میرے کسان کی سستی گندم کی مہنگی روٹی
ابھی گئے دنوں کی بات ہے جب آٹے کے بحران سے دوچار گلستان ناپائیدار میں آہ و بکا کی کیفیت تھی۔ لوگ رائفل کے سائے تلے آٹے کی لائنوں میں لگ کر دارِ فانی سے رخصت ہو رہے تھے اور جو بچ جاتے ان کی کیفیت ہمالیہ سر کرنے کی سی معلوم ہوتی تھی۔ پاکستان دنیا میں گندم کی پیداوار میں چھٹے نمبر پر ہے اور ایک وقت تھا جب ہم گندم باہر بھیج کر زر مبادلہ کمایا کرتے تھے۔
پھر یہ بھی دن آئے کہ گندم باہر سے منگوانا پڑی۔ قحط سا سماں معلوم ہونے لگا۔ روٹی کی قیمت آسمان چھونے لگی۔ آٹا مل مالکان نے ہاتھ کھڑے کر دیے اور ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ پہلے تو ایک زرخیز زرعی ملک میں آٹے کا بحران اپنے آپ میں کھلا فراڈ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ایک ملک جو دنیا میں چھٹے نمبر پر سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والا ملک ہے وہاں آٹے کی قلت پیدا کیسے ہو سکتی ہے؟ دوسرا قلت پیدا ہو بھی گئی تو گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنا چاہیے نہ کہ باہر سے گندم منگوا کر ایک اور بحران کو دعوت دی جائے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پہلے گندم کی قلت کی وجہ سے بحران پیدا ہوا اب گندم کی خریداری کا بحران شدت اختیار کرنے کو ہے۔ یعنی کسان لاکھوں ٹن گندم پیدا کر کے بیٹھا ہے اور اس کی خریداری کرنے والا کوئی نہیں۔ جہاں خریداری کی جا رہی ہے وہ اتنی ارزاں قیمت ہے کہ کوڑیوں کا دام ہی سمجھو۔ سرکار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پہلے ہی گندم کے اضافی ذخائر موجود ہیں ہم اس سال خریداری نہیں کریں گے اور کریں گے بھی تو انتہائی کم قیمت یعنی انتالیس سو روپے من کے حساب سے خریدیں گے۔
جبکہ عام مارکیٹ میں یہی گندم بائس سو یا دو ہزار روپے فی کس کے حساب سے خریدی جا رہی ہے۔ کسان کی حالت یہ ہے کہ لگایا سونا تھا اور بیچنا زنگ آلود لوہا پڑ رہا ہے۔ یعنی لاکھوں روپے مالیت کے اخراجات یعنی بلیک میں خریدی گئی کھاد، مہنگی بجلی کا مہنگا پانی لگا کر کاشت کی گئی گندم کسان کے لیے ایک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کوئی کان سننے کو نہیں۔
استحصال اور کیا ہو گا کہ اسی کوڑیوں کے بھاؤ بکتی گندم کو سرمایہ دار سرکاری چھتری کے نیچے ذخیرہ کریں گے، من چاہے داموں پہ آٹا مل مالکان کو فروخت کریں گے اور من ہوا تو بارڈر پار بھیج کر خوب دھن بٹوریں گے۔ پھر یہیں اس گلستان نا پائدار میں آٹے کا بحران پیدا ہو گا اور یہی سرمایہ دار سارے ملک کو لائنوں میں لگا لگا کر من مرضی کے دام پہ یہی گندم بیچ کر اپنے پیٹ بھرتے پھریں گے۔ یہی کسان جو آج اپنی گندم کوڑیوں کے بھاؤ بیچ رہا ہے کل لائنوں میں لگ کر مہنگا آٹا خریدے گا اور جو روٹی لینے جائے گا وہ بھی کیا یاد کرے گا کہ کیسے طلسماتی طریقے سے سستی گندم کے آٹے سے مہنگی روٹی بنائی اور بیچی جاتی ہے۔
پھر مریم نواز جیسے وزیر اعلیٰ اسی روٹی کو سستا کرتے ہیں، ٹک ٹاک بناتے ہیں اور خوب داد سمیٹتے ہیں۔ کسان کے ساتھ شفاف آنکھوں کے سامنے دن کی روشنی میں ایسا گھناؤنا اور بھدا کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ جس کی کوئی مثال دینا ممکن نہیں۔ کسان چیخ پا رہا ہے نہ سسک سکتا ہے کہ فراڈ کرنے والا کوئی اور نہیں اس کی اپنی سرکار اور خریدار ہیں۔ نہ تو وہ اس گندم کو ذخیرہ کر سکتا ہے کہ کھاد کے پیسے لینے والے دروازہ توڑ رہے ہیں اور اگلی فصل کی تیاری سر پہ ہے۔
بندہ پوچھے ذہنی اپاہج وزیر اعلیٰ اور اس کے تابع پنجاب اسمبلی کے ارکان سے، کہ سستی گندم کے سستے پنجاب کے نمائندگان! ذرا بتلاؤ تو سہی کہ وہ پنجاب جس میں بیساکھی نام کا تہوار باقاعدہ گندم کی کٹائی سے منسوب ہے آج وہاں گندم کوڑیوں کے بھاؤ بک رہی ہے اور تمھاری آنکھیں شل ہیں جو دیکھ نہیں پا رہی ہیں۔ کیا کان سماعت سے محروم ہیں جو کسان کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ پنجاب اسمبلی کے کسی ایک ممبر نے کھڑے ہو کر احتجاج تو درکنار پوچھنا تک گوارا نہیں کیا کہ میرے پنجاب کی دھرتی کے اس انمول تحفے کی اس قدر تذلیل کیوں کی جا رہی ہے۔
پنجاب کا سرکاری سمبل بھی گندم کے دو سٹوں کے درمیان موجود ہے، کاش کوئی تو اس سمبل کی لاج ہی رکھ لے۔ وزیر اعلیٰ صاحبہ روٹی سستی کرنے کی بجائے اگر کسان کی گندم کے صحیح دام یقینی بناتیں تو شاید سوشل میڈیا پہ ٹک ٹاک کے ویوز بھی زیادہ ہوتے اور پنجاب کے لوگوں کے لیے محترمہ کی قدر میں حقیقی معنوں میں اضافہ ہو جاتا۔ محترمہ فرما رہی تھیں کہ پنجاب میں بیساکھی کا تہوار سرکاری سطح پر منایا جائے گا۔ بیساکھی کا تہوار تو تب منائیں گے جب اگلے سال کسان گندم لگائے گا۔
جو حالت کسان کی گندم کی اس سال ہو رہی ہے بیساکھی کے تہوار کا پتہ نہیں، مگر کسان خود ضرور بیساکھی پہ ہو گا۔ وزیراعلیٰ صاحبہ کو ٹک ٹاک سے فرصت ملتی تو شاید اس طرف نظر کرتیں کہ جس بیساکھی کا تہوار منانے کا اعلان فرمایا گیا ہے اس تہوار میں کاٹی ہوئی گندم کے ساتھ انتہائی ذلت آمیز رویہ اختیار کیا جا رہے ہے۔ کسان کو چاہیے کہ ریاست کے اس لاوارثانہ سلوک کا منہ توڑ جواب دے اور گندم کی بجائے وہ فصل کاشت کرے جس سے اسے ذاتی فائدہ حاصل ہو۔ جب اہل اقتدار کو ہی ٹک ٹاک سے فرصت نہیں تو کسان کو کیا پڑی کہ ہر بار شہادت کے لیے خود کو پیش کرے۔ خدا میرے امیر پنجاب کے غریب کسان پہ رحم کرے۔


