2024 سے 2008 تک کا سفر، پلک جھپکنے میں
21 اپریل 2008۔
اوہ معاف کیجیئے گا۔ غلط تاریخ لکھ دی۔ یہ تو 21 اپریل 2024 کی خوش گوار صبح تھی۔ جس نے ہمیں سولہ سال پیچھے دھکیل دیا۔ 2008 میں ہیلی کالج سے جب پاس آؤٹ ہوئے، تب پاس تو ہم بھول ہی گئے، بس آؤٹ ہی یاد رہ گیا۔ لیکن واپسی کبھی اس طرح ہو گی، اس کا یقین کیا، کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
ہیلی کالج آف کامرس کے فیس بک پیج کے ذریعے معلوم ہوا کہ بیچ 2008۔ 2004 کا کانووکیشن منعقد ہونے جا رہا ہے۔ پہلے تو یقین نا آیا اور یہی لگا کہ مذاق ہے اور کوئی ہمارے زخموں پہ نمک پاشی کر رہا ہے۔ دل کی تسلی کے لیے کالج کال کر کے تصدیق کرنا چاہی تو وہاں سے بھی گرین سگنل ہی ملا۔ تصدیق ملنے پر عجیب ملے جلے جذبات رہے۔ دوستوں کو بتایا۔ کوئی خوش ہوا اور کسی نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا کہ ”بڑی جلدی یاد آ گیا؟“ کسی کو جانے پر آمادہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا تو کوئی اگلے ہی دن سے دن گننا شروع ہو گیا۔
خدا خدا کر کے کانووکیشن کا دن آیا جو ایک دن پہلے تک لگتا تھا کہ شاید نا ہو پائے گا۔ صبح صبح سج سنور کر، بچوں کے سوالوں کو سراسر نظر انداز کر کے اور شریک حیات کو بچوں کے حوالے کر کے ہم رائل سوئس ہوٹل پہنچ گئے۔ پرانے دوستوں سے ملے جن سے ملے قریب سولہ سال بیت چکے تھے۔ کچھ چہروں کو پہچاننے کی کوشش کی اور ناکام رہے۔ کچھ چاندی اترے بالوں والوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ ہم تو اپنی چاندی چھپا کر ہی آئے تھے۔ یقیناً صرف ہماری ہی یادداشت خراب نہیں تھی، ہمیں بھی کسی نے پہچاننے کی زحمت نا کی۔
دوستوں سے بغل گیر ہوئے تو لگا کہ ہم سولہ سال پہلے والے وہی نٹ کھٹ اور شرارتی طلباء ہی ہیں۔ اب بس اپنے اساتذہ کو دیکھنے کی خواہش تھی کہ زور پکڑ رہی تھی۔ اور وہ گھڑی بھی آ ہی گئی۔ جتنی ہم نے سوچا تھا، انہیں دیکھنے کی خوشی اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔ خوشی کو ایک طرف رکھیں تو پریشانی بھی کچھ کم نا تھی کہ ہم کافی بڑے ہو چکے تھے اور ہمارے اساتذہ کی عمریں سولہ سال پہلے ہی تھم چکی تھیں۔ سب ویسے کے ویسے تھے جیسے ہم انہیں چھوڑ آئے تھے۔
سر ذوالفقار احمد بورا ہوں یا سر ظفر احمد صاحب، سر عبدالرشید صاحب ہوں یا سر ظہیر بٹ صاحب، میم فوزیہ ہوں یا میم سعدیہ، سبھی چہرے جوان اور ترو تازہ تھے۔ ہمارے ہر دلعزیز چوہدری نذیر احمد صاحب بہت خوش نظر آنے کے ساتھ ساتھ بہت کمزور بھی لگے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر سر نذیر ایک کمزور پرنسپل تھے لیکن میری نظر میں ان سے زیادہ پیار اور محبتیں پانے والا شخص شاید ہی کوئی اور ہو۔
سر بورا نے اپنی تقریر کے آخر میں ہمیں اپنے شریک حیات کے ساتھ ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی۔ اب آپ سے کیا چھپانا سر! اس وقت تو ہم بھول ہی چکے تھے کہ گھر ایک عدد شریک حیات اور ان کے ساتھ چند بلونگڑے بھی چھوڑ آئے ہیں۔ یاد بھی کیسے آتے جب محترم وائس چانسلر صاحب نے ہمارے جوش اور جذبے کو کسی نئے نویلے گریجویٹ سے کہیں زیادہ تصور کیا۔
اسی دوران کسی صاحب نے آ کر پوچھا کہ اگر کوئی اپنے تاثرات سٹیج پہ آ کر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اپنا نام لکھوا دے۔ میں نے اپنا نام بتانے کی جسارت تو کر لی لیکن وہ صاحب بہادر لکھنا بھول گئے۔ یہ موقع میرے لیے بہت قیمتی اور نادر تھا کیونکہ یہ موقع مجھے پھر ملنے والا نہیں تھا۔ سوچتی ہوں وہ دل کی باتیں جو وہاں کہنا چاہتی تھی، یہاں لکھ ڈالتی ہوں۔ شاید کہ محترم اساتذہ تک پہنچ جائے۔
سر میں کہنا چاہتی تھی کہ جب سولہ سال پہلے کالج سے نکلے تو یوں نکلے جیسے کوئی بے گھر بے سرو سامانی کی کیفیت میں نکلتا ہے۔ میں کہنا چاہتی تھی کہ ہمارے اساتذہ نے تب ہم سے ایسے منہ کیوں موڑا جیسے سوتیلی ماں سوتیلی اولاد سے موڑتی ہے۔ ڈاکٹر لیاقت علی صاحب نے خوف کا بت ایسا کھڑا کیا کہ پلٹ کر سوال پوچھنے کی بھی ہمت نا ہوئی۔ میں کہنا چاہتی تھی سر کہ بی کام آنرز کی ڈگری لے کر بھی جب کوئی دوسری یونیورسٹی ہمیں اپنانے سے انکار کرتی تھی تو ہماری پیٹھ تھپک کر حوصلہ دینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔
میں کہنا چاہتی تھی کہ جس مان اور عزت سے آپ نے ہمیں واپس بلایا ہے، اس نے وہ سارے غم دھو ڈالے ہیں۔ یہ سہرا محترم پرنسپل سر ظفر صاحب کو ہی جاتا ہے۔ اگر میں کہوں کہ شکریہ کے لیے الفاظ کم ہیں تو براہ کرم یقین کر لیجئیے گا۔ سر ظفر نے ایک مثال قائم کی ہے۔ سر! آپ کا ہمیں ”پائنیر بیچ“ کہنا ہمارے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ سر محمد عامر کی یہ ساری محنت یقیناً داد و تحسین کے قابل ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ اچھا فنکشن ہو گا۔ سر! آپ اپنے دعوے میں سو فیصد درست ثابت ہوئے ہیں۔
آخر میں کہنا چاہتی ہوں کہ سولہ سال پہلے میں اعلی تعلیم بھی چاہتی تھی، اعلی انسٹیٹیوٹ بھی اور میری جیب بھی خالی تھی۔ آج ہیلے کالج کے تمام اساتذہ کی دن رات کاوشوں نے جو بیڑہ اٹھایا ہے کہ کوئی بچہ فیس کے ہاتھوں پڑھنے سے رہ نہ جائے، اس سے یہ یقین ہو چلا ہے کہ سولہ سال پہلے جو میری خواہش تھی وہ اب کسی کی حسرت نہیں بنے گی۔ ہم اس ہال کمرے میں نا خالی ہاتھ گئے تھے نا خالی ہاتھ واپس آئے ہیں۔ گئے تھے گلوں شکووں کا ٹوکرا اٹھائے، اور واپس آئے ہیں سینہ چوڑا کر کے، حسین یادوں کا گلدستہ اٹھائے۔ اب سمجھ نہیں آتی اس گلدستہ کو گھر کی کون سی دیوار پر سجائیں کہ ہر دن گزرتے ہوئے ہماری نظر اس پر پڑے اور یہ دن پوری آب و تاب کے ساتھ ذہن کے دریچوں میں پھر سے وارد ہو جائے۔
تمام اساتذہ کرام کو دل کی گہرائیوں سے ایک بار پھر شکریہ!



wonderful depiction ! Samea you did a great job. though it is the era of visulaization, but your words are just giving me a whole glimp of the event. we are realy thankful to the Hailey college of Commerce that they made us realize, "Hailian Jawan Hain” thumbs up.