کیا ہمارے گھر بچوں کے لئے محفوظ ہیں؟


جیسے ہی گھڑی کی سوئیاں پونے سات، سات پچپن پر آتی ہیں۔ مجھے نہیں جانا، نہیں جاؤں گا۔ نہ بھیجیں۔ نہیں جانا، گھر رہنا ہے کی آوازیں رونے کے شور کے ساتھ سنائی دینے لگتی ہیں۔ چیخیں تو اتنی کہ دل دہلاتی ہیں۔ بلکنا ایسا کہ روز مجھے رلاتا ہے۔ اور اس کے ردعمل میں ڈرامے نہ کرو، کوئی چھٹی نہیں ہے۔ ماروں گا۔ روز کا یہی حال ہے۔ کب سے کہہ رہی ہوں، تیار ہوتے ہیں لیکن کوئی اثر ہی نہیں۔ روز کا یہی سیاپا ہے۔ دن بدن ضدی ہو رہا ہے۔

باقی بچے بھی تو جاتے ہیں۔ دو منٹ میں اسے تیار کر کے گاڑی میں بٹھاؤ۔ سنتے نہیں ہو کیا؟ بہرا ہے؟ والدین کی غصیلی، تحقیر زدہ ردعمل اس سے اونچے، تیز۔ اور اس کے بعد مارپیٹ، گالی گلوچ۔ میرا کمرا جب آوازوں سے بھرنے لگتا ہے تو میں بے چین ہو کر باورچی خانے میں آجاتی ہوں۔ اور جب وہاں بھی یہ شور شرابا زیادہ واضح ہو کر دل کو تکلیف دیتا ہے تو میں لان کے ایک گوشے میں آ کر بیٹھ جاتی ہوں۔ لیکن رویوں کی بدصورتی، الفاظ سے چھوٹے ذہن کا قتل، ساڑھے تین، چار سال کے بچے کی التجائیں، منتیں، خوف، ڈر کچھ بھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔

لان کی کھلی دیواریں، پس دیوار ہونے والے سبھی وحشتوں کو مزید برہنہ کر کے سامنے لے آتی ہیں۔ اور میں خود بلک بلک کر رونے لگتی ہوں۔ دل چاہتا ہے کہ بھاگ کر جاؤں اور اس معصوم کو اپنے ساتھ لے آؤں۔ نہ گھر بدل سکتی ہوں نہ اس کے مکین۔ نہ عقبی جڑی دیواریں۔ نہ روشندان بند ہو سکتے ہیں نہ کھڑکیاں۔ تو دعا کرتی ہوں، بہت دعا اور مولا سے کہتی ہوں کوئی راستہ سمجھا۔ پوش علاقے کا سارا حسن گرہن زدہ لگتا ہے اور پڑھے لکھے ناموں کی تختیاں بودی محسوس ہوتی ہیں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ بچے کا اسکول میں داخلہ کروایا گیا ہے۔ پہلے کسی وقت پانچ سال سے پہلے بچے کو مکتب نہیں بھیجا جاتا تھا۔ اب ہمیں جلد بچوں کو اے فار ایپل، بی فار بیگ پڑھانے کی جلدی ہے تو تین ورنہ ساڑھے تین سال تو ماں باپ کو خفگان ہونے لگتا ہے کہ بچہ اسکول کیوں نہیں جاتا؟ اور نام نہاد پڑھائی کے چکر میں ہمارے ہاں روز صبح، دوپہر، شام بچے جذباتی، جسمانی، زبانی ’ابیوز‘ کا شکار ہوتے ہیں۔ گھروں میں والدین اور دیگر بڑے رشتے، اسکولوں میں اساتذہ (کیونکہ یہی والدین جب کسی جگہ پر نوکری کرتے ہیں تو واپس وہاں بھی ایسے زہریلے رویے منتقل کرتے ہیں ) ۔

بجائے بچے کی ناخوشی سمجھنے، اس پر بات کرنے اور اس کا حل نکالنے کے، زور، زبردستی، دھونس سے اسکول بھیجتے ہیں۔ اور زد و کوب کرنے کا یہ سلسلہ تب تک چلتا ہے، جب تک طاقتور کا اختیار کمزور پر حاوی نہ ہو جائے۔ انگریزی کے چار حرف، اردو کے حروف تہجی، حساب کی گنتی، قرآن کی بنیادی تختی پڑھیں نہ پڑھیں لیکن بچہ یہ ضرور سیکھ لیتا ہے کہ:

