پاکستان اور ایران کے تعلقات


ایرانی صدر پاکستان سے دورہ کرکے بخیر آفیت واپس جا چکے ہیں۔ سڑکیں مکمل طور پر کھل چکی ہیں اور عوام کے جان و مال کے بہتر تحفظ کے لئے اٹھائے گئے اقدا مات کار گر ثابت ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے قبل ہی ایران نے اسرائیل پر فضائی حملے کئے اور کچھ دن بعد ایرانی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے نے لوگوں کے ذہنوں میں متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف طبقوں نے اس دورے کو مختلف انداز میں پیش کیا اور تاحال کررہے ہیں۔سونے پہ سہاگا یہ کہ وقت اور حالات نے پہلے سے طے شدہ اس دورے کا زاویہ ہی موڑدیا جس کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا چینلز اور اخبارات کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف اسرائیل پر ایرانی حملے کو اسرائیل اور فلسطین کی جنگ سے جوڑ کر ایران کو مسلم دنیا کا ہیرو بنایا جارہا ہے۔ جبکہ ایرانی فضائی حملہ دراصل ایرانی سفارت خانہ پر اسرائیل کے حملے کا جواب تھا یہ جوابی حق کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہوتا ہے جو ریاست کی خود داری، اعلی عسکری صلاحیتوں اورریاستی دفاع کی مضبوطی کودنیا کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہونیوالی سیاست میں کم علمی، ریاست کی خارجی و داخلی پالیسوں سے ناواقفیت کی بناء پر لوگوں کے بیانئے بالخصوص ریاست کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی دنیا سے روابط پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔جس سے پھر ایک غلط نظریہ جنم لیتا ہے اور عوام کے ذہنوں میں منتقل ہوتا ہے یہ امر ریاستی سالمیت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے  خیررواں سال جنوری میں پاکستان اور ایران کے درمیان معمولی کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی جس کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے جوابی کارروائی کرکے مسئلہ حل کرلیا گیا تھا اور حال ہی میں ایرانی صدر نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ پاکستان کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک کے لوگوں کی خوشگوارملاقاتیں اور جامعات کے دوروں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی میدان میں مشترکہ ترقی اور عوامی سطح پر سفارت کاری کی خوبصورت مثال قائم کی ہے۔یہ دورہ دفاعی اداروں کے درمیان مستحکم تعلقات، ہشت گردی کے خلاف جنگ اورفرقہ واریت کی کمر توڑ نے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔سفارتی تعلقات کے ماہرین اور ہرذی شعور اس دورہ کو ایک احسن اقدام قرار دیتے ہیں جو مستقبل میں پاکستان اور ایران کے لوگوں کے تعلقا ت کو بہتر بنانے کے لئے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ دورہ جہاں دونوں ممالک کے درمیان اسلامی برادرانہ تعلقات کو ظاہر کرتا ہے وہیں حالیہ دورے سے پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی، سیاحتی، تجارتی، دفاعی اور سرحدی معاملات میں مزید بہتری آئے گی۔شر پسند عناصر سے نمٹنے کے لئے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے کچھ مشترکہ دفاعی طریقہ کار متعادف کروا کر خطے میں امن کا قیام ممکن ہوگا جس کے اثرات پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی اور تجارتی راستوں پر بلاواسطہ اثر اندازہونگے ۔  امید کی جارہی ہے کہ پاکستانی حکومت اور ریاستی ادارے موثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اس تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں گے۔
Facebook Comments HS