دس روپے میں تعویذ
بلال کی عمر دو سال کی تھی جب قدرت نے اصفیٰ کی شکل میں اپنی رحمت سے نواز دیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی لیکن ماں جی نے کسی قسم کے تاثرات کا اظہار نہ ہونے دیا۔ ہم ٹھہرے دیہاتی لوگ جہاں بیٹیوں کو بہت بڑا بوجھ سمجھا جاتا اور اکثر اوقات ایسے مواقع پر باقاعدہ رنج، پریشانی اور نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا جاتا۔ بلکہ بعض بوڑھی عورتیں تو موقع ملتے ہی ان ننھی جانوں کی واپسی کے لیے بھی کوشاں رہتیں۔ ہماری ماں جی شاید ایسی عورتوں میں تو شامل نہ تھیں۔ لیکن بیٹی کی پیدائش کو زیادہ اچھا بھی نہیں سمجھتی تھیں۔
لیکن بہرحال اس موقع پر انہوں نے کسی بھی قسم کے جذبات کے اظہار سے مکمل گریز کیا۔ اصفیٰ کی عمر دو سال کی ہوئی تو آمنہ دوسری رحمت کی شکل میں تمہاری گود میں آ گئی۔ اب ماں جی نے ہلکی سی خفگی کا اظہار کیا لیکن سب نے سنی ان سنی کر دی کہ خدائی کاموں میں کون مداخلت کر سکتا ہے۔ آمنہ کی پیدائش کے تقریباً تین سال بعد جب مائرہ تیسری رحمت کی صورت میں تولد ہوئیں تو ماں جی نے باقاعدہ ہم لوگوں بلکہ سب گھر والوں سے لڑائی شروع کر دی۔
میں نے کہا تھا۔ پیر محمد علی شاہ سے تعویذ منگوا لو اللہ بیٹا دے گا۔ لیکن میری کون سنتا ہے۔ یہ اب زیادہ پڑھ لکھ گئے۔ یہ اب عقل اور سمجھ میں اپنے آپ کو افلاطون سمجھنے لگ گئے ہیں۔ نہ مانو میری بات اور بیٹیوں پہ بیٹیاں پیدا کرتے جاؤ۔ ہمیں تو پاگل سمجھ رکھا ہے۔ تمہارے باپ نے گاؤں میں درجنوں عورتوں کو پیر محمد علی شاہ سے تعویذ منگوا کر دیے اور ان سب کے ہاں بیٹوں کی پیدائش ہوئی لیکن میری کون مانتا ہے۔ سب کچھ خاموشی سے سننے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا۔
پیر محمد علی شاہ ہندوستان کے زمانے سے ہمارے پیر چلے آ رہے ہیں۔ ان کے بزرگ ہمارے بزرگوں کے پیر تھے۔ گاؤں میں جب بھی کسی عورت کو پیر صاحب کے تعویذ کی ضرورت محسوس ہوتی وہ چپکے سے آ کر ماں جی کو بتاتیں۔ ماں جی سے یہ خبر ابا جی تک پہنچائی جاتی۔ ابا جی پیر صاحب کو ایک خط لکھتے جس میں متعلقہ عورت کے نام کے ساتھ اس کی بیٹے کے لیے طلب کی خواہش کا ذکر کیا جاتا۔
ابا جی خط کو لفافے میں ڈالتے۔ اس لفافے میں ایک اور لفافے پر اپنا پتہ لکھ کر ڈال دیتے اور ساتھ ہی دس روپے کا نوٹ بھی ڈال دیا کرتے۔ کچھ دنوں کے بعد لفافہ بیٹا دینے والے تعویذ کے ساتھ موصول ہو جاتا۔ تعویذ بذریعہ ماں جی خاتون مذکورہ کے پاس پہنچ جاتا اور تعویذ حاصل کرنے والی خاتون ہمیشہ بیٹے کو ہی جنم دیا کرتی۔ یہ کام برسوں سے جاری و ساری تھا۔ لیکن بقول ماں جی تعلیم کے فتور کی وجہ سے ہم یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
بہرحال اب ہم بچوں کے معاملے میں کافی محتاط ہو چکے تھے۔ محتاط تو ہم پہلے بھی رہے تھے۔ لیکن احتیاط کے معاملے میں بھی شاید روایتی لاپرواہی ہو جاتی تھی۔ لیکن اب تو ہم نے مکمل اور بھر پور طریقے سے احتیاط کرنا شروع کر دی۔ لیکن اللہ کے معاملات میں انسانی مداخلت چہ معنی دارد۔ آمنہ کی عمر چار سال کی تھی کہ تم ایک بار پھر پریگننٹ ہو گئیں، اب تو تم بھی خاصی پریشان تھیں۔ جب ماں جی کو اس وقوعے کا علم ہوا تو وہ ہمارے سر ہو گئیں۔
ابھی جاؤ پیر محمد علی شاہ کے پاس اور تعویذ لے کر آؤ۔ پہلے ہی بیٹیوں کا ڈھیر لگا لیا ہے۔ اگر اب کے بار بھی بیٹی ہی ہو گئی تو کیا کرو گے۔ مجھ پر تو اس کا کوئی خاص اثر نہ ہوا لیکن تم تو تقریباً ٹوٹ چکی تھیں۔ میرے علم اور فہم کے مطابق تو آنے والے مہمان کی جنس کا یقین ہو چکا تھا۔ لڑکا پیدا ہونا ہے یا لڑکی۔ قدرت اس بات کا فیصلہ کر چکی تھی۔ لیکن تمہاری موجودہ کیفیت میرے لیے بڑی ہی تکلیف دہ تھی۔ سابقہ کسی بھی پریگننسی کے موقع پر میں نے تمہیں خدا سے بیٹے کے حصول کے لیے دعا کرتے نہیں سنا تھا۔
یا اللہ بچہ ہو یا بچی ہو۔ صحت و تندرستی والا ہو۔ یہی دعا تھی جو اکثر تمہاری زبان پر رواں رہتی۔ دل کے حال تو خدا ہی جانتا ہے۔ اب ماں جی کے واویلے نے شاید تمہیں اپنے مجرم ہونے کا احساس دلا دیا تھا۔ حالاں کہ میں تمہیں بار بار تسلی دیتا کہ خدائی کاموں میں ہمارا کوئی اختیار نہیں ویسے بھی اگر خدا نے بیٹیاں دی ہیں تو بیٹا بھی تو عنایت کیا ہے۔ لیکن تمہاری اداسی اور خاموشی کم نہ ہوئی۔ مجھے ایسا لگا جیسا کہ ماں جی کی طرح تمہاری بھی یہی خواہش ہے کہ محمد علی شاہ سے بیٹے کے لیے تعویذ لے لینا ہی بہتر آپشن ہے۔
ان حالات کے پیشِ نظر میں نے بھی تعویذ منگوانے کا فیصلہ کر لیا۔ اب مصیبت یہ تھی کہ پیر محمد علی شاہ کا ایڈریس تو والد صاحب مرحوم کے پاس ہی تھا۔ اب کہاں سے لیا جائے۔ پیر صاحب بھائی پھیرو میں رہائش پذیر تھے۔ کافی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ مطلوبہ تعویذ کے حصول کے لیے بنفس نفیس بھائی پھیرو جا یا جائے اور پیر صاحب سے بالمشافہ ملاقات کر کے اسے حاصل کیا جائے اور تجدید تعلقات کے بعد پیر صاحب کا ایڈریس بھی لے لیا جائے تاکہ بوقت ضرورت حسبِ سابق ہی کام چلتا رہے۔


