انسانوں سے نفرت کرنے والے انسان


بعض انسان بہت محبتی ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے انسانوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ جب اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملتے ہیں تو ان سے محبت، پیار، خلوص اور اپنائیت سے باتیں کرتے ہیں اور مسکرا کر انہیں گلے لگاتے ہیں۔

محبتی لوگوں کے مقابلے میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں دوسرے انسانوں کے لیے غصہ، نفرت اور تلخی کے جذبات پلتے بڑھتے رہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو گلے لگانے کی بجائے ان سے لڑتے جھگڑتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں اور ان کی تذلیل و تحقیر کرتے ہیں۔

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی بچہ اپنے دل میں دوسرے انسانوں سے نفرت لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ بچے کھیلتے ہیں مسکراتے ہیں اور سب سے محبت کرتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محبت کرنے والے بچے کیسے اتنی نفرت کرنے والے جوان بن جاتے ہیں کہ موقع ملنے پر وہ دوسرے انسانوں کو قتل بھی کر دیتے ہیں۔

پچھلے ہفتے مجھے کینیڈا کی عورتوں کی آزادی و خود مختاری کو فروغ دینے والی ایک ہردلعزیز آرگنائزیشن
MALTON WOMENS COUNCEL
مالٹن ویمن کونسل کے ایک ایسے سیمینار میں بلایا گیا جس کا عنوان تھا
STANDING TOGETHER AGAINST HATE

اس سیمینار میں اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے کہا کہ نفرت کے جرائم میں تین کردار ہوتے ہیں

پہلا کردار۔ نفرت کرنے والا ظالم و جابر انسان
دوسرا کردار۔ معصوم مظلوم و مجبور انسان
تیسرا کردار۔ اس ظلم کو دیکھنے والا انسان

جب ہم نفرت کرنے والے ظالم و جابر انسانوں کی کہانیاں اور سوانح عمریاں پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ

ان انسانوں نے ایسے خاندانوں اور معاشروں میں پرورش پائی جہاں ان کے والدین نے انہیں دوسرے رنگ نسل زبان اور مذہب کے لوگوں سے نفرت کرنا سکھایا۔

بعض انسانوں کے عزیز نفرت کی جنگ میں مارے گئے اور ان کے دل میں بدلہ لینے کے جذبات ابھرنے لگے
بعض ایسے گروہوں میں شامل ہو گئے جن کے لیڈر ایک ساحرانہ طلسماتی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں جنہیں میں
CULTISH PERSONALITY

کا نام دیتا ہوں۔ ایسے سیاسی لیڈر اور مذہبی رہنما اپنے پیروکاروں کو قتل و غارت کی ترغیب دیتے ہیں۔ ایسے لیڈر معاشرے کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔

دوسرا گروہ مظلوم و مجبور لوگوں کا ہے۔ اس گروہ میں عورتیں بھی شامل ہیں اور اقلیت کے لوگ بھی۔

ایک دفعہ جب اسرائیل میں عورتوں پر مردوں کے حملے بڑھ گئے اور پارلیمنٹ میں یہ بل پش کیا گیا کہ عورتوں پر سورج کے غروب ہونے کے بعد گھر سے نکلنے پر پابندی عائد کی جائے تو اس دور کی خاتون وزیر اعظم گولڈا مائیر نے پارلیمنٹ میں ایک اور بل پیش کیا جس میں لکھا تھا کہ عورتیں معصوم و مظلوم ہیں انہیں سزا نہ دی جائے بلکہ مردوں پر غروب آفتاب کے بعد پابندی عائد کی جائے کیونکہ وہ عورتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

دوسرے گروہ میں مذہبی اقلیتوں کے ممبر بھی شامل ہیں جب پر مذہبی اکثریت کے پیروکار حملہ آور ہوتے ہیں اور انہیں قتل کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے نیکی کا کام کیا۔

جب عورتوں اور اقلیتوں پر قتل و غارت کے واقعات بڑھنے لگتے ہیں تو معاشرے میں ایک خوف پھیل جاتا ہے۔ میرا ایک شعر ہے

کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

کینیڈا میں اب ایسے ادارے بنائے گئے ہیں جو مظلوم مردوں اور مجبور عورتوں کی قانونی اور نفسیاتی مدد کرتے ہیں۔ ایسی مدد کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ عوام پولیس اور قانونی اداروں پراعتماد کرے۔

تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو ظلم ہوتا دیکھتے ہیں۔ ان کی ایک مثال غزہ کی جنگ کے فوٹو جرنلسٹ ہیں۔ ایسے جرنلسٹ خاموش تماشائی نہیں تھے۔ جب انہوں نے فلسطین کے شہریوں کی نسل کشی کی وڈیوز بنائیں اور ساری دنیا کو دکھایا تو اسرائیلی فوج نے ان پر حملے کر کے انہیں بھی قتل کر دیا۔

میں نے اپنی تقریر میں اپنے دو مریضوں کی مثال پیش کی۔ ایک عورت اور ایک مرد۔ دونوں نے تھراپی سے استفادہ کیا۔

پہلی مریضہ وہ عورت ہے جو جب دس برس کی تھی تو اپنی سہیلی کے ساتھ نارتھ کیرولینا کے ایک پارک سے گزر رہی تھی کہ کیا دیکھتی ہے کہ
KU KLUX CLAN
کے نفرت کرنے والے متعصب نوجوان ایک کالے بچے کو زندہ جلا رہے ہیں۔

اس واقعہ نے اس بچی کو اتنا متاثر کیا کہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی اور اسے ڈراؤنے خواب دکھائی دینے لگے۔

کئی برس کی تھراپی کے بعد وہ صحتیاب ہو گئی ہے۔

دوسرا مریض ایک مرد ہے جو نوجوانی میں گے مردوں سے اتنی نفرت کرتا تھا کہ وہ وینکوور کے گے کلبوں میں جاتا تھا انہیں دوست بناتا تھا انہیں گھر لے آتا تھا اور پھر انہیں مارتا پیٹتا بھی تھا۔

جب گروپ تھراپی میں ایک نیا مریض آیا اور اس نے کہا کہ
میں گے ہوں

تو پرانے مریض نے نئے مریض سے کہا کہ میرے دل کی گے مردوں سے نفرت اس دن ختم ہوئی جب میرے جوان بیٹے نے مجھ سے کہا
ڈیڈی میں گے ہوں۔

جوں جوں مختلف معاشروں میں انسانی حقوق کا شعور اور احترام بڑھ رہا ہے لوگ یہ جان رہے ہیں کہ
خاندانوں پہ عذاب آئے گا
نفرتیں خون میں بونا کیسا
اور انہیں یہ احساس بھی ہو رہا ہے کہ
وہ جس کسی کی بھی آغوش جاں کے بچے ہیں
نوید صبح ہیں سارے جہاں کے بچے ہیں

ایک انسان دوست ہونے کے ناتے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

 

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 711 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail