سیاحوں کی آمد اور حکومت گلگت بلتستان کی تیاریاں
بلند بانگ پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، دریاؤں جھیلوں، آبشاروں پر مشتمل، قدرتی حسن سے مالا مال گلگت بلتستان میں موسم بہار اپنے عروج پر ہے۔ ان دنوں میدانوں علاقوں میں بلوزم اختیار پذیر ہو چکا ہے اور ہیرے پتوں نے رنگ بھر دیا ہے۔ جبکہ بالائی علاقوں میں بادام، خوبانی اور چیری کے پھولوں نے پورے علاقے کو معطر کر دیا ہے۔ پہاڑوں کو بہار کے سروج کی کرنوں نے اپنا اثر شروع کر دیا ہے اور برفانی چادر آہستہ آہستہ پگھلنا شروع ہو چکی ہے۔ دریاؤں کے پانی میں بھی تھوڑا اضافہ ہو چکا ہے اور موسمی پرندوں نے بھی یہاں ڈیرے جمانا شروع کر دیا ہے۔
جبکہ سخت سردی میں زندگی گزارنے والے مکینوں کے چہروں پر خوشی کی لہر نظر آنے لگی ہے۔
ایسے میں دنیا بھر میں قدرت سے محبت رکھنے والوں نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات دیوسائی، راما، فیری میڈو، خلتی جھیل ہنزہ عطا آباد سیاحوں کو کھینچ کر یہاں لاتے ہیں۔ موسم بہار اور موسم گرما میں اس خوبصورت خطے کو دیکھنے کے لئے سالانہ لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اور جاتے جاتے یہاں سے زندگی کی حسین یادیں سمیٹ کر لے جاتے ہیں۔
سیاح جب گلگت بلتستان آتے ہیں تو واپسی پر اپنے ساتھ زندگی کے حسین لمحات کو اپنے کیمروں کی نظر میں قید کر کے لے جاتے ہیں۔ اب چونکہ مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی ہے تو حکومت گلگت بلتستان نے بھی مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے اپنی بھرپور تیاریاں کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ابرار مرزا نے گلگت بلتستان انتظامیہ کو الرٹ کر دیا ہے اور ہدایات جاری کی ہیں کہ پورے گلگت بلتستان میں صفائی مہم کا آغاز کیا جائے۔ ان ہدایات کی روشنی میں 10 اضلاع کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے صفائی مہم کا آغاز کیا ہے۔ گلگت شہر میں سڑک کنارے نصب تمام سائن بورڈز اور پوسٹرز ہٹائے گئے ہیں جبکہ بازار کی صفائی کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کی نالیاں بھی صاف کردی گئی ہیں۔ جبکہ اضلاع میں بازاروں، ندی نالوں کی صفائی کا کام بھی زور شروع سے جاری ہے۔ دوسرے مرحلے میں شہروں کو سجانے کا عمل شروع ہو گا اور یہ سلسلہ 28 اپریل تک جاری رہے گا۔
حکومت کی جانب سے اس اقدام کو عوامی سطح پر زبردست سراہا گیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت ہو انتظامیہ ہو یا پھر یہاں کے مقامی لوگ ہو باہر سے آنے والے سیاحوں کو اپنے مہمان سمجھتے ہیں۔ شاید پاکستان میں یہ واحد علاقہ ہو گا جس میں سیاح اپنے آپ کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ یاک تو یہاں کے مقامی لوگ انتہائی مہمان نواز ہیں اور دوسری جانب حکومت گلگت بلتستان نے سیاحوں کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ٹورسٹ پولیس کا قیام عمل میں لایا ہے، جو شاہراہوں پر دن رات سیاحوں کی سیکورٹی اور مدد کے لئے چوکس ہیں۔
گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کو چند باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہاں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین کے حوالے سے جانکاری حاصل کریں اور ان قوانین پر سختی سے عمل کریں۔ اور اپنی گاڑیوں کا مکمل طور پر فٹنس چیک کروا لیں تاکہ وہ کسی بھی حادثے سے محفوظ رہے۔ دوسری بات مقامی آبادیوں میں گھومتے ہوئے مقامی لوگوں کی پرائیویسی کا خیال رکھے۔ سڑک کنارے لگے پھلدار درختوں سے پھل ضرور کھائیں لیکن ان کی شاخوں کو مت توڑے، کسی بھی علاقے میں جاتے ہوئے اس علاقے کے ہوٹل، ٹرانسپورٹ کے حوالے سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔ جبکہ حکومت گلگت بلتستان خاص کر اپنے ویب سائٹ پر ہوٹلوں کی تفصیل، ان کے ریٹ اور ٹرانسپورٹ کے کرائے واضح کردے۔ محتاط اندازے کے مطابق سالانہ دس لاکھ سے زیادہ سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں۔ امید ہے اس سال بھی بڑی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کریں گے۔


