شکست تخت پہلوی (1)


محمد رضا شاہ پہلوی کا دن صبح سات بجے نیواران محل کی خواب گاہ کے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ شروع ہو جاتا۔ محل کے کمپاونڈ میں شاہ کی رہائش بھی تھی اور دفتر بھی۔

"صبح بخیر اعلی حضرت” امیرپور شجاع نے کہا۔ جب تک شاہ حمام سے آتے، ان کا ناشتہ تیار ہوتا۔ ٹوسٹ پر ہلکا سا مکھن اور شہد، پانچ یا چھ دانے خاص قسم کے سوکھے آلو بخارے کے اور مالٹوں کا جوس۔ شاہ سادہ ناشتہ ہی پسند کرتے۔ ان کا معدہ حساس تھا اور کئی چیزوں سے انہیں الرجی تھی۔ جن میں پیاز، اسٹرابری اور ایران کے مشہور زمانہ خاویار شامل تھے۔

ایک ملٹری افسر ڈاک اور ملکی اور غیر ملکی اخبارات لے آتے۔ شاہ دوران ناشتہ اخبارات پڑھتے۔ ملکہ فرح اس دوران نیند لے رہی ہوتیں۔ دن کی پہلی انٹیلی جنس بریفنگ اخبار پڑھنے سے پہلے ہی انہیں دے دی جاتی۔

امیرپور نے ملک کے بائیس صوبوں سے موسم کی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ شاہ کے مزاج کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھے۔ اور ملک کے عوام کی خوشی بھی اس سے وابستہ تھی۔ بارش کی خبر شاہ کا موڈ بشاش کر دیتی "بارش نہ ہونے کی خبر سے اعلی حضرت پریشان ہوتے۔ کیونکہ انہیں علم تھا کہ بارش نہ ہونے سے زراعت کو نقصان ہوتا ہے۔ اور اس کا اثر عوام پر پراہ راست پڑے گا”

Niavaran Palace – Tehran

ایک صبح امیرپور نے شاہ کو بتایا کہ رات بارش ہوئی ہے۔ "شاہ بہت خوش ہوئے وہ کھڑکی کے پاس گئے اور باہر درختوں کی ٹہنیوں پر بارش کے قطروں کی نمی ڈھونڈتے رہے اور بولے” یہ تر نہیں ہیں۔ تم نے کہا تھا کہ رات بارش ہوئی ہے "۔ شاہ کو یہ بھی علم ہوتا تھا کہ بارش کتنے میلی میٹر برسی ہے اور کس صوبے کے کس شہر میں برسی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مختلف ڈیمز میں پانی کی سطح کتنی ہے” شاہ اس لیے جانتے تھے کہ یہ ڈیمز انہوں نے خود بنوائے تھے۔ پورے اکیس ڈیمز۔

اعلی حضرت محمد رضا پہلوی شاہوں کے شاہ، آریا نسل کی روشنی، ظل الہی، سلطنت ایران کے فرمان روا، تشیع عقیدے کے محافظ، تخت طاوس کی جھلملاہٹ کے حقدار اور پچیس سو سالہ بادشاہت کے دعوے دار تھے۔ 1977 کے دسمبر تک شہنشاہ کو اقتدار سنبھالے کئی برس ہو چکے تھے اور ایرانیوں کی اکثریت کو کسی اور ایرانی شاہ کا دور یاد ہی نہیں رہا۔

اپنی بادشاہت میں انہوں نے اپنے دور کے حکمرانوں سے کہیں زیادہ لمبا عرصہ حکومت کی۔ تین شاندار خواتین سے شادیاں، اولاد میں پانچ بچے۔ شاہی خاندان میگزینوں کی زینت اور کئی گوسپ کالموں کا عنوان بن گیا۔

1941 میں نوجوانی میں ہی تخت طاوس وراثت میں پایا۔ محمد رضا شاہ پہلوی نے بہت کچھ دیکھا اور سہا۔ ایسی دھمکیاں بھی ملیں جو کسی کمزور انسان کو توڑ دیتیں۔ جنگ کا دور، ملک پر بیرونی قبضہ، کمیونزم کی لہر، ہوائی جہاز کا کریش، قاتلانہ حملے، بغاوت کی سازشیں، تاج و تخت کی وراثت کے سوال، مذہبی ہنگامے، دستور کا بحران اور ایک جز وقتی جلا وطنی بھی۔

ایک ایسے دور میں جب شاہوں اور ملکاؤں کو ان کے تخت و تاج سے محروم کر دیا گیا یا ان کا کام صرف فیتوں کو کاٹنے اور ہاتھ ملانے تک رہ گیا تھا، شاہ نے بیسویں صدی میں شہنشاہیت کو مضبوط کیا۔

1963 میں انہوں نے انقلاب سفید کا اعلان کیا۔ فیوڈل سسٹم کو توڑ کر ایک سوشل اکنامی سسٹم لانا چاہا اور انڈسٹری کو فروغ دیا۔ کسانوں کو زمینداروں کی چنگل سے آزاد کرایا۔ جنگل اور آبی ذخائر قومیا لیے گئے۔ خواتین کو سول، لیگل اور پولیٹیکل حقوق ملے۔ ملک کی معیشت کی رفتار امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے بھی آگے نکل چکی تھی۔ وہ نقاد جو ایک زمانے میں شاہ پر تنقید کرتے رہے ان کے انقلابی اقدامات کی تعریف کرنے لگے۔

ستر کی دہائی کی ابتدا میں سرد جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہ نے خلیج فارس میں اپنی سرداری ثابت کی۔ دسمبر 1973 میں ایک انقلابی فیصلہ کیا جسے "تیل کا شاک” کہا گیا۔ راتوں رات تیل کی قیمتیں دوگنی ہو گیں اور خود مختار ممالک کی معیشت مزید محکم ہو گئی۔

شاہ نے اس نئی آنے والی دولت کو انڈسٹری، تعلیم، صحت، فلاح و بہبود، آرٹس اور فوج پر خرچ کی۔ تعلیم کا شعبہ شاہ کے دل سے سب سے زیادہ قریب تھا۔ 1967 سے لے کر 1977 تک جامعات کی تعدد 7 سے بڑھ کر 22 ہو گئی۔ ایڈوانس اسٹڈیز کے انسٹیٹیوٹ 47 سے 200 ہو گئے۔ اعلی تعلیم کے طلبا کی تعداد 36742 سے بڑھ کر لاکھ تک پہنچ گئی۔ ایران کا خواندگی کا پروگرام دنیا کا موثر ترین پروگرام تھا۔ 1977 میں پڑھے لکھے ایرانیوں کی تعداد 17 فیصد سے بڑھ کر پچاس فیصد سے بھی بڑھ گئی۔ شاہ نے ملٹری کو مزید مضبوط کیا اور نیوکلیئر پاور اسٹیشن لگانے کا آرڈر دیا۔ اور اعلان کیا کہ وہ دن گئے جب بیرونی طاقتیں ایران پر مسلط ہوتیں اور یہ بھی کہا "کوئی ہمیں احکام نہیں دے سکتا۔ کوئی ہم پر انگلی نہیں ہلا سکتا کیونکہ جواب میں ہم بھی انگلی ہلائیں گے ‘۔ 1974 میں ٹائم میگزین نے انہیں” تیل کا بادشاہ "لکھا۔” شاہ اپنے ملک کو اس نہج پر لے آئے ہیں جو قابل رشک ہے جیسا کوروش اعظم نے اپنے ملک کے لیے کیا تھا "۔

لیکن اس خوشحالی کی ایرانیوں نے قیمت بھی ادا کی۔ ملکی عدالتیں شاہ، ان کے وزرا اور سیکیورٹی فورس کے احکامات کی پابند تھیں۔ ایک مبصر نے کہا "شاہ تمام قوت کا مالک کل تھا۔ صرف ایک سیاسی جماعت کو اجازت تھی اور ہر گفتگو احتیاط کے ساتھ کی جاتی۔ اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن احکامات کے پابند تھے اور سنسر شپ شدید تھی۔ ریاستی پولیس پر الزام تھا کہ اس نے ہزاروں مخالفوں کو پس زندان ڈالا، ان پر تشدد کیا اور ہلاک کیا۔ ہزاروں ایرانیوں نے جبر برداشت کرنے کے بجائے ملک سے باہر رہنے کو ترجیح دی ایران کی نئی دولت چند اشرافیہ کے ہاتھوں میں تھی۔ ملک کی 10 فیصد آبادی کے پاس 40 فیصد دولت تھی۔ ملک کے اکسٹھ ہزار دیہات نلکوں سے پانی، مناسب نکاسی آب، سیوریج، ڈاکٹر، اور بجلی سے محروم تھے” ۔ غریب ان پڑھ ملک کو ماڈرن بنانے کی شاہ کی کوششوں کو ایرانی دانشور استہزا کی نظر سے دیکھتے۔

شاہ نے اپنی اڑسٹھویں سالگرہ پر خوشخبری دی کہ تیل کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی اچھی شہرت رکھنے والی یونیورسٹی جارج ٹاؤن نے ایران کو دنیا کا پانچواں مضبوط ملک قرار دیا ہے۔ شاہ نے فرانس اور مغربی جرمنی سے نیوکلیئر پاور پلانٹس کی ڈیل کی۔ نیوزی لینڈ سے دنبے، سویت یونین سے اسٹیل پروڈکشن میں اضافے اور امریکہ سے پانچ ملین ٹیلی فونز منگوائے۔ ایران کی شہرت بن گئی کہ یہ ملک بزنس کے لیے بہشت ہے۔ ایک لاکھ کے قریب غیر ملکی ایران میں رہائش پذیر تھے جو شاہ کے اس ویژن سے متاثر تھے کہ وہ ایران کو مغربی ایشیا کا جاپان بنانا چاہتے تھے۔ غیر ملکی ایران کی پر تعیش زندگی، نوکروں کی سہولتیں، سوئمنگ پول اور ٹنیس کورٹس سے متاثر ہو گئے۔

1977 میں باون ہزار امریکی شہری ایران میں رہائش رکھتے تھے۔ کسی بھی غیر ملک میں امریکی کبھی اتنی بڑی تعداد میں نہیں رہے۔ ان کے علاوہ آٹھ ہزار برطانوی، آٹھ ہزار فرانسیسی، سولہ ہزار جرمن، بیس ہزار اطالوی اور ہزاروں کی تعداد میں فلیپینو اور کورین بھی۔

ایران میں رہنے والے غیر ملکی ایران کو مستقبل کے لیے ایک محکم اور محفوظ ملک سمجھتے تھے۔ بادشاہت کے دفاع کے لیے چار لاکھ تیرہ ہزار مرد و زن کی فوج تھی جن کی صبح اس عزم کے اظہار سے ہوتی تھی کہ وہ "خدا، شاہ اور مادر وطن کی حفاظت کریں گے” ۔ ایک چوتھائی ملین کی یہ فوج توپخانے اور پیادے میں تقسیم تھی۔ چار بریگیڈ اور اسپیشل فورس اور گراؤنڈ پر فضائیہ کی مدد کے یونٹ ملک کی اندرونی سلامتی کے ضامن تھے اور سوویت یونین کے علاوہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے حملوں سے بچاؤ بھی۔ وہ علاقے میں کسی سے بھی نبٹ سکتی تھی سوائے اسرائیل کے اور شاید ترکیہ سے۔ فضائیہ کے طیاروں کی جنوب مغربی ایشیا کے آسمانوں پر اجارہ داری تھی۔ ایران کی بحریہ خلیج فارس پر حکومت کرتی تھی، بحر ہند میں مشرقی افریقہ تک نگرانی کرنے والے جہاز تیرتے تھے۔ ان کے علاوہ پچھتر ہزار ‘ژاندار میری’پولیس فورس بھی تھی جو سرحدوں کی حفاظت کرتی ان کی ٹریننگ تھی کہ کسی قسم کی بھی خطرے کو دیکھ کر فوری مطلع کریں۔ دفاعی فورس میں اسی ہزار کارکن تھے جو پوری طرح منظم تھے۔ ایرانی پولیس چالیس ہزار تھی اور مضبوط تھی۔

شاہ کو یقین تھا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہی ایران کے لیے بہترین ہے اور یہ بھی کہ بادشاہی طاقت اگر دانائی سے استعمال کی جائے تو وہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔

ناشتے کے بعد شاہ شیو کرنے اور دانت برش کرنے واپس باتھ روم میں گئے۔ اپنے ذاتی خدمت گار کی مدد سے ایک نکٹائی کا انتخاب کیا، لباس تبدیل کیا اور اپنی جیکٹ کی ایک جیب میں قرآن کا جیبی نسخہ رکھا جو وہ ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے۔ ایک درباری شخصیت نے بتایا کی ایک بار شاہ اپنے دفتر میں داخل ہوئے اپنی جیب تھپتھپائی اور ایک ناخوشگوار تاثر چہرے پر اترا۔ "میرا قرآن؟ میں بھول گیا۔ مجھے واپس جانا ہو گا۔”

دن کے کاموں کے لیے اب وہ تیار تھے۔ تمام ملکی اور غیرملکی حالات سے انہیں پہلے ہی باخبر کر دیا گیا تھا۔ نو بجے وہ کرنل کیومرث جہان یینبانی جو ان کے پرسنل باڈی گارڈ اور پولیس سیکیورٹی کے سربراہ بھی تھے کے ہمراہ اپنے دفتر کے کوارٹر کی طرف بڑھے۔ کرنل ایک مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے سارا دن ان کے ساتھ رہے اور شاہ کو اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ دونوں نیچے جانے والی سیڑھیوں سے اترے۔ ملٹری گارڈز کو پروقار طریقے سے سلامی لیتے اور دیتے ہوئے گزرے۔

شاہ کا آفس نیواران سے نزدیک ہی تھا۔ دفتر کے دروازے پر پروٹوکول کے سربراہ امیر اسلان افشار نے شاہ کا استقبال کیا۔ موسم اور درجہ حرارت کیسا بھی ہو شاہ بغیر ایر کنڈیشنر کے کام کرتے۔ ان کا مزاج حساس تھا وہ مصنوعی ہوا ناپسند کرتے تھے۔ گاڑی میں بھی سفر کرتے تو شیشے اتار کر تازہ ہوا لیتے۔ مئی کے مہینے سے موسم گرم ہونا شروع ہوجاتا، نیواران محل میں حرارت بڑھ جاتی تو شاہی خاندان اور ان کا پورا عملہ کوہ البرز پر سعد آباد کے محل میں منتقل ہو جاتے جو پہلوی خاندان کی موسم گرما کی سکونت تھا۔ جب موسم خزاں میں گرمی کی شدت کم ہوتی تو شاہی خاندان اور ان کے ملازم نیواران واپس آ جاتے۔

شاہ کے آنے سے پہلے ہی تمام افسران اپنی میزوں پر موجود تھے۔ شاہ وقت کے پابند تھے اور شاذ و نادر ہی کبھی دیر کرتے۔ شاہ کی میز پر فائلوں کا انبار ہوتا۔ بیشتر معاملات ملک کی بہتری کے لیے ہوتے۔ نئے کارخانے، اسکول، اسپتال، پاور پلانٹ اور آئل ریفاینری وغیرہ۔ افشار شاہ کی دن بھر کی مصروفیات کی ذمہ داری رکھتے تھے ان سے ضروری مشوروں کے بعد شاہ کی ملاقات امیر عباس ہویدا سے ہوئی جو شاہی پارلیمان کے وزیر تھے اور ایک مدت سے یہ عہدہ نبھا رہے تھے۔

