تقسیم ہندوستان میں لاہور پر کیا گزری

لاہور کو اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یہ شہر بیک وقت بدقسمتی اور خوش بختی کا استعارہ ہے۔ خوش قسمت یوں کہ یہ ہزاروں سال سے تہذیب و تمدن کا گہوارہ ہے اور بدقسمت
ایسے کہ مختلف ادوار میں کئی ایک حملہ آور حکمرانوں کی منشا کے مطابق سیاسی، سماجی، مذہبی، معاشی اور نظریاتی رنگ بدلتا رہا ہے۔ اس خوش قسمتی اور بد قسمتی کے درمیان میں ایک بات تو قابل ذکر ہے کہ لاہور نے اپنا مرکزی وجود برقرار رکھا۔ جس کی وجہ سے یہ مورخین کی توجہ کا محور رہا۔
موجودہ لاہور کو تاریخی اہمیت و مرکزیت کے تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور: ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کا لاہور، دوسرا:تقسیم کے وقت کا لاہور اور تیسرا: تقسیم کے بعد کا لاہور۔
پہلے دو ادوار کی بات کریں تو اس پر بہت معیاری اور تاریخ ساز کام قارئین کے سامنے آ چکا ہے۔ 1892 میں شائع ہونے والی سید محمد لطیف کی کتاب ”لاہور“ اس شہر کی تاریخ کو تعمیرات، نوادرات اور تاریخی پہلووں سے اجاگر کرتی ہے۔ لاہور سے متعلق رڈیارڈ کپلنگ کی کتاب
”The City of Dreadful Night“
کے عنوان سے فکشن کے اسلوب یا ادبی انداز میں لکھی گئی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ جو کلونیل دور کے معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی حالات کو پڑھنے والوں پر آشکار کرتی ہے۔
”Lahore: A Sentimental Journey“
کے مصنف پران نویل نے لاہور کی تاریخ کو اپنے ذاتی مشاہدے اور ناسٹلجیا کی مدد سے شہر کے کلچر اور روایات کو خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے۔
”The Dancing Girls of Lahore: Selling Love and Saving Dreams in Pakistan ’s Ancient Pleasure District“
یہ لوئس براؤن کی نگارش ہے۔ یہ کتاب شاہی محلے میں رہنے والی عورت کی معاشی اور معاشرتی زندگی کو قاری کے سامنے لاتی ہے۔
فقیر سید اعجاز الدین کی کتاب
”Lahore: Illustrated Views of the 19 th Century“
تصویروں کے ذریعے انیسویں صدی کے لاہور کی تاریخ بتاتی ہے۔
عصر حاضر میں سامنے آنے والی این ٹالبوٹ اور ڈاکٹر طاہر کامران کی کتاب
”Lahore: In The Time of The Raj“
جو 2016 میں شائع ہوئی۔
اس کا اصل استدلال برطانوی استعماری و نوآبادیاتی دور میں لاہور کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی تبدیلیوں کے گرد گھومتا ہے۔ مصنفین اس بات کی کھوج لگاتے ہیں کہ لاہور برطانوی اثر و نفوذ میں کس طرح ایک شہر کے طور پر تیار ہوا۔
داخلی ترقی، انتظامی انصرام اور معاشی استحکام، اور اسی طرح مقامی معاشرت و ثقافت پر اثرات جیسے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے وہ ممکنہ طور پر اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ اس دور میں لاہور کی شناخت کس طرح تشکیل دی گئی اور یہاں کی آبادی میں نئے تہذیب و تمدن کو قبول کرنے یا اس کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے کس طرح کے رجحانات تھے۔ نوآبادیاتی رہن سہن کی پیچیدگیوں اور لاہور جیسے متحرک شہر پہ اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
یہ ایک قابل قدر علمی کام ہے۔ 2021 میں منظر عام پر آنے والی کتاب ”لاہور:اک شہر بے مثال“ جسے احمد سعید نے تحریر کیا ہے جس کی دوسری جلد 2022 میں شایع ہوئی۔ اپنے موضوع پر نہایت وقیع دستاویز ہے۔ کتاب کا بنیادی نقطہ و استدلال لاہور کو ایک ایسے شہر کے طور پر دریافت کرنا ہے جو صدیوں سے تہذیب و تمدن اور سیاست و ریاست کا مرکز رہا۔ احمد سعید متنوع ثقافتوں، زبانوں اور روایات کے امتزاج کے ساتھ ساتھ اس کے عصری چیلنجوں، جدیدیت اور عالمگیریت کے درمیان اپنے جوہر کو محفوظ رکھنے کی ضرورت کو بھی قارئین کے سامنے اجاگر کرتے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں لاہور کے مختلف پہلوؤں بشمول فن تعمیر، ادب، موسیقی، پکوان اور سماجی تال میل وغیرہ پر روشنی ڈالی ہے تاکہ شہر کے کثیرالجہتی حوالوں اور نسل در نسل متوارث میلانات کو ہر ممکن حد تک نمایاں کیا جا سکے۔
