استاد، ہمارا معاشرہ اور مسائل


استاد کا پیشہ نبیوں کا پیشہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ “

استاد کی اہمیت، عزت و احترام سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایک معلم صرف پڑھاتا نہیں ہے بلکہ مختلف شعبہ جات کے سی ای اوز، انجنیئرز، طبیب، سیاستدان، سائنسدان اور دیگر کامیاب شخصیات تخلیق کرتا ہے۔ اپنا علم طلبا و طالبات میں بانٹ دیتا ہے۔ ان کی شخصیت کو بنانے اور سنوارنے میں اپنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ استاد کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔

حضرت علی کا قول ہے کہ ”جس نے مجھے ایک حرف سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا۔“

استاد نور کی مانند ہے، استاد ایک چراغ ہے جس سے علم کی روشنی پھوٹتی ہے، جو اپنے اردگرد کے لوگوں کو خاص طور پر طلباء و طالبات کو منور کرتی ہے۔ استاد ایک گھنا سایہ دار درخت کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔

ایک استاد ہی بہتر جاتا ہے کہ اس کے طلباء میں کون کون سی خصوصیات موجود ہیں یا وہ کس ذہنی قابلیت کے مالک ہیں مزید یہ کہ ان صلاحیتوں کو کیسے پرکھا جا سکتا ہے اور کیسے نکھارا جا سکتا ہے۔ ایک استاد ہی کوئلے کو ہیرا بنا دیتا ہے۔ ایک عام پتھر کو تراش کر نگینہ بنا نے کا ہنر جانتا ہے۔

معلم کے کہے الفاظ اور رویہ طلباء کی زندگی بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ استاد کا اپنے طلباء پر اعتماد، دی گئی شاباش، ایک تھپکی حتٰی کہ بات کرنے کا انداز تک بہت اہمیت رکھتا ہے۔ استاد کا مسکرا کر دیکھ لینا ہی بچے میں اعتماد بھر دیتا ہے۔ ایک بچہ چاہے وہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو اپنے استاد کو آئیڈیل مانتا ہے اور غیر ارادی طور پر اس کی پیروی کرتا ہے۔ اپنے استاد سے نصابی اور غیر نصابی بہت کچھ سیکھتا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایک استاد کا کردار اس کے شاگرد میں نظر آتا ہے۔

والدین کے بعد ایک استاد ہی ہوتا ہے جو بہتر جانتا ہے کہ بچے میں کیا گن ہیں اور وہ کن صلاحیتوں کا مالک ہے اور کیسے ان کو نکھارا جا سکتا ہے۔ اسی لیے استاد کو روحانی باپ کہا جاتا ہے۔

جہاں ایک استاد کی اہمیت، کردار و شخصیت سازی اور علم کے سرچشمے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا وہیں کئی ایسے مسائل ہیں جن سے ہم منہ نہیں پھیر سکتے جس کی وجہ سے اس مقدس پیشے کو وہ عزت و احترام نہیں مل رہا جو اس کا حق ہے یا جو مقام اور مرتبہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں استاد کو حاصل ہے۔

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ جب کسی اور شعبہ میں نوکری نہیں ملتی تو مجبوری میں استاد کا پیشہ اپنا لیا جاتا ہے اور خاص طور پر خواتین جو نوکری بھی کرنا چاہتی ہیں لیکن گھر اور بچوں کو بھی وقت دینا چاہتی ہیں وہ اسکول میں نوکری کر لیتی ہیں۔ اس مبالغہ آرائی سے استاد کی قدرومنزلت میں شدید کمی دیکھنے کو ملی ہے۔

پھر سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں، خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر گلی کوچوں میں کھلے ہوئے اسکولوں میں اساتذہ کو اجرت بہت کم یا برائے نام دی جاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے سات ہزار تنخواہ دی جاتی ہے جو ایک مزدور کی طے کردہ اجرت 30 ہزار ماہانہ ہے اس سے بھی کہیں کم ہے۔ اب اتنی کم اجرت پر کام کرنے کی مجبوری کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ تجربہ حاصل کرنا، جیب خرچ نکالنا یا اخراجات میں حصہ ڈالنا وغیرہ وغیرہ۔

بڑے پرائیویٹ اسکولوں میں صورت حال بہتر اور مختلف دکھائی دیتی ہے جہاں اساتذہ کو مختلف ورکشاپ اور تربیتی پروگرام کروائے جاتے ہیں، نئے دور کی ضروریات کے مطابق ان کو تربیت دی جاتی ہے اور سکھایا جاتا ہے کہ کیسے بچوں کی ذہنی نمائش اور ترقی میں اہم اور کلیدی کردار ادا کرنا ہے لیکن یاد رہے یہ سہولت ان اسکولوں میں میسر نہیں جو پسماندہ علاقوں میں ہیں جہاں بنیادی سہولتیں تک موجود نہیں تو درس و تدریس کا شعبہ تو بہت دور کی بات ہے اس کے علاوہ گلی کوچوں اور گھروں میں کھلے اسکولوں میں جدید تربیتی اسٹاف موجود نہیں ہوتا۔ ایسے اسکولوں میں استاد بھی وہی ہوتے ہیں جو اسی علاقے، محلے سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ اتنی کم تنخواہ میں کوئی دور سے آنے کو تیار نہیں ہوتا لہذا استاد کی قابلیت اور صلاحیتوں پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔

استاد کا پیشہ اہم اور معزز پیشہ ہے جو معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ملک میں اس پیشے کی قدر نہیں اور نہ ہی وہ عزت و مقام حاصل ہے جو ترقی یافتہ ممالک کا شیوہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی اور اخلاقیات میں ان ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔

ہمارے پاکستان میں استاد کی کوئی خاطر خواہ عزت نہیں، کوئی وقار نہیں اور شاید یہی ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ہارون رشید کے دربار میں جب علما کرام تشریف لاتے تو وہ ان کے استقبال میں کھڑے ہو جاتے جس پر ان کے درباریوں نے کہا کہ اس طرح سلطنت کا رعب و دبدبہ ختم ہو جائے گا جس کے جواب میں ہارون رشید نے کہا کہ بے شک ہو جائے۔

اسکندر اعظم نے کہا کہ اس کے والدین اسے آسمان سے زمین پر لائے جب کہ استاد نے اس کو زمین سے آسمان تک پہنچایا ہے۔

بطلیموس استاد کی شان میں کہتا ہے کہ ”استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعے سے بہتر ہے۔“

آج ایک استاد کو وہ عزت نہیں دی جاتی اس میں سسٹم کی بھی غلطیاں ہیں اور والدین کی بھی کوتاہیاں شامل ہیں۔ اب وہ ادب و احترام، رکھ رکھاؤ، تہذیب، تکریم نہیں رہی جو ہمارے آبا و اجداد کا خاصہ تھا۔ اس میں اساتذہ میں بھی کمی نظر آتی ہے کہ وہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں رہے، ان میں جذبہ ایمان داری نہیں رہا۔ شخصیت کو بنانے اور نکھارنے والے جو اوصاف ایک استاد میں ہونے چاہیے وہ اب ان میں موجود نہیں ظاہر ہے تمام اساتذہ ایک جیسے نہیں ان میں سے کچھ گنتی کے استاد آج بھی ایسے موجود ہیں جو بے لوث محنت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے طالبات زندگی کی ہر دوڑ میں محنت کریں اور کامیابی حاصل کریں اور ان کا نام روشن کریں۔ ایسے استاد اپنے منصب کا مقصد اور خوائص بخوبی جانتے ہیں۔

جب بات ذمہ داریوں کی ہوتی ہے تو ہم سب کو اپنی اپنی جگہ ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے اور ان کو بخوبی نبھانا بھی چاہیے کیونکہ ہمارا ایک صحیح قدم کئی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔

حکومت اور دیگر اداروں کو بھی چاہیے کہ اساتذہ کی تربیت پر کام کریں اور ایسے مواقع مہیا کریں کہ ایک استاد خود بھی سیکھے اور جدید علوم حاصل کرے جو کہ بہت ضروری ہے جب ایک استاد علم کا سمندر ہو گا تبھی ایک طالب علم اس میں غوطہ لگا سکے گا۔ مزید یہ کہ صرف انھی اسکولوں کو لائسنس مہیا کیا جائے جو اساتذہ کو معقول اجرت کے ساتھ بہتر تعلیم دے سکیں۔ تاکہ اس پیشے کا معیار بہتر بنایا جا سکے کیونکہ استاد چاہے وہ کسی بھی سطح پر ہو طالبات کے لیے ایک مثال ہوتا ہے۔ ایک مضبوط کردار کا استاد ہی مضبوط معاشرہ تخلیق کر سکتا ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments