عالمی یوم مزدور
اٹھارہویں صدی کے آخر میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا اور جلد ہی پوری دنیا پر چھا گیا۔ سرمایہ داروں نے فیکٹریاں لگائیں اور پیداواری صلاحیت بڑھانے، زیادہ سے زیادہ مال کمانے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ مقابلے کی فضا پیدا ہوئی تو بڑی بڑی فیکٹریاں، بلند و بالا عمارات اور دلکش محلات نظر آنے لگے اور لگژری گاڑیوں میں سفر شروع ہو گیا۔ زیادہ پیداوار لینے کے لئے فیکٹریاں اور کارخانے ڈبل شفٹ پر چلانے شروع کر دیے گئے مگر ان کارخانوں میں ایندھن کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے خون پسینہ کو بھی جلانا شروع کر دیا گیا۔
اس خوفناک استحصال، المناک بیدردی اور سنگدلی پر گوشت پوست کے بے بس انسان چلا اٹھے۔ اس شرمناک اقدام کے خلاف محنت کش جب آواز بلند کرتے تو ان کو ملازمت سے برخاست کر دیا جاتا۔ ایسے ہی ظالمانہ رویے، جبری مشقت اور استحصالی قوتوں کے خلاف مزدور اکٹھا ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا شروع کی۔ 1880 ء کی دہائی میں محنت کشوں کی طرف سے سولہ گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کا مطالبہ کیا گیا۔ اس مطالبے نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ مختلف شہروں میں اس مطالبے کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یکم مئی 1886 ء کو شکاگو اور امریکہ کے دیگر مختلف صنعتی اداروں کے تین لاکھ محنت کشوں نے سرمایہ داروں کے ظالمانہ رویہ اور جبری مشقت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ایک دن اوقات کار کا صرف آٹھ گھنٹے روزانہ کی قانونی حیثیت کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لئے محنت کشوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کردی مگر محنت کشوں کے جوش و جذبے کو کم نہ کرسکے۔ مظاہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے میں ناکامی پر پولیس نے مظاہرین پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ جس کے نتیجہ میں بے شمار محنت کش ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے لاتعداد محنت کشوں کو اپنی جان کی قربانی دینا پڑی اور سینکڑوں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کیے گئے اور کئی ایک کو پھانسیاں دی گئی۔ ہلاک ہونے والے راہنماؤں نے کہا تم ہمیں جسمانی طور پر ختم تو کر سکتے ہیں لیکن ہماری آواز نہیں دبا سکتے۔
محنت کشوں کا یہ خونی انقلاب اور قربانی رائیگاں نہیں گئی دنیا ہر سال یکم مئی مزدوروں کے دن کے طور پر مناتی ہے اور شکاگو کے ان بلند ہمت محنت کشوں کو خراج تحسین اور ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے عہد کیا جاتا ہے کہ استحصال کا شکار محنت کشوں کو ان کا جائز حق دلایا جائے گا۔
ہر سال کی طرح اس برس بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم مئی محنت کشوں کے دن کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس روز حکمران، سیاست دان، سیاسی و سماجی اور مزدور تنظیموں کی طرف سے جلسے جلوس، کانفرنس اور سیمنار کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ شاہراؤں پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ محنت کشوں کے استحصالی نظام کے خاتمے، فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے حصول کے لئے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں اور بچوں کے بہتر مستقبل کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ اس روز تعطیل ہونے کے باعث مارکیٹیں اور دفاتر بند ہوتے ہیں اور صاحب لوگ گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں لیکن دیہاڑی دار مزدور اس روز بھی مزدوری کی تلاش میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ اس کو ان جلسے جلوسوں، ریلیوں اور سیمنار سے کوئی لگاؤ نہیں۔ اس کو تو فکر ہوتی ہے اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ کی۔ بوڑھے والدین کے علاج کی۔ بچوں کے سکول کی فیس کی۔ بجلی، گیس، پانی کے بلوں کی ادائیگی کی اور مالک مکان کی طرف سے مکان کے کرائے کے تقاضے کی۔
محنت کش اپنا خون پسینہ بہا کر اپنے ناتواں کندھوں پر اینٹوں کا بوجھ اٹھا کر سرمایہ دار کے لئے دلکش محلات، بلند و بالا پلازے اور سڑکوں کی تعمیر کرتا ہے۔ سنگلاخ چٹانوں کو توڑ کر اس سے معدنیات نکالتا ہے۔ کارخانوں کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں لگاتا ہے۔ اپنی خوشیاں اور خواہشات محنت کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے پھر کہیں جا کر پیٹ کے ایندھن کے لئے کچھ سامان اکٹھا کرتا ہے۔
محنت کشوں کی وجہ سے ہی سرمایہ دار بڑی بڑی فیکٹریاں لگاتا ہے اونچے اونچے پلازے بناتا ہے آرام دہ لگژری گاڑیوں میں سفر کرتا ہے لیکن ان تمام نعمتوں کے حصول میں جو متحرک ہاتھ استعمال ہوتے ہیں جو کارکن اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
وطن عزیز میں محنت کشوں کی حالت زار نہایت ابتر ہے ان کی بہتری اور حقوق کے حصول کے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن کسی حکومت نے بھی محنت کشوں کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
ملک بھر میں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ کے ذریعے بھرتیاں کی جا رہی ہیں جو کہ ملک کے دستور میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کم سے کم ویجز سے غیر ہنر مند تو ایک طرف ہنر مند محنت کشوں کو بھی جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ آئی ایل او کنونشن کی خلاف ورزی اور یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے جی ایس پی پلس کے معاہدے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
گلی گلی آواز لگا کر اشیاء فروخت کرنے والے، گھروں میں رنگ و روغن اور فرنیچر ٹھیک کرنے والے، روزگار کے مسائل حل کرنے میں تو اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ان سہولتوں سے محروم ہوتے ہیں جو روایتی شعبہ جات میں کام کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے ملک کا وہ طبقہ ہے جن کا سارا دار و مدار ان کی اپنی ہمت اور محنت پر ہے اگر ان کو کسی بیماری یا حادثے کا سامنا ہو تو ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔
جو بھی حکومت آتی ہے ان کی ترجیح اداروں کی نجکاری ہوتی ہے موجودہ حکومت نے بھی قرض کے حصول کے لئے آئی ایم ایف کے دباؤ پر اداروں کی نجکاری کے لئے ایک طویل فہرست شائع کی ہے جن میں اکثریت منافع بخش اداروں کی ہے جبکہ ان میں اصلاحات کے ذریعے پیداوار میں اضافہ جا سکتا ہے اگر اداروں کی نجکاری کی گئی تو اجرت اور منافع کے فرق میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور پہلے سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے مفلوک الحال محنت کشوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
حکومت کی ترجیحات میں محنت کشوں کے حقوق کے لئے کوئی قابل قدر اقدام شامل نہیں جب بھی کوئی آمرانہ حکومت آئی اس نے ٹریڈ یونین پر حملہ کیا۔ اس وقت بھی ممکنہ احتجاج کے خوف سے ٹریڈ یونینز کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ محنت کش کمزور ہوں اور حکومت کو اہداف کے حصول میں آسانی ہو۔
حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود معیشت میں بہتری آنے کی بجائے صورت حال ابتر ہوئی ہے۔ بجلی گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کارخانے اور صنعتی یونٹ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ہزاروں مزدوروں کی بے روز گاری کے اثرات لاکھوں افراد پر پڑ رہے ہیں۔ محنت کش طبقہ خوفناک معاشی دباؤ کا شکار ہے جس نے ان کی زندگی کو سزا بنا کر رکھ دیا ہے۔ آٹے کے حصول کے لئے قطار میں کھڑے لوگ پولیس کے ڈنڈے کھا رہے ہیں اور مایوسی کے عالم میں خود کشیاں کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس رسمی بیانات اور پرکشش وعدوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی صورت حال کی اس سنگینی کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کے لئے تیار ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت لیبر کلاس کے لئے سنجیدگی سے کوئی ایسی خصوصی لیبر پالیسیاں بنائے جنہیں مکمل طور پر نافذ کر کے محنت کشوں کی تکالیف کو کم کیا جا سکے اور لیبر قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر کم از کم اجرت ساٹھ ہزار روپے مقرر کی جائے۔ غریبوں کی سہولت کے لئے صحت کارڈ کا دوبارہ اجراء کیا جائے۔ سرمایہ اور محنت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ختم کیا جائے۔ محنت کش اور غریب طبقہ کے لئے روٹی کپڑا اور مکان اور ضروریات زندگی کے لئے کسی مناسب پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے غریب افراد اور مہنگائی کے مارے ہوئے محنت کشوں کو بھی کچھ ریلیف میسر آ سکے جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ مگر اپنے اہلخانہ کے ساتھ موت کو گلے لگانے پر مجبور ہیں۔

