بچے پیدا نہیں کرنے؟


کچھ دن سے ایک ہی غلام گردش میں پوری فیس بک کے بابے لگے ہوئے ہیں کہ ایک ڈاکٹر نے یہ کہہ دیا ہے
”اگر پوری دنیا کی عورتیں فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے پیدا نہیں کریں گی تو سوچیے کیا ہو گا؟“

یہ جملہ جیسے مردوں کی دم پہ پیر رکھے کھڑا ہے۔ اب دم کی جو تشریح آپ کریں گے اس کے مطابق تحریر سمجھ آ جائے گی۔

پہلی بات تو یہ کہ جملے میں سب سے پہلے ”اگر“ لکھا گیا ہے گویا فرض کیا گیا ہے۔ اب یہ عالم، یہ دانشور، یہ ظالم، یہ بالم سب کے سب ایسا گندے سے گندا جملہ لکھ رہے ہیں کہ نگاہ کو حیا آ جائے۔ ابھی یہ سب شادی شدہ گویا پنجابی میں ”ہنڈائے ہوئے“ مرد ہیں جیسے دھوبی کے تھاپے سے مار مار کر دھلے کپڑے ہوتے ہیں اور کیا ہے کہ آج کی آٹو میٹک مشین اور ڈائی کلین کے جدید دور میں جو مقام ”تھاپے“ کا ہے وہی مقام ان جاہل بابوں کا ہے۔

اب آپ کے ذہین میں سوال آئے گا کہ بابے کیوں؟

بابے اس لئے کہ سلجھے ہوئے نوجوان بلکہ یوں کہیے کہ جوان و نوجوان جو ابھی بچے پیدا کرنے کی خود صلاحیت رکھتے ہیں، وہ کم ہی بول رہے ہیں اگر بول رہے ہیں تو اس کا سیاق سباق بتا رہا ہے ان کا نالج کتنا ہے۔ اصل آگ تو لگی ہوئی ہے ان بابوں کو ان کی فیس پہ نہ حکیم کی مشقت کام آ رہی ہے نہ ڈاکٹر کا نسخہ کارآمد ہے۔

ویسے ہی ڈھلی اور ڈھلتی عمر میں یہ باتیں چھیڑ چھاڑ لگتی ہیں، کرنے کو تو کچھ رہ نہیں جاتا۔ مرد کی ٹھرک باتوں کا روپ دھار لیتی ہے، سو ہوا ہے۔ اب ان سب مردوں کا خیال بھی ہو گا کہ یہ کوئی بہت بڑے حاتم تائی ہیں مگر ان کی بیویاں بھی ان کی کہانی کسی محفل میں چھوڑ جاتی ہیں۔ وہ سیانے اس درد سے بے خبر ہی مر جائیں گے۔

اس جملے میں بچے پیدا کرنے کے عمل کو سیکس سے دیکھا گیا ہے حالانکہ ڈاکٹر نے اپنے پیشے کے مطابق ایک سوال ہی کیا ہے جس سے سیکس کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا ایڈز کا ایڈز والی سرنج سے ہوتا ہے۔

اسے تعلق عورت کی جسمانی توانائی، ذہنی مطابقت کا ہے۔ اس کی اپنی سوچ اور فیصلہ کیا ہے؟ اس سوال کا تعلق اسے ہے۔ اس سوال کا تعلق پدر سری سماج میں ایک بیوی لا کر اسے مسلسل بچے پیدا کروانے کے عمل سے ہے۔ کم ازکم تب تک جب تک بیٹا یا دو چار بیٹے نہ ہو جائیں۔

اس سارے عمل میں ایک عورت کی جان بھی چلی جاتی ہے۔
ٹھرکی بڈھوں کی بیویاں بیماری سمیت ان کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔ اس بات کا تعلق اسے ہے۔ اس بات کا تعلق سیکس سے اتنا نہیں ہے جتنا یہ بابے تڑپ گئے ہیں خیر آپ لوگ تو قبر تک کو، مری ہوئی عورت تک کو نہیں بخشتے۔

اس کے باوجود آپ کے تنگ دماغوں کا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو سب میں شمار نہ کیا جائے۔ آپ لوگوں کو یہ باور نہ کروایا جائے کہ آپ ایک ہی عضو مخصوص سے بنی مخلوق ہیں۔

آپ کو خود شرم کیوں نہیں آتی کہ آپ لوگ ایک نسل کی تربیت گاہ ہیں اتنی گندی زبان لکھتے ہوئے آپ کے ہاتھوں کو نہیں لگتا کہ ان لفظوں اور نیتوں کا حساب بھی ہونا ہے اگر شادی وادی، بیوی شیوی اور جائز ناجائز سیکس کا حساب ہونا ہے تو۔

دوسرا پہلو یہ کہ ہر عورت میں ممتا نہیں ہوتی۔ یہ فتور بھی آپ کے پدر سری نظام کی عطا ہے کہ سب عورتیں ماں بننے کے لئے تڑپ رہی ہوتی ہیں۔ عورت کی اصل معراج ماں بننا ہے۔ وہ ماں بننے کے لئے ایک مرد کے قریب آتی ہے۔ ایسا بھی کچھ نہیں ہے

جیسے ہر طرح کے نفسیاتی مریض مرد ہوتے ہیں،
ویسے ہی ہر طرح کی نفسیاتی مریض خواتین بھی پیدا ہوتی ہیں۔

جن کو اولاد نہیں چاہیے ہوتی مگر ان کو مرد سے محبت ہوتی ہے سیکس کرتی ہیں۔ سیکس ان کے لئے نارمل ہے۔ شادی بھی کرتیں ہیں۔ اب شادی کا تعلق بھی ہمارے سماج میں اولاد سے ہی جڑا ہوا ہے۔

ورنہ بنا شادی کے بہت سے نطفے کوڑے کے ڈھیروں پہ مل جاتے ہیں یا ان کو رحم میں ہی مار دیا جاتا ہے اگر بچے اتنے ہی اہم ہیں اگر نطفے اتنے ہی اہم ہیں تو ان کو مارا کیوں جاتا ہے؟ ان بچوں پہ فخر کیوں نہیں کیا جاتا؟ جنگ تو ان نطفوں نے بھی رحم مادر میں تین بار قبول ہے والی لڑی ہوتی ہے۔

مرد کی طرح عورت کے ذہن میں یہ فتور بھی نہیں ہوتا کہ اس کو نسل آگے بڑھانی ہے یا دو چار بچے مزید بچے پیدا کرنے کے لئے پیدا کرنے ہیں تاکہ ان کی مردانگی کو داد ملے۔

ایک بھر پور مرد ہو یا عورت ان کا اولاد پیدا کرنا مردانگی یا ممتا ہر گز نہیں ہے۔

عورت ویسے ہی اتنی مکمل ہے کہ اسے اپنا عورت پن ثابت ہی نہیں کرنا پڑتا مرد خود اس کی طرف لپکتا ہوا اسے بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ ایک عورت ہے۔

یہ نفسیاتی مسئلہ ہے جس کا تعلق عورت کے پورے جسم سے جڑا ہوا ہے لیکن مرد کی صرف سیکس سے جڑا ہوا ہے۔

کچھ مرد ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی بچہ پیدا نہ کرے۔ ان کو آپ گالی کیوں نہیں دیتے؟ کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں انہیں بانجھ عورت ملے تاکہ ان کی کمی چھپی رہ جائے۔ کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک بچہ پیدا کرنا چاہتے ہیں جبکہ ان کا ساتھی دوسرا بچہ بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

ایسے مردوں کو کیا آپ نہیں جانتے؟ ایسے مرد پہ تو آپ لوگ انگلیاں نہیں اٹھاتے۔ عورت ایک فرضی بات بھی کر دے تو آپ کی میلی گندی شلواروں میں خارش شروع ہو جاتی ہے۔ کند ذہن کی کثافتیں ذلالتوں میں بدل جاتی ہیں۔ لکھنا بولنا لازمی ہو جاتا ہے۔

یہ سوچے بنا یہ لفظ کسی اور مرد کے توسط سے ایک دن آپ کے ہی گھر آ جانے ہیں۔

اگر آپ سب اتنی گندی زبان نہ بولتے شاید آپ کو یہ آئنہ نہ دکھانا پڑتا کہ آپ کو یہ بات اس دن سمجھ آئے گی جب آپ کی بیٹی موت کے منہ میں جائے گی جیسے دنیا گول ہے بات بھی گھوم کر اپنے ہی نکتے اور نطفے تک آ جاتی ہے۔

یہ جو کچھ آپ لوگ بول اور لکھ چکے ہیں اس نیت کا آسمان آپ کے اپنے گھر پہ ہی گرنا ہے۔ ابھی بچے پیدا کیے ہیں جب بچے دنیا کے حوالے کرنی کی باری آئے گی، سوچ بدل چکی ہو گی مگر یہ لفظ وقت بن کر آپ کا پیچھا کرتے رہیں گے جب تک کہ ان کا جادو چل نہیں جاتا۔

(گندے یا اچھے لفظ آپ کی اپنی شخصیت کی شناخت ہوتے ہیں )

Facebook Comments HS