مظلوم استاد


تعلیم ایک زیور ہے، اس کا مقصد اچھی سیرت اور تربیت سازی ہے۔ علم ایک روشن چراغ ہے جو انسان کو عمل کی منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے تعلیم و تربیت پیغمبری شعبہ ہے۔ استاد اور شاگرد تعلیمی نظام کے دو نہایت اہم اور مضبوط ستون ہیں۔ استاد کی ذمہ داری صرف پڑھانا و سکھانا ہی نہیں، پڑھانے کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمدﷺ کے بارے میں فرمایا ”نبیﷺ ان (لوگوں ) کو کتاب و حکمت (سنت) کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ و تربیت کرتے ہیں“ اس سے ایک استاد کے وقار کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی استاد کو اعلی مقام دینے والی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی نظر آ رہی ہیں۔ پاکستان میں استاد لفظ سے پہلے محترم لکھنے اور کہنے کا حکم نامہ تو جاری ہو چکا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان کلمہ اسلام پر معرض وجود میں آیا، اس میں شعبہ پیغمبری ﷺ سے منسلک استاد کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہا ہے۔ حکومتی نمائندوں کی منتیں کر رہا ہے۔

اپنے حقوق کے لیے احتجاج اور دھرنے دے رہا ہے۔ ان اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پولیس کے نوجوان اپنے اساتذہ پر ڈنڈے برسا رہے ہوتے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی سے حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے استاد کمزور اور طالب علم مضبوط ہو رہا ہے۔ استاد کا وقار بلند ہونے کی بجائے زوال کی طرف جا رہا ہے۔ اس بارے میں سوچنے کی اشد ضرورت ہے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے خواندگی کی شرح جدید علوم کے ساتھ ہونی چاہیے۔

بد قسمتی یہ ہے ہمارا معیار تعلیم روز بروز گرتا جا رہا ہے۔ استاد اپنی عزت و آبرو کو بچانے کے لیے وقت گزار رہا ہے۔ پرائیویٹ اساتذہ مختلف در کے پنچھی ہوتے ہیں۔ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے طلباء کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔ کسی ایک بچے یا والدین کی شکایت پر اس کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے چاہے اس میں قصور بچے کا ہی ہو، استاد کو قصوروار قرار دے کر ادارے سے برخاست کر دیا جاتا ہے۔ سرکاری اساتذہ پر اس قدر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں کہ وہ بچے کو غصے سے دیکھنے سے بھی ڈرتا ہے۔

معمولی سی معمولی بات پر اساتذہ کے خلاف پولیس اور محکمہ تعلیم کو درخواست دے دی جاتی ہے۔ طلباء میں اساتذہ کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ طالب علم اپنی بھلائی اور اصلاح کے لیے کی جانے والی نوک جھوک کو برداشت کرنے کی بجائے والدین کو اپنے استاد کے خلاف بھڑکاتا ہے۔ اساتذہ کو والدین کی طرف دھمکانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر طلباء خود اساتذہ سے بدلہ لینے کے لیے منفی ہتھکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔

کچھ ماہ پہلے ضلع شیخو پورہ میں جماعت نہم کے ایک طالب علم نے اپنے استاد کو گولی مار دی۔ والدین کی اپنے بچوں کے اساتذہ پر ایف آئی آر آئے دن دیکھنے کو ملتی ہے۔ اپنی عزت وانا کا بدلہ لینے کے لیے اساتذہ پر ہراساں کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ سندھ میں بچوں کو تعلیم دینے کے جرم میں ڈاکوؤں نے استاد کو قتل کر دیا۔ ان تمام معاملات میں معاشرے سے کسی بھی قسم کی ہمدردی یا تعاون نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ محکمہ تعلیم کے افسروں کی خاموشی بھی دلوں کو افسردہ کر جاتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ استاد نے ہمیشہ امن اور سلامتی کا درس دیا ہے مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ استاد پر ظلم کرتے ہوئے اس سماج کے باشندوں کو شرم نہیں آتی ہے۔ سکولز میں سہولتوں کا فقدان ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ اپنے فرائض احسن انداز میں سر انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کی ترقی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک استاد کو اس کا اسلامی تعلیمات کے مطابق مقام نہیں دیا جاتا ہے۔ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نیکا پورہ سیالکوٹ سٹی کے استاد شفقت آمین سے ایک طالب علم نے چھٹی مانگی تو استاد محترم نے والدین کی اجازت کے بغیر چھٹی دینے سے معذرت کر لی۔

بس یہی معذرت ان کا قصور بن گئی۔ شفقت آمین صاحب چھٹی کے بعد گھر جا رہے تھے۔ جماعت نہم کے اسی طالب علم نے اپنے سات آوارہ ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے اساتذہ پر حملہ کر دیا۔ جس پر سکول ہذا کے استاد جعفر اور اردگرد کے لوگوں کے ان کی جان بچائی۔ اس مار کٹائی میں شفقت امین کے چہرے پر گہرے زخم آئے اور ایک دانت بھی ٹوٹ گیا۔ طالب علم کی طرف سے اپنے استاد پر اس طرح کا حملہ افسوس ناک مرحلہ ہے جب نوبت یہاں تک آ جائے کہ ایک شاگرد اپنے استاد کا گریبان پکڑ لے تو یہ یقین کر لیں کہ معاشرہ پستی کی طرف چل پڑا ہے۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس طرح کے معاملات اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اساتذہ تنظیموں نے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی اور پولیس اسٹیشن نیکا پورہ میں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق صرف ایک ملزم حوالات میں ہے جبکہ باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اساتذہ تنظیموں کے راہنماؤں نے سوشل اور پرنٹ میڈیا پر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس معاملے میں اپنے استاد کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نیکا پورہ سیالکوٹ سٹی کے پرنسپل ضیا اللہ میٹرک کے عملی امتحان میں مصروف ہیں۔ اپنے استاد کی دلجوئی کے لیے ان کے پاس الفاظ کی شدید کمی پائی گئی ہے۔ یہی حال سیالکوٹ کے تمام افسر کا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر اور چیف ایگزیکٹو افسر سیالکوٹ کی اس واقعہ کے متعلق کسی بھی قسم کی لفظی مذمت بھی سامنے نہیں آئی ہے۔ اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیالکوٹ کے افسر اپنے استاد کے ساتھ کھڑے ہوتے مگر ان کو الوداعی تقریبات میں جانے سے فرصت ملے تو وہ اس طرف دھیان دیں۔

اگر اس استاد محترم شفقت آمین کے خلاف درخواست آ جاتی تو اب تک انکوائری اور پیڈا ایکٹ حرکت میں آ چکا ہوتا مگر یہاں مظلوم استاد ہے اور ان کا ماتحت ہے۔ دو دن گزرنے کے باوجود بھی والدین نے صلح کے لیے رجوع نہیں کیا ہے بلکہ سیاست دان کے ذریعے اساتذہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ درخواست واپس لیں۔ اس ایک واقع سے طلباء کے حوصلے بلند ہوں گے اور اساتذہ کا مورال نیچے کی طرف جائے گا۔ اس طرح سے کوئی بھی طالب علم اٹھ کر استاد کا گریبان پکڑ لے گا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیاست دان ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی پشت پناہی کریں گے۔

اخلاقی اقدار کا اس طرح جنازہ نکلے گا بلکہ اگر یہ کہوں کہ نکل چکا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے پوزیشن ہولڈر سکول گورنمنٹ ہائی سکول ڈسکہ کے ہونہار استاد محمد عارف کے ساتھ ایک شہری نے بدتمیزی کی۔ گالم گلوچ اور قتل کی دھمکیاں بھی دی۔ استاد کے ساتھ سکول ہذا کے نائب قاصد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی۔ مقام افسوس ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ عدم برداشت ختم ہو رہی ہے۔ اساتذہ کے خلاف نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ سیالکوٹ کے افسر کو فوراً استاد کی عزت و تکریم کے لیے اساتذہ برداری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور استاد کی عزت و تکریم میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر سیالکوٹ سے ملاقات کر کے جلد از جلد ملزمان کو پابند سلاسل کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS