فرانسس بیکن کا مضمون: تعلیم


Title of Essay: Of Studies
Author: Francis Bacon

مترجم : حسیب ارشد

مطالعہ (حصول) حظ، زیبائش اور (فروغ) استعداد کا ذریعہ ہے۔ خلوت اور گوشہ نشینی میں حظ انگیز ہے۔ گفتگو کی زینت ہے۔ اور کاروبار (حیات) کی فیصلہ سازی و انجام دہی میں معاون ہے۔ اگرچہ ماہر شخص کام کی انجام دہی اور شاید جزئیات میں طاق ہوتا ہے لیکن جامع صلاح و تجویز، منصوبہ سازی اور معاملات کی تنظیم کے لیے تعلیم یافتہ شخص ہی بہترین ہوتا ہے۔

مطالعہ میں بے تحاشا وقت صرف کرنا کاہلی ہے، اسے زیبائش (گفتگو) کے لیے بے جا استعمال کرنا تصنع ہے۔ اور فقط مطالعہ کی بنا پر رائے قائم کرنا سکالروں کا شیوہ ہے۔

تعلیم ہمارے قوٰی کو پختہ کرتی ہے اور تجربے سے پختہ ہوتی ہے۔ ہماری صلاحیتیں ایک پودے کی مانند ہیں جو تعلیم کی کترنی سے کانٹ چھانٹ کی طالب ہوتی ہیں۔ مطالعے سے حاصل شدہ راہنمائی زیادہ تر عمومی نوعیت کی ہوتی ہے بجر اس کے کہ اسے تجربے (کے تیشے سے ) تراشا جائے۔

عیار مطالعے کو بے سود قرار دیتا ہے، سادہ لوح اس سے متاثر ہوتے ہیں اور دانا اس کا استعمال کرتے ہیں۔ مطالعہ اپنا استعمال نہیں سکھاتا بلکہ یہ ہنر مطالعے سے ماورا اور مشاہدے کا عطا کردہ ہے۔

مطالعہ کرو لیکن (اس سے ) اختلاف یا تردید کے لیے نہیں، نہ ہی اس پر یقین اور من و عن تسلیم کے لیے اور نہ ہی اس لیے کہ بحث کے لیے مواد میسر آ سکے بلکہ اس کا مقصد (اس معلومات کی) صحت کو جانچنا اور غور و فکر ہونا چاہیے۔

کچھ کتب محض چکھنے کے لیے ہوتی ہیں، دیگر نگلنے کے لیے جبکہ چند ایک ایسی ہیں جو چبانے اور ہضم کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ یعنی کچھ کتب کو چیدہ چیدہ پڑھنا ہونا ہوتا ہے، دیگر کو پڑھنا ہوتا ہے لیکن بغیر تجسس کے جبکہ چند ایسی ہیں جنھیں توجہ اور دھیان سے مکمل پڑھنا ہوتا ہے۔ کچھ کتب کی تلخیص یا دوسروں کے منتخب کردہ اقتباسات پڑھ لینے چاہیے لیکن ایسا صرف غیر اہم موضوعات اور کمتر قسم کی کتب کے ساتھ کرنا چاہیے ورنہ تلخیص شدہ کتابیں ایسے گلاب کی مانند ہیں جس کا عرق نچوڑ لیا گیا ہو ؛ یعنی جوہر سے خالی۔

پڑھنا ایک ہمہ دان انسان کو، مباحثہ ایک ہوشیار (بلیغ) انسان کو اور لکھنا ایک شفاف (اپنے خیالات و اظہار میں ) انسان کو جنم دیتا ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص خال خال لکھتا ہے تو اس کا حافظہ توانا ہونا چاہیے، اگر وہ گفتگو کم کرتا ہے تو اسے حاضر دماغ ہونا چاہیے۔ اور اگر اس کا مطالعہ محدود ہے تو اسے چالاک ہونا چاہیے تاکہ وہ اس بارے میں جاننے کا تاثر دے سکے جو وہ نہیں جانتا۔

تاریخ (کا مطالعہ) انسان کو دانش مند بناتا ہے۔ شاعری انسان کو بذلہ سنج، ریاضی باریک بین، طبیعی فلسفہ عمیق اور اخلاقیات گمبھیر بناتی ہے۔ جبکہ منطق و فن استدلال انسان کو اظہار و تکرار کا حوصلہ دیتے ہیں۔

تعلیم (ہماری شخصیت کا) حصہ بن کر ہمارے اطوار کو متاثر کرتی ہے۔ عقل (انسانی) کا کوئی ایسا سقم اور رکاوٹ نہیں ہے جسے موزوں تعلیم کے ذریعے دور نہ کیا جا سکتا ہو بالکل ویسے جیسے امراض جسمانی کو موزوں ورزش سے دور کیا جا سکتا ہے۔ باؤلنگ گردوں (کی پتھری) اور پشت کے لیے، تیر اندازی پھیپھڑوں اور سینے کے لیے، آہستہ رو چہل قدمی معدے کے لیے اور گھڑ سواری دماغ کے لیے مفید ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے ذہنی قویٰ منتشر ہوں تو اسے ریاضی پڑھنے دو کیونکہ ریاضی کے مطالعے کے دوران توجہ کی ذرا سی چوک کے باعث اسے از سر نو آغاز کرنا پڑے گا۔

اگر اس کا فہم شناخت اور تقسیم کرنے کے ہنر سے ناواقف ہے تو اسے متکلمین کو پڑھنے دو کیونکہ وہ بال کی کھال اتارنے والے ہوتے ہیں۔ اگر وہ معاملات پر تحقیق کرنے اور ایک مدعے کو بطور حوالہ دوسرے مدعے کی تصدیق و وضاحت کے لیے استعمال کرنے کے ہنر سے ناواقف ہے تو اسے وکلا کے مقدمات پڑھنے دو۔ المختصر عقل کے ہر عارضے کے لیے ایک خاص نسخہ ہوتا ہے۔

 

Facebook Comments HS