مغلیہ دور کا علم و ادب، فن اور کتب خانے
مغلیہ خاندان کے بادشاہ تعمیرات، علوم و فنون کے بڑے سر پرست تھے۔ بابر سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک مغل بادشاہوں نے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے فروغ میں نہایت دلچسپی لی۔ کتاب سازی اور کتب خانوں کو اس دور میں خاطر خواہ فروغ ہوا، بابر نے ہندوستان کو فتح کیا تو فن مصوری اور با تصویر مخطوطات کے فن کو اپنی سر پرستی عطا کی۔ بابر نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تزک بابری میں کتابوں سے بے پناہ لگاؤ کا ذکر کیا ہے۔ مغلیہ دور کے مصور، بہزاد اور شاہ مظفر کے نام شامل ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مغل فرمانرواؤں کو علم و حکمت اور صنعت و حرفت کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ سے بھی بے حد دلچسپی تھی۔
ہمایوں اپنی جلاوطنی کے دوران ایران کے شاہ طہماسپ کے دربار کے مصوروں سے بہت متاثر تھا۔ چنانچہ واپسی پر بہت سے ہنر مندوں کو اپنے ساتھ لایا تو ان میں ماہر خطاط، جلد ساز اور مخطوطات پر خوبصورت مصوری کرنے والے اہل فن بھی شامل تھے۔ جن کی اس نے اپنے دربار میں عزت افزائی۔ داستان امیر حمزہ کا مصور مخطوطہ جو بارہ جلدوں پر مشتمل تھا، اس کی ہر جلد میں 100 اوراق ہیں اور ہر ورق پر ایک تصویر ہے۔ اس داستان امیر حمزہ کو با تصویر کرنے کے لیے پچاس مصور مقرر کیے گئے تھے۔
اکبر بادشاہ ( 1542۔ 1605 ) نے عبداللہ کی شاگردی میں فن مصوری کا مطالعہ کیا۔ مصوری اور کتابی تصویر سازی سے اکبر کو غیر معمولی دلچسپی تھی۔ اس کے دربار سے تقریباً سو مصور وابستہ تھے جو فتح پور سیکری میں شان دار عمارات میں فن مصوری کے نادر نمونے تخلیق کرتے رہتے تھے۔ اکبر بادشاہ کا خیال تھا کہ بے جان تصویر دیکھ کر اللہ تعالی کی عظمت اور بڑائی پر ایمان پختہ ہوتا ہے کہ وہی بے جان جسموں میں جان ڈالنے والا ہے وہی قادر مطلق ہے اور زندگیاں بخشنے والا ہے، جن کو دیکھ کر انسان کا خدا کی قدرت پر ایمان پختہ ہوتا ہے۔ اس طرح جب شاہی سطح پر مصوری کی حوصلہ افزائی ہوئی تو فارسی، ہندی اور دوسری زبانوں کے مخطوطات کو بنانے کی روش بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔
جہانگیر نے بھی مخطوطات کو مصوری اور نقش و نگار سے سجانے کی سر پرستی کی وہ خود بھی فن مصوری کا بڑا دلدادہ تھا۔ اس طرح شاہجہاں بھی مصوری کا بڑا شائق تھا مگر اس کے دور میں مصوری اور فن کتابت کو اتنی سر پرستی حاصل نہ ہوئی جو کہ ان کے اجداد سے حاصل ہوئی تھی۔
اورنگ زیب جو خود روزہ نماز کا بہت پا بند تھا، مصوری اور فن موسیقی سے کوئی دلچسپی نہ رکھتا تھا، وہ عالم با عمل تھا۔ کتابت اور عمدہ خطاطی کی قدر کرتا تھا۔ مخطوطات اور کتابوں کی جلدوں کی خوبصورتی بیل بوٹوں اور دیدہ زیب جیومیٹریکل ڈیزائن سے تیار کیے ہوئے نسخوں کو بہت پسند کرتا تھا۔ خود بھی اچھا خطاط تھا اور قرآن مجید کی خطاطی کر کے کتب اور قلمی نسخوں کو خانہ کعبہ اور دیگر مراکز کو روانہ کرتا تھا، اس کے دور میں شاہی سر پرستی اور قدر دانی کی کمی کے باوجود کتابی مصوری کا فن ریاستوں میں بدستور جاری رہا۔
مغلیہ دور کے کتب خانوں میں شاہان مغلیہ کا شاہی کتب خانہ تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ شاہی کتب خانہ 1528 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کتب خانے میں تقریباً 24 ہزار نایاب اور قیمتی مخطوطات تھے۔ شاہی کتب خانے میں مختلف موضوعات پر کتابوں میں شاعری، طب، فلکیات، موسیقی، لسانیات، فلسفہ، تصوف اور مذہبیات شامل تھے، جو ذوق مطالعہ کی تسکین کے لیے منتخب کر کے رکھی ہوئی تھیں۔

