اے حسن دل آویز عجب مختصری ہے


ان دنوں سوشل میڈیا پہ قتالۂ عالم کرینہ کپور کی تازہ ترین تصاویر نے ہلچل مچا رکھی ہے۔ گو کہ خوبصورت ترین اداکارہ کی ہر تصویر ہی سراہی جاتی ہے، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ کئی کئی ملین لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہے لیکن حالیہ تصاویر کے وائرل ہونے کی وجہ مختلف ہے۔

اداکارہ نے میک اپ کے بغیر اپنی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں اداکارہ کے چہرے کی جلد بہت خراب نظر آتی ہے، داغ اور چھائیوں اور جھریوں والی جلد کرینہ کپور کی ڈھلتی عمر کی چغلی تو کھاتی ہی ہے، اس کے ساتھ خوبصورت نظر آنے کے پیچھے میک اپ کی اہمیت کو بھی آشکار کرتی ہے۔

اپنے وقت کی خوبصورت ترین ہیروئن کہ جس کی خوبصورتی مثال کے طور پہ استعمال ہوتی ہے، اس کی تازہ ترین تصاویر دیکھنے کے بعد اداکارہ کے چاہنے والے خاصے مایوس نظر آتے ہیں۔

شاید اس کے پیچھے ہمارا بنایا ہوا بے داغ فلسفہ حسن ہے۔ آج تک ہمارے ہاں فنون لطیفہ کی ہر شاخ نے حسن کو مبالغہ آرائی کی حد تک شفاف اور کامل بنا کے پیش کیا ہے۔ افسانوی کردار تخلیق ہوئے جن کے متعلق پڑھ کے ہی کسی غیر مرئی دیو مالائی مخلوق کا گمان ہو۔ شاعری ہے تو محبوب کے حسن کو چاند سے کم پہ تولنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ اس میں بھی داغ ہے اور وہ بھی اماؤس کا شکار ہوتا ہے لیکن ہم نے مثال کے لیے بھی چودہویں کا کامل ترین چاند ہی منتخب کیا ہے۔

آنکھیں ہیں تو غزالی، زلفیں ہیں تو بل کھاتی ناگن، ہونٹ ہیں تو پنکھڑی گلاب کی۔ گویا ہم نے حسن کو ایک ایسی چیز بنا کے پیش کیا ہے کہ ہمہ شما تو حسن کی ح تک نہ پہنچیں۔ مصوری کی بات کی جائے تو تجریدی آرٹ میں بھی خوبصورتی کے لیے ایسے خط کھینچیں گے کہ بے ترتیبی میں بھی کامل ترین نقشہ چھلک چھلک جائے، کمان دار ابرو، صراحی دار گردن، نازک کمر کے خط ایسے کھینچے کہ تصویر پہ توبہ شکن حقیقت کا گمان ہو۔

ہاں تسلیم کیا کہ انسان کاملیت اور شفافیت کی طرف رجحان رکھتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماسوائے ذات حق کے کسی بھی شے کو کاملیت حاصل نہیں ہے یا اس کی کاملیت کو دوام نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے بلند ترین بلکہ مشکل ترین معیار حسن پہ ایک فیصد لوگ ہی بمشکل پورا اترتے ہیں اور پھر ہم ان کے اندر ذرا سی کمی کوتاہی دیکھ ہی نہیں سکتے۔

ہر آنکھ کی الگ عینک ہے اور ہر نظر کا منفرد زاویہ نگاہ، حسن مکمل پیکیج کا نام نہیں ہے۔ حسن تو فقط کشش کا نام ہے، ہو سکتا ہے بالکل عام سے نین نقش والا چہرہ آپ کو دیکھنے میں بہت اچھا لگے اور کتابی نقوش والے لوگ ذرا سا بھی متوجہ نہ کر پائیں۔ بعض لوگوں کے پاس بیٹھنے سے طبیعت اوب جاتی ہے حالانکہ وہ بہت گورے چٹے خوش شکل اور بہترین لباس میں ملبوس ہوتے ہیں، جبکہ بعض اوقات بالکل سادہ سے حلیے والے افراد کے پاس سے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یعنی انسان کے گرد رنگوں کا ہالہ آپ ہی شخصیت کو پرکشش بناتا ہے اس لیے حسن یہ ہے کہ اپنی شخصیت میں بہترین رنگ شامل کیے جائیں۔ گویا حسن چمکتی جلد، گھنے بالوں اور کتابی نقوش سے ہٹ کے کوئی چیز ہے جو فوراً آپ کے دل پہ اثر کرتی ہے۔ گویا حسن اچھائی ہے جو فوراً آپ کے اندر اترتی ہے، کسی کے لہجے کا نرم تاثر بھی حسن ہے، کسی بچے کا کھلکھلا کے ہنسنا بھی حسن ہے، کسی بزرگ کا لرزتے ہاتھوں سے آپ کے لیے دعا کرنا بھی حسن ہے، ماں کی شفقت بھری ناراضگی بھی حسن ہے، باپ کی محبت بھری ڈانٹ بھی حسن ہے، گلی محلوں کی رونقیں حسن ہیں، کھیت کھلیان حسن ہیں، صبح کے ٹھنڈے سورج سے لے کر رات کے خاموش اندھیرے تک تمام حسن ہے۔

خوبصورتی کو چند مخصوص قسم کے معیارات تک محدود کر دینا گویا خدا کی تخلیق کردہ خوبصورتی کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔

حسن پرفیکٹ ہونے کا نام نہیں ہے، حسن اوریجنل ہونے کا نام ہے۔

جب آپ بناوٹی پرتیں ہٹا دیتے ہیں، اور اپنا اصل روپ اصل چہرہ سب کے سامنے لاتے ہیں تو یہی حسن کی معراج ہے۔ کیونکہ انسان کسی دوسرے کے سامنے اپنا برا چہرہ پیش نہیں کرنا چاہتا، گویا جس نے تمہارے سامنے اپنا اصل چہرہ پیش کر دیا وہی اس کا خوبصورت ترین چہرہ ہے، اسے قبول کرو۔ نامکمل ہونا اور خالص ہونا ہی خوبصورتی ہے۔ اندر سے شفاف، بے ضرر، نرم اور رحمدل ہونا معیار حسن ہے، کیونکہ یہ تمام جذباتی خوبصورتیاں انسان کو جاذب نظر بناتی ہیں چاہے وہ معمولی شکل و صورت کا آدمی ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح چاند بڑھتا ہے تو پرکشش ہوتا ہے اسی طرح گھٹتا چاند بھی منفرد نظارہ ہے، ہم ہر خوبصورت شے کو ایک ہی سطح پر ایک ہی منزل پہ کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟

بوڑھا ہونا، چہرے کی جلد کا ڈھل جانا، جھریاں اور سفید بال تو حسن کا تسلسل ہیں، اور ایسا خالص حسن جو کسی سہارے یا میک اپ کی احتیاج نہیں رکھتا۔ ہمیں تھوڑا سا اپنا سوچنے کا انداز درست کرنا ہو گا، ہمیں لوگوں کو بوڑھا ہونے کی، نامکمل ہونے کی اجازت دینا ہو گی، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمیشہ اک ہی جیسا نظر آنا حسن نہیں ہے، حسن وہ نہیں کہ جس پہ ماہ و سال کا اثر نہ ہو، بلکہ حسن وہ ہے کہ جو ہر عمر کے ہر دور کے اثرات قبول کرے اور اس دور حیات کے تقاضوں کے مطابق نظر کو بھائے۔ ہمیں لوگوں کی شکل و صورت کے نقائص اور بدلاؤ کو قبول کرنا ہو گا۔ اور وہ معیارات جس پہ فقط ایک فیصد لوگ پورا اترتے ہوں وہ کبھی حسن و خوبی کا معیار نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ میرے مالک نے ہر مخلوق کو خلق کیا ہے اور میرا مالک بدصورتی خلق کر ہی نہیں سکتا کیونکہ

ان اللہ جمیل یحب الجمال
خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے

 

Facebook Comments HS