ہوا کے حوالے


کتنا مشکل ہے ناں سوچوں کو ترتیب دینا آخر میں کہنا کیا چاہتا ہوں اور مخاطب کس سے ہوں۔ کتنی باتیں ذہن میں گونجتی رہتی ہیں جو ہم کسی سے کہ نہیں سکتے۔ جب میں پانچ سال کا بھی نہیں تھا ہم اکے میں گھر کا سامان لاد کر نئے مکان میں شفٹ ہو گئے لیکن اپنے پرانے گھر میں لگا نیم کا پیڑ آج بھی میرے دل میں گھنا سایہ کیے ہوئے ہے۔ جب میں نے اسکول جانا شروع کیا وہ مناظر آج بھی اپنی تمام تر رنگینی کے ساتھ مجھے یاد ہیں۔

کیسے اسکول کی استانیاں سج دھج کر آتیں۔ ہم مرغیوں کی بیٹوں سے اٹے صحن میں چوکڑیاں مار کے بیٹھ جاتے اور کیسے ہوا میں ہلکورے کھاتا شیشم کا پیڑ دل میں چھٹیوں کی نوید بن کر نت نئی امنگیں جگاتا۔ لیکن وقت کے بے رحم ہاتھوں نے ہمیں بڑا کرنا تھا کر دیا اور جسم کی پہلی پکار پر یہ جان ہی نہ پائے کہ پیالہ ناف سے ذرا نیچے بہتی یہ چاندنی انسانی معراج کا عظیم سنگ میل ہے اور گناہ کہ واہمے کا شکار ہو گئے۔ نہ کسی سے سیکس ایجوکیشن ملی نہ ہی کوئی ایسا بندوبست تھا۔

لیکن ایک بات ضرور دیکھی تھی کہ گھر کے سربراہ بھلے ہی ہمیں لکس سٹائل ایوارڈ میں تھرکتی تتلیوں کو دیکھنے اور شکر کھانے سے منع کرتے ہوں خود خوب برفی کھاتے ہیں۔ اور گھر والیوں کے دوا دارو لانے کے روادار بھی نہیں۔ وہ دل جلی ساری عمر کچن بھی چلاتی رہی اور کوسنے بھی سنتی رہی کہ یہی شرفا کے گھرانوں میں ہوتا ہے۔ آج اگر میں کسی حسین عورت کے پہلو میں لیٹا خدا کے وجود پر سوال اٹھاتا ہوں اور اسے بوسوں کے بیچ گناہ و ثواب کی بابت پوچھتا ہوں تو وہ ڈر جاتی ہے کہ میں کوئی سنکی بھگوڑا ہوں جو ایک ریشمی گٹھڑی کھولنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا۔ اور لفظوں کے الٹ پھیر سے اپنی ذہنی کجی کو چھپاتا رہتا ہوں۔ واہ رے مفتی تیریاں باتاں۔ صاحبو یہ دنیا جھوٹ کے اصول پر ازل سے چل رہی ہے۔ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ اب چاہے استاد محترم میرے مضمون پر قدغن لگا دیں کہ جرائم پر اکسانا کوئی اچھی بات نہیں سو ان کی مرضی۔ فقیرانہ آئے صدا کر چلے۔ ہم نے تو جب بھی کوئی کام نیک نیتی سے کیا منہ کی کھائی پھر اس میں اپنے مریضوں کی خدمت ہو یا دوستوں کی دلجوئی سب نے شاؤٹ کیا، عزت نفس بھی مجروح کی اور بقدر حصہ ذہنی و جسمانی اذیت بھی پہنچائی۔

جرم ضعیفی کی سزا ہمیں یہ ملی کہ ہم ان کے جھوٹے طرز زندگی کے ناقد بن گئے۔ ریفارمر بننے کی پسلی ہماری بھی نہیں تھی کہ دال خور ہیں اور محض جیب کا استعمال جانتے ہیں بھلے ہی ہمارے بڑے دانتریاں اور بھالے تیز کرتے تھے ہم نے ان کی خو چھوڑ کر چوڑیاں پہن لی ہیں۔ اب تو باقاعدہ زیور سے آراستہ ہسپتال جاتے ہیں اور مریضوں سے ڈانٹ کھا کر لوٹتے ہیں۔ ایک اماں جی نے تو شوروغل مچا کر مجمع بھی لگایا اور ہمارا وارننگ لیٹر بھی نکلوایا۔

اس ذات شریف کو خون میں خطرناک حد تک پہنچی پوٹاشیم نے ہارٹ اٹیک نہیں کروایا جب کہ غریب الدیار کی چھوٹی سی عدم توجہی ہضم نہیں ہوئی۔ آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا۔ کتنی دفعہ یوں بھی ہوا کہ ہماری کسی خاتون سے ان بن ہو گئی جس کا الزام بھی ہمارے سر ہی آیا اور محترمہ اپنی معصومیت سمیٹے باس کے دفتر سے با عزت بری نکلیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی آخر میرے ابا اور دادا حضور کی سہیلیاں جو ساری عمر ان کی ہمدردی سمیٹتی رہی پیسے لینے کے بعد نظر کیوں نہیں آتی۔

اور اگر پیسہ ہی زندگی میں آسائش اور بھرم کی ضمانت ہے تو ہم ہر جگہ موریلٹی اور خدا کو کیوں گھسیٹ کر لے آتے ہیں۔ چالاک لوگوں نے ہر دور میں ایسے ٹولز بنائے ہیں جس کی مدد سے عوام کو الو بنایا جائے اور مذہب بھی وہی ٹول ہے۔ پھر پیٹرولیم کے حصول کے لیے غزہ کو خالی کرنا ہو تو انسانی حقوق غائب ہو جاتے ہیں اور جب مرگ انبوہ کا ذکر آئے تو ہم اپنی لایعنی توجیہات کے ساتھ اسے یوں جھٹلا دیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

اخلاقیات کا یہ لیول ہے کہ نیا جوتا پہن کر مسجد نہیں جا سکتے لیکن بہترین امت بھی ہم ہی ہیں اور ہر جگہ تبلیغ کرنے بھی پہنچ جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے میری امتحانی ڈیوٹی لگ گئی جہاں مجھے فائنل ائر کی نگرانی کرنا تھی۔ سب نے موبائل فونز پر مصنوعی ذہانت سے نقل کر کے پرچہ ہل کیا۔ میں انہیں نقل سے روک سکتا تھا لیکن معذرت کے ساتھ بے غیرتی سے تو نہیں روک سکتا۔ پھر یہی لوگ سفارشی سیٹوں پر سرکاری ہسپتالوں میں نوکریوں پر لگ جائیں گے۔

ستے خیراں۔ مجھے اگر شراب اور دوسری نشا آور چیزیں ہر جگہ میسر ہیں تو لیگل طریقے سے دکان سے کیوں نہیں ملتی۔ مجھے عورت مارچ کی مخالفت کرنی ہے۔ معاشرے کے مظلوم ایل جی بی ٹی طبقے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنا ہے اور لوگوں پر توہین مذہب لگا کر آگ بھی لگانی ہے اور پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو گولیاں بھی مارنی ہیں۔ پھر سب کو اپنے حج اور تہجد کی کہانیاں لہک لہک کر سنا کر داد بھی سمیٹنی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب میرے بچے میرے جھوٹے معیارات اور عقیدے کو اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیں گے۔ ڈاکٹر پھر کرنا واعظ، پھر کرنا شاؤٹ، اور اٹھانا بیوی پر ہاتھ۔ ان بغاوت کے میجک بینز کی شاخیں اور جڑیں دور تک جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS