سر پہ کفن اور موت سے پہلی آشنائی

ننگے پاؤں ( 11 )
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں گے کیا
پیر و مرشد غالب کے اس شعر کا مطلب تو دیر میں سمجھ آیا مگر اس محاورے سے واقفیت سکول کے زمانے ہی میں ہو گئی تھی۔ ہمارے ایک استاد تھے مرزا مجید بیگ جو ہمیں سوشل سٹڈیز اور جنرل نالج پڑھاتے تھے مگر ان کے اندر ایک اداکار چھپا ہوا تھا اور اسی لیے ہم بچوں نے ان کا نام علاؤ الدین رکھا جو اس زمانے کے مشہور اداکار تھے۔
ایک دن وہ کلاس میں بچوں سے سوالات پوچھ رہے تھے اور جب کسی نے جواب نہ دیا تو ایک دم طیش میں آ گئے، ان کے اندر کے اداکار نے انگڑائی لی، کھڑے ہوئے اور انتہائی بلند آواز میں بولے
” حضرات! کان کھول کر سن لیں کل جو بچہ یاد کر کے نہ آئے وہ سر پر کفن باندھ کر کلاس میں آئے“
جیسے استاد ویسے شاگرد
ہمارا ایک کلاس فیلو صدیق دوسرے دن سر پر پڑا سا سفید پگڑ باندھ کر آ گیا۔ ماسٹر جی نے حیرت سے پوچھا ”صدیق یہ کیا؟ صدیق نے جواب دیا“ ماسٹر جی آپ ہی نے تو کہا تھا کہ جو یاد نہ کر کے آئے وہ سر پر کفن باندھ کر آئے ”
مرزا مجید بیگ غصے میں پیچ و تاب کھانے کی بجائے ہنستے ہنستے کرسی میں گر گئے۔
سر پر کفن باندھ کر کویت کے صحراؤں کی شعلہ نما دھوپ میں روزی کمانے والے میرے ہیرو محمد رفیق نے جب روپے بھیجنے شروع کیے تو سب سے پہلا کام میری امی جی نے یہ کیا کہ کچا گھر تڑوا کر اینٹوں سے پکا گھر بنوا لیا اور میرے تایا جی فیروز دین کا گھر بھی اپنے گھر کے ساتھ ہی تعمیر کر لیا۔ صحن مشترک تھا اور مشترکہ برآمدے کے درمیان ستون نما دیوار تھی جس نے برآمدے کی چھت کو صحن کی طرف سے سہارا دیا ہوا تھا۔ پیچھے خلا تھا۔
میں نہانے کا چور۔ جب امی جی مجھے نہانے کے لئے کہتیں تو میں فرنٹ ہو جاتا۔ وہ جوتا اٹھا لیتیں اور میرے پیچھے بھاگتیں اور میں برآمدے کے ستون کے گرد بھاگنے لگتا، میں ان کا اکیلا اور لاڈلا اس لئے وہ جوتا کبھی بھی میری جانب نہ پھینکتیں۔ بس ہاتھ میں پکڑے میرے پیچھے بھاگتی رہتیں۔ میں ان سے پہلے تھک جاتا اور پھر مجھے نہانا پڑتا۔
گلی کے سارے بچے ہمارے اسی پکے صحن میں آ کر کھیلتے۔ ان میں تین بھائی مطیع اللہ، امیر اللہ اور ضیا اللہ بھی تھے۔ تینوں بھائی جس دو منزلہ مکان میں رہتے تھے اس کا ایک دروازہ ہمارے والی 10 نمبر گلی میں کھلتا اور دوسرا عقبی گلی میں۔ اور ہم بچے ان کے گھر کے اندر سے گزرتے ادھر سے ادھر پھر پھر بھاگتے پھرتے جیسے اڑ رہے ہوں۔ آج بھی میں خوابوں میں وہ منظر دیکھتا ہوں۔
مطیع اللہ اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا تھا اور صحت مند بھی۔ اس کے بوٹوں کے تسمے اکثر کھلے رہتے۔ ہمارے صحن میں کھیلتے ہوئے وہ موج میں آتا تو دائیں ٹانگ کو زور سے اوپر کی طرف جھٹکا دیتا۔ اس کا ڈھیلا بوٹ پاؤں سے نکل کر ہوا میں معلق ہو جاتا۔ وہ اسے کیچ کرنے کے لئے بالکل یوں بھاگتا جیسے کرکٹ کا کوئی فیلڈر باؤنڈری کی طرف ماری ہوئی غلط ہٹ سے ہوا میں اٹھ جانے والی بال ہوا میں پکڑنے کے لئے بھاگتا ہے۔ اور عموماً کامیاب ہو جاتا۔
اور پھر ایک دن زندگی کی بال اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ سکول سے واپس آتے ہوئے، ٹانگے سے ٹکرایا اور بس۔ یہ میری زندگی میں وقوع پذیر ہونے والی پہلی موت تھی۔
سب تماشائے کن ختم شد
کہہ دیا اس نے بس اور بس (عمار اقبال)
اماں جنداں او ر عورت مارچ
کھانا گرم کروں گی بستر خود گرم کرو، اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو، تمہارے باپ کی سڑک نہیں، مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے، شادی کے علاوہ بہت کام ہیں۔ عورت مارچ کے بینرز پر یہ اور اسی قسم کے کچھ نعرے درج تھے اور ایک لڑکی لہک لہک کر گا رہی تھی
سرفروشی کی تمنا آج میرے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازؤئے قاتل میں ہے
میں عورتوں کو مکمل حقوق اور عزت دینے اور انہیں مردوں کے برابر ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر اصرار کرتا ہوں لیکن یہ لڑکیاں نہیں جانتی تھیں کہ وہ کس کے لئے سرفروشی کی تمنا کر رہی تھیں، وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ کس کے لئے استعمال ہو رہی تھیں۔ ان میں کتنی لڑکیوں نے آئین پاکستان میں اپنے حقوق کی شقوں کو پڑھا تھا اور کتنی ایسی تھیں جنہوں نے اپنے حق میں منظور ہونے والے بلوں کا مطالعہ کیا تھا اور پھر انہیں لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سرفروشی کی تمنا کرنے والی کو کیا پتہ کہ اماں جنداں کا سر، کس مقصد کے استعمال ہوتا تھا۔
اماں جنداں ساٹھ برس سے زیادہ عمر کی رہی ہوں گی۔ وہ میاں میر کی گلی نمبر 10 کے گھروں میں روزانہ ایک بڑی پرانی پرات لے کر آتیں جو خالی ہوتی۔ پھر سب گھروں کا فضلہ اس پرات میں ڈالتیں اور اس بھری پرات کو سر پر اٹھا کر باہر کہیں پھینکنے چلی جاتیں۔
سرفروشی کی تمنا!
ہم مسلمان انہیں چوہڑی کہتے۔ چوہڑی اور چوہڑا کے الفاظ اب بھی تضحیک کے معانی میں برتے جاتے ہیں۔ اور اماں جنداں اتنی عادی ہو چکی تھیں کہ نہ تو انہیں فضلے سے بو آتی اور نہ ہی چوہڑی کے نام سے پکارنے پر انہیں کوئی اعتراض تھا۔ بڑھاپے کے باوجود اماں جنداں کمر سیدھی کر کے چلتیں جو ان کے پیشہ کی مجبوری تھی۔ اگر کمر جھکا کر چلتیں توں فضلہ ان کے تن ناتواں پر آ گرتا۔
اور میری دادی مہتاب بی بی کی کمر تیس ڈگری تک جھکی ہوئی تھی، انہوں نے بھی بے پناہ غربت دیکھی مگر ان کی خوش نصیبی کہ وہ مسلمان گھر میں پیدا ہوئیں، مسلمان محمد دین سے شادی ہوئی اور تین بیٹوں کی ماں بنیں اور جب ابا جی نے کچے گھر کو پکا کر لیا اور زندگی کو ایک حد تک بہتر بنانے میں کامیاب ہو گئے تو دادی کی زندگی بھی بہتر ہو گئی۔
مگر انہیں روایت کی قید سے آزادی نہ ملی۔ وہ جب باہر نکلتیں تو کمر اور جھکا لیتیں اور چادر کو اتنا آگے کی طرف جھکا لیتیں کہ ان کا چہرہ نظر نہ آتا اور وہ اپنے قدموں سے چند ہی گز آگے تک دیکھ سکتیں۔
میری اور ان کی محبت مثالی تھی۔ وہ مجھے گود میں لے کر جنوں بھوتوں کی کہانیاں سناتیں اور مجھے یقین ہے کہ عینک والا جن کے مرکزی خیال کی تخلیق میں ان کی سنائی ہوئی کہانیوں کی خوشبو بھی ضرور شامل رہی ہو گی۔
وہ دونوں اگر آج زندہ ہو جائیں اور اس لڑکی کو گاتے ہوئے سن لیں
سرفروشی کی تمنا آج میرے دل میں ہے
تو انہیں سرفروشی کا لفظ ہی سمجھ نہ آئے جنہوں نے زندگی، ذات پات کی مجبوریوں اور سر پر روایات کا بوجھ اٹھا کر گزار دی۔
میں دادی مہتاب بی بی سے بہت اٹکھیلیاں کرتا اور ان کے عقب میں جاکر اپنے بازو ان کے گلے میں ڈال کر جھولتا۔ کبھی کبھی زور سے دبا دیتا اور کہتا ”دادی گلا گھونٹ دوں“ وہ ہنستیں اور گود میں لٹا کر پیار کرنے لگتیں۔
مگر اس دن کیا ہوا تھا جب میں اپنے تایا فیروز دین کے ساتھ مغلپورہ کے حکیم کے پاس دوا لینے جا رہا تھا۔ مجھے سینے سے لگا کر کہنے لگیں ”لے پتر توں مینوں روز کہنا سیں دادی تیرا گل گھٹ دیاں، لے فیر اج گھٹیا ای جانا ای“
” چھوڑ دادی یہ کیسے ہو سکتا ہے“ میں نے ناراضی سے کہا اور تایا کے ساتھ دوا لینے چلا گیا۔
حکیم سے انتہائی کڑوی دوا لے کر جب تایا جی مجھے ریلے سائیکل کے ڈنڈے پر بٹھائے ہوئے میاں میر بازار میں داخل ہوئے تو دودھ والے نے انہیں روک لیا اور بولا، ”فیروز دینا بڑا افسوس اے تیری ماں دے مرن دا“ بابا جی سائیکل سے گرتے گرتے بچے اور ظاہر ہے میں بھی۔
گھر پہنچے تو صحن میں سیڑھیوں کے پاس دادی سفید کفن اوڑھے لیٹی تھیں اور لوگ رو رہے تھے۔ تایا جی کو دیکھ کر رونے کی آوازیں اور بھی بلند ہو گئیں۔ یہ زندگی میں موت سے میری دوسری آشنائی تھی۔ میں رو نہیں رہا تھا، سیڑھی کی دیوار کے ساتھ لگا یہ سوچ رہا تھا کہ دادی کو پہلے سے کیسے پتہ تھا کہ وہ آج مر جائیں گی۔
موت کے بارے میں یہ میرے ذہن کا پہلا سوال تھا، جس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ جب سکول میں پہنچے تو چکبست برج نارائن کا یہ شعر بھی ہم تک پہنچا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
اب یہ شعر بذات خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کون سے اجزا اور کون سی ترتیب
پیرو مرشد غالب نے سادگی و پرکاری سے کہہ دیا
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
انہوں نے بے خوابی کو موت کے ساتھ بخوبی جوڑا مگر یہ بھی ان کا عجز ہی تھا، موت کو سمجھ یا سمجھا وہ بھی نہیں سکے۔ کیسی کیسی گتھیاں سلجھا دیں
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
مگر یہ نہ سلجھا سکے۔
فانی بدایونی نے تو ہاتھ کھڑے کر دیے
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کاہے کو ہے اک خواب ہے دیوانے کا
یعنی اگر زندگی ہی دیوانے کا خواب ہے تو موت کیا ہو گی
بہت سی فلموں میں اس موضوع کو چھیڑا گیا مگر تشنہ ہی چھوڑ دیا گیا۔ مثلاً ہدایت کار انگمر برگمین کی فلم ’دی سیونتھ سیل‘ میں موت جب فلم کے مرکزی کردار کی جان لینے آتی ہے تووہ اسے شطرنج میں الجھا لیتا ہے اور اس سے مکالمہ کرتا ہے۔ ہدایت کار مارٹن بریسٹ کی فلم ’میٹ جو بلیک‘ میں موت جب ایک متمول شخص کی جان لینے کے لئے ایک خوبصورت لڑکے کے روپ میں آتی ہے تو وہ اس کے ساتھ ایک ڈیل کرتا ہے اور موت کو کچھ عرصہ انتظار کرنے کا کہتا ہے۔ اس دوران اس کی بیٹی موت کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
موت کے ساتھ ہم سب کا بیک وقت محبت اور نفرت کا رشتہ ہے۔ جس طرح نامعلوم کا خوف ہمیں رواں رکھتا ہے اسی طرح موت کا ڈر ہمیں زندگی سے جوڑے رکھتا ہے۔ موت میں ہم سب کے لئے ایک مہلک کشش ہے۔ میرا ہی ایک شعر ہے
خوں سے گلزار کریں ہجر کے ویرانوں کو
خواہش مرگ لئے پھرتی ہے دیوانوں کو (حفیظ طاہر)
(جاری ہے )

