تاریخی مغالطے اور حقاٸق


مادیت کا فلسفہ ہزاروں برس سے ہے اور مادیت اپنی سرشت میں الحاد ہی ہے۔ مادیت کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کسی کی تخلیق نہیں ہے، یہ اپنے ہی داخلی قوانین کی وجہ سے متحرک ہے اور ان قوانین کو عقلی طور پر جانا جا سکتا ہے۔ قدیم یونان میں فلسفی مادے کو اول مانتے تھے اور اس کی عقلی تقاضوں کے تحت تعبیر کرتے تھے۔

فلسفیوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مذہبی خدا کو نہیں مانتا، لیکن اس کے باوجود عینیت پسند ہے جو عقلیت کا حامی ہے۔ جرمنی میں کانٹ، فختے، ہیگل اور شیلنگ وغیرہ مذہبی خدا کو نہیں مانتے تھے۔ بالکل ایسے ہی جب سپائینوزا کی کتاب ”ایتھکس“ شائع ہوئی تو اسے الحاد سے جوڑا گیا۔ ہیگل سے پہلے وحدت الوجود کو الحاد ہی سمجھا جاتا تھا۔ مہابیانیائی کتب سے عیاں ہے کہ مہابیانیائی آئیڈیالوجی والا خدا انتہائی تنگ نظر ہے، جب کہ فلسفیوں نے اسے تنگ نظری سے نجات دلائی اور ایسا عقلی، منطقی طور پر کیا۔

میرے پیش نظر یہاں چند ایک تاریخی مغالطوں کا ذکر کرنا مقصود ہے لیکن اس سے پہلے فلسفہ مادیت کی وضاحت اس لیے کرنا پڑی کہ جن معاشروں میں مادی تصورات کو بنیاد نہیں بنایا جاتا وہاں کچھ زیادہ ہی مغالطے جنم لیتے ہیں چونکہ ہمارے سماج میں حقائق کا ناتا اس دنیا سے نہیں بلکہ آسمان سے جوڑا جاتا ہے یعنی یہ کہا جاتا ہے کہ حقیقت یہ دنیا نہیں بلکہ حقیقت تو کچھ اور ہے۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ ان غیر عقلی تصورات کا گٹھ جوڑ یہاں کی اجارہ دار قوتوں سے ہوا جو کہ ان کے اپنے مفادات کے تحت تھا اور اغلب تیقن کہ ہمارے ہاں ان خلاف عقل قوتوں کی وجہ سے مغالطوں کی داستان نظر آتی ہے۔

تاریخ میں کئی بے سروپا قصے گھڑے جاتے رہے، ان میں کچھ بڑوں کے فائدے سے تعلق رکھتے تھے اور کئی ریاست سے متعلق ہوتے تھے، بہرحال مطالعہ پاکستان میں مغالطوں کے باقاعدہ رواج کا عمل دخل کچھ زیادہ ہے، مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ تشکیل پاکستان میں مذہب کا بہت کردار تھا، اگر اس بات کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو تاریخ اس کی نفی کرتی ہے۔ بڑے بڑے روٴسا اور کارِسرکار انگلستان اس تقسیم کو اپنے فیصلوں میں بہت پہلے ترتیب دے چکے تھے۔

گورے، دیش ہندوستان پر اپنے مفاد کے لیے قابض تھے۔ ہم ابھی تک یہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ ہندووٴں اور سکھوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ یہ ذکر بھی کسی مغالطے سے کم نہیں اور ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ قطعی مسلمانوں کے لیے سخت پالیسی رکھتے تھے، جب کہ نوآبادیاتی دور کی مزاحمت میں ہمیں ہندووٴں اور سکھوں کی مزاحمت برابر نظر آتی ہے۔

اس کے ساتھ کل کا سچ آج کا جھوٹ اور آج کا جھوٹ کل کا سچ ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے، سر سید احمد خان کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں جو بہت جلد سمجھ گئے تھے کہ انگریزوں کے ساتھ مفاہمت میں ہمیں آگے بڑھنا ہو گا اور وہ یہ بھی جان گئے تھے کہ ان کے پاس جدید علم ہے ہمیں ان سے سیکھنا ہو گا تبھی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، تاسّف اس بات کا ہے کہ اس وقت کے کئی علمائے دین نے سرسید کے خلاف فتوے دیے، بہرحال ہندو اور سکھ جدید علم سیکھنے کی طرف بہ نسبت مسلمانوں کے زیادہ راغب تھے وہ اس حقیقت کو جان چکے تھے کہ نجات اب اسی میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہندو اور سکھ شعور اور ترقی میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ سرسید یہ باتیں مسلمانوں کو کہتے کہتے کھپ گئے، لیکن کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔ سرسید کے فہم کا تو یہ عالم تھا کہ وہ باقاعدہ انگلستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لینے کے لیے وہاں کا دورہ بھی کر چکے تھے اس کے بعد جدید علم کی طرف ان کا اصرار بڑھتا گیا۔

دشمنی دشمنی تو بہت کھیل چکے ہیں، اب تاریخ کے اوراق میں سے کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہندووٴں کی کچھ کتب میں پڑھ اور ان کی زبانی سن رکھا ہے کہ وہ کئی مسلمان بادشاہوں کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ جب کہ ہماری تاریخ ایسے بیانیوں سے بھری پڑی ہے۔ جنگ ترائن میں شکست فاش، فلاں فلاں کو فاش۔ آخر ہم کسی بات کے دونوں رُخ کیوں نہیں دکھاتے۔ کئی بزرگوں سے پوچھ چکا ہوں کہ تقسیم سے پہلے کا ہندوستان اور ہندوستانی کیسے تھے؟

وہ تقسیم سے پہلے کی دھرتی ماتا کو یاد کرتے نہیں تھکتے، جو یادیں ستم سے عبارت ہوں وہ حافظوں میں کچھ اور طرح سے ذہن نشین رہتی ہیں، مخصوص المیے کی داستان کے پیچھے کئی سوچے سمجھے منصوبے کام کر رہے تھے بہرحال سعادت حسن منٹو کی کہانی ”گورکھ مکھ سنگھ کی وصیت“ سے ملتی جلتی کئی کہانیاں پڑھنے، سننے کو ملتی رہتی ہیں جو کہ حقائق کو وا کرتی ہیں۔ حمزہ علوی تو صاف لفظوں میں لکھتے ہیں یہ ملک مسلمان وڈیروں، جاگیرداروں نے بنایا تھا وہ ہندووٴں کے بار تلے آ چکے تھے نجات اسی میں چاہی کہ اتنا بڑا دیش دولخت ہو جائے۔

اس دعوے کا اثبات اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد کئی ہندو، سکھ بنیے یہیں رہے اور اُن کا انجام بالآخر بھیانک المیے پر منتج ہوا۔ اگر غور کریں تو نفرت کی ہوا دونوں طرف سے چلی تھی، جب ہم کرشن چندر کو پڑھتے ہیں تو عیاں ہو جاتا ہے کہ یہ کھیل ایک خاص منصوبے کے تحت کھیلا گیا اور دونوں طرف کے سادہ لوح اس کا شکار ہوئے۔

 

Facebook Comments HS