بیٹیوں کو ایسے دوزخ سے بچائیں
چند برس پہلے کی بات ہے میں پی آئی اے کی فلائٹ سے برطانیہ کے شہر برمنگھم سے اسلام آباد آ رہا تھا۔ اُس وقت تک پی آئی اے پاکستان کی باکمال سروس کی حامل ائرلائن تھی۔ وطن واپسی کے لیے پاکستانی تارکین ِوطن کی پہلی ترجیح پی آئی اے ہوتی تھی۔ انھیں دو سہولتیں میسر تھیں۔ یورپ اور برطانیہ سے براہ راست اسلام آباد تک پرواز میں وقت کم لگتا تھا۔ دوسرے وہ دوبارہ پڑتال اور بچوں کے ساتھ سامان سمیت ایک جہاز سے اتر کر دوسرے جہاز میں سوار ہونے کی کوفت سے بچ جاتے تھے۔
میں سفر کے دوران ساتھی مسافروں سے بات چیت سے اجتناب کرتا ہوں۔ جہاز میں میری پہلی ترجیح کھڑکی والی سیٹ ہوتی ہے، جہاں بیٹھ کر میں باہر کا نظارہ کرتا ہوں اور سکون سے کتاب پڑھتا ہوں۔ اس دن بھی خوش قسمتی سے مجھے کھڑکی والی سیٹ مل گئی تھی۔ میرے ساتھ دو سیٹیں خالی تھیں۔ مسافر جہاز میں بیٹھ چکے تھے۔ اتنے میں برطانوی سیکورٹی کے دو اہلکار جہاز کے سٹیورڈ کے ساتھ آئے۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی تھی جسے انھوں نے میرے ساتھ والی سیٹ پر بٹھا دیا۔
میں نے ایک نظر اسے دیکھا، وہ بائیس تئیس سال کی خوبصورت لڑکی تھی جو اس وقت بڑی ڈری اور سہمی ہوئی تھی۔ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر لگتا تھا وہ بہت دیر تک روتی رہی ہے۔ سیکورٹی والوں نے لڑکی کو سیٹ پر بٹھا کر سٹیورڈ کے ساتھ کچھ باتیں کیں اور جہاز سے چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد سسکیوں کی آواز سن کر میں نے ساتھ والی سیٹ کی طرف دیکھا تو وہ لڑکی رو رہی تھی۔ میں نے ائر ہوسٹس کو بلا کر اس سے پانی منگوا یا۔ پانی کا گلاس لڑکی دیتے ہوئے کہا۔ بیٹا یہ پانی پی لو۔ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور گلاس لے لیا۔ پانی پی کراس نے خالی گلاس خاموشی سے میری طرف بڑھا دیا۔
تھوڑی دیر بعد میں نے اس سے پوچھا۔ ”بیٹا کیا بات ہے۔ آپ رو کیوں رہی ہو؟“ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اتنی ڈری اور سہمی ہوئی تھی کہ اس کے منہ سے بات نہیں نکل رہی تھی۔ میں بھی کچھ دیر چپ کر کے بیٹھ گیا اور کتاب پڑھنے میں مگن ہو گیا۔ ایک گھنٹہ بعد لڑکی نے میرا بازو ہلایا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگی۔ ”انکل پانی منگا دیں۔“ میں نے ائر ہوسٹس کو بلا کر اس کے لیے پانی منگوایا۔ پانی پی کر مجھے اس کے چہرے پر تھوڑا سا اطمینان نظر آیا تو میں نے اس سے پھر پوچھا۔ ”بیٹے آپ پاکستان کیوں جا رہے ہو؟“ بڑے غمگین لہجے میں اس نے جواب دیا۔ ”انکل مجھے انھوں نے برطانیہ سے نکال دیا ہے۔ “
بہت ٹھہر ٹھہر کر دھیمے دلگیر لہجے میں اس نے جو بات بتائی اسے سن کر میرا دل دہل گیا۔ اس کا نام پروین تھا۔ پروین کی کہانی اسی کی زبانی سنیے۔