والدین، بزرگوں، عمر میں بڑوں کو سب غلط کرنے کا حق ہے۔
دوسروں کی تذلیل بڑی بات نہیں۔ جذبات، احساسات کی کوئی قدر نہیں۔
گفتگو، دلیل اور تہذیب سے کوئی ان چاہا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔
ڈنڈا ہر مشکل کا حل ہے۔
جسمانی تشدد کرنا، زبان کے تیر چلانا چھوٹوں پر چلانا بڑوں کا حق اور جائز بات ہے۔
بچے گھر میں وہ زمین پر لگی مخلوق ہے، جس پر تسلط رکھنا سب بڑوں پر فرض ہے۔
دو جمع دو اور ڈگری کرنا، اچھے اخلاق اور انسان ہونے زیادہ ضروری ہے۔

پچھلے دنوں دفتر میں شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے جب مختلف پہلوؤں پر بات ہو رہی تھی تو میری ایک ساتھی ملازم نے کہا کہ ہمیں اپنی منصوبہ سازی میں شہروں کو بچوں کے لئے محفوظ اور پرکشش بنانے پربھی زیادہ بات کرنی چاہیے۔ معاشرے کا ایک طبقہ جو پوری نسل اور قوم کی بقا ہے۔ جو زندگی کے پہلے پندرہ سال کم ازکم دوسروں پر انحصار کرتا ہے۔ کمزور، ناسمجھ، معصوم ہوتا ہے۔ ذہنی طور پر ناپختہ، جذباتی، اور پرتجسس ہوتا ہے۔ اس کے لئے شہر کے اندر، رہائشی کالونیوں، کمرشل عمارتوں میں جسمانی، سائنسی، معلوماتی، دلچسپ سہولیات پر کام کرنا چاہیے۔ ان کی ’سیفٹی اور سیکورٹی‘ کو ترجیح دینا چاہیے۔

میرا دل چاہتا ہے کہ اسے بتاؤں کہ ہم شہر محفوظ بنا بھی لیں۔ تو کیا؟ ہماری کوتاہ نظری کا عالم تو یہ ہے کہ ہمیں ادراک ہی نہیں کہ ہمارے اپنے گھر ہمارے بچوں کے لئے ٹھیک نہیں۔ سب سے زیادہ غیر محفوظ وہ اپنے ہی آشیانوں میں ہیں۔ جہاں جب بات نہ مانی تو دادی نے ’ان من‘ کا فتوی دے دیا۔ ’دلیل‘ دی تو باپ نے ’نافرمان‘ ہونے کا ٹائٹل دے دیا۔ کسی بڑے کو سلام نہ کیا تو ’تمیز نہیں سکھائی‘ کا ٹیگ نتھی کر دیا۔ زبردستی چومنے نہ دیا تو مہمان نے ’بے دید‘ کہہ دیا۔ کسی بات پر اصرار کیا تو دادا نے ’ضدی‘ بول دیا۔

ہمارے گھر بچوں کے لئے گھر نہیں جہاں باقی سبھی کی طرح وہ ایک رکن اور فرد کی طرح جی سکیں۔ دوسروں کے لئے تجربہ گاہ نہ ہوں۔ مشین کی طرح ہر وقت ’یس، جی ہاں‘ کا بٹن ہی آن نہ رکھنا پڑے۔ ان کی عزت نفس کی تعظیم ہو۔ ناخوشی کا احساس ہو۔ ان کے وجود کی قیمت ہو۔

صرف والدین ہونے کا تمغہ سجانے کو اولاد پیدا نہ کریں۔ ایک نسل کی تربیت کرنے کی ذمہ داری سمجھیں۔ بچوں کو سنیں۔ ان کے تڑپنے کو مانیں اور گھروں کو رہنے کے قابل بنائیں۔ جہاں ڈگریوں سے زیادہ اخلاقیات کا درس عملاً ملتا ہو۔

Facebook Comments HS