گو کہ ایران کا ایک وزیراعظم بھی تھا، کابینہ بھی تھی اور پارلیمان بھی لیکن شاہ نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ پورا کنٹرول ان کا ہی رہے گا اور ہر فیصلے کا راستہ نیواران سے ہو کر جائے گا۔ شاہ دفاعی معاملات بھی خود دیکھتے اور بیرونی کمپنیوں سے تیل کی قیمتوں کی شرائط بھی خود طے کرتے۔

شاہ کی صبح احکامات دیتے، قوانین پر دستخط کرتے اور انٹیلی جنس کی رپورٹیں پڑھتے گزرتی۔ شاہ کی خفیہ پولیس "ساواک” جس کی دہشت پورے ملک میں تھی، تمام صوبوں سے آئی ان کی رپورٹس پڑھتے۔ ساواک نہ صرف ایران کی اندرونی سیکیورٹی پر نظر رکھتی بلکہ سرحدوں پر بھی جو کچھ ہوتا اس کی خبر رکھتی۔ ہفتے میں ایک بار شاہ سواک کے چیف جنرل نعمت اللہ نصیری سے اہم معاملات پر گفتگو کرتے۔ اس کے علاوہ تینوں بری، بحری اور فضائیہ کے چیف سے ملتے۔ اگر وزیر خارجہ بیرون ملک ہوتے تو ان کے اور شاہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ رازداری سے ہوتا۔ شاہ کو پورا اعتماد تھا کہ ان کے ہاتھ میں مکمل کنٹرول ہے اور کوئی بھی چیز ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ ایک درباری وزیر نے درخواست کی کہ انہیں عوام سے رابطے میں رہنا چاہیے اسے رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا "میں جانتا ہوں عوام کیا سوچتے ہیں۔ مجھے ہر روز رپورٹیں ملتی ہیں، لوگ میری آواز ریڈیو پر سنتے ہیں، میری شکل ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہمارا رابطہ ہے”

شاہ کے پاس تہران کو بنانے سنوارنے کے کئی منصوبے تھے۔ پرسپولیس میں جشن تاج پوشی کے بعد شاہ نے تہران شہر میں یادگار "شہیاد” بنانے کی بنیاد ڈالی۔ اس تقریب میں ایتھوپیا، یونان، ڈنمارک، ناروے اور نیپال کے بادشاہ بھی شریک ہوئے۔ اس میں میوزیم، کنسرٹ ہال اور آرٹ گیلریاں بھی جو نیویارک اور لندن کے مقابلے میں کم نہیں تھیں۔ ایک گرانڈ سنٹرل پارک ملکہ فرح کے نام سے تھا۔ زیر زمین میٹرو کا کام بھی شاہ نے شروع کروا دیا اور ایک نئے بین الاقوامی ائرپورٹ کی تعمیر بھی۔ آلودگی کو کم کرنے کے لیے گرین بیلٹ، زراعت اور فارمنگ پر خاص توجہ دی۔ شاہ کی خواہش تھی کہ ان کے بیٹے کو وراثت میں ایک ایسے ملک کا پایہ تخت ملے جو دنیا کے پانچ بڑے ملکوں میں سے ہو۔

دوپہر کے کھانے کے لیے وہ ٹھیک ڈیڑھ بجے دفتر سے نکل کر اپنی رہائش گاہ جاتے، وہ ملکہ کے ساتھ کھانا کھاتے جو اکثر چند منٹ دیر سے پہنچتیں۔ یہ دونوں کی دن کی پہلی ملاقات ہوتی۔ لنچ کے دوران دو بجے ریڈیو کی خبروں کاوقت بھی ہو جاتا جو شاہ کبھی مس نہیں کرتے لیکن ملکہ اکثر کسی اور کام میں مصروف ہوتیں۔ خبریں سننے کے بعد شاہ اپنے کمرے میں جاتے۔ لباس تبدیل کر کے قیلولہ کے لیے لیٹتے۔ تازہ دم ہو کر اٹھتے دوبارہ لباس تبدیل کرتے اور اپنے دفتر واپس پہنچ کر دن کے باقی کام انجام دیتے۔

سہ پہر میں ایک بار پھر ملاقاتیں، کاغذی کارروائیاں اور دوسرے دفتری کام ہوتے۔ ان تمام مصروفیات کے ہوتے ہوئے بھی شاہ ورزش کے لیے وقت نکال لیتے۔ ماہر گھڑ سوار، ٹینس کے اچھے کھلاڑی ہونے کے علاوہ پیراکی، واٹر اسکٹینگ، والی بال اور بغیر لائف جیکٹ پہنے ہیلی کاپٹر سے سمندر میں چھلانگ لگانا بھی ان کے پسندیدہ اسپورٹ میں تھے۔ ہفتے کی کچھ دوپہریں تین بجے کے قریب جب ان کی بیوی شہر سے باہر ہوتیں یا کسی کام میں مصروف ہوتیں تو وہ نزدیک ہی ایک محفوظ جگہ جاتے شاید کسی نوجوان معشوقہ سے ملاقات کے لیے۔ یہ وقت گزاری شاید اس دباؤ کے نتیجے میں تھی جس میں انہوں نے ساری زندگی اور تقریباً چار دہایاں تخت پر گزاریں۔ ان کی ذاتی اور عوامی زندگی کا یہ تضاد شاید انہی ذمہ داریوں کے فشار کی بدولت تھا۔

اپنے عوام کے سامنے شاہ کی شخصیت ایک سخت گیر، سنجیدہ، غیر جذباتی اور حس مزاح سے عاری شخصیت تھی۔ کوئی مسکراہٹ نہیں، کبھی دل کھول کے ہنسے نہیں۔ وہ شکی اور مخفی نظر آتے۔ 1949 میں ایک قاتلانہ حملے کے نتیجے میں ان کے ہونٹ پر ایک زخم کا نشان تھا جس سے وہ اور بھی بے نیاز سے دکھائی دیتے تھے۔ دن میں وہ زیادہ تر ڈبل بریسٹ سوٹ میں ملبوس تن کر کھڑے ہوتے۔ شاید وہ ایسا اپنی ملٹری تربیت کی وجہ سے کرتے تھے یا اپنا قد اونچا کرنے کے لیے۔ شاہ کا یہ کلف زدہ رویہ دوسرے ممالک کے سربراہوں نے بھی نوٹ کیا۔ نیدرلینڈ کی ملکہ جولیانا اور پرنس برن ہارڈ کی شادی کی سلور جوبلی کی تقریب میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کو شاہ کے ساتھ بٹھایا گیا۔ انہوں نے پارٹی کے اختتام پر برٹش فارن آفس کو بتایا کہ شاہ کافی بور اور قدرے بوجھل تھے۔ وہ صرف خریداری پر گفتگو کرتے۔ ایک دہائی کے بعد شاہ ونڈسر کاسل میں ملکہ الزبتھ کے مہمان ہوئے اور ایک بار پھر ملکہ نے یہی کہا کہ کہ "وہ بہت بوجھل ہیں” ۔

خلیل الخلیلی جو ایران میں لبنان کے سفیر تھے کہتے ہیں "ان کے چہرے کے تاثرات کبھی نہیں بدلتے۔ وہ ظاہر کرتے کہ وہ اتنے ہی مضبوط ہیں جتنا ایران ہے۔ وہ ہمیشہ لوگوں سے فاصلہ رکھتے تھے” ۔ شاہ کی دوسری سابقہ بیگم ثریا اسفند یاری کا کہنا ہے "وہ ایک ملا کی طرح سنجیدہ تھے۔ کبھی کوئی احمقانہ بات نہیں کی۔ تمباکو نوشی سے تقریباً پرہیز کیا اور کبھی الکوحل کو نہیں چھوا۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شاہ خلوت میں بھی انہیں تکلف سے "آپ” (شما) سے مخاطب کرتے جو کہ بزرگوں یا اجنبیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فرح پہلوی شاہ کے نظم و ضبط کے بارے میں کہتی ہیں "انہیں خود پر پورا کنٹرول تھا”

خود پر کنٹرول کا ایک واقعہ 1976 میں دیکھنے کو ملا۔ ایران کی شاہی فضائیہ نے ماوریک میزائل ٹسٹ کرنے تھے۔ شاہ بھی اس بیابان میں پہنچے اور ان کے ساتھ اعلی رینک کے افسران اور اور امریکی ڈپلومیٹ اور جنرل بھی تھے۔ ایرانی جنرل حسین مہرمند نے بتایا "میزائل چھ میل دور سے فائر کیے گئے۔ لیکن پھر کچھ غلط ہو گیا، میزائل نے نوے ڈگری کا موڑ کاٹا اور سیدھا پیویلین کی طرف بڑھا جہاں تمام مہمان کھڑے تھے۔ سب نے خود کو زمین پر گرا لیا، ان میں امریکی جنرلز بھی تھے سوائے شاہ کے جو اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑے رہے۔ میزائل ان کے سر کے اوپر سے گزرتا قریب جا کر گر گیا۔” حیرت زدہ جنرلوں نے خود کو سنبھالا۔ جنرل مہرمند شاہ کے پاس گئے اور کہا "اعلی حضرت ہمیں مشق روک دینی چاہیے” شاہ الجھ سے گئے "نہیں نہیں۔ ہمیں جاری رکھنا ہے”۔ گھبرائے ہوئے مہمان اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ دوسرا میزائل اپنے ہدف پر گرا۔ شاہ نے مہرمند سے شرط لگائی کہ تیسرا میزائل بھی اپنے ہدف پر جا لگے گا۔ جب شاہ کی بات ٹھیک ثابت ہوئی تو وہ بھول گئے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ "انہوں نے اپنا ہیٹ اتارا اور گراؤنڈ کی طرف پھینکا۔ وہ بہت خوش تھے” مہرمند نے بتایا۔ اس روز ٹسٹ گراؤنڈ میں شاہ نے اپنی ہمت اور بہادری تو دکھائی ہی تھی لیکن ایک کھلنڈرا پن بھی دیکھا گیا جس کا مظاہرہ وہ عام لوگوں میں کبھی نہیں کرتے۔

یہ بات شاہ کے خاندان کے لوگ، قریبی دوست اور مخصوص درباری ہی جانتے تھے کہ عوام میں شاہ کی جو تصویر ایک بے باک اور سجے سنورے سے فرمان روا کی ہے وہ اس سے بہت مختلف تھے۔ وہ کسی حد تک شرمیلے تھے۔ باہر کے لوگ جب ان سے پہلی بار ملتے تو ان کی پبلک زندگی اور ذاتی زندگی کا تضاد حیران کن لگتا۔ ایک مغربی سفیر کے مطابق "آمنے سامنے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھو تو وہ ایک شرمیلے انسان لگتے۔ کبھی کبھی تو اتنی نرم آواز میں بات کرتے کہ سننا مشکل ہو جاتا۔ انہیں لطیفے اچھے لگتے تھے لیکن خود ان میں مزاح کی حس نہیں تھی۔ یقینی طور پر ان کی شخصیت میں کوئی رنگینی نہیں تھی لیکن وہ ایک طاقتور شاہ تھے۔ ورزش اور متوازن غذا کھانے کے باعث ہمیشہ دبلے اور فٹ رہتے۔ میرے خیال میں وہ خاموش طبیعت اور شرمیلا سا انسان ہی اصلی شاہ تھا۔ اپنا وہ دوسرا روپ جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے اس کی یقیناً وہ آئینے کے سامنے خوب پریکٹس کرتے رہے ہوں گے” ۔

شاہ کا یہ رویہ ان کے والد کی طرف سے حکمرانی کے اس سبق کا نتیجہ تھا کہ کبھی لوگوں کو وہ مت دکھاؤ جو تم ہو۔ ولی عہد رضا کا کہنا ہے "میرے والد شرمیلے تھے وہ عوام سے چہرے پر ماسک لگا کر ملتے۔ شاید انہیں اپنا اصلی چہرہ لوگوں کو دکھانا چاہیے تھا۔ جو ان کے اپنے والد نے مثال قائم کی وہ اسی پر چلتے رہے۔ یہ نقاب لگانے کی ایک وجہ یہ تھی دوسرا چہرہ شاید ایک کمزور شخصیت کو ظاہر کرتا۔ ایک کم عمر شہزادے کو یہی سکھایا گیا کہ انہیں اپنے اور لوگوں کے بیچ ایک فاصلہ رکھنا ہے۔ حتی کہ اپنے ذاتی رشتوں میں بھی اور کبھی کسی پر بھی اندھا اعتماد نہیں کرنا” شاہ نے ایک بار خود بھی کہا "اگر مجھے کوئی اچھا لگتا ہے تو ایک ہلکا سا شک کا شائبہ یہ رشتہ توڑ سکتا ہے۔ دوستی میں دو لوگوں کے بیچ اعتماد ہوتا ہے لیکن ایک بادشاہ کو کسی پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے” ۔ ایک بار جب فرح نے انہیں کہا کہ عوام میں تھوڑا مسکرانا چاہیے تو شاہ نے انہیں یاد دلایا کہ جذبات کا اظہار کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے اس قسم کے رویے اور عادات کی وجہ سے دیکھنے والے انہیں مغرور اور غیر مہذب سمجھتے تھے۔ نومبر 1977 میں شاہ اور ملکہ امریکہ کے دورے پر گئے اور انہیں وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا، ڈنر کے بعد جاز کنسرٹ میوزک میں فنکار Dizzy Gillespie اور Sarah Vaughan نے پرفارم کیا۔ شو کے اختتام پر صدر کارٹر اور مسز کارٹر اپنی نشستوں سے اٹھے اور فنکاروں کا شکریہ ادا کیا۔ ملکہ فرح بھی اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ سب نے دیکھا کہ شاہ اپنی نشست پر اکڑ کر بیٹھے رہے۔ وہ جیسے منجمد ہو گئے اس خیال سے کہ انہیں اتنے مجمع کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کی بیوی کو ڈر تھا کہ کہیں کوئی بدمزگی نہ ہو جائے۔ انہوں نے شاہ کے کان میں سرگوشی کی اور انہیں ساتھ اسٹیج پر آنے کو کہا۔ وہ پھر بھی گوند کی طرح اپنی نشست سے چپکے رہے۔ فرح نے پھر ان کا بازو پکڑا اور اسٹیج کی طرف لے گیں۔ لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اگلے دن افواہ اڑی کہ ایران کے شاہ اپنی کرسی پر اس لیے بیٹھے رہے کیونکہ وہ ایک سیاہ فام میوزیشن سے ہاتھ ملانا نہیں چاہتے تھے۔

شاہ بچپن میں بیماریوں کی وجہ سے ایک لمبی مدت تک تنہائی میں رہے۔ وہ ننھے شہزادے تھے جب انہیں ٹائیفایڈ ہوا اور وہ موت کے قریب تھے۔ پھر کالی کھانسی ہوئی، ایک بار ملیریا ہوا اور پوری زندگی ہاضمے کے مسائل رہے۔ ان کا جگر بھی حساس تھا، قوت مدافعت بھی کمزور تھی، انفیکشن اور نزلہ زکام بھی رہتا تھا۔ وہ کالی عینک لگاتے کیونکہ ان کی آنکھیں سورج کی تیز تمازت برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ اس سے یہی عکس کیا گیا کہ وہ کوئی ایسے حکمران ہیں جنہیں بس دور سے دیکھا جاتا ہے چھوا نہیں جاسکتا۔ ایک ایسا شخص جو شروع ہی سے تنہائی کا شکار رہا پے در پے بیماریاں اور اتنی ذمہ داریاں اور اہم فیصلے لینے کا دباؤ ان اسباب کی وجہ سے شاہ ڈپریشن، پیٹ کے درد اور بے چینی جھیلتے رہے۔ سب سے بدتر بے خوابی تھی خواب آور گولیاں ‘ولیم’کھانے سے بھی نیند نہیں آتی تھی۔ نیواران کے گھریلو معاملات میں شاہ نے کبھی کوئی شکوہ شکایت نہیں کی۔ محل میں انہوں نے کبھی کسی بات کو مسئلہ نہیں بنایا۔ ایک بار ان کے ذاتی خدمت گار نے انہیں غلط دوا دے دی اس پر انہوں نے اصرار کیا کہ مسئلے کو ختم کیا جائے اور کسی کو شرمندگی نہ ہو۔

اگر کسی ایک بات پر شاہ کو پورا یقین تھا تو وہ ایرانی عوام کی ان سے محبت تھی۔ وہ ایرانی عوام کو اپنی ‘اولاد’ کہتے۔ ان کی یہ چاہت غیر ملکیوں اور انٹلیکچولز کو سمجھ نہیں آتی۔ "آپ مغربی لوگ اس بات کے فلسفے کو نہیں سمجھ سکتے۔ میری طاقت کے پیچھے ایرانیوں کی یہ سوچ ہے کہ ان کا حکمران ان کا ‘باپ’ ہے۔ اب اگر آپ کا باپ ناگزیر طور پر ایک آمر ہے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے، میرا نہیں”

شاہ کے یہی جذبات ان کے رویوں میں بھی دیکھے گئے۔ دو بار جب وہ شورش کا شکار ہوئے اور تخت چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اگست 1953 میں ایک مختصر مدت کے لیے ملک چھوڑا جب محمد مصدق وزیراعظم تھے۔ جاتے ہوئے آرمی کے جنرل فضل اللہ زاہدی کو نظم و نسق سونپ گئے۔ جون 1963 میں ایک مذہبی عالم آیت اللہ خمینی نے انقلاب لانا چاہا اور ایک بار پھر شاہ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور وزیراعظم اسد اللہ علم جو ایک سخت گیر انسان تھے ان کے حوالے ملک کیا۔ جس چیز سے وہ سب سے زیادہ خوفزدہ تھے وہ عوام پر تشدد کا حکم تھا۔ ان کا یہ مزاج ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی فوج کو عوام پر گولیاں چلانے کو کہیں، ان پر بھی نہیں جو انہیں برباد کرنا چاہتے تھے۔ ان کے پرانے مشیر یہ بات سمجھتے تھے کہ شاہ رک کر لڑنے کے بجائے چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
جب تک شاہ کو یہ یقین تھا کہ ان کے دل و دماغ میں خدا ہے اور ایرانی قوم ان کے ساتھ ہے وہ پورے اعتماد اور طاقت سے حکومت کریں گے لیکن جب انہیں یہ لگے گا کہ اب اپنے لوگوں کے دلوں پر حکومت نہیں کر رہے اور انہیں اپنے مشن پر شک ہو گا وہ آہستگی سے خود کو الگ کر لیں گے۔
شاہ کو یقین تھا کہ 95 فیصد آبادی بادشاہت کے حق میں ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انہیں لوگوں کی سپورٹ حاصل ہے۔ شاہ نے جواب دیا "آپ ان کی آنکھوں میں دیکھ سکتے ہیں”۔ بے شک شاہ مطلق العنان حکمران رہے لیکن اقتدار سے چمٹے رہنا کا ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ جب ان کا بڑا بیٹا حکومت چلانے کا اہل ہو جائے گا وہ تخت سے اتر جایں گے۔

اکتوبر 1971 میں پرشین بادشاہت کے جشن کی تقریب میں ٹی وی پر شاہ نے کہا کہ وہ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ تخت سے اتریں گے۔ "یہ کوئی نئی انوکھی بات نہیں” انہوں نے رپورٹرز سے کہا "میرے والد بھی ایسا ہی کرنا چاہتے تھے” 1972 میں دوستوں کے درمیان انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا "جب رضا بیس سال کا ہو جائے گا تو میں ریٹائر ہو جاؤں گا۔ میں وراثت میں اپنے بیٹے کے لیے ایک بہتر ملک بنا کر دینا چاہتا ہوں۔ اس سے بہتر جو مجھے وراثت میں ملا، ۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا ٖورثے میں صرف خواب ہی نہ پائے بلکہ خواب کی تعبیر بھی اسے ملے” ۔

shah in Switzerland (Standing second from left)