آخری دونوں ادوار پر جدید ریسرچ کے لوازمات پورے کرتے ہوئے بلکہ اس میں اپنی طرف سے بھی
قابل لحاظ اضافہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان طارق نے
”Lahore @ Partition“
تحریر کی ہے۔ اسے لاہور کے مشہور اشاعتی ادارے وین گارڈ نے شائع کیا ہے۔ ہمارے سامنے اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے جو 2024 میں منظر عام پر آیا۔ ادارے نے بھی اس کتاب کی اشاعت کا حق ادا کیا ہے۔ اسے اشاعت کتب کے عالمی معیار کے مطابق زیور طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ یہ کتاب قیام پاکستان اور اس کے بعد کے عرصے یعنی 1947 سے 1961 کے دورانیے پر مشتمل ہے۔
کتاب پر تبصرہ کرنے سے پہلے مصنف کے اس کتاب کو لکھنے سے پہلے کے سفر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ عدنان پتوکی ضلع قصور میں مشہور صحافی عبداللہ طارق سہیل کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانا فیروزپور انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان میں آباد ہوا۔ یہاں مختلف جگہوں جن میں پتوکی اور سندھ وغیرہ میں کچھ وقت گزارنے کے بعد ان کے والد نے لاہور میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ عدنان طارق نے میٹرک تک تعلیم پتوکی (جو تقسیم ہندوستان سے پہلے کاٹن کوئین کے طور پر جانا جاتا تھا) سے حاصل کی۔
گریجوایشن، ایم۔ اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک اپنی ساری تعلیم لاہور میں مکمل کی۔ انہوں نے بی۔ اے ایف سی کالج، ایم اے، ایم فل تاریخ جی سی یونیورسٹی لاہور سے اور پی ایچ ڈی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔ پی ایچ ڈی کے دوران میں انہیں اپنی ریسرچ کے فیلڈ ورک کے سلسلے میں انگلستان جانے کا بھی موقعہ ملا۔ وہاں لندن یونیورسٹی میں ان کی سپر وائزر ڈاکٹر سارہ انصاری تھیں۔ وہ تقسیم ہندوستان کی تاریخ پر ایک معتبر حوالہ ہیں۔ اس جامعہ میں عدنان کو اپنے موضوع سے متعلق نادر تاریخی دستاویزات آرکائیول ڈاکومنٹس تک رسائی ملی۔
Lahore @ Partition
اصل میں عدنان طارق کا پی ایچ ڈی کے لیے معرض تحریر میں آنے والا مقالہ ہے۔ جس کے بین السطور لاہور میں زندگی بسر کرنے والے اس سپوت کی اپنے شہر سے والہانہ محبت کا شعور کارفرما نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر عدنان طارق نے ایک علمی و ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اس لیے اسے بچپن میں ہی نہ صرف اہم رسائل و کتب سے شناسائی ہوئی بلکہ انہیں دقت نظر سے پڑھنے کا ذوق و شوق بھی ملا۔ جس نے اس کی چڑھتی جوانی کو لاہور کی رنگینیوں مین بھٹکنے کی بجائے اپنے شہر سے متعلق سنجیدہ غور و فکر کے ایک خاص علمی و تحقیقی مقام پہ لا کھڑا کیا۔
وہ انٹرمیڈیٹ کے دوران میں تاریخ پر اپنی پہلی کتاب بعنوان ”تاریخ میں سفر“ لکھ چکے تھے۔ عدنان کو جی سی یونیورسٹی لاہور میں اپنے ایم اے تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر طاہر کامران، ڈاکٹر عرفان وحید عثمانی اور ڈاکٹر حسین احمد خاں جیسے اساتذہ کے علم و فضل سے کسب فیض کا موقع ملا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ ان کے پی ایچ ڈی کے سپروائزر تھے، یہیں ان کے علاوہ ڈاکٹر فراز انجم جیسے اساتذہ نے ان کے علمی و تحقیقی شعور کی ساخت پرداخت میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔
علمی تحقیق و تاریخی جستجو کے دلدادہ ڈاکٹر عدنان طارق کو قدرت نے روزگار بھی ان کے شایان شان عطا کیا۔ وہ 2009 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے تاریخ کے لیکچرار متعین ہوئے۔ پھر 2017 میں ڈائریکٹ سلیکشن کی رو سے اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں 2023 میں انہوں نے کالج کیڈر سروسز کو خیر باد کہہ دیا کیونکہ ان کا تقرر جی سی یو لاہور کے شعبہ گلوبل اینڈ ہسٹوریکل اسٹڈیز میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر آرکائیو ہو گیا۔ آج کل ڈاکٹر صاحب اسی یونیورسٹی میں علم و تحقیق کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر عدنان طارق کی پسندیدہ مورخ ڈاکٹر عائشہ جلال ہیں۔ وہ ایک ممتاز پاکستانی نژاد امریکی تاریخ دان ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستانیت پر اپنے خاص تاریخی و تحقیقی کام کے حوالے سے معروف ہیں۔ انہوں نے برطانوی ہند کی تقسیم، پاکستان کی تاریخ نیز اس خطے میں اسلام اور سیاست کے درمیان تعلقات جیسے موضوعات پر اعلی معیار کا لکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تحقیقات اکثر پیچیدہ تاریخی واقعات اور معاصر معاشرے پر ان کے اثرات کے بارے میں باریک بینی کا نقطہ نظر فراہم کرتی ہیں۔
عدنان طارق کے ننھیال اور ددھیال دونوں کو ہجرت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے تقسیم کے غم و اندوہ کو نہ صرف اپنے اردگرد بے بس اور لاچار انسانوں کو سہتے دیکھا بلکہ مرنے تک اسی کرب اور اپنے خونی رشتہ داروں کے کھو جانے کے غم میں نڈھال زندگیاں بسر کرنا پڑی۔ عدنان نے بچپن میں اپنی نانی اور دادی سے تقسیم کی ہولناک کہانیاں سنی تھی۔ پرتشدد واقعات اور بلووں کی فضا کہیں نہ کہیں اس کے شعور کا حصہ رہی ہو گی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عدنان طارق کی جب پی ایچ ڈی کے لیے موضوع کے انتخاب کی باری آئی تو انہوں نے اپنے لیے ایک چیلنجنگ موضوع کا انتخاب کیا۔
”Lahore @ Partition“
محض ریسرچ ورک کی بنیاد پر نہیں لکھی جا سکتی تھی۔ اس کے لیے جو درد اور شدت کا احساس اور جذبہ تاریخ دان کو چاہیے وہ عدنان کی رگ رگ میں سرایت کیے ہوئے تھا بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ان کا باطنی وجود اس کی زد میں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جو مخصوص تحریک اور فضا اس بیانیے کے خط و خال کی تشکیل کے لیے درکار تھی، وہ اس کے قلب و روح اور ذہن کا پہلے ہی سے احاطہ کیے ہوئے تھی۔ قارئین کو اگر تاریخی کتابوں میں وہ فضا نہ ملے تو مورخ کا بیانیہ یبوست زدہ اور انسائیکلوپیڈیا طرز کی شے ہو جاتا ہے۔
اچھی اور معیاری علمی تحقیق میں ادبی اسلوب سے تجزیہ و تبصرہ ( لٹریچر ریویو) کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بقول ڈاکٹر عرفان وحید عثمانی تحقیق میں سب سے اہم حصہ لٹریچر ریویو کا ہوتا ہے۔ جتنی محنت و مہارت سے اسے کیا جائے تو محقق اتنی ہی عمدہ و اعلی تحقیق پیش کرنے میں کامیاب ہو گا۔
عثمانی صاحب نے اس موضوع پر ”لٹریچر ریویو کے جدید رجحانات اور اردو مقالہ نگاری:ایک تنقیدی محاکمہ“ کے عنوان سے ایک انتہائی اہم اور مبسوط مقالہ تحریر کیا ہے۔ جسے ستمبر 2023 میں کلیہ علوم شرقیہ سے صادر ہونے والے مجلہ ”تحقیق“ کے شمارہ 132 میں دیکھا جا سکتا ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ اس موضوع پر اس سے زیادہ اچھی تحریر اردو کے انتقادی ادبیات میں شاید ہی ملے۔ ڈاکٹر عرفان وحید عثمانی کی اس نگارش سے تحقیق و تنقید کے اساتذہ و طلبا بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب کا لٹریچر ریویو بہت محنت سے لکھا گیا ہے۔ اس میں ڈاکٹر عدنان نے
”violence and regeneration“
کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے کے لیے پنجاب اور بنگال کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر معرض تحریر میں آنے والے کتب و مضامین وغیرہ (ثانوی مآخذ) کو حوالہ بنایا ہے۔
”violence and regeneration“
پر حاصل شدہ
سارے تحریری مواد کا تجزیہ کرتے ہوئے جس طرح راقم نے مذکورہ لٹریچر کے بنیادی استدلال کو قاری پر واضح کیا ہے۔ اس سے ان کی مطالعہ شناسی سے لگن اور موضوع کی ہر جہت پر دقت نظر کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے۔
عثمانی صاحب کے بقول جس نے لٹریچر ریویو پر محنت کر لی وہ مقالے لکھنے کے دوران میں پیش آنے والے مسائل سے بچ جاتا ہے۔ ایک اچھا لٹریچر ریویو محقق کو علمی تحقیق کے خلا (ریسرچ گیپ) دریافت کرنے اور انہیں پر کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ہی علمی خلا محقق کے مراحل تحقیق بنتے ہیں۔ اس کی جستجو متعین کرتے ہیں اور وہ اس کے سامنے اس کی مقصدیت کا عنوان واضح کرتے ہیں۔ یوں عنوان اور علمی خلا دونوں مل کر سوالات و استدلال کی صورت میں محقق کے علمی سفر کے نشانات راہ بنتے ہیں۔
عدنان طارق معیاری لٹریچر ریویو کرنے کی وجہ سے اس کتاب کے بنیادی استدلال تک رسائی حاصل کر سکے۔ ان کا بنیادی استدلال یہ ہے : ”لاہور شہر میں فسادات کے مطالعہ کو غیر روایتی تبدیلی کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ یہ غیر روایتی تبدیلی وائلنس کی اس نوعیت کی تبدیلی کے بارے میں ہے۔ جس کے نتیجے میں لاہور شہر سے غیر مسلموں کا انخلا ہوا۔ نسلی تطہیر کے اس عمل کو انجام دینے کا سب سے بڑا اور غالب ذریعہ دہشت گردی (شہری دہشت گردی) تھی۔ جس کی وجہ سے اس عمل کو غیر مسلموں کی سرزمین سے پاک کرنے کی تکمیل ہوئی“ ۔
اس کتاب کا بیانیہ بہت سے معروف، کم معلوم اور نامعلوم تاریخی حقائق پر مشتمل ہے۔ تاریخی دستاویزات ، عینی شاہدین کے بیانات، انٹرویو کی روداد (ٹرانسکرپٹس) ، پولیس ریکارڈ، اخبارات اور اس طرح کے دیگر مواد کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان طارق نے تقسیم کے بحران کے دوران مسلمانوں اور غیر مسلموں بل کہ واضح الفاظ ہندووں اور سکھوں کے رویوں کو بیان کیا ہے۔ یوں ان سبھی برادریوں کو ان کے اپنے اپنے کردار اور ان کے طرزعمل کے محرکات بیان کرتے ہوئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک پر حواشی کی کثرت ہے۔ جس سے مقالہ نگار کے وسیع المطالعہ ہونے کا پتا چلتا ہے۔ اس کتاب کا پہلا باب، ’Mayhem and the City‘ ، جو مارچ 1947 میں لاہور میں پھوٹنے والے فسادات سے متعلق ہے۔
اس باب کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ فسادات کے پیچھے بنیادی محرک مذہبی کے بجائے سماجی، سیاسی اور معاشی تھا، کیونکہ ہندوؤں نے ایک مضبوط متوسط طبقے کی حیثیت کو برقرار رکھا، جس سے دونوں برادریوں کو ایک براہ راست اقتصادی مخالفت میں تبدیل ہونے سے روکا گیا۔
باب دوم، ”Great Fire of Shah Almi Bazaar and the Real Exodus ’
اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان سمجھوتہ کا کوئی امکان نہیں تھا۔ مسلمانوں کو سکھوں اور ہندوؤں کو ستانے اور انہیں لاہور چھوڑنے پر مجبور کرنے کے علاوہ مسئلہ کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ نوآبادیاتی حکومت کے اعلان کے بعد تھا کہ تقسیم کے وقت صوبہ پنجاب کو تقسیم کیا جانا تھا، لیکن لاہور کی تقسیم کا فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی تھا۔
مصنف کے بقول شاہ عالمی بازار میں لگنے والی آگ پولیس کے ایس ایچ او سید دلدار حسین شاہ کے منصوبے کے تحت لگائی گئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں : ”کالا آگ میں مارا گیا تھا، تاہم، کالا نے اپنا کام مکمل کر لیا تھا، کیونکہ وہ، وہ شخص تھا جس نے آگ لگائی تھی“ ۔
یہ مطالعہ خروج کے اصل آغاز سے سول مشینری کی ناکامی کی تجزیاتی وضاحت کی طرف بڑھتا ہے۔
شاہ عالمی بازار میں لگنے والی آگ کے واقعے پر حکام نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی، پھر بھی، ڈاکٹر عدنان کے بقول، پولیس اور فوجی دستوں کی تعیناتی نے تنازعہ کو تباہی کی جنگ میں بدل دیا۔
تیسرا باب ”City in Transit“ ، فرقہ ورانہ تشدد کو اپنے عروج پر دکھاتا ہے۔ دونوں سمتوں کو جانے والی ٹرینوں پر باقاعدگی سے حملے کیے جاتے تھے، خاص طور پر ہم مذہبوں کے قتل کے ردعمل میں۔ یہ حملے بنیادی طور پر تخریب کارانہ اور ایک دوسرے سے لیا جانے والا انتقام، تھے۔
اختتامی باب ”“ Regenerating Lahore and the Story of the City with Change ”لاہور، پاکستان میں تقسیم کے بعد کے دور سے متعلق ہے، خاص طور پر نقل مکانی کرنے والوں کو ان کی رہائشی املاک میں دوبارہ ضم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے ساتھ
یہ صنعتی خدشات اور لاہور کے سماج اور سیاست میں بدلتے ہوئے نقطہ ہائے نظر کو سامنے لاتا ہے۔
کتاب میں جو حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ وہ عام قاری اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے نئے ہیں۔ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ تقسیم اور فرقہ ورانہ فسادات ایک دوسرے کے ساتھ ہوئے تھے۔ ان کے متعلق تفصیلات نہ تو عالمی سطح پر معلوم ہیں اور نہ ہی یہاں آسانی سے دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر عدنان طارق نے بنیادی اور ثانوی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے باریک بینی سے اپنی تحقیق کی ہے۔ جو قارئین کو عمیق نظر سے تفصیلات، صحیح اعداد اور واقعات سے روشناس کرواتی ہے۔
ڈاکٹر عدنان طارق نے اپنی اس تحقیق کے ذریعے پاکستانی دانشوروں کے اس مفروضے کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے کہ اچھی تحقیق صرف باہر کی یونیورسٹیز میں ممکن ہے۔ یہ کتاب ایک ایسے طالب علم کی ہے۔ جس نے اپنی تمام تعلیم پتوکی اور لاہور شہر کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہے۔ اگر نیت، ارادہ، جذبہ، لگن اور محنت سچے ہوں اور اللہ تعالی کی مہربانی سے قابل و مخلص اساتذہ کی راہنمائی بھی حاصل ہو تو ”Lahore @ Partition“ جیسی کتابیں علم و تحقیق کے افق پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔
جن پر زمانہ ناز کرتا ہے۔ یہ کتاب غیر جانبدارانہ شعور (ریشنل اپروچ) کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ہے جن کو تقسیم کے وقت مجبوراً داتا نگری چھوڑ کر انڈیا جانا پڑا تھا۔ اگر ان میں سے بعض ابھی زندہ ہوں یا ان کے لواحقین کو اپنے آبا و اجداد پر کیا گزری۔ کو جاننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی تحفہ سے کم نہیں ہے۔
یہ کتاب تمام لاہور سے محبت کرنے والے، تاریخ کے طلبا اور اچھی تحقیقی و تاریخی کتابیں پڑھنے والوں کو ضرور پڑھنی چاہیے۔
اس محنت سے کی گئی تحقیق پر مصنف کو خوب سراہا جانا چاہیے۔ ہمارے پڑھے لکھے طبقے کی ذہنیت یہ ہے کہ اس نے معیار پر بیوپار کو ترجیح دے دی ہے۔ جس کا نتیجہ علم و ادب اور نگارش و تحقیق کی سطحیت ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم علمی، سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ اگر ہم اس پستی کا ازالہ چاہتے ہیں تو ہمیں ہمارے اپنے محنتی، قابل اور باصلاحیت لوگوں کو پہچاننا ہو گا کیونکہ پہچان ہی منزل کی طرف سفر کا آغاز ہے۔