”میں میرپور شہر کے نزدیکی گاؤں کی رہنے والی ہوں۔ غریب سے گھرانے سے تعلق ہے۔ میرے والد ایک سرکاری محکمے میں چپراسی کی نوکری کرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کے بہت سے افراد برطانیہ میں بستے ہیں۔ گاؤں کی بہت سی لڑکیوں کی شادیاں برطانیہ میں ان کے رشتہ داروں میں ہوئی تھی۔ میری والد کی بھی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی کی شادی بھی برطانیہ میں ہو جائے۔ اس کے لیے انھوں نے بہت سے لوگوں سے بات بھی کر رکھی تھیں۔ دو سال پہلے میں بی اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی۔
ہمارے دور کے رشتے کی ایک خالہ برطانیہ سے اپنے بیٹے کے لیے دلہن کی تلاش میں پاکستان آئیں۔ ابا کو پتہ چلا تو وہ انھیں ملنے ان کے گھر گئے۔ جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ کی طرح تھوڑے ہی دن بعد اُن خالہ کے بیٹے کے ساتھ میری شادی طے ہو گئی۔ ہم غریب تھے شادی کا خرچہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ خالہ نے ہی شادی کی تقریب کا سارا بندوبست کیا اور میری شادی ہو گئی۔ میرے گھر والے بہت خوش تھے کہ بیٹی کی شادی برطانیہ میں ہو گئی ہے کوئی جہیز بھی نہیں دینا پڑا اور خرچہ بھی کوئی نہیں ہوا۔
میں بھی بہت خوش تھی کہ برطانیہ جا کر میں راج کروں گی۔ شادی کے بعد خاوند نے ایک ہفتہ میرے ساتھ گزارا۔ ایک ہفتہ بعد وہ اور خالہ برطانیہ واپس چلے گئے۔ برطانیہ جا نے کے کچھ عرصہ بعد خالہ نے میرے ویزہ کے لیے ضروری کاغذ ات ویزہ فیس کی رقم کے ساتھ ایک بندے کے ہاتھ روانہ کیے۔ برطانیہ کا ویزہ دفتر میرپور میں ہی تھا جہاں ہم نے کیس جمع کروایا تو تین ماہ بعد میرا دو سال کا ویزہ لگ گیا۔ خالہ نے ٹکٹ بھیجا اور میں ان کے پاس برطانیہ آ گئی۔
برطانیہ پہنچ کر جو حقیقت مجھ پر کھلی وہ جان کر میرے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ میرا خاوند نشہ کرتا تھا۔ آوارہ لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا تھا۔ چھوٹی موٹی چوریاں چکاریاں بھی کرتا تھا۔ ہفتہ ہفتہ گھر نہیں آتا تھا۔ کسی نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ اس کی شادی کر دو یہ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن وہ الٹا اور خراب ہو گیا تھا۔ گھر میں میری حیثیت ایک نوکر کی تھی۔ گھر کا سارا کام میرے ذمے لگ گیا۔ گھر کی صفائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا، نندوں اور ساس کے کپڑے استری کرنا میرا کام تھا۔
گھر والوں کی آپس کی باتوں سے پتہ چلا کہ میرے خاوند کی ایک انگریز لڑکی دوست ہے جس کے ساتھ وہ رہتا ہے۔ ایک دن وہ گھر آیا تو خالہ نے اسے ڈانٹا کہ تمھاری بیوی آئی ہوئی ہے اور تم باہر آوارہ گردیاں کرتے پھر رہے ہو۔ خاوند بھی خالہ سے بہت غصے میں بولا اور کہا کہ میں تو شادی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ آپ سب نے میری زبردستی شادی کروائی ہے۔ میں اس لڑکی کو اپنی بیوی نہیں مانتا۔ آپ نے اسے بلایا ہے اس لئے اسے اپنے پاس رکھیں۔
وہ لڑائی کر کے گھر سے چلا گیا۔ بیٹے کے جانے کے بعد خالہ نے بیٹے کا سارا غصہ مجھ پر اتارتے ہوئے کہا کہ میں اپنے خاوند کو قابو نہیں کر سکی ہوں۔ میں نے جواب دیا ”خالہ جب سے میں آئی ہوں وہ ایک دن بھی میرے پاس آیا، نہ ہی میرے پاس رہا ہے، ایسے میں اسے میں کیسے قابو کر سکتی ہوں۔“ اس پر وہ چپ ہو گئیں۔ یہاں آ کر مجھے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ خالہ کی اپنے خاوند سے علیحدگی ہو چکی تھی۔ میرے سسر کہیں اور رہتے تھے، بچے ماں کے پاس رہتے تھے۔
میری دونوں نندوں کی ابھی شادیاں نہیں ہوئی تھی، وہ کام کرتی تھیں۔ صبح سویرے تیار ہو کروہ کام پر چلی جاتی تھی اور شام کو گھر واپس آتی تھیں۔ خالہ بھی اکثر باہر جاتی تھیں۔ مجھے وہ کبھی اپنے ساتھ باہر نہیں لے کر جاتے تھے۔ جب بھی گھر میں کوئی ملنے آتا تو مجھے وہ اوپر کمرے میں بھیج دیتیں۔ مجھے کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک طرح سے میں گھر میں قید تھی۔ میرے پاس فون بھی نہیں تھا۔ مہینے میں ایک بار خالہ میری ابو اور امی سے بات کرا دیتی تھیں۔ وہ بھی سامنے بیٹھ کر تا کہ میں اُن سے کوئی ایسی ویسی بات نہ کر سکوں۔ امی ابو خوش تھے کہ ان کی بیٹی برطانیہ چلی گئی ہے لیکن انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بیٹی برطانیہ میں کس طرح کی زندگی بسر کر رہی ہوں۔ خاوند کبھی کبھار ایک آدھ دن کے لیے گھر آتا لیکن میرے ساتھ کوئی بات نہیں کرتا تھا۔
مجھے برطانیہ آئے ہوئے سات آٹھ ماہ ہو گئے تھے۔ ایک دن میرا خاوند گھر آیا تو خالہ نے اسے بہت برا بھلا کہا۔ اس پر زور دیا کہ اپنی بیوی کو سنبھالو اب ہم اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ اس پر دونوں ماں بیٹے میں خوب لڑائی ہوئی۔ میرے خاوند نے ماں سے کہا کہ میں تو اس شادی سے راضی ہی نہیں تھا آپ نے زبردستی میری شادی کروائی ہے۔ آپ ہی اسے پاکستان سے لے کر آئی ہیں، اب آپ ہی اسے سنبھالیں۔ وہ لڑ جھگڑ کر ایک بار پھر گھر سے چلا گیا۔
اس کے ایک ماہ بعد پاکستان سے میرے چھوٹے بھائی کی شادی کی اطلاع آئی۔ خالہ نے مجھے کہا کہ چلو تمھارے بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان چلتے ہیں۔ میں خوشی خوشی تیار ہو گئی۔ کچھ خریداری کی اور ہم پاکستان آ گئے۔ خالہ ایک ہفتہ رہ کر واپس برطانیہ چلی گئیں اور مجھے کہا کہ تم اطمینان سے شادی میں شریک ہو ہم تمھیں بعد میں بلا لیں گے۔ میں بھائی کی شادی میں مصروف ہو گئی۔ خالہ نے برطانیہ جا کر ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
بھائی کی شادی کے دو تین ماہ بعد تک جب خالہ نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا تو ابا جان کو فکر لاحق ہو گئی۔ میں نے ایسے ہی ایک دن اپنا ٹکٹ چیک کیا تو پتہ چلا کہ وہ یک طرفہ تھا۔ ابا جی نے اپنے کسی جاننے والوں سے بات کی تو انھوں نے مشورہ دیا کہ بیٹی کا ویزہ ابھی باقی ہے۔ اسے اپنے کسی رشتہ دار کے پاس برطانیہ بھیج دو جو اس کے سسرال والوں سے بات کر کے اسے ان کے گھر چھوڑ آئیں گے۔ ابا جی نے برطانیہ میں آباد گاؤں کے ایک چودھری صاحب سے رابطہ کیا۔
انھوں نے یہ ذمہ لیا کہ وہ ائرپورٹ سے مجھے گھر لے جائیں گے اور پھر میرے سسرال والوں سے بات چیت کر کے مجھے سسرال چھوڑ آئیں گے۔ ابا جی نے پیسوں کا بندوبست کر کے میرے لئے ٹکٹ خریدا اور مجھے جہاز پر سوار کرا دیا۔ برمنگھم ائرپورٹ پر جب میں امیگریشن کا ؤنٹر پر پہنچی تو انھوں نے مجھے وہاں روک لیا۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ میرے خاوند نے ہوم آفس میں درخواست دے کر میرا ویزہ کینسل کرا کے تمام ائرپورٹ پراس کی اطلاع کرا دی ہوئی ہے۔
گاؤں کے چودھری صاحب نے ائرپورٹ پر بہت کوشش کی۔ وکیل کی خدمات بھی حاصل کیں لیکن مجھے امیگریشن احکام نے ائرپورٹ سے باہر نہیں جانے دیا۔ چار دن ائرپورٹ پر رکھ کر آج واپس بھیج دیا ہے۔ پی آئی اے حکام نے میرے والد سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ میرے ٹکٹ کی رقم لے کر ائرپورٹ پر آئیں اور لڑکی کو گھر لے جائیں۔ اب پتہ نہیں ائرپورٹ پر میرا کیا بنے گا۔ یہ کہہ کر وہ ایک بار رونے لگ گئی۔ ”
اسلام آباد ائرپورٹ پر پی آئی اے حکام نے سب سے پہلے اس لڑکی کو اپنی تحویل میں لیا۔ لڑکی کے اصرار پر میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ امیگریشن سے فارغ ہو کر ہم ان کے ساتھ ان کے دفتر میں پہنچے۔ لڑکی کے والد نے اس کی ٹکٹ کی رقم پہلے سے جمع کروا دی ہوئی تھی۔ احکام نے لڑکی کا سامان بھی وہیں منگوا لیا اور لڑکی کو اس کے والد کے حوالے کیا۔ وہ اسے لے کر چلے گئے۔ میں نے بھی اپنا سامان لیا اور ائرپورٹ سے باہر آ گیا۔ ائرپورٹ سے واپس گھر پہنچنے تک اس لڑکی کا ڈرا سہما ہوا چہرہ بار بار میری آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔ میں سوچتا رہا کہ اس بچی کا اب کیا بنے گا۔
کچھ دنوں بعد جب میں نے اس بارے میں تحقیق کی تو بہت سے دل خراش کیس میرے سامنے آئے۔ برطانیہ میں آباد کچھ خاندان اپنے بگڑے ہوئے منشیات کے عادی، غلط کاموں میں ملوث، ذہنی طور پر معذور بچوں کی شادیاں پاکستان میں غریب خاندانوں میں کرتے ہیں۔ غریب والدین اور لڑکیاں اچھے مستقبل اور بہتر زندگی گزارنے کی خواہش میں برطانیہ آ جاتی ہیں جن میں سے زیادہ تر مشکل اور دشوار زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ کچھ تیز طرار برطانیہ کے قانون کا سہارا لے کر ان کے چنگل سے آزاد ہو جاتی ہیں۔ برطانیہ میں مختلف تنظیمیں اور برطانیہ کا سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ ایسی بچیوں کو تحفظ اور قانونی مدد فراہم کرتے ہیں۔ وہ ایسی بچیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ان کے رہنے اور دوسری ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔
ایسے کیس رپورٹ ہونے پر وہ فوری کارروائی بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اب بھی بہت سی بچیاں جن میں کچھ اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں میں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ میرے ذاتی مشاہدے میں پانچ چھ کیس آئے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں جبری شادیوں کی روک تھام کے علاوہ ایسی شادیاں روکنے کے لیے برطانیہ کے امیگریشن کے قوانین میں تبدیلی بھی آئی ہے۔ ایسے کیسوں پر بڑی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ لیکن یہ والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ رشتہ کرتے وقت اچھی طرح دیکھ بھال کر لیں تا کہ بیٹی بہتر مستقبل کی خواہش میں کسی چنگل میں نہ پھنس جائے۔