گو کہ شاہ پارلیمانی جمہوریت پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ اسے اپنی بادشاہت کے ابتدائی برسوں میں شورش کا باعث سمجھتے تھے۔ لیکن اب وہ سمجھ رہے تھے کہ وقت آ گیا ہے کہ سیاسی سسٹم کو آزاد کیا جائے اور "بھاپ کو نکلنے دیا جائے” ۔ اس سلسلے میں پہلا قدم انہوں نے یہ اٹھایا کہ اپنے سیاسی بندوبست میں سے کچھ عوام کے ناپسندیدہ عناصر کو نکال دیا۔ ایک نئے قانون کو بھی سپورٹ کیا جو سیاسی قیدیوں کے تحفظ اور تشدد کی ممانعت کے لیے بنا۔ شاہ نے حکم دیا کہ سنسرشپ میں نرمی کی جائے اور حکومت پر عوام کی نکتہ چینی کی حوصلہ افزائی کی۔ 1977 کے موسم گرما میں شاہ پیچھے ہٹ گئے اور روزانہ کے امور ان کی متعلقہ وزارتوں کے حوالے کر دیے اور اپنے وزیراعظم کو فیصلوں کے کلی اختیارات بھی دے دیے۔ حزب اختلاف کے گروہوں کو بھی خود کو منظم کرنے کی آزادی دی۔ اس حد تک کہ بس شہنشاہیت کے پائے کو ضرب نہ پہنچے۔ ایک وقت تھا جب ایرانی اخبارات میں شاہ کی تصویر ہر روزصفحہ اول کی زینت بنتی تھی۔ 1977 کے موسم خزاں میں دیکھا گیا کہ ملکہ فرح کی شخصیت کو آگے لایا جانے لگا، وہ روزمرہ کے اہم مسائل پر بات کرتی دکھائی دیں۔ ولی عہد شہزادہ رضا کو نمایاں طور پر دکھایا جانے لگا۔ وہ جنوری 1978 میں اپنے پہلے بیرون ملک دورے تھائی لینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ گئے۔ ان کے ریاستی دوروں کی یہ منصوبہ بندی پورے ایک سال تک کے لیے کی گئی تاکہ انہیں بادشاہت سنبھالنے کے لیے تیار کیا جائے۔
دن کے اختتام پر شاہ محل جا کر رات کے کھانے سے پہلے ایک گھنٹہ ورزش کرتے۔ اوپری منزل پر اپنے رہائشی گھر کی خوابگاہ کے پاس ایک چھوٹے سے کمرے کو جم بنوایا۔ شاہ کے خدمت گار امیر پور شجاع نے ایک بار تجویز دی کہ اس کمرے کو بڑا کر لیا جائے۔ لیکن شاہ نے تجویز رد کردی "نہیں یہ میرے لیے کافی ہے”۔ امیر شجاع اپنے مالک کے بدن کو اچھی طرح جانتے تھے وہ آسٹریا سے مساج کی تربیت لے کر آئے تھے۔ 58 سال کی عمر میں بھی شاہ کا بدن قابل رشک تھا۔ شجاع کا کہنا ہے کہ سال اور موسم گزرنے کے باوجود شاہ کا وزن نہ گھٹتا، نہ بڑھتا۔

مساج کے بعد شاہ نچلی منزل کے ڈایئنینگ ہال میں اپنی بیوی اور خاندان کے افراد کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے۔ کسی شب وہ اور فرح گاڑی میں بیٹھ کر شاہ کی والدہ یا بہنوں کے گھر رات کا کھانا کھانے جاتے۔ وہ زیادہ تر ایران کے روایتی کھانے ہی پسند کرتے۔ حساس معدہ رکھنے کے باوجود ایک چیز ایسی تھی جو وہ رد نہیں کر سکتے تھے وہ تھی "کلہ پاچہ” (سری پائے)۔ وہ الکوحل کا استعمال شاذ و نادر کرتے۔ اسٹیٹ ڈنر کے دوران اپنا شراب کا گلاس اٹھا کر لبوں تک لے آتے لیکن گھونٹ نہیں بھرتے۔ کسی شب ڈنر کے بعد ایک گلاس وہسکی کا لے لیتے۔

شاہ اپنی بادشاہت کی چوتھی دہائی کے اختتام پر تھے وہ بیسویں صدی کے طاقتور ترین حکمران تھے اور یہ حکمرانی جاری تھی۔ چند ناراض دشمن، ایک انقلابی گروہ، بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے اور دائیں بازو کے مذہبی لوگ ایران کو شاہ کے بغیر دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن شاہ نے جو سیاسی اصلاحات کی تھیں اس کا فائدہ بھی اٹھا رہے تھے۔ مظاہرے اور مغربی انداز کی تنصیبات مثال کے طور پر سنیما، بنک اور یونیورسٹیوں پر حملے شروع ہو گئے۔ ہمسایہ ملک عراق میں آیت اللہ خمینی پچھلے 13 سال سے جلا وطنی کاٹ رہے تھے انہوں نے وہاں سے کوششیں شروع کردیں۔ ایران سے بادشاہت کا خاتمہ اور اسلامی ریاست کی بنیاد جس کے قوانین مسلمانوں کی کتاب قرآن کے مطابق ہوں گے۔
نیواران محل میں شاہ کی ذاتی رہائشی گھر میں ایک چھوٹا سا باتھ روم تھا اس میں ایک الماری کی ایک دراز میں کئی پلاسٹک کی بوتلوں میں گولیاں تھیں جن پر جعلی لیبل لگے ہوئے تھے۔ صرف شاہ، ملکہ اور کچھ ایرانی اور فرنچ ڈاکٹرز جنہوں نے رازداری کا حلف لیا ہوا تھا جانتے تھے کہ اصل میں کس بوتل میں کون سی دوا ہے۔ شاہ کے خدمت گار امیر پور شجاع کو ہدایات تھیں کہ ہر پانچ دن بعد مقامی فارمیسی کو ان ادویات کا آرڈر دیں اور ایک ڈرائیور کو بھیج کر دوائیں منگوائیں۔

امیرپور شجاع لفٹینینٹ جنرل عبدلکریم آیادی کو دکھا کر وہ گولیاں بوتلوں میں بھر دیتے۔ وہ خود نہیں جانتے تھے کہ یہ گولیاں پاورفل کیمیکل سے بنی ہیں جو کینسر کے علاج میں دی جاتی ہیں۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ شہنشاہ ایک لاعلاج اور موذی مرض سرطان میں مبتلا ہیں اور آہستہ آہستہ موت کی طرف جا رہے ہیں۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS