سندھ کے حکمران راجہ داہر پر عرب نے جنگ مسلط کیوں کی؟


سندھ کی قدیم تاریخ اور تہذیب پر تحریر کرنا ایک دشوار کام ہے جبکہ اس کی قدیم سیاسی تاریخ پر قلم اٹھانا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے جب معاملہ سندھ کے حکمران راجہ داہر اور عربی اموی سپہ سالار محمد بن قاسم کے درمیان تقابلی جائزے کا ہو۔ یہ تقابلی جائزہ عموماً حق و باطل کے تناظر میں کیا جاتا ہے جو کہ قطعاً مناسب نہیں ہے۔ معاملہ تو محض وطن پرستی اور مذہبی عقیدت مندی کا ہے لیکن اس معاملے کو غیر معمولی شدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ جہاں تک وطن پرستی کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں بلکہ یہ ”قوم“ کی عالمی تعریف ہے کہ قومیں خطے کی بنیاد پر بنتی ہیں اور زبان و نسل حتیٰ کہ تہذیب و تمدن بھی اسی تعریف کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی قوم ہے تو وہ اپنا خطہ (وطن) بھی رکھتی ہے، زبان و ثقافت بھی رکھتی ہے اسی طرح اپنے تہذیب و تمدن پر فخر بھی کرتی ہے اور یہی فخر اسے اپنی تہذیب اور دھرتی کی حفاظت کو ”زندگی“ سے زیادہ اہمیت کی ترغیب دیتا ہے۔ اسی فلسفے کے تحت وطن پرستی اور قوم پرستی جیسے عظیم تصورات نے جنم لیا ہے۔

جہاں تک سندھ کے حکمران راجہ داہر اور عربی اموی سپہ سالار محمد بن قاسم کے درمیان تقابلی جائزے کا معاملہ ہے تو اسے آج کے دور میں محض مذہبی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ راجہ داہر کو محض ہندو ہونے کی بنیاد پر منافرت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے جبکہ اس کے بر عکس محمد بن قاسم کو محض ایک مسلم سپہ سالار ہونے کی بنیاد پر غیر معمولی پذیرائی دی جاتی ہے۔ راجہ داہر اور محمد بن قاسم کے درمیان معرکہ مذہبی بنیادوں پر تھا یا نہیں، کیا پھر یہ ایک محض سیاسی معرکہ تھا، اس ضمن میں اس تاریخی جنگ کو کبھی پرکھا ہی نہیں گیا اور نہ ہی اس جنگ کے تناظر میں وطن پرستی اور قوم پرستی کے فلسفے کو سمجھا گیا۔ سندھ میں اس ضمن میں دو الگ الگ سوچ پائی جاتی ہیں جس پر ایک جانب وطن پرستی کی چادر لپٹی ہے تو دوسری جانب مذہبی رنگ چڑھا ہے۔ راقم الحروف کا مقصد یہاں کسی بھی فریق کو حق و باطل کے تناظر میں پیش کرنا نہیں، لہذا اس ضمن میں اگر کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو راقم الحروف اس کی پیشگی معذرت چاہتا ہے۔

بلاشبہ راجہ داہر سندھ دھرتی کا عظیم سپوت تھا لیکن ایک اکثریتی طبقے کی جانب سے اسے ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن دوسرا طبقہ اسے ”قومی ہیرو“ تسلیم کرتا ہے۔ یہی صورتحال عربی سپہ سالار محمد بن قاسم کے ساتھ ہے کہ اسے ایک طبقہ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ ”فاتح سندھ“ کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے بیرونی ”حملہ آور“ قرار دیتا ہے۔ جہاں تک کسی بھی حکمران کے ظالم ہونے کی بات ہے تو اس پر بحث ہو سکتی ہے لیکن اس کے دھرتی کا سپوت اور قومی ہیرو ہونے کا پیمانہ قطعی مذہبی بنیادوں پر نہیں ہو سکتا ۔ اگر محمد بن قاسم کسی بھی وجہ سے سندھ پر حملہ کرتا ہے اور راجہ داہر اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جان کی بازی ہار دیتا ہے تو یقیناً وہ اپنے وطن کا شہید اور قومی ہیرو ہوا، کیا یہی پیمانہ آج کے دور میں رائج نہیں ہے؟ یقیناً ہے۔

دوسری جانب عربی اموی سپہ سالار محمد بن قاسم ہیں جو سندھ پر حملہ آور ہوئے اور اسے فتح کرلیتے ہیں جس کے بعد سندھ کو ”باب الاسلام“ کہا گیا۔ کسی بھی حملہ ٓ اور کو کو مقامی سطح پر یک دم اتنی پذیرائی نہیں ملتی یہی وجہ ہے کہ ایک زمانے تک محمد بن قاسم کو سندھ کی روایتی کہانیوں، داستانوں اور قصوں میں ”حملہ آور یا ڈاھڑیل“ کے طور پر ہی پیش کیا جاتا رہا ہے جو کہ ایک فطری عمل ہے اور کسی بھی مفتوح قوم کا بنیادی حق بھی ہے لیکن جیسے جیسے سندھ میں اسلام کی دعوت عام ہوتی گئی اور لوگ مسلمان ہوتے گئے یہی حملہ آور فاتح سندھ اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ یہاں اس بحث میں یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ راجہ داہر کا قومی ہیرو ہونا اور محمد بن قاسم کا فاتح ہونا ہر طرح کے معانیٰ اور مفہوم میں اپنی اپنی جگہ اٹل ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں عربوں کو سندھ پر حملہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس حوالے سے بہت سے تاریخی حوالے اور مفروضے ہمارے سامنے موجود ہیں جن میں سے ایک یہ کہ ایک مظلوم خاتون کی فریاد نے اموی حکومت کو مجبور کیا کہ وہ سندھ پر حملہ کرے اور اس کی داد رسی کرے، اس ضمن میں تاریخی حقائق بر عکس ہیں۔

ایک تاریخی تجزیہ یہ بھی ہے کہ سندھ پر عربوں کا حملہ خالصتاً سیاسی نوعیت ”کا سبب رکھتا تھا۔ غالباً 22 ہجری میں مسلمانوں نے ایران کو فتح کرنے کے بعد مکران (بلوچستان) پر حملہ کیا تو سندھ نے اس حملے کی مخالفت کی جس کے بعد عرب حکمرانوں اور سندھ کے حکمرانوں کے درمیان یہ مخالفت شدت اختیار کر گئی۔ اسی طرح ایک روایت یہ بھی ہے کہ مکران میں اموی حکومت کے نامزد گورنر کو “ محمد علافی ”نامی ایک عرب سردار نے قتل کر دیا تھا اور اس کے بعد محمد علافی کو راجہ داہر نے اپنے ہاں پناہ دے رکھی تھی جبکہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ سندھ (مکران) میں“ اہلِ بیت ”سے تعلق رکھنے بعض افراد اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں نے پناہ لے رکھی تھی جس پر عرب حکمران سندھ سے ان کی واپسی یعنی حوالگی کا مطالبہ کرتے آرہے تھے لیکن سندھ کے حکمران اپنی قدیم روایات اور اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے عرب حکمران کے اس مطالبے کو کسی خاطر میں نہ لائے۔

یوں 712 عیسوی میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں ایران ( بصرہ ) کے گورنر حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی قیادت میں ایک لشکر سندھ پر حملے کے لیے بھیجا جس نے سندھ کے ملتان تک کے علاقے فتح کیے۔ عرب حکومت کو ایک مظلوم خاتون کی فریاد سندھ تک کھینچ لائی تھی؟ یا پھر ان سے بغاوت کرنے والے پناہ گزین عربی سردار اور ان کے ساتھیوں سے انتقام۔ کیا حقیقت ہے اور کیا مفروضہ، اس کا موازنہ جذبات سے ہٹ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ عرب اور سندھ کے درمیان یہ معرکہ ایک سیاسی لڑائی تھی جس میں سندھ کے حاکم راجہ داہر کو شکست ہوئی اور محمد بن قاسم فاتح رہے۔ اس کے بعد عرب حکمرانوں نے اپنے ہی سپہ سالار اور فاتح محمد بن قاسم کے ساتھ کس طرح کا بھیانک سلوک کیا یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ سندھ میں مسلم حکومت کے قیام کے بعد یہاں ترقی کا نیا دور شروع ہوا یا نہیں اور عربی تہذیب و تمدن سندھ کی ثقافت پر کس قدر اثر انداز ہوئی؟ لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ جب ایک تہذیب پر دوسری تہذیب حملہ آور ہوتی ہے تو فاتح تہذیب مغلوب تہذیب پر کسی حد تک اثر ڈال ہی دیتی ہے۔ سندھ کی قدیم تاریخ (قبل ِمسیح ) میں اس کی مثال دراوڑی آباد کاروں اور آریائی حملہ آوروں کی شکل میں موجود ہے کہ اول الذکر نے سندھ کو اس کے تاریخی پس منظر کے ساتھ کس قدر تہذیب و تمدن کا عظیم گہوارہ بنایا جبکہ آخری الذکر نے اس کے بر عکس اپنے ہی تہذیب و تمدن کی آبیاری کی۔

بلاشبہ سندھ کی تہذیب ہر لحاظ سے مصری، آشوری اور سامی تہذیبوں کے مقابل ایک تہذیب ہے جس کا تاریخی پس منظر 5 ہزار سے زائد عرصے پر محیط ہے جس کے لیے ہمیں موہن جو داڑو، ہڑپہ، چنہو داڑو، ستکاجن دور، علی مراد، آمری اور دابر کوٹ سے ملنے والے تاریخی شواہد، آثار اور باقیات میں جھانکنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ لہذا سندھ کو محض راجہ داہر اور محمد بن قاسم کے درمیان آٹھویں عیسوی صدی میں ہونے سیاسی معرکے تناظر میں نہ پرکھا جائے جبکہ سندھ کی عظمت اور تقدس ہزارہا راجہ داہر اور محمد بن قاسم سے بڑھ کر ہے۔

Facebook Comments HS