لزبن (پرتگال) کی سیاحت ۔(دوسری قسط)


اور آج رات ہم نے لزبن کے ایک مشہور فش ریستوران میں شادی کی سالگرہ کا ڈنر پلان کیا ہوا تھا۔

ٹرام سے کائس ڈو سدرے پہنچ کر فش ریستوران کی تلاش شروع ہوئی تو وہاں سے تقریباً بیس منٹ کی پیدل مسافت پر ہم اس فش ریستوران میں پہنچ گئے۔ لیکن یہ بیس منٹ بھی ناہموار سڑکوں کی وجہ سے جسمانی لحاظ سے اور ٹانگوں کی ورزش کی وجہ سے بہت بھاری پڑے تھے۔ چھوٹا سا فش ریستوران کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور ہمیں وہاں اجنبیوں کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھنا پڑا۔ کھانا نہایت لذیذ اور سروس بہت اچھی تھی۔ ریستوران کا کچن بھی نظر آ رہا تھا وہاں ایک دیسی خاتون نظر آئیں تو ہم نے ان سے، ریستوران سے انڈر گراؤنڈ ٹرین اسٹیشن تک واپسی کا راستہ پوچھا۔

نیپالی نژاد خاتون، جو اردو بھی بول سکتی تھیں، نے ہماری راہنمائی کی۔ یہ پہلی دفعہ ہوا کہ اس ریستوران میں وائی فائی کی سہولت میسر نہیں تھی۔ فش ریستوران سے ڈنر کے بعد ہم پیدل اپنے جانے پہچانے بائیکسا۔ چھیاڈو میٹرو اسٹیشن پہنچے تو اسٹیشن کے اندر جانے سے پہلے وہاں تین لوگوں پر مشتمل گروپ، میوزک بجا رہا تھا جسے وہاں لوگ کھڑے کھڑے انجوائے کر رہے تھے۔ یہ فری میوزک سننا آپ کو یورپ کے تمام بڑے شہروں کے ڈاؤن ٹاؤنز میں ملے گا۔ ہم بھی چند منٹ وہاں رکنے کے بعد انڈر گراؤنڈ ریل اسٹیشن کے اندر چلے گئے وہاں سے چوتھے اسٹاپ پر ہمارا انجو اسٹیشن تھا اور ہم بخیریت ہوٹل پہنچ گئے۔

تیسرے دن ناشتے کے بعد ہم پھر اپنے جانے پہچانے اولڈ سٹی کے میٹرو اسٹیشن، کاؤس ڈو سدرے پہنچے۔ آج ہم نے وہاں موجود مشہور زمانہ، لزبن کی پنک اسٹریٹ نامی جگہ جانا تھا۔ وہاں سیاحوں کا بہت رش تھا۔ ایک چھوٹی سی پنک رنگ کی سڑک پر چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اچانک ایک جگہ، قوس قزح کے رنگوں کی چھتریاں، سڑک کے دونوں طرف بندھی ہوئی، اوپر فضا میں لٹکی ہوئیں نظر آئیں۔ وہاں سیاح سلفیاں لے رہے تھے اور ایک عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ پہلے ہم نے اس ماحول کو مغربی ہم جنسی نظریات سے متشابہ سمجھا۔ لیکن ان چھتریوں کا ہم جنسی نظریات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے یہ صرف ایک تاریخی جگہ ہے۔

وہاں سے نکل کر ایک میٹرو اسٹیشن کی مسافت پر اولڈ سٹی الفاما میں واقع ایک ایلیویڈر ڈی سانتا یستا نامی سیاحتی لفٹ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس لفٹ کا داخلہ لوئر سٹی کے بائکسا میں ہے اور اس کے ٹاپ پر پہنچنے کے بعد اپر سٹی چھیاڈو آ جاتا ہے۔ لزبن شہر کی ناہمواریوں کی وجہ سے یہاں پر مختلف مقامات پر بڑی بڑی لفٹیں ہیں جو لوئر سٹی سے اوپر جاتی ہوئی اپر سٹی تک پہنچا دیتی ہیں۔ سانتا جسٹا کی لفٹ پر جانے کے لئے سیاحوں کی ایک لمبی قطار تھی۔

داخلے کے ٹکٹ کے علاوہ اس قطار میں دو۔ تین گھنٹے لگنے تھے۔ کیونکہ لفٹ میں لوگوں کی مقررہ تعداد ہی جا سکتی تھی۔ کسی بھی سیاحتی سائٹ کے لئے آن لائن ٹکٹ خریدنے کا مطلب، قطار میں کھڑے ہونے کی خواری سے بچنا اور پیسے بچانا ہوتا ہے۔ اس لفٹ کی رائیڈ نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ لفٹ رائیڈ کی بجائے ہم نے اولڈ سٹی کی چھوٹی گلیوں میں واقع دکانوں میں، ونڈو شاپنگ کی اور لزبن شہر کی یادگاری چیزیں خریدیں۔ بارش ہو رہی تھی ہم نے اسٹار بکس کیفے میں بیٹھ کر اپنی روٹین کی چھ بجے کی چائے نوش کی اور بارش رکنے کا انتظار کرنے لگے۔

وہاں سے کچھ فاصلے پر لزبن کا ایک روسیو نامی اسٹیشن پر انجیر درخت نامی مشہور چوک ہے جس کے درمیان میں پرتگال کے ایک مشہور بادشاہ پیدرو چہارم، جسے روسیو بھی کہتے ہیں، اور جو بعد میں پرتگیزی کالونی برازیل کا قیصر پیدرو اول کے نام سے مشہور ہوا تھا، کا ایک اونچے چبوترے پر، کانسی کا نہایت خوبصورت مجسمہ بھی ہے۔ یہ چوک لزبن کے مزید تین۔ چار مشہور جگہوں کی طرح، لزبن کا لینڈ مارک کہلاتا ہے جہاں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہر وقت موجود رہتی ہے۔ روسیو جانے کے لئے، ابھی میٹرو اسٹیشن سے باہر نکلے ہی تھے کہ باہر تیز بارش کی وجہ سے اپنے ہوٹل میں تھوڑا سستانے کا فیصلہ کیا اور الٹے پاؤں میٹرو اسٹیشن پہنچ کر ہوٹل کا رخ کیا۔

رات کے کھانے کے لئے ہوٹل والی شاہراہ پر واقع ایک پاکستانی ریستوران، جس کے مالک منڈی بہا الدین کے رہنے والے تھے، کا رخ کیا اور روایاتی پاکستانی کھانا کھا کر پیدل واپس ہوٹل پہنچ گئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج چوتھے دن بھی بارش کا امکان تھا۔ ہمارے لئے یہ اچھا تھا کیونکہ ہم نے آج، ہپ آن، ہپ آف سیاحتی بس میں لزبن کی سیر کا پلان بنایا ہوا تھا۔

لزبن کی دو منزلہ ہپ آن۔ ہپ آف بس، جو نہ صرف یورپ بلکہ دنیا کے اکثریتی میٹروپولیٹن شہروں میں سیاحوں کے لئے ہوتی ہے، اور جس پر بندہ اپنی مرضی سے ایک ہی ٹکٹ میں، ان کے مقررہ اسٹاپوں پر اتر کر، کچھ سیاحت کرنے کے بعد ، دوبارہ بیٹھ سکتا ہے، روسیو چوک سے ہی شروع ہوتی ہے۔ آن لائن ٹکٹیں تھوڑی سستی ہوتی ہیں لیکن ہم نے بس میں جاکر ہی ٹکٹ خریدے۔ اس بس کے ذریعے 3 مختلف سیاحتی ٹورز میسر تھے اس کے علاوہ بذریعہ کشتی دریائے تاگس کی سیر بھی ممکن تھی۔ ہمارا بس ٹور روسیو اسٹیشن یعنی انجیر درخت چوک سے شروع ہوا۔

ہم لندن کی سیاحت کے وقت بس کی چھت پر بیٹھے تھے لیکن یہاں سردی کی وجہ سے چھت پر بیٹھنا ممکن نہیں تھا۔ بس کی تمام سیٹوں پر، کانوں میں لگانے کے لئے آڈیو گائیڈز، جن میں مختلف زبانوں میں اس بس ٹور کی معلومات مل رہی تھیں، لگے ہوئے تھے۔

روسیو سے چلنے کے بعد بس کا پہلا سٹاپ ریستارادورس تھا۔ ہم، سردی اور بارش کی وجہ سے اپنا ٹور، بس کے اندر بیٹھ ہی کر انجوائے کرتے رہے۔ تاہم آڈیو گائیڈ سے معلومات مل رہی تھیں۔ ریستارادورس ایک وسیع و عریض خوبصورت چوک، جس کے درمیان میں، فتح اور آزادی کے مجسموں سے آویزاں ایک چبوترہ ہے، ہے۔ یہ چبوترہ، پرتگال کی اسپین سے 60 سالہ غلامی کے بعد ، 1640 میں حاصل کردہ آزادی کی یاد میں، 1886 میں بنایا گیا تھا۔ اس کے چاروں طرف خوبصورت عمارتیں، جن میں تھیٹرز اور سینما گھر بھی ہیں، ہیں۔

آزادی ایونیو، بس کا اگلا سٹاپ تھا۔ یہ، لزبن کے وسط میں ایک مرکزی کشادہ اور خوبصورت بلیوارڈ، جس کی سڑکیں درختوں سے بھری ہوئی تھیں، تھا۔

کافی دیر تک لزبن کی اونچی نیچی سٹرکوں، ڈھلوانی گلیوں میں چلتے ہوئے ہماری بس، دریائے تاگس کی، لزبن کروز ٹرمینل نامی بندگاہ پر پہنچتی ہے۔ یہ دریائی بندرگاہ، پرتگیزی سمندری قوم کے تناظرات میں، دریائے تاگس کے ساحل کے ساتھ ساتھ، دس کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں سے بحری کشتیوں کے ذریعے لزبن کے، دریائے تاگس کے کنارے واقع، دوسرے علاقوں تک یا/اور کروز کے ذریعے یورپین اور دوسرے ممالک جایا جا سکتا ہے۔

دریائے تاگس کے کنارے چلتے چلتے، بس، اب سیرامیک میوزیم رکتی ہے۔ یہ میوزیم پرتگال کی مشہور زمانہ سیرامیک ٹائلوں کے متعلق ہر قسم کی آگاہی دیتا ہے۔ سابقہ چرچ کی عمارت میں واقع اس میوزیم کو 1960 میں عوام کے لئے کھولا گیا تھا اور 1980 سے یہ لزبن کا نیشنل میوزیم کہلاتا ہے۔ یہاں کافی سیاح بس سے اترے اور نئے بس میں داخل بھی ہوئے تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments