پاکستان میں خواتین کا کردار


پاکستانی معاشرے میں خواتین کا کردار پوری تاریخ میں ایک انتہائی متنازعہ موضوع رہا ہے۔ عام طور پر عورتوں کا کردار زیادہ تر مردوں کے ماتحت رہا ہے۔ تاہم، ایسی متعدد ثقافتیں اور معاشرے رہے ہیں جن میں خواتین نے زیادہ مساوی یا غالب کردار ادا کیا ہے۔ معاشرے میں خواتین کی حیثیت کا تعین کئی عوامل سے ہوتا ہے، جن میں معاشی، سماجی اور سیاسی عوامل شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں معاشرے میں خواتین کا کردار تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

بہت سے ممالک میں، خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دیے گئے ہیں، اور وہ افرادی قوت سمیت معاشرے کے تمام پہلوؤں میں حصہ لینے کے قابل ہوئی ہیں۔ تاہم، اب بھی بہت سے ایسے معاشرے ہیں جن میں خواتین کے ساتھ مردوں کے برابر سلوک نہیں کیا جاتا، اور ان کے کردار زیادہ محدود ہیں۔ آج کی تحریر کا مقصد پاکستان میں خواتین کے کردار، تاریخی لحاظ سے سمجھنے کے لیے ہے

قائداعظم محمد علی جناح کا خواتین کے حوالے سے مثبت رویہ تھا۔ پاکستان کی آزادی کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے ملک میں خواتین کے خلاف سماجی و اقتصادی تفاوت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان بننے سے پہلے پنجاب میں مسلم خواتین میں مسلم لیگ کو ووٹ دینے کا رجحان تھا اور خواتین کو بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں میں منظم کیا جاتا تھا۔ اسی لیے پاکستان بننے کے بعد پاکستانی خواتین کو 1947 میں (تخلیق پاکستان) آرڈیننس کے تحت حق رائے دہی دیا گیا تھا، اور انہیں عبوری آئین کے تحت 1956 میں قومی انتخابات میں ووٹ دینے کے حق کی توثیق کی گئی تھی۔ پاکستان کی آئینی تاریخ میں 1956 سے 1973 تک پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے نشستیں ریزرو کی فراہمی موجود رہی۔

تاہم ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت ( 1970۔ 1977 ) میں خواتین کے بارے میں لبرل رویہ تھا۔ وہ تمام سرکاری خدمات جو پہلے خواتین کو نہیں دی جاتی تھیں ان کے لیے کھول دی گئیں۔ اور قومی اسمبلی کی تقریباً 10 فیصد اور صوبائی اسمبلیوں میں 5 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مختص تھیں، جن پر جنرل نشستوں پر بھی انتخاب لڑنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

1973 کے آئین میں صنفی مساوات کی خاص طور پر ضمانت دی گئی تھی۔ آئین کہتا ہے کہ ”صرف جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہو گا۔ مزید برآں، یہ شادی، خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قومی زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی مکمل شرکت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء حکومت ( 1977۔ 1986 ) نے خواتین کی ترقی کے لیے کچھ اقدامات کیے تھے۔ مثلاً، کابینہ سیکرٹریٹ میں خواتین ڈویژن کا قیام، خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کی تقرری، تعلیمی لحاظ سے چھٹے پلان میں پہلی بار ترقی میں خواتین کے باب کو شامل کیا گیا۔

اس سے آگے بڑھ کے جنرل ضیاء الحق نے 20 خواتین کو مجلس شوریٰ میں شامل کیا۔ اور غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والی قومی اسمبلی نے خواتین کے مخصوص کوٹے میں 20 فیصد کا اضافہ کیا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ضیاء الحق نے خواتین کے خلاف امتیازی قانون سازی کے ذریعے اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا۔ اس نے خواتین کو کھیلوں میں حصہ لینے اور تماشائی بننے سے منع کیا اور پردے کو فروغ دیا۔ انہوں نے 1973 کے آئین میں دیے گئے تمام بنیادی حقوق کو معطل کر دیا جس میں جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے پاک رہنے کا حق بھی شامل ہے۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ خواتین کو ضیا الحق کے دور میں جو حقوق دیے گئے تھے ان حقوق کو ایک خاص لبرل طبقے نے کھل کے مخالفت کی اور آزادی کا جھنڈا بلند کیا۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت میں اپنی انتخابی مہم کے دوران، بے نظیر بھٹو نے خواتین کے سماجی مسائل، صحت اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خواتین کے تھانوں، عدالتوں اور خواتین کے ترقیاتی بینکوں کے قیام کے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔ اس نے خواتین کے حقوق کو کم کرنے والے متنازعہ حدود قوانین کو منسوخ کرنے کا بھی وعدہ کیا جس کو ضیاالحق نے نافذ کیا تھا۔ تاہم، اپنی دو نامکمل مدتوں ( 1988۔ 90 اور 1993۔ 96 ) کے دوران، بے نظیر بھٹو نے پاکستانی خواتین کی سماجی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے کوئی قانون سازی تجویز نہیں کی۔ وہ ضیاء الحق کے اسلامائزیشن قوانین میں سے کسی ایک کو بھی منسوخ نہیں کر سکیں جو آٹھویں آئینی ترمیم کی وجہ سے عام قانون سازی میں ترمیم اور عدالتی نظرثانی دونوں سے محفوظ تھے۔

نواز شریف حکومت نے آئین میں پندرہویں ترمیم کی تجویز پیش کی جو موجودہ قانونی نظام کو مکمل طور پر ایک جامع اسلامی نظام سے بدل دے گی اور آئین اور کسی بھی عدالت کے کسی بھی قانون یا فیصلے کو ختم کر دے گی۔ اس تجویز کو قومی اسمبلی (ایوان زیریں ) میں منظور کیا گیا تھا، لیکن خواتین کے گروپوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالف سیاسی جماعتوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حدود قانون سازی کو منسوخ کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ان کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔

پرویز مشرف کا دور حکومت کو ہم دیکھیں تو انہوں نے تھوڑا اپنے آپ کو لبرل ظاہر کیا اور خواتین کے حوالے سے بہت سے پروگرام کو پایا تکمیل تک پہنچایا مثلاً ستمبر 2004 کو خواتین کی ترقی کی وزارت کو ایک خود مختار وزارت قائم کی گئی، جولائی 2006 کو جنرل مشرف نے تقریباً 1300 خواتین کی ضمانت پر فوری رہائی کے آرڈیننس پر دستخط کیے جو اس وقت دہشت گردی اور قتل کے علاوہ دیگر الزامات میں جیلوں میں بند تھیں۔ 2006کے اواخر میں، پاکستانی پارلیمنٹ نے خواتین کے تحفظ کا بل منظور کیا، جس میں کچھ حدود آرