خواجہ سرا، پولیس، فرائی دال اور منصور ملنگی


اکیس اپریل 2024 کی صبح تھی۔ گزری رات کو انتہائی قریبی عزیزوں کی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد راقم ایک چھوٹے شہر کے بس سٹاپ پہ اسلام آباد سے آنے والی ائر کنڈیشنڈ مسافر کوچ کے انتظار میں کھڑا تھا تاکہ واپس بہاول پور شہر پہنچ سکے۔ بس آ کر رکی، ویل ڈریسڈ دو خواجہ سرا بھی سوار ہوئے۔ وہ میرے دائیں جانب والی سیٹوں پر بیٹھ گئے، مجھے بائیں جانب والی سیٹ پہ جگہ ملی۔

چند سیٹیں خالی تھیں، ڈرائیور نے چند منٹ تک بس کو روکے رکھا۔ اس دوران بھکاریوں نے بس میں آ کر بھیک مانگنا شروع کر دی۔ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ میں تھوڑا اونگھ بھی رہا تھا۔ خواجہ سراؤں پہ نظر گئی تو اندازہ لگایا کہ یہ لوگ بہاول پور کسی شادی کی تقریب میں ڈانس فنکشن کرنے جا رہے ہوں گے۔ ذہن میں ایک خیال سا آیا کہ غلط قسم کے لوگ انھیں پیسوں کی آفر دیتے ہوں گے تو یہ گناہ کے مرتکب بھی ہو جاتے ہوں گے۔ ایک چھوٹی بچی نے آواز لگائی ”اللہ کے نام پہ کچھ دے دو “ ۔ خواجہ سرا نے پرس کھولا اور بچی کو ایک نوٹ دیا۔ میری نظریں جھک گئیں۔

ایسا ہوتا ہے میرے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور قدرت فوری طور پہ کسی نہ کسی صورت میں فوراً مجھے اس کا جواب دے دیتی ہے۔ دوبارہ میری نظر ان پہ گئی تو میرے سامنے خواجہ سرا نہیں اولیاء بیٹھے ہوئے تھے۔ بس بہاول پور شہر کے بس ٹرمینل پہ پہنچی تو میں خواجہ سراؤں کے احترام میں بیٹھا رہا تاکہ وہ بس سے پہلے اتر جائیں۔

انڈیا اور پاکستان میں خواجہ سرا کروڑوں اربوں پتی گھرانوں میں بھی جنم لیتے ہیں لیکن یہاں کی رِیت ہے کہ بھائی اور دیگر رشتہ دار ان کی وراثتی جائیداد ہڑپ کر جاتے ہیں اور ان دو ملکوں کا قانونی سسٹم بھی اتنا بے حس ہے کہ وہ ان کو جائیداد کا حصّہ لے کر نہیں دیتا۔ نتیجہ یہ کہ باعزت اور پرسکون زندگی گزارنے کی بجائے اپنا پیٹ بھرنے کے لیے پاؤں پہ گھنگرو باندھے ہوتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دامن پہ خون کے چھینٹے تو بہت تھے لیکن اس شخص نے اپنی حکومت میں جو چند اچھے کام کیے تھے ان میں سے ایک خواجہ سراؤں کو مین سٹریم لائف میں لانے کی کوشش بھی تھی۔ خیر۔

بائیس اپریل 2024 کو مہتاب کنول نام کی ایک عورت نے بہاول پور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہاول پور پولیس کے چند پولیس افسران پہ الزام لگایا کہ وہ اسے اغوا کر کے لے گئے۔ اسے ننگا کر کے اس کے جنسی اعضاء پہ الیکٹرک راڈ سے کرنٹ لگایا اور تشدد کیا۔ ان الزامات میں حقیقت ہے یا نہیں یہ تو غیر جانبدار انکوائری ہی بتائے گی۔ بہت سال پہلے راقم نے یوگوسلاویہ کے کمیونسٹ انقلاب پہ بنائی گئی ہالی وڈ کی ایک فلم دیکھی تھی۔ اُس میں دکھایا گیا کہ یونیورسٹی کے احتجاج کرنے والے طلباء و طالبات کو پولیس پکڑ کے لے آتی اور ان لڑکوں اور لڑکیوں کو ننگا کر کے الیکٹرک راڈ سے ان کے جنسی اعضاء پہ کرنٹ لگاتی جس سے وہ چیختے چیختے مر جاتے ۔

چند دن پہلے ملت ایکسپریس ٹرین میں ریلوے پولیس کے میر حسن نام کے کانسٹیبل کے ہاتھوں مریم بی بی نام کی ایک خاتون پہ خوفناک تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی پھر خاتون کی لاش چنی گوٹھ کے علاقہ میں ملی۔

کافی سال پہلے ایک لڑکی گھر والوں سے روٹھ کر بہاول پور ریلوے اسٹیشن پہ آ گئی۔ ریلوے پولیس والے بغیر ٹکٹ کے الزام میں اسے پکڑ کر قریب واقع ریلوے پولیس چوکی پہ لے گئے اور حوالات میں بند کر دیا۔ پھر الزام سامنے آیا کہ اے ایس آئی نے جو ریلوے پولیس چوکی کا انچارج تھا اس نے لڑکی کو چوکی کے ایک کمرہ میں لے جا کر ریپ کیا۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجہ میں اُس اے ایس آئی کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔

اگرچہ گزشتہ چند سالوں سے ملک کے پولیس سسٹم کو انسان دوست بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور کالجز اور یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے محکمہ پولیس میں بھرتی ہو جانے سے کچھ مثبت تبدیلی بھی آئی ہے تاہم ابھی تک شرفاء اور عزت دار لوگ تھانے جانے سے کتراتے ہیں مبادا کوئی پولیس والا ان کے ساتھ گالم گلوچ والی زبان استعمال کرے انھیں خواہ مخواہ بے عزت نہ کرے اور انھیں تشدد کا نشانہ نہ بنا ڈالے۔ غریب اور عام آدمی کا تو معاملہ ہی کچھ اور ہے، پولیس والے تو پولیس والے اس پہ تو معاشرے کے نو دولتیے بھی خواہ مخواہ ہاتھ اٹھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان میں تو کچھ نودولتیوں کا نفسیاتی روّیہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ نئی گاڑی لے کر شہر کی مصروف سڑک کے درمیان میں دس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہے ہوں گے ساتھ اپنے سمارٹ فون پہ نظریں جمائے سرفنگ کر رہے ہوں گے۔ پیچھے والا ٹریفک متاثر ہو گا۔ اب کوئی ہارن دے کہ ”مسات! ساکوں وی تاں گزرنا اے“ (ان دیکھی خالہ کے بیٹے! تھوڑا راستہ دو ہمیں بھی تو گزرنا ہے ) تو صاحب کے ماتھے پہ تیوری چڑھ جاتی ہے اور وہ غصّے سے بڑبڑانے لگ جاتے ہیں گویا کہہ رہے ہوں ”ایم پی اے، ایم این اے ہمارا، ہم چاہیں تو پولیس، جج اور سارے سسٹم کو خرید لیں تُو کیا چیز ہے“ ۔ خیر۔

آج کل سوشل میڈیا پہ ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں روکنے پہ ایک خاتون ٹریفک پولیس والوں پہ اپنا غصّہ نکالتی ہے اور پھر ایک ٹریفک پولیس اہلکار پہ گاڑی چڑھا کر چلی جاتی ہے ۔

یہ جو نیا سسٹم لایا گیا ہے کہ تھانے میں شکایت لے کر آنے والے ہر فرد کی درخواست پہ فوری طور پہ ایف آئی آر کاٹ دی جائے تو اس کے مثبت کے ساتھ ساتھ کئی منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ منفی ذہنیت رکھنے والے افراد دوسروں کو صرف ذلیل و خوار کرنے کے لیے جھوٹی ایف آئی آر بھی کٹوا رہے ہیں۔ اس طرح کی ایف آئی آر کٹ جانے کے بعد اچھا خاصا شریف اور پر امن آدمی جس نے زندگی میں کبھی چیونٹی تک مارنے کا نہیں سوچا ہوتا وہ پولیس والوں کے رحم و کرم پہ چلے جانے کی وجہ سے مکمل طور پہ ڈپریشن اور ذہنی اذیت کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔ اب متعلقہ ایس ایچ او یا تفتیشی افسر کی مرضی وہ انصاف کرے یا اس کی اذیت کو بڑھا دے۔ ایف آئی آ ر کٹ گئی چہ جائیکہ اس کی بنیاد جھوٹ ہو لیکن مدعا علیہ کے بے گناہ ہونے کے باوجود جھوٹی ایف آئی آر کو خارج کرانا بھی بہت بڑی مصیبت ہے گویا ناممکن سا کام ہے۔

عرض ہے کہ جو قوتیں انڈیا اور پاکستان کے پولیس سسٹم میں ریفارمز کے نام پہ مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کر رہی ہیں وہ ایک تو تمام کالی بھیڑوں کو فی الفور نوکری سے برطرف کر دیں دوسرا ایسا سسٹم لے آئیں کہ یہ کالی بھیڑیں عدالتوں سے ریلیف لے کر دوبارہ نوکری پہ بحال نہ ہو سکیں۔ اگرچہ پڑھے لکھے نوجوان جو پولیس کے محکمہ میں بھرتی ہوئے ہیں ان کا روّیہ اور اخلاق نسبتاً بہتر ہے تاہم ابھی بھی گالی گلوچ، ہراسمنٹ اور تشدد کا کلچر دونوں ممالک کی پولیس میں بد ستور موجود ہے۔

تھانہ کی سطح پہ پولیس اہلکاروں کی ایسی تربیت کی جائے کہ عام آدمی ان سے خوفزدہ نہ ہو بلکہ بے دھڑک ہو کر ان سے ملے۔ پولیس کو خوف کی علامت صرف جرائم پیشہ افراد کے لیے بنائیں عام آدمی کے لیے وہ با اخلاق، ہمدرد اور تعاون کرنے والی ہو۔ اس پہلو کو بھی سامنے رکھیں کہ جب آپ پولیس والوں سے مسلسل چوبیس گھنٹے ڈیوٹی لیں گے، تھانہ میں ان کے لیے فوجی طرز کے کھانے کے میس کا اور مناسب آرام کرنے کا سرکاری انتظام بھی نہ ہو، ان کی تنخواہ میں تھوڑا بہت اضافہ کیا جائے لیکن پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی بھی دس گنا بڑھ جائے اور انھیں چھوٹے چھوٹے افسروں کی بھی وی آئی پی سیکورٹی ڈیوٹی پہ لگائے رکھا جائے تو پھر ان کی نفسیات میں جو تبدیلی واقع ہو گی اس کا نشانہ عام آدمی تو بنے گا نا۔ خیر۔

اچھا احباب! چھوڑیں، تھوڑا لائٹ موڈ کی طرف چلتے ہیں۔ آپ نے کبھی رات کے گیارہ بارہ بجے شہر سے باہر ہائی وے کے کنارے خوشگوار ٹھنڈی ہوا میں کُھلے آسمان تلے کسی ڈھابہ ریسٹورنٹ پہ ماش کی فرائی دال کھائی ہے؟ بیک گراؤنڈ میں منصور ملنگی کا کوئی گیت چل رہا ہو۔ ماش کی پکی دال وہ پیاری جس کا ہر دانہ علیحدہ علیحدہ ہو۔ اُس میں ہری مرچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوں۔ ثابت کالی مرچ کا زیادہ استعمال کیا گیا ہو۔ اوپر گرم مصالحہ ڈالا گیا ہو۔ ساتھ سلاد میں سرخ ٹماٹر اور پیاز ہوں۔ بھاپ اگلتی چائے بھی ساتھ پڑی ہو۔ اکبر شیخ اکبر تو سگریٹ نہیں پیتا اگر آپ پیتے ہیں تو ایک آدھ کش اس کا بھی لگا سکتے ہیں لیکن ہو سادہ۔

اس دوران گفتگو کا موضوع؟ موضوع نہ مذہب نہ سیاست اور نہ لڑکیاں۔ اس وقت لوگوں کو تو ڈسکس ہی نہ کریں بس اپنی ہی ذات کے اندر جھانکیں اور کچھ دیر کے لیے خود کو ستاروں بھری کائنات میں آزاد پرواز کرنے دیں۔ ضروری نہیں کہ بہت ساری دولت ہی آپ کو خوشی دے سکے، چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی زندگی کو بھر پور انجوائے کیا جا سکتا ہے۔

 

Facebook Comments HS