عرب میں بطور چیلنج خانہ کعبہ پر لٹکائے گئے شاہکار قصیدے (سبعہ معلقات) دوسرا حصہ


مضمون کے آخری حصے میں سبعہ معلقات کے شعراء کا تعارف اور ان کے کلام کے موضوعات کا مختصراً جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سبعہ معلقات کے پہلے شاعر ”امرؤ القیس (م 539 ) کا پورا نام ابو الحارث حندج بن حجر الکندی تھا یہ نسلاً قحطانی تھا اسے الملک الغلیل یعنی گمراہ بادشاہ اور ذوالقروح یعنی زخموں والا بھی کہا جاتا تھا۔ امرؤ القیس نے شاعری میں بعض ایسی اصناف اور موضوعات متعارف کروائے جس کی مثال اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی امرؤ القیس نے یہ معلقہ اپنی چچا زاد بہن عنترہ بنت شرجیل کی محبت میں کہا جو ایک قافلے میں اس کی شریک سفر تھی اس کے قصیدے کا پہلا شعر جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے“ اے میرے دونوں دوستوں ذرا ٹھہرنا تاکہ ہم کچھ دیر کے لیے اپنے محبوب اور اس کی منزل کو یاد کر کے جو دحول اور حومل کے درمیان سقطہ اللوی میں ہے، رو لیں۔ امرؤ القیس کا معلقہ 81 اشعار پر مشتمل ہے اور اس کے قصیدے کا بنیادی موضوع غزل اور احساس محرومی ہے۔

سبعہ معلقات کے دوسرے شاعر زھیر بن ابی سلمٰی (م 615 یا 631 ) کا پورا نام زھیر بن ابی سلمٰی ربیعہ بن ریاح المزنی ہے۔ زھیر وہ پہلا شاعر ہے جس نے سب سے پہلے امن، صلح، محبت اور سلامتی جیسے مضامین کواپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اس کے معلقہ میں 59 اشعار ہیں اس معلقہ میں جہاں اس نے مدحیہ اشعار کہے وہاں اپنے اشعار میں جنگ و جدل کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور اس کے انجام کو بھی بیان کیا ہے یعنی وہ صلح و صفائی کی تر غیب دیتا ہے۔

سبعہ معلقات کے تیسرے شاعر عمر و بن کلثوم التغلبی (م 570 ء بمطابق 52 قبل ہجرت ) کی کنیت ابولاسود تھی والد کا نام کلثوم بن مالک تھا، یہ قبیلہ تغلب کا شاعر اور بہادر سردار تھا اور اس کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ اسے ”فتاک العرب“ یعنی عرب کا شیر کہا جاتا تھا۔ عمرو بن کلثوم عہد جاہلیت کے ان شعراء میں شامل ہے جنہیں صرف ایک قصیدے کی بدولت شہرت حاصل ہوئی۔ اس کے معلقہ میں 106 اشعار ہیں اور اس کے قصیدے کا موضوع اپنے بزرگوں کے کارناموں پر فخر کرنا ہے۔ اس کے قصیدے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ قصیدے کا آغاز عہد جاہلیت کے شعراء کے رواج کے بر خلاف تشبیب (غزل) کی بجائے ساغر و ساقی سے کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ غزل یعنی اپنی محبوبہ کا سرا پہ بیان کرتا ہے۔

سبعہ معلقات کے چوتھے شاعر طرفہ ابن عبد البکری (م 550 / 552 /ء بمطابق 70 ء قبل ہجرت ) کا پورا نام عمرو طرفہ بن العبد تھا۔ اس کا ایک چچا اور ماموں بھی شاعر تھا۔ طرفہ کے چچاؤں نے اس کے باپ کے انتقال کے بعد اس کی والدہ ”وردہ“ کی جائیداد پر قبضہ کر لیا اور طرفہ نے اسی بنیاد پر اپنے چچاؤں کی ہجو کہی۔ یہ عہد جاہلیت کا وہ شاعر ہے جس نے شاعری کا آغاز بچپن سے ہی کر دیا تھا اور 20 سال کی عمر میں شاعری کا استاد بن گیا تھا اس کے معلقہ کے 105 اشعار ہیں جن میں 35 اشعار صرف اس کی اونٹنی کی تعریف میں ہیں۔

سبعہ معلقات کے پانچویں شاعر عنترہ بن شداد العبسی ) م ( 615 کی کنیت ابو المفلس تھی اس نے قبیلہ عبس کے ایک شخص العبسی کی ایک حبشی لونڈی کے ہاں جنم لیا جس کا نام زبیبہ تھا۔ عربوں کے رواج کے مطابق عنترہ کو بھی غلامی نصیب ہوئی کیونکہ وہ ایک لونڈی کا بیٹا تھا۔ وہ دن بھر اپنے باپ کے جانوروں کو چراتا اور شام کو انہیں باڑے میں کر کے دودھ دوہتا اور رکھوالی کرتا۔ عنترہ اپنی ماں کی طرح کالا تھا اس لیے اسے ”المزیتہ العرب“ کہا جاتا تھا یعنی اسے عربوں کے کوؤں میں شمار کیا جاتا تھا اور اسے اپنے اسی عیب کا شدید احساس تھا جو اس کے معلقہ کہنے کا سبب بھی بنا۔ اس معلقہ میں عنترہ نے جہاں اپنی زبان دانی کا مظاہرہ کیا وہاں اس نے اپنی قوم کے کارناموں کو بھی پیش کیا۔ اس کے بعد وہ اپنی محبوبہ کی آنکھوں، مسکراہٹ اور ہونٹوں کی تعریف کرتے ہوئے اس سے اپنی شدید محبت کا اظہار کر تا ہے۔

سبعہ معلقات کے چھٹے شاعر لبید بن ربیعہ العامری کی کنیت ابو عقیل تھی۔ لبید کو سخاوت، دانائی، شرافت اور بہادری میں کافی شہرت حاصل تھی۔ اس کا انتقال 145 سال کی عمر میں ہوا اور اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے صرف ایک ہی شعر کہا۔ لبید اپنے معلقہ کا آغاز کھنڈروں کے وصف اور محبوبہ کی یاد سے کرتا ہے اور پھر طرفہ کی طرح اپنی اونٹنی کا طویل وصف بیان کرتا ہے لیکن اس کا یہ معلقہ ہجو پر مشتمل ہے جو ایک مخالف قبیلے کے بادشاہ کے خلاف کہی گئی ہے۔

سبعہ معلقات کے ساتویں شاعر حارث بن حلزہ الیشکری (م 560 / 540 ء بمطابق 52 قبل ہجرت ) کا نام الحارث اور کنیت ابو ظلیم تھی۔ یہ قبیلہ بکر کا شاعر تھا، حارث کو بھی ایک ہی قصیدے کی بدولت شہرت حاصل ہوئی۔ اسے فی البدیہہ شعر کہنے میں مہارت حاصل تھی وہ فخرو حماسہ کا بہترین شاعر تھا۔ بنو بکر اور بنو تغلب کے درمیان عرصہ دراز سے جاری لڑائی کا سلسلہ جسے حرب البسوس کہتے ہیں وہ اس کے معلقہ کا بنیادی موضوع ہے۔ دونوں قبیلوں کے درمیان ایک مرتبہ صلح ہوئی لیکن وہ جلد ہی ختم ہو گئی اور یہ معاملہ عمر و بن ہند کے دربار میں لایا گیا جہاں حلزہ نے اپنے معلقہ کے اشعار فی البدیہ پڑھے۔ جب حلزہ نے یہ قصیدہ پڑھا اس کی عمر 135 برس تھی الحارث حلزہ نے اپنے قصیدے کا آغاز غزل سے کیا اور ایام العرب اور دور جاہلیت کے دیگر واقعات کا احاطہ بھی اپنے اس قصیدے میں کرتا ہے۔ یہ معلقہ 82 اشعار پر مشتمل ہے اور ابتدائی 14 اشعار میں غزل اور اونٹنی کا وصف بیان کیا گیا ہے۔

آخر میں ابو عمرو بن العلاء کے اس مقولے کے ساتھ اپنا مضمون اختتام پذیر کرتا ہوں۔

”عرب کی شاعری کا بہت ہی کم حصہ تم تک پہنچا ہے اگر یہ مکمل ملتا تو علم و حکمت اور شعر و ادب کا ایک بہت بڑا حصہ تم کو دستیاب ہوتا“ ۔

(حوالہ جات)
1۔ تاریخ آداب اللغتہ العربیہ۔ جرجی زیدان
2۔ تاریخ الادب العربی۔ احمد حسن الزیات
3۔ فی الادب الجاہلی۔ طہ حسین ڈاکٹر
4۔ عربی ادب کی تاریخ۔ عبد الحلیم ندوی
5۔ تاریخ ادب عربی۔ ترجمہ عبد الرحمان طاہر سورتی
6۔ معلقات العرب۔ ڈاکٹر بدوی بطانہ
7۔ سبعہ المعلقات مع شرح۔ مولانا ذوالفقار علی دیوبندی
8۔ شرح المعلقات السبع۔ عبد اللہ بن حسین زوزنی
9۔ قصائد سبعہ معلقات۔ امیر حسن نورانی


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments