نیر اقبال علوی: معاصر حالات کا ترجمان


نیر اقبال علوی سے میرا تعارف ان کے مجموعے ’جہان رنگ و بو‘ کے توسط سے ہوا۔ اس مجموعے میں مقامی اور عالمی صورت احوال کی جو عکاسی کی گئی ہے اس کی توقع کسی ماہر اور مشاق قلم کار ہی سے رکھی جا سکتی ہے جن کا فن پختہ اور فکری کینوس وسعت کا حامل ہو۔ انھوں نے اردو ادبی منظر نامے کو اپنے افسانوں کے کئی نمایاں مجموعوں (باؤلے کتے، پاگل خانہ، می رقصم، عالم سوز و ساز، ہنگامہ رنگ و صوت، اور سلسلہ روز و شب) سے سجایا ہے، تاہم ذیل میں اول الذکر مجموعے ’جہان رنگ و بو‘ کے دو افسانوں کا تجزیہ حاضر خدمت ہے۔

’گلوبل ولیج‘ میں جہاں ایک طرف اہل مغرب کی منافقانہ نعرے بازیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے وہاں مشرق و مغرب کے نظام معاشرت اور طرز حیات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ’گلوبل ولیج کے فوائد اپنی جگہ اہمیت ضرور رکھتے ہیں مگر اس کے ذریعے جس طرح ایک منصوبے کے تحت معاشرتی توازن کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ قابل افسوس ہونے کے ساتھ قابل مذمت بھی ہے۔ واضح رہے کہ یہ افسانہ ترقی کی مخالفت نہیں کرتا لیکن ترقی یافتہ ممالک میں انسانی زندگی کو جس طرح مشینی انداز میں ڈھال کر اسے جذبہ و احساس سے عاری کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں، یہ دراصل اس استحصال کے خلاف ایک صدائے احتجاج ہے جو انسانی حقوق کے نام پرکیا جاتا ہے۔

جرمنی کے ایک پلیٹ فارم سے زبیر ٹرین میں جس سیٹ پر بیٹھتا ہے وہاں پہلے سے ایک عورت بھی بیٹھی ہوتی ہے۔ سفر کے دوران وہ مختلف مناظر دیکھ کر سوچتا ہے کہ اہل مغرب کو مسلمان عورتوں کے سروں پر بندھے ہوئے رومالوں سے آخر کیا بیر ہے۔ ان کی نظر میں نیم برہنہ عورت ہی کیوں اعلیٰ مرتبے اور عزت کی حقدار سمجھی جاتی ہے؟ عرب کے مسلمانوں کے ساتھ یہاں غیر مہذب اور تحقیر آمیز سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے؟ اس دوران ایک اور اجنبی اسی کمپارٹمنٹ میں داخل ہوتا ہے۔ جو بیٹھتے ہی برانڈی کی بوتل نکال کر شراب پینا شروع کر لیتا ہے۔ کچھ دیر بعد عورت کا فون بجتا ہے اور کسی سے بڑے میٹھے لہجے میں بات کر کے فرینکفرٹ پہنچنے کا وقت بتاتی ہے۔ اجنبی مرد برانڈی پینے اور سگار کا دھواں اڑانے کے بعد عورت سے گفتگو شروع کرتا ہے۔ باتوں باتوں میں وہ ایک دوسرے کی زندگی میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عورت اسے بتاتی ہے کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ مائیک سے پہلی بار ملنے جا رہی ہے جس سے ایک سال پہلے انٹر نیٹ کے ذریعے دوستی ہو گئی تھی۔ پھر وہ اپنے پہلے بوائے فرینڈ کی بے وفائی اور اس کی وجہ سے کم عمری ہی میں ماں بننے سے لے کر اپنے ماں باپ کے غیر ہمدردانہ رویے اور مجبوراً اپنے بچے کو کسی ٹرسٹ میں ڈالنے تک، سارے واقعات سنا کر اس بات پر اطمینان کا اظہار بھی کرتی ہے کہ اب مائیک کی صورت میں اسے ایک اچھا اور سچا دوست مل چکا ہے جس کے بغیر وہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ مرد بھی بڑے مغموم انداز میں عورت کو اپنی بپتا سناتے ہوئے بتاتا ہے کہ آج اس کی بیوی نے اسے طلاق دے دی ہے کیونکہ وہ شراب پی کر روزانہ دیر سے گھر آنے کا عادی تھا۔ چونکہ اس بات پر اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ اس لیے اس کی بیوی نے بھی غیر مردوں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے ایک دن اسے بھی گھر سے باہر نکال دیا۔ مگر عدالتی کارروائی کے بعد گھر اور کتا خود رکھنے اور بچوں کو ماں کے حوالے کرنے کا تذکرہ کر کے اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔ عورت اسے تسلی دینے کی خاطر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیتی ہے۔ ایک دوسرے کی ہمدردیاں سمیٹتے سمیٹتے وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب آ جاتے ہیں کہ شراب پی کر وہیں پر بوس و کنار شروع کر لیتے ہیں۔ اب کی بار جب اس کے بوائے فرینڈ مائیک کا فون آتا ہے تو وہ انتہائی بد دلی سے بات کرتی ہے :

”سوزانا کے لہجے میں مائیک کے لیے گرمجوشی نہ تھی، اس نے ٹالنے والے لہجے میں سرد مہری سے جواباً کہا۔ ہاں۔ ہاں۔ ضرور اور فون کو۔ اب کی بار مکمل طور پر بند کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا، پھر مسکرا کر ڈیٹر سے کہنے لگی، اب وہ۔ ہمیں مزید ڈسٹرب نہیں کر سکے گا پھر۔ اپنی گول اور کومل بانہیں ڈیٹر کے گلے میں حمائل کر کے اس کے شرابی ہونٹ چوسنے لگی۔“

یہ دونوں کردار مغربی معاشرے کی ایک اکثریت کی نمائندگی کر رہے ہیں جو اپنی بے انتہا جنسی آزادی میں رشتوں کا احترام بھلا چکے ہیں۔ ذاتی خواہشات کے اسیر یہ دونوں کردار اس لیے بھی انتہا پسند ہیں کہ ڈیٹر اپنی بیوی بچوں پر ایک پالتو کتے اور اینٹ پتھر کے بنے ہوئے گھر کو ترجیح دیتا ہے اور سوزانا پہلے بوائے فرینڈ سے پیدا ہونے والے جس بچے کو کفالت کے نام پر ادارہ اطفال کے سپرد کرتی ہے، اس کے بارے میں اب اسے معلوم بھی نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے۔ وہ اپنی جنسی بے راہ روی سے اس قدر مغلوب ہے کہ ایک مختصر سے سفر کے دوران نہ صرف اپنا جسم ایک اجنبی کو سونپ دیتی ہے بلکہ اس کی خاطر ایک سال پہلے بننے والے بوائے فرینڈ کو چھوڑنا بھی معیوب نہیں سمجھتی۔ جس کے بغیر تھوڑی دیر پہلے وہ جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔

حد سے بڑھی ہوئی آزادی اور جنس زدہ معاشرے میں پروان چڑھنے والے یہ کردار وفا کے مفہوم سے بھی نا آشنا ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ ایک عالمی گاؤں کے تصور

کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ یہ لوگ ایک ایسے نعرے کے داعی ہیں، جس میں کسی حد بندی کا کوئی جواز موجود نہیں۔ چونکہ یہ اپنی خواہشات کے لیے مذہبی اور معاشرتی اقدار و اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہیں اس لیے خاندانی روایات کے خزانوں اور بچوں کی محبت سے مالامال زندگیوں کے لطف سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔ سوزانا کے مادر پدر آزاد کردار کے پیچھے بھی اس کے گھر کا ماحول اور اس کا غیر متوازن معاشرہ کارفرما رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ وقتی جذبات پر سب کچھ قربان کرنے کے لیے بھی آمادہ ہو جاتی ہے۔ اپنی دانست میں وہ اپنی اس لمحاتی جذباتیت ہی کو عشق سمجھنے لگتی ہے۔ اس کردار کو دیکھ کر زبیر اس کا موازنہ اپنے ملک کی عورتوں سے کرتا ہے جو ہر قسم کی تنگدستی اور غربت کے باوجود خاندان کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ اہل مغرب کو دراصل حجاب سے بیر نہیں بلکہ ان اصولوں سے نفرت ہے جس کے تحت ملنے والی خوشی مشرق کے لوگوں کا نصیب تو ہے مگر وہ لوگ اس سے محروم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالم گیریت کے نام پر اپنی چودھراہٹ کے ذریعے وہ ایسی پالیسیاں وضع کرتے ہیں کہ جو بدنصیبی اور بے چینی ان کے دروازوں پر دستکیں دے رہی ہیں وہ اضطراب سارے عالم میں بھی پھیل جائے۔ یعنی خود تو ڈوبے ہیں صنم تمھیں بھی لے ڈوبیں گے والی کیفیت ہے۔

دیکھا جائے تو عالم گیریت کے پیچھے اقوام مغرب کے اصل مقاصد پسماندہ ممالک کو عسکری اور تہذیبی سطح پر مغلوب رکھنا ہے تاکہ یہ لوگ آسانی سے ان وسائل تک اپنی رسائی کو ممکن بنا سکے جن سے قدرت نے ان غریب ممالک کو نوازا ہے۔ مغربی طاقتیں ان کمزور ممالک کے کلچر اور ثقافت کو کبھی بزور شمشیر تو کبھی بزور تدبیر ختم کرنے کے درپے رہتے ہیں اور اپنے تسلط کا رعب جمانے کے لیے ان کے سکھ چین کو غارت کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زبیر ان کی عیارانہ پالیسیوں کے بارے میں سوچتا ہے :

”اگر انھوں نے غریب و پسماندہ اقوام کے ساتھ گانو کے چودھریوں والا سلوک روا رکھ کر ان پر اپنے من مانے فیصلے ٹھونسنے کی کوشش کی، تو ان کو سخت مزاحمت اور ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گا۔“

اس سخت مزاحمت اور ناراضی کا اظہار آج دنیا بھر میں بالعموم اور پسماندہ ممالک میں بالخصوص نظر آ رہا ہے۔ جہاں مغرب کے انتہا پسندانہ اقدامات بے شمار انتہا پسندوں کو جنم دینے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

سوزانا کو اس کی پہلی محبت کی بے وفائی اور پھر ماں باپ کی بے رخی اپنے نومولود بچے سے جدا کرتی ہے اس لیے محبت اور رشتوں کی سچائی سے اس کا اعتماد اٹھ چکا ہو تا ہے۔ چھوٹی سی عمر میں اس کا حاملہ ہو کر ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا، یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس تجربے کو سمجھنے کی صلاحیت اس میں موجود نہیں ہوتی۔ اس کی زندگی میں یہ مرحلہ کیوں آیا؟ اس سوال سے ذہن فوراً اس کے ماں باپ کی غفلت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ تاہم جب تمام اپنوں کے رویے سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے تو پھر اس کے لیے مائیک سے بے وفائی کرنا کوئی بڑی بات نہیں رہتی۔ شاید اس کے لاشعور میں کہیں یہ بات موجود رہتی ہے کہ محبت کے نام پر اس کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے اس لیے اب، محبت کے نام پر وہ بھی ان مردوں سے انتقام لینا چاہتی ہے جو محبت کا ڈراما رچا کر لڑکیوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد بے یار و مددگار چھوڑ جاتے ہیں۔

اس بات کی صداقت سے انکار نہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے۔ یہاں جو بویا جاتا ہے وہی کاٹنا پڑتا ہے۔ عام طور پر دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ماں باپ بچوں کی پرورش جن خطوط پر کرتے ہیں، اسی کے مطابق رویے بعد میں ان کو برتنے پڑتے ہیں۔ مذکورہ بالا افسانے میں سوزانا کے عمل کے پیچھے موجود محرکات اس کی ماں باپ کی غفلت کی گواہی دیتے ہیں۔ تاہم اس میں ایک بڑا اہم عنصر معاشرہ بھی ہے۔ جو انسان کی شخصیت اور کردار پر بہت حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ ماں باپ نے تو تربیت میں کمی نہیں چھوڑی ہوتی لیکن جب بچے ماں کی گود سے معاشرے کی گود میں جاتے ہیں تو وہاں کے منفی رجحانات اپنا کر وہ اخلاقیات سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ماں باپ کو اتنا قصور وار نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ معاشرہ فرد واحد سے نہیں بنتا بلکہ اس کی تشکیل میں کئی قسم کے عوامل اور رویے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

زندگی سے بیزار اور انتقامی جذبے سے مغلوب ایک کردار نیر اقبال علوی کے افسانے ’تورا بورا‘ میں اپنے شدید احتجاجی روپ میں نظر آتا ہے۔ اس افسانے کے نمایاں کردار تو آندرے پسکال اور اس کی بیوی ڈورتھی ہیں، جو جنگوں سے پیدا ہونے والے دل خراش مناظر دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔ وہ جب تورا بورا پر امریکن ائر فورس کے بی۔ 25 ”ٹام کیٹ“ کی بمباری دیکھتے ہیں تو خداوند عظیم سے انسانوں کی تباہی اور ظالموں کے ظلم کے خلاف شکوہ کرتے ہیں۔ اگر چہ ان کرداروں کے رویے انسان پرور اور غیر جانبدار ہوتے ہیں مگر افسانے کا ایک ضمنی کردار اپنے بڑے بھائی انور علی کی افغانستان میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کچھ بے گناہ فرانسیسی انجینئروں کو نشانہ بنا تا ہے تو بد قسمتی سے اس خود کش دھماکے کی زد میں آندرے پسکال بھی مظلوموں کے لیے رکھنے والی اپنی تمام تر ہمدردیوں سمیت فنا ہو جاتا ہے۔ یوں تو انسانی تاریخ خون آشام داستانوں سے بھری پڑی ہے مگر اکیسویں صدی کی پہلی دہائیوں میں انسانی خون ریزی کے واقعات میں جو تیزی نظر آئی وہ تاریخ انسانی کے کسی دور میں بھی نظر نہیں آتی۔ نائن الیون کے بعد مقدس مشن کا نعرہ بلند کر کے صلیبی جنگوں کا آغاز کیا گیا تاکہ دنیا کو انسان کے لیے پر امن بنایا جائے مگر شومئی قسمت کہ آدم کی جو اولاد دنیا کو گلزار کرنے بھیجی گئی تھی، ہر طرف بارود اور ہتھیاروں کی فصل کاشت کرنے لگی۔ دنیا سے انتہا پسندی کی عفریت کو ختم کرنے کے لیے انسانوں کی زندگی پر جس قسم کی جنگیں مسلط کر دی گئیں اس نے انسانیت ہی کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔

انسان کی حیوانیت اور بربریت کی تصویر افسانہ نگا ر کے درج ذیل خیال سے بالکل واضح ہوتی ہے :

”۔ اور غضب خدا کا اپنے کاندھوں پر ان آدم خوروں نے امن کی فاختائیں بٹھا رکھی ہیں، جب کہ ان کے ہونٹوں سے انسانی خون ٹپک رہا ہے۔“

یہ اقتباس اس بات کی طرف ایک اشارہ ہے کہ دنیا میں فساد پھیلانے والے یہ لوگ خود کو امن کے داعی اور مخلوق خدا کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ وہ انسانیت کے بلند و بانگ دعوے کر کے ہر قسم کی شر انگیزی کی مخالفت میں آگے آگے رہتے ہیں لیکن درحقیقت یہی لوگ ایسے حالات کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ارون دھتی رائے ان لوگوں کے منافقانہ طرز عمل پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھاتی ہے :

”تشدد کی (محض) مذمت کر دینا کافی نہیں رہے گا۔ جب آپ کی معیشت کا ایک (قابل ذکر) حصہ اسلحے، بموں اور کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کی فروخت کا رہین منت ہو تو آپ تشدد کی مذمت کس طرح کر سکتے ہیں۔“

یہی وجہ ہے کہ ایک اکثریت اس رائے پر متفق ہے کہ ان جنگوں کے نتیجے میں انتہا پسندی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ گئی ہے۔ مذکورہ افسانے کا خود کش بمبار بھی جو عمل کرتا ہے وہ در حقیقت ایک عمل کا رد عمل ہی ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS