں کہ یہ جملہ کس حد تک خطرناک ہے اور اس کے کتنے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
اس سے پہلے میں اپنے قارئین کو یہ بتانا ضروری سمجھوں گی کہ:
تقدیر اٹل ہے اور بے شک وہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ہے
تقدیر پہ ایمان لانا ضروری ہے۔
تدبیر کے پرخچے اڑا دینے والی اگر کوئی چیز موجود ہے تو وہ ہے تقدیر۔

ہمارے ہاں ہر سانحہ کو تقدیر سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ہر خوشنما واقعہ کے رونما ہونے کا اعزاز ہم خود کو دیتے ہیں۔

بحیثیت قوم اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ ہم ایک انسان کے دوسرے انسان پہ کیے گئے ظلم کو تقدیرِ خداوندی کا نام دیتے ہیں جبکہ مظلوم میں یہ سکت ہے وہ ظالم کے خلاف آواز بلند کر سکتا ہے۔ ہم اسے یہ کہہ کر چپ کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے ولے کے لیے اجرِ عظیم رکھا ہے اور تمہاری قسمت میں یہی تھا بس صبر کرو اور دیکھو کیسا اجر ملتا ہے تمہیں۔

مظلوم پہلے سے ہی بہت ٹوٹا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت وہ کائنات کے خالق کو پکار رہا ہوتا ہے جبکہ اس کے ہاتھ، پاؤں، زبان، دماغ اس سے یہ کہہ رہے ہوتے کہ ہمارا استعمال کرو اور اس ظالم کو کیفر کردار تک پہنچاؤ لیکن مسلسل مسلسل یہ بات سماج کی طرف سے ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ اللہ کی مرضی ہی یہی تھی۔

جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو کرۂ ارض پہ بھیجا تو کیا بغیر اختیارات کے بھیجا؟

جی نہیں بالکل بھی نہیں انسان خلیفہ ہے اس کا اس زمین پہ اور بے تحاشا اختیارات کا مالک ہے مگر مظلوم وہی یاد رکھتا ہے کہ صبر کا اجر ملتا ہے اور ظالم اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ وہ کئی اور معصوم جانوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔

ظلم ہمارے سماج کی اس وقت کی سب سے بڑی ناقابلِ علاج بیماری ہے اور یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اسکی تشخیص ناممکن بنا دی گئی ہے۔
”اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی“

ایک ایسا لیبل ہے جو ہماری قوم فخر سے لگا کے خود کو آزاد محسوس کرتی ہے وہ کسی بھی واقعہ کی ذمہ داری خود قبول کرنے کو تیار نہیں۔

حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ قتل ہو جائے تو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ شیطان کے بہکاوے میں آ گیا ہو گا۔

بندہ ایسا نہیں کیا کر سکتے ہیں اب ”اللہ کی مرضی“ مقتول زندگی ہی اتنی لے کر آیا ہو گا۔
چائلڈ ایبیوز سے لے کر ریپ کے کیسز تک اس مختصر سے اسٹیکرز سے چھپا دیے جاتے ہیں۔
جب تک ہم لوگ ملبہ خدا کے سر ڈالتے رہیں گے ہم کبھی سر اٹھا کے نہیں جی پائیں گے۔
وہ بہت باوقار ہستی ہے وہ اپنے آگے جھکنے والے کو کسی کے آگے سر نہیں جھکانے دیتا۔

جو اس کے آگے سر جھکاتا ہے وہ اس کا سر بلند کرتا ہے اور جو اپنی کوتاہیوں کا ذمہ دار اس کو ٹھہرائے خود سوچیے اس کے لیے کیا ہو گا؟

آپ جو بھی ہیں، جہاں بھی ہیں خدارا اب مزید اپنی غلطیوں کا ملبہ خدا کے سر مت ڈالیں اب اس تعفن زدہ معاشرے کو صاف کرنے کے لیے جتنا ہو سکے آگاہی کو فروغ دیں۔

عین ممکن ہے کوئی آپ کی وجہ سے کھل کے جینا سیکھ لے، آپ کسی کی دعاؤں کا حصہ بن جائیں، آپ انسانیت کے محسن بن جائیں اور سب سے بڑی بات جب آپ خود سے نظریں ملائیں تو آپ مطمئن ہوں۔

بے شک اطمینان بھی ایک منزل ہے۔

Facebook Comments HS