عید کا تحفہ


تحفہ محبت کا خوبصورت اظہار سمجھا جاتا ہے۔ اب چاہے وہ تحفہ سالگرہ پر دیا جائے یا عید پر یا پھر کسی اور خاص موقع پر، تحفہ دینے والا ہماری نظر میں معتبر ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی رمضان کے شروع میں ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ دوستوں کو عید پر ضرور کوئی تحفہ بھیجوں گی۔ بہت سے لوگ تحفہ خریدنے کو ایک لگژری خیال کرتے ہیں۔ مگر میں اسے آج کے زمانے کی ضرورت سمجھتی ہوں۔ آپ کے خرچ کیے گئے چند پیسے کسی کے چہرے پر رونق بکھیر سکتے ہیں۔

کسی اپنے کو خاص محسوس کروانا انسانیت کا اہم جُز ہے۔ میں نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو تحفہ ملنے پر مسکرایا نہ ہو۔ وہ ایک مسکراہٹ ہمیں خود کی نظروں میں ہی معتبر کر دیتی ہے۔ سو میں نے پیسوں کی جمع تفریق کا سلسلہ شروع کیا۔ رقم مختصر تھی سو دوستوں کی فہرست تشکیل دی اور پھر سب سے خاص دوستوں کو ہی تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ جو کہ ایک سلا سلایا جوڑا بھیجنے سے شروع ہوا۔ پھر بازار جا کر اندازہ ہوا کے اگر اس سال میں خود بھی کسی برانڈ کا ریڈی۔ ٹو۔ ویئر پہن لوں تو میرا شمار شہر کے امرا میں ہونے کا قوی امکان ہے۔ سو بات بغیر سلے کپڑوں تک گئی۔ حساب کتاب کے بعد وہ بھی بجٹ میں نہ آ سکا۔ پہلے تو خیال کیا کہ تحفہ بھیجنے کا ارادہ ہی ختم کر دوں۔ مگر پھر مجھے پہلے عشرے کا وہ دن یاد آیا جب میں نے تمام احباب سے اُن کے گھر کا پتہ مانگ کر جوش کی حدیں پار کر دی تھیں۔

اور قربان جاؤں میں اپنے دوستوں پر جنہوں نے لفظ ’انکار‘ اپنی لغت میں شامل ہی نہیں کیا۔

خیر ہر افطار کے بعد اپنے مالی حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد ، میں نے جھمکے، چوڑیاں، مہندی، چاکلیٹ اور عید کارڈ ایک خوبصورت سی پیکنگ کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

روزے میں ہانپتے خریداری کی اور سب کو پارسل کر دیں۔ اب انتظار تھا تو صرف دوستوں کے شکریہ کے پیغامات کا۔ معتبر ہو جانے کے احساس کو جتلاتے پیغامات۔

مگر کیا آپ اس شخص کی دلی کیفیت کا اندازہ کر سکتے ہیں جس کے موبائل پر نہ کوئی شکریہ کا پیغام آیا نہ کال۔

ہاں مگر مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر کچھ اسٹیٹس تھے جن میں میری بھیجی گئی چیزوں کی تصویروں کے نیچے شکریہ لکھا گیا تھا۔ جانے کسی کو مجھے پرائیویٹ میسج بھیجنے کا خیال کیوں نہ آیا؟ کیوں کے ان اسٹیٹس کے بعد میرا موبائل اُن دوستوں کے پیغامات سے بجنے لگا، جن کو میں نے کم بجٹ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دیا تھا کے بھلا ان کو کیسے ہی معلوم ہو گا۔ مگر اپنے بجتے فون سے مجھے یقین ہو گیا کے رازداری کی نعمت زمین سے اٹھا لی گئی ہے۔ اور اب ہر چیز کا اشتہار لمحوں میں چھپتا ہے، وہ بھی بالکل مفت۔ اگر آپ میری اِس داستانِ تحفہ سے ذرا بھی متاثر ہوئے ہیں اور احباب کو تحفہ بھیجنے کا ارادہ کر بیٹھے ہیں تو بس اپنا بجٹ تھوڑا زیادہ رکھیے گا ورنہ اتنے دوستوں کو آپ جانتے

بھی نہیں ہوں گے جتنے آپ سے ناراض ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS