ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر: ایک مطالعہ
شاہد صدیقی اپنی اس کتاب کا ست ان سطور میں پیش کرتے ہیں :
”میں عالم محویت میں راج کی گفتگو سن رہا تھا۔ وہ جب بات کرتا تو سننے والے کا جی چاہتا کہ یہ گفتگو بھی ختم نہ ہو۔ راج کہہ رہا تھا۔ زندگی اتفاقات کا کھیل ہے۔ چلتے چلتے کسی موڑ پر کوئی حیرت ہماری منتظر ہوتی ہے۔ کبھی اس حیرت کا مرکز کوئی منظر ہوتا ہے، کبھی کوئی چہرہ کبھی کوئی واقعہ اور کبھی کوئی مشاہدہ۔“ آج لاہور کے ریستوران میں بیٹھے نجانے کیوں میرے دل میں حیرت کی خواہش نے سر اٹھایا۔ کیا ایسا ممکن ہے میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلوں اور پھر کچھ دیر بعد آنکھیں کھولوں تو میز پر میرے ساتھ راج اور اور جمیلہ بیٹھے ہوں؟ ”پھر میں خود ہی اپنے خیال پر ہنس دیتا ہوں، بھلا زندگی کے سفر میں بچھڑنے والے بھی کبھی لوٹ کر آتے ہیں؟“
شاہد صدیقی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ عمر کے مختلف حصوں میں گورڈن کالج (ایم اے انگلش) ، یونیورسٹی آف مانچسٹر، یونیورسٹی آف ٹورنٹو (انگریزی لسانیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری) ، آکسفورڈ یونیورسٹی (پوسٹ ڈاکٹریٹ) ، آغا خان یونیورسٹی، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، جی آئی کے انسٹیٹیوٹ آف انجینئر نگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوجز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور لاہور سکول آف اکنامکس سے ان کی نسبتیں رہی ہیں۔ وہ ڈان، دی نیوز سے وابستہ رہے ہیں، روزنامہ دنیا میں ان کے کالم ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔
شاہد صدیقی نے اپنی انگریزی کتب میں پاکستان کے نظام تعلیم کے ادراکات، اعمال اور امکانات کا احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے تعلیم میں عدم مساوات اور آزادی کے موضوع پر سماجی انتقادیہ بھی تحریر کیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں زبان، جینڈر اور طاقت کے سیاق و سباق میں نمائندگی اور اجارہ داری کی سیاست کا جائزہ لیا ہے۔ پاکستانی سیاست میں تعلیمی نظام کی عملی صورتوں کا تنقیدیہ بھی ان کی ایک تصنیف ہے۔ ان کے ناول ”آدھے ادھورے خواب“ کی انگریزی، سندھی، پشتو اور پنجابی صورتیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ پوٹھوہار: خطہ دل رہا کے نام سے شائع ہونے والی ان کی کتاب کو بہت پذیرائی ملی۔
شاہد صدیقی اس اعتبار سے انتہائی خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے جو بھی لکھا جس بھی زبان میں لکھا، جس بھی صنف میں لکھا اپنی انفرادیت کا بہ آسانی لوہا منوایا۔ ادب کے جید دانشوروں، متبحر عالموں اور مقبول خالقوں نے ان کی تخلیقات پر انہیں دل کھول کر داد دی ہے۔ شاہد صدیقی کو اردو، پنجابی اور انگریزی السنہ پر اس طور سے عبور حاصل ہے کہ کوئی یہ کہنے کا احتمال نہیں کر سکتا کہ وہ ان کے لیے اجنبی السنہ ہیں۔ وہ بیک وقت ماہر تعلیم، ناول نگار، سیاحت کار، نقاد اور خاکہ نویس ہیں۔ ان کی ان تمام حیثیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ نقادوں اور مبصروں نے ان کی اعلیٰ نثر اور موثر بیانیوں کو صدق دلی سے سراہا ہے۔ ان کی یہ سراہت صریحاً ان کی سخن فہمی کا حاصل جمع ہے، یہ کسی طرفداری کا نتیجہ نہیں ہے۔
یہاں یہ بھی اعتراف کرتا چلوں کہ جن علاقوں کی نجی سیاحت کاری کے بیانیے ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر کے عنوان سے لکھی گئی ان کی کتاب میں موجود ہیں ان رنگین دشتوں کی سیاحی کے مجھے بھی مواقع ملے ہیں۔ میرے لیے اس سطح کی کتاب لکھنا کسی بھی طور ممکن نہیں ہے کہ میرا حافظہ کھوٹا ہے، میرا مشاہدہ ناقص ہے، میرا اظہار ترجمانی سے ہمیشہ قاصر رہا ہے۔ علاوہ ازیں جس نوع کی خوبصورت اور رواں نثر انہوں نے لکھی اس پر بھی میں رشک کناں ہوں۔
دنیا میں ہر انسان کا اپنا اپنا جہان خراب اور اس میں شامل شب ہائے ہجر کا حساب ہے۔ اس جہاں میں سانس لیتے انسانوں کا ماضی ان کی یادوں کا مدفن ہے، حال غم روزگار کا عبرت سرا ہے اور مستقبل موہوم امیدوں کلبہ سیاہ۔ ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر عبرت سرائے دہر میں رہنے والے ایک ایسے انسان کی مدفن نویسی ہے کہ جس نے ہر ثانیہ زندگی کے مثبت اور خوبصورت لمحوں پر توجہ دی۔ اس میں اس کے سلگتے غم اور ہیولائی نوحے ایک تضاد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ شاہد صدیقی نے زندگی کے پر لطف لمحوں کو داخلی یاسیت سے برباد کرنے کی کوئی دانستہ کوشش نہیں کی۔ موت میں زندگی کی تلاش، بربادی میں آبادی کی جستجو، قنوطیت میں رجائیت کی جویائی کے اعمال ان کی زیر نظر کتاب کے ہر صفحے پہ بہ آسانی نظر آ جائیں گے۔ یوں لگتا ہے جیسے ان کے ذہن کے کسی گوشے پر والٹیر کی کتاب کیندد کا اثر ہے۔ انہیں اپنی مایوسیوں سے باہر آنے کا ہنر آتا ہے۔ انہوں نے بھی میر کی طرح سے درد و غم جمع کیے ہیں لیکن انہیں معلوم ہے کہ ماندگی کے وقفوں پر دم لے کر آگے کیسے بڑھنا ہے۔ گھڑی بھر میں سو بار مرنا اور سو بار جینا ان کی عمومی عادت ہے۔ یہی وتیرہ ان کے جینے کا نیا ڈھب ہے۔
شاہد صدیقی نے اپنے سیاحت شدہ شہروں کے محلوں، گلیوں، بازاروں، بسوں، ریل گاڑیوں، موسموں، علم کدوں، عمارتوں، عجائب گھروں، کیفوں، ریستورانوں سے بھرپور لطف اٹھایا ہے۔ اس لطف کو کمال خوش اسلوبی سے اپنے قارئین کی نذر بھی کیا ہے۔ اپنے اس لطف کو فلموں، کتابوں، شاعروں کی نظموں، پینٹنگز، مجسموں، موسیقی کے نادر حوالوں سے لطیف ترین بنا دیا ہے۔ انہوں نے عنبر بدست زندگی کے ہر لمحے کو ایک زندہ وجود کی مانند جینے کا جتن کیا ہے۔ یہاں شیخ سعدی کا ایک قطعہ ان کی اس کتاب کی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے پیش خدمت ہے :
گلے خوش بوئے در حمام روزے رسید از دست مخدومے بہ دستم
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری کہ از بوئے دل آویز تو مستم
بگفتا من گلے ناچیز بودم و لیکن مدتے با گل نشستم
جمال ہمنشیں در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر میں انہوں نے اپنے ہم نشین گلوں کی جمال آگیں خوشبوؤں سے اس قدر استفادہ کیا ہے کہ وہ مشک و عبیر سے بھی کہیں زیادہ موثر ہو گئی ہیں۔
شعر و ادب میں عقلیہ ایک معنوی قدر کے بطور انتہائی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس کی بدولت معاملات حیات و کائنات کو فکری آنچوں سے معمور کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ عقلیے کو سبقیہ یا جوہریہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ شاہد صدیقی کی تحریروں میں اس قدر کا موثر استعمال کیا گیا ہے۔ عقلیے یا سبقیے یا جوہریے کو وہی لکھاری پذیرائی عطا کرتے ہیں کہ جو زندگی، انسان اور کائنات کی فکری، نفسیاتی، عمرانی، اخلاقی اور علمی تعبیروں سے شغف رکھتے ہیں۔ ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر کے صفحات پر اس قدر کو حسب ضرورت استعمال کیا گیا ہے۔ شاہد صدیقی نے محبت، نفرت، دوستی، تعلقات عامہ، سماج فہمی، انسان شناسی اور اخلاق بافی کے سیاق و سباق میں عقلیے یا سبقیے یا جوہریے کو انتہائی قرینے اور سلیقے سے برتا ہے۔ انہوں نے قصہ کوتاہ، خلاصہ یہ کہ یا نتیجہ یہ نکلا، جیسے الفاظ استعمال کیے بغیر یہ کام کیا ہے۔ ان کا یہ مختصر اقتباس میری معروضات کی اجمالی تائید ہے :
”زینب نے ویسپرنگ ہلز (Hill Whispering) جانے کو کہا تھا، کچھ دیر پہلے ہی میں یہاں آیا ہوں۔ کیسی پر فضا جگہ ہے۔ لان میں سرما کی دوپہر کی اجلی دھوپ پھیلی ہے۔ مجھے زینب کا خیال آ گیا، میں سوچنے لگا:زینب کی زندگی بھی سردیوں کی دھوپ کی طرح تھی۔ بہت قیمتی ’لیکن بہت مختصر۔ پتا ہی نہیں چلا اور دن تمام ہو گیا۔“
شاہد صدیقی کا تجزیاتی ذہن ادھورے علم کی نارسائی سے پورے طور پر واقف ہے۔ ان کی کتاب ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے پہلا حصہ ٹورنٹو میں اپنے قیام کے سیاق و سباق میں لکھا ہے۔ اسے وقت کے بہتے دریا کا عنوان ملا ہے۔ دوسرا حصہ دبئی کی سیرو سیاحت سے متعلق ہے۔ اسے موتی و مرجان کی سر زمین کا عنوان بھی دیا گیا ہے۔ مانچسٹر میں قیام کے زمانے کو تیسرے حصے میں بیان کیا گیا ہے اسے بھیگتے دنوں کی کہانی کا نام ملا ہے۔ اس کتاب کے تینوں حصوں میں قیاماتی تناظروں کے مختلف ہونے کی وجہ سے تین مختلف مزاجوں کا پر تو بھی کہا جا سکتا ہے تاہم طرز تحریر کی یکتائی نے تینوں مزاجوں کے اختلافات کو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ شاہد صدیقی جن راستوں اور جن منظروں کے روبرو آئے ان کی معلوماتی، تاثراتی اور احساساتی تصویروں کو اپنی کتاب کے صفحوں پر نقش کر دی ہیں۔ المزر کے ساحل پر غروب آفتاب کا منظر، اونٹیر یو انسٹیٹیوٹ فار سٹڈیز ان ایجوکیشن (OISE)، ٹورنٹو: وہی راستے، وہی منزلیں، ٹورنٹو: 35 چارلس سٹریٹ ویسٹ، ٹورنٹو: تین دہائیوں بعد ،
ٹورنٹو اورشکیل عادل زادہ، ٹورنٹو کا آغا خان میوزیم، ٹورنٹو کی بلور سٹریٹ، ٹورنٹو کی فلاسفر واک، ٹورنٹو کی گوٹرین میں سفر، ٹورنٹو میں دوستوں کی محفلیں، ٹورنٹو آئی لینڈ کا سفر، ٹورنٹو، رات اور پولیس کی دستک
ٹورنٹو، ظہور الاخلاق اور شہرزاد، جبل علی اور ابن بطوطہ مال، حرف تمنا، خوب صورتی اور اوجھل بے کلی، دبئی فریم سے پام جمیرہ تک، دبئی مال اور کیفے نیرو، دبئی مرینہ اور باسفورس ریستوران، راج اور پاروتی، رائل انٹیریو میوزیم اور آرٹ گیلری، زندگی کا میلہ، زندگی کی بساط، شانتی کا سفر، شیکسپیئر کمپنی، ناشتہ اور ائر پورٹ روانگی، عجمان، سلطان سرائے اور الجیرہ کی قدیم مسجد، مانچسٹر سے جدائی، مانچسٹر کی زینب کی کہانی، مانچسٹر کے بعد ، مانچسٹر، بارش اور جمیلہ، نیاگرا آبشار کا رومانس، نیلے پانیوں میں فیری کی سیر، iونیورسٹی آف ٹورنٹو کا پروفیسر جو، کیتھ سٹینو وچ:میرا پی ایچ ڈی سپروائزر، وان گاگ کی تصویروں کی نمائش۔ جب آپ فاصلوں سے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں تو چیزوں، منظروں، موسموں، کیفیتوں، احساسوں، سوچوں، معلوماتوں اور حوالوں کی تمثالی لہروں کا ایک دوسرے میں ملنا خارج از امکان نہیں ہے۔ لکھاری تلازمہ خیال کی روؤں میں بہتا چلا جاتا ہے۔ جمیلہ میں پاروتی اور پاروتی میں زینب کی تحلیل بھی ہو سکتی ہے۔ جائے استاد خالیست اس کتاب کا انتساب راج کے نام ہے جس کے بارے میں شاہد صدیقی نے لکھا ہے ”جس نے مجھے زندگی کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا شعور دیا“ ۔ اسی پوائنٹ پر اس کتاب کے مزاج کو سمجھنے کا موقعہ میسر آتا ہے۔ یعنی مصنف نہ تو نرگسیت پسند ہے نہ ہی پندار اور غرور و تکبر کی بنیاد پر اظہار خیال سے دلچسپی رکھتا ہے۔ نہ ہی کہیں اس نے اپنے آپ کو مسٹر نو آل کہا ہے۔ اس نے زندگی کو جیسا پایا ویسا لکھ دیا ہے تاہم اپنی تحریر کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے افسانہ نویسی کے ہنر سے بھی خود کو مکمل طور پر متصف رکھا ہے۔
عمر اور وقوعات عمر کی بازگشت ناممکنی ہے۔ ہیراکلیٹس نے اسی تناظر میں کہا تھا کہ ایک دریا میں دوبارہ قدم نہیں رکھا جا سکتا۔ جب کوئی بہتے دریا میں دوبارہ پیر ڈالتا ہے تو وہ نئے وقت اور نئی صورت حال کا سامنا کرتا ہے۔ ہم پر بیتے ہوئے دن واپس نہیں آ سکتے۔ ہمارا وقت بیک وقت مر بھی رہا ہوتا ہے اور زندہ بھی ہوتا ہے۔ مہد سے لحد تک ہم حال میں زندہ مستقبل کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہمارا ماضی واپس نہ آنے کے لیے ہم سے بچھڑ جاتا ہے۔ ادب میں ماضی جھانکی کی طرف جانے والے ادیبوں اور شاعروں پر نوسٹیلجک ہونے کا الزام دھرا جاتا ہے۔ ہمارے حال میں ماضی کی یادیں شامل رہتی ہیں۔ بسا اوقات ان کی بنیاد پر مستقبل بینی بھی کی جاتی ہے۔ ادب میں یاد ماضی، کوائف حال اور مستقبلی پیش منظر کی یکجائی تصورات کی وسعتوں کی نقیب بن جاتی ہے۔ شاہد صدیقی کے سفر ناموں، کالموں، افسانوں، ماضی ناموں میں وقت کا تین سمتی بہاؤ اپنا جوبن دکھاتا ہے۔ وہ اپنے قلم کے زور سے چشم تخیل سے مدد لیتے ہوئے بیک وقت تینوں زمانوں میں سانس لینے کا کام کرتے رہتے ہیں۔
بقول مجید امجد:
ایک نظم
دوست، یہ سب سچ ہے، لیکن زندگی
کاٹنی تو ہے، بسر کرنی تو ہے
گھات میں ہو منتظر چلے پہ تیر
ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے
کاٹ دیں کتنی رتوں کی گردنیں
بھاگتے لمحوں کے چلتے آروں نے
ہاں، یہ سب سچ ہے، پر اس کا کیا علاج
چار دن جینا ہے ہم بے چاروں نے
ہم نے بھی اپنی نحیف آواز کو
شامل شور جہاں کرنا تو ہے
زندگی اک گہری، کڑوی، لمبی سانس
دوست، پہلے جی بھی لیں، مرنا تو ہے
موت کتنی تیرہ و تاریک ہے
ہو گی، لیکن مجھ کو اس کا غم نہیں
قبر کے اندھے گڑھے کے اس طرف
اس طرف، باہر، اندھیرا کم نہیں
ہاں اسی گم صم اندھیرے میں ابھی
بیٹھ کر وہ راکھ چننی ہے ہمیں
راکھ، ان دنیاؤں کی، جو جل بجھیں
راکھ، جس میں لاکھ خونیں شبنمیں
زیست کی پلکوں سے ٹپ ٹپ پھوٹتی
جانے کب سے جذب ہوتی آئی ہیں
کتنی روحیں ان زمانوں کا خمیر
اپنے اشکوں میں سموتی آئی ہیں
جانتا ہوں، میرے دل کی آگ کو
چند ماہ و سال کے ایندھن کا ڈھیر
دیر تک تابندہ رکھ سکتا نہیں
زیست امکانات کا اک ہیر پھیر
کیا عجب ہے، میرے سینے کا شرر
اک تمنائے بغل گیری کے سات
وقت کے مرگھٹ پہ بانہیں کھول دے
اک نرالی صبح بن جائے یہ رات
وہ ادب جو محض روایت کی پاسداری پر مشتمل ہو ترک اظہار ذات یا نفی ذات کا ادب ہوتا ہے۔ ایسے ادب میں طرز بیان و خیال کی ندرت تلاش کرنا کار عبث ہے۔ انسانی تاریخ کا ہر دور بلائے وحشت اثر کے پر تو رکھتا ہے۔ حساس ذہن پر اس کے اثرات اگر واجبی ہوتے ہیں تو جان لینا چاہیے کہ وہ اپنے ذات کے آئیوری ٹاور میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اسے معروضیت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اسی لیے قیافہ شناسی اور مردم احاطگی کا ہنر اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوتا۔ مرزا غالب نے کہیں لکھا تھا ”ستر برس کا ہو گیا ہوں ستر ہزار آدمی نظر سے گزرے ہوں گے میں آدمی نہیں ہوں مردم شناس ہوں“ ۔ مردم شناسی کے لیے اپنی داخلی ذات کے آسمان سے خارجی شخصیت کی زمین پر خیال و بیان کو نازل کروانا پڑتا ہے۔ اسی اعتبار سے لکھاری بلند و پست کے درمیان پنڈولم کی مانند گردش کرتے ہوئے اپنے معاصر وقت کی سوئیوں کو تواتر سے سفر کرواتا رہتا ہے۔ میرے خیال میں سر دلبراں کو حدیث دیگراں میں بیان کرنا اسطوریاتی اظہار کے در وا کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اپنے اندر کی پیچیدہ نفسیاتی گتھیوں کو زبان دینے کے لیے کبھی ایڈیپس، کبھی الیکٹرا کبھی ٹینٹل کبھی پرو میتھیس، کبھی سسی فس وغیرہ ہم کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تاہم اسطوریاتی اظہار کے قاموسی بیان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لکھاری لا تعلق مبصر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ یوجین انیل کی طرح اپنی تخلیق Mourning Becomes Electra میں الیکٹرا کی داستان بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ اس کے بر عکس سارتر نے اپنی تخلیق فلائز میں الیکٹرا کی اسطور کو جرمن ان ویژن کے پس منظر میں ابھارا ہے۔ یوں اس نے داستان امیر حمزہ لکھنے کی سعی نہیں کی بلکہ معروضی حالات کے زیر اثر وجود پانے والی اپنی داخلی کیفیات کے بیان پر توجہ دی۔
صحافت سے وابستہ اکثر صحافی غیر جانبدار مبصر کی مانند معروضی اظہار کے مستحکم حوالوں کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ بے روح، منطقی یا استدلالی کالم لکھنے کے ماہر کہلاتے ہیں۔ تاہم اگر ان کے اندر تخلیقی روح سرایت کر جائے تو ان کی تحاریر جمالیاتی تاثیر سے مالا مال ہو جاتی ہیں۔ ان کے صریر خامہ کو نوائے سروش سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خیالات غیب سے آتے دکھائی دیتے ہیں۔ شاہد صدیقی کے قلم میں غیبی آوازوں کی تاثیر کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کی ادبی کتب میں ان کے وہ بالائی خیالات دستیاب ہیں جو ان کے زمینی تجربات کے ستوت یا جواہر ہیں۔ بقول آتش:
گل آتے ہیں ہستی میں عدم سے ہمہ تن گوش
بلبل کا یہ نالہ نہیں افسانہ ہے اس کا
شاہد صدیقی کی تخلیقات کا وصف خاص یہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف ہمہ تن گوش ہو کر خود سے متعلقہ معروضی دنیا کے افسانے سنے بلکہ ان افسانوں کو اپنے فکری، احساساتی اور تخیلی ویژن سے استمرار و دوام بھی عطا کیا ہے۔ ان کی تخلیقات میں انسانی کرداروں کے ساتھ ساتھ دیگر کئی انواع کی تجرباتی سچوایشنز کر داروں میں ڈھل جاتی ہیں۔ وہ اپنے حافظے کی تمام متاثر کن تصاویر کو اپنے خلقی قلم کی مدد سے زندہ سانس لیتے کوائف میں بدلنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔



