وڈے میاں صاحب: ریاست بہاولپور کی شان
میاں شاہنواز پیرزادہ شہید ریاست بہاولپور کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت تھے۔ ان کی شخصیت اپنے آپ میں ایک مکمل حوالہ ہے اور انہیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن نئی نسل کو بتاتا چلوں کہ وہ موجودہ وفاقی میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب کے والد تھے۔ وہ ضلع بہاولپور کے ایک بڑے جاگیردار گھرانے میں پیدا ہونے والے بارعب، باوقار اور عالی ہمت شخص تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک نفیس، انسان دوست، غریب پرور اور درویش صفت انسان بھی تھے۔
ان کا زیادہ وقت بھی غریب عوام کے ساتھ گزرتا تھا اور وہ اپنے حلقہ احباب میں چادر اور پگڑی باندھنے والے لوگوں پر فخر کا اظہار کرتے تھے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک عوامی شخصیت تھے۔ ان کے چاہنے والے تمام لوگ آج بھی پیار سے انہیں ”وڈے میاں صاحب“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
میاں شاہنواز پیرزادہ شہید کی عوامی سیاست کا انداز سب سے جداگانہ تھا، ان کے انداز سیاست میں محبت اور پیار کا رنگ ہمیشہ غالب رہا۔ ان کے دروازے دوستوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے لیے بھی ہمہ وقت کھلے رہتے تھے۔ ان کے اس انداز کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت میاں صاحب کی گرویدہ ہوتی گئی۔ اور بڑے بڑے سیاسی گھرانوں کی سیاسی دکانداری بند ہوتی گئی۔
جب میاں شاہنواز پیرزادہ نے نے اپنے بڑے صاحبزادے میاں ریاض حسین پیرزادہ کو میدان میں اتارا تو انہیں اپنی محنت اور تربیت پر اس بات کا پختہ یقین تھا کہ ایک روشن سیاسی مستقبل میرے بیٹے کے انتظار میں ہے۔ اپنے باپ کی تربیت کے زیر سایہ میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب نے بھی ریاست بہاولپور کی سیاست میں کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔
میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب پر یہ قول بالکل صادق آتا ہے کہ،
”وہ آیا، اس نے دیکھا، اور اس نے فتح کر لیا“ ۔

میاں ریاض حسین پیرزادہ کا ممبر صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر جیل خانہ جات سے شروع ہونے والا سنہری سیاسی سفر ایم این اے بننے کی دو متواتر ہیٹ ٹرک مکمل کر چکا ہے۔ اس وقت میاں ریاض حسین پیرزادہ چھٹی بار ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ہیں۔ اس کے علاوہ میاں شاہنواز پیرزادہ شہید کے چھوٹے بیٹے میاں سجاد حسین پیرزادہ بھی ایک دفعہ چیئرمین ضلع کونسل بہاولپور منتخب ہو چکے ہیں اور ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔
اس وقت میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب جنوبی پنجاب ہی نہیں پورے پاکستان مین ایک ”ہیوی ویٹ“ سیاستدان ہیں۔ میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب نے ہمیشہ اپنی والد کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے کرپشن اور خوشامد سے پاک سیاست کی ہے اور اپنے کردار کو بلند رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے والد کے دیے گئے پلیٹ فارم کے علاوہ کسی اور سہارے یا سیڑھی کا استعمال نہیں کیا۔ وہ اس وقت جس سیاسی معراج پر ہیں اس میں میاں شاہنواز پیرزادہ کی لازوال قربانیوں کا بہت بڑا کردار ہے۔

میاں شاہنواز پیرزادہ نے سیاست میں ہمیشہ محبتیں بانٹیں۔ ایسے انسان دوست لوگوں کا وجود انسانیت کے دشمنوں کو ہمیشہ کھٹکتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ 1995 میں مسلکی دہشت گردوں نے میاں شاہنواز پیرزادہ صاحب کو ان کے ڈیرے پر شہید کر دیا۔ ان کی شہادت نے ریاست بہاولپور کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس دن ہر شخص دلگیر تھا، ہر دل بوجھل تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی کیونکہ اس دن ”وڈے میاں صاحب“ کو ان کے چاہنے والوں سے جدا کر دیا گیا تھا۔
میں سمجھتا ہوں ان کی خدمات کو یاد کرنا ہمارا فرض بنتا ہے اس لیے ہم آج کے دن میاں شاہنواز پیرزادہ شہید کو ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یہ امر مگر باعث اطمینان ہے کہ ان کی سیاسی میراث میاں ریاض حسین پیرزادہ صاحب کی صورت بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ اور پیرزادہ خاندان کی یہ تمام کامیابیاں میاں شاہنواز پیرزادہ شہید کی محنت اور بے گناہ خون کی مرہون منت ہیں۔ آخر میں ایک شعر ان کی نذر۔
کن شہیدوں کے لہو کے یہ فروزاں ہیں چراغ۔
روشنی سی جو ہے زنداں کے ہر اک روزن میں۔



