مسلمانوں کی آمد سے قبل پاکستانی خطے میں تہذیب کا ارتقا اور گندھارا آرٹ


مسلمانوں کی آمد سے قبل پاکستانی خطے میں تہذیب کا ارتقا اور گندھارا آرٹ (ایک سرسری جائزہ)

بنی آدم کی عمر افریقہ میں دریافت شدہ انسانی آثار کے مطابق 20 لاکھ سے کم نہیں جبکہ پاکستان کے خطے میں انسانی تہذیب کے آثار 4 لاکھ سال تک پرانے بتائے جاتے ہیں۔ یہاں کی قدیم تہذیب راولپنڈی کے قریب سوانی (پوٹھوہاری) تہذیب گردانی جاتی ہے۔ ان کے باشندوں کی نسل، زبان، رنگ اور کھیتی باڑی کے آغاز کے بارے زیادہ معلومات دستیاب نہیں تاہم پاکستان کے خطے میں دوسرا حجری دور کھیتی باڑی سے شروع ہوا۔ اس کے ابتدائی آثار کوئٹہ کے قریب ”کلے گل محمد“ میں دریافت ہوئے ہیں جو 10 ہزار سال پرانے سمجھے جاتے ہیں۔ سوانی کے دیہی کلچر سے موہنجو داڑو کی شہری تہذیب تک کے درمیانی عرصے میں چار دیہی یا زرعی تہذیبی مراکز دریافت ہوئے ہیں ان چاروں کا تعلق بلوچستان اور کسی حد تک سندھ سے ہے یہ، چار مراکز (ا) کوئٹہ (ب) امری نل (ج) کلی خضدار اور (د) ژوب میں رہے تھے ان کا زمانہ 2800 ق م کے لگ بھگ قیاس کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد موہنجوداڑو (سندھ ) تہذیب کا زمانہ آتا ہے جس میں کانسی دور کا نقطہ عروج تھا۔ یہ تہذیب کوہ ہمالیہ کے دامن سے کاٹھیاواڑ تک اور کوئٹہ سے راجپوتانہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ 2500 سے 1500 ق م تک عروج پر رہی۔ اب تک اس کے 60 سے زیادہ آثار دریافت ہو چکے ہیں۔ موہنجوداڑو کے بعد ”آریہ دور“ آتا ہے۔ آریہ کسی مخصوص نسل یا قوم کا نام نہیں بلکہ خوارزم اور بخارا کے خطے کے باشندے تھے جو 2000 ق م سے 1500 ق م تک کے عرصے میں خیبر اور بولان کے دروں سے آ کر سندھ پر قابض ہوتے گئے۔ 1000 ق م کے قریب ان میں بعض قبیلے وادی گنگا جمنا کی طرف نکل کر پورے شمالی ہندوستان میں پھیل گئے۔ اگرچہ وادی سندھ میں آریاؤں کے غلبے کے کچھ خاص آثار نہیں ملے ہیں تاہم محققین کے مطابق رگ وید یہاں تصنیف ہوئی۔ 1500 تا 1200 ق م تک کا دور یہاں رگ وید کا عہد تصنیف کہا جاتا ہے۔ 6 صدی ق م سے پیشتر مہا بھارت لکھی گئی جس کا موضوع دو برادریوں کورووں اور پانڈووں کے درمیان جنگ ہے۔ مہابھارت کے بعد سندھ میں آریائی تہذیب کا ویدک زمانہ ختم ہو کر نئے فاتحین کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تاہم آریاوں کا قائم کردہ طرز زندگی اور فکر و فن کی روایتیں (پدری نطام، ذات پات اور سنسکرت زبان وغیرہ) برقرار رہیں۔ بیرونی فاتحین میں پہلے ایرانی آتے ہیں۔ ایران کے ہخامشی سلطنت کے بانی کوروش اعظم (سائرس 559 تا 530 ق م ) کی فوجیں صرف پشاور تک آئیں مگر اس کے جانشین داریوش ( 522 تا 486 ق م) نے گندھارا اور وادی سندھ کو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ اس کی سلطنت کے تین مشرقی صوبے وادی سندھ میں واقع تھیں۔ وادی سندھ 200 سال تک ایران کا باج گزار رہا۔ اس عہد کی تہذیبی ورثوں میں ایک فن تحریر کی ازسر نو احیاء ہے۔ ہند کی زبانوں کی رسم الخط کی بنیاد آرامی رسم الخط ہے جو اس دور کے ایران کا عطیہ ہے۔ ہند میں طرز

حکومت، فرامین شاہی کی کندہ کاری، اور سکوں کے رواج بھی ایرانیوں کے زیر اثر پنپا۔ 4 ویں صدی ق م میں ہخامنشی سلطنت کا وادی سندھ پر اقتدار برائے نام رہ گیا تھا۔ دریا کنار (اسپالا) اور باجوڑ میں آباد ایرانی نژاد ”اسپاسی“ قبیلے اور سوات کی ایک دوسرے قبیلے اسوکا (جو وادی سندھ کے قدیم باشندے تھے ) نے ہخامنشی کو خراج دینا بند کر دیا۔ مغربی گندھارا میں پشکلاوتی (موجودہ چارسدہ) اور مشرقی گندھارا میں ٹیکسلا میں خود مختار ریاستیں بن گئیں۔ دریا جہلم اور راوی کے درمیان راجہ پورس کی حکمرانی تھی۔ اسی طرح ملتان، الور (بالائی سندھ) اور پٹالا (جنوبی سندھ) کی ریاستیں خودمختار تھیں۔ 327 ق م میں یونان کا سکندر اعظم حملہ آور ہوتا ہے اس وقت پاکستان کے حصے والا ہندوستان کی ریاستیں (سوات۔ پشکلاوتی۔ ٹیکسلا، راجہ پورس کی ریاست جہلم، ملتان الور اور پٹالا) متحد نہ تھیں مگر اس کے باوجود وادی سندھ کے باسیوں نے سوات، جہلم

ملتان، پٹالا (سندھ) ہر جگہ سکندر کے لشکروں کا مقابلہ کیا۔ سکندر کے جانے کے بعد اس کے گورنروں کے خلاف بغاوتیں ہونے لگیں۔ موریہ سلطنت کے بانی ”چندر گپت موریہ“ ( 322 تا 298 ق م) نے چھاپہ مار جنگ کے ذریعے یونانی حکمران ”سلوکس“ کو مار بھگایا۔ اسی دور میں یہاں کے باشندوں کے طرز فکر اور معاشرت پر گہرا اثر بدھ مت کا رہا (مہاتما بدھ سائرس اور داریوش کا ہم عصر تھا) نئے معاشرتی اور فکری تغیرات کے باعث بدھ مت کو ہند میں مقبولیت ملی۔ چندر گپت موریہ کے پوتے اشوک اعظم ( 272 ق م تا، 232 ق م) نے اپنے دور حکمرانی میں بدھ مت کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔ 185 ق، م میں موریہ سلطنت کے خاتمے کے بعد بیرونی حملہ آوروں کا دور شروع ہوتا، ہے۔ وادی سندھ پر باختر (شمالی افغانستان) کے یونانی نژاد بادشاہوں کا قبضہ ہو جاتا ہے ان کی راجدھانی پہلے ٹیکسلا اور پھر ساگالا (سیالکوٹ) بنتا ہے۔ باختری یونانیوں میں زیادہ مشہور بادشاہ ”منیندر“ ( 180 تا 130 ق م) رہا ہے جس کی سلطنت جنوب میں دریا نربد اور مشرق میں متھرا تک پھیلی تھی۔ (منیندر آخر میں بھکشو بن گیا تھا) ۔ یونانیوں کے زیر اثر اہل سندھ نے روزمرہ زندگی سے متعلق علوم (جیوتش، جنتری سکہ سازی) اور سنگ تراشی سیکھے۔ 80 ق م میں باختری یونانیوں کا اقتدار ختم ہوا۔ اور وادی سندھ پر وسطی ایشیا کے خانہ بدوش اقوام کی یلغاریں ہونی لگیں۔ ان میں پہلے ”ساکا“ (Scythian) قبائل تھے جنہوں نے پہلی صدی ق م میں اپنے ایک مشترکہ سردار ”موگا“ کی قیادت میں باختری یونانیوں سے گندھارا چھین کر اپنی سلطنت متھرا تک قائم کر دی۔ ساکا بادشاہوں نے یونانی طرز حکومت اور یونانی زبان کو برقرار رکھا۔ بدھ مت کی طرف جھکاؤ رکھنے کے باوجود ان کی نمایاں خصوصیت مذہبی رواداری رہی۔

پارتھی (Parthian) 25 عیسوی میں ایرانی نژاد پارتھیوں نے سکاؤں کو ٹیکسلا سے نکال کر قبضہ کر لیا۔ گندھارا آرٹ کی اصل ابتدا پارتھیوں کے عہد سے ہوئی۔ ان کا سب سے نامور بادشاہ ”گوندو پارس ( 20 تا 47 ) عیسوی تھا۔ اس کا پایہ تخت ٹیکسلا تھا اس کی موت کے کچھ عرصے باہمی خانہ جنگیوں کے باعث زوال کا شکار ہو گئے۔ اگلے حملہ آور چینی نژاد کشان تھے جو دریا آمو اور سیر دریا کی وادیوں سے باختر پر سے ہوتے ہوئے وادی سندھ میں پارتھیوں کو شکست دے کر 78 عیسوی سے یہاں قابض ہو گئے۔ کشانوں نے ٹیکسلا کی جگہ پرش پور (پشاور) کو دارالحکومت بنایا۔ انہوں نے گندھارا اور وادی سندھ پر تقریباً 200 سال تک حکومت کی ان کے دور میں گندھارا آرٹ ان کی مادی اور تہذیبی ترقی کا ثبوت ہے۔ ان کا مشہور فرمان روا“ کنشک ”( 127 تا 150 ع) تھا جو بدھ مت کا پیروکار اور علم و فن کا دلدادہ تھا۔ مشہور شاعر ”اشوا گھوش (Asvaghoch) اس کے عہد میں گزرا ہے اپنے دور کے کئی نامور عالم کنشک کے دربار سے وابستہ تھے۔

گندھارا آرٹ در اصل آرین، یونانی، ساکا، پارتھی اور کشن تہذیبوں کا نچوڑ ہے اس کا مرکز ٹیکسلا تھا مگر جڑیں پشاور، سوات۔ افغانستان حتی کہ وسطی ایشیا تک پھیلی تھیں۔ ٹیکسلا اگرچہ مہابھارت عہد سے بھی قدیم ہے مگر اس کی آبادی کے آثار ہخامنشی اور موریہ دور سے پرانے نہیں۔ بھیر ( ) اور سرکپ (Sirkap) اس کی دو اہم بستیاں تھیں۔ سرکپ کے نزدیک ”جانڈیال“ کے مقام پر عبادت گاہ کی عمارت ایتھنز ( یونان) کے مندر ”پارتھنیون“ کا چربہ ہے۔ ”اشوک“ سے ”کنشک“ تک وادی سندھ کی تہذیب نے بدھ مت کے سائے میں فروغ پایا اس لیے اس دور کی فنی تخلیقات کے محرک گوتم بدھ کی ذات اور تعلیمات سے ہر طبقے کی عقیدت تھے۔ اشوک نے اپنی سلطنت میں اٹھ مقامات پر اسٹوپے تعمیر کیے۔ جن میں ٹیکسلا کا اسٹوپا ( دھرم راجیکا) سب سے بڑا تھا۔ گندھارا آرٹ میں پہلی صدی عیسوی کے اوائل تک یونانی آرٹ کی نقالی کی جاتی رہی پھر پارتھیوں کے دور میں اس میں مقامی عنصر ابھرنے لگا۔ یہ دور ساسانیوں کے حملے ( 230 ع) تک رہا اس دور میں مجسموں وغیرہ کے لیے پتھر کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندھارا آرٹ کو کشانوں کے زمانے میں بہت ترقی ملی اس دور میں فنکاروں نے پتھروں کی جگہ مٹی اور چونے سے مجسمے بنانا شروع کیا۔ بدھ مت سے عقیدت کے باعث جگہ جگہ اسٹوپے اور دہار تعمیر کیے گئے۔ پشاور کا مشہور اسٹوپا ”کنشک“ نے بنایا تھا۔ 4 ویں اور 5 ویں صدی پر محیط عرصہ ”ہنوں“ کا دور ہے۔ وحشی ہن غارت گر تھے ان کے دور میں گندھارا کا فن اجڑ گیا۔ سندھ اور وسطی ہند پر ہنوں کی حکومت 200 سال تک رہی۔ ان کے زمانے میں ہندو مت کا احیا اور بدھ مت کا زوال شروع ہوا۔ ہن سورج دیوتا کے پجاری تھے۔ جب ہنوں کی مرکزی حکومت کمزور ہو گئی تو سندھ میں ان کے باجگزار راجواڑے خودمختار ہو گئے۔ بدھ مت کے زوال کے ساتھ ذات پات اور چھوت چھات کی سختیاں پھر سے شروع ہو گئیں۔ 5 ویں تا 7 ویں عیسوی کا زمانہ علاقے کی تہذیب کا تاریک ترین دور ہے۔ علم و فن کی ترقی رک گئی۔ اور معاشرہ پیچھے کی طرف لوٹ گیا۔

عربوں ( 8 ویں صدی) اور ترکوں ( 10 ویں صدی) کی آمد سے وادی سندھ کی تہذیب ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔ مذہب و تصوف۔ زبان و ادب، علوم و فنون، سیاست اور تمدن، فن تعمیر وغیرہ پر نئے اثرات پڑنے کے علاوہ نئے علمی اور تہذیبی مراکز (ملتان لاہور، اور دہلی) بھی قائم ہوئے۔

(نوٹ) یہ مضمون سبط حسن کی کتاب ”پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء“ کے مواد کو بنیاد بنا کر مرتب کیا گیا ہے

Facebook Comments HS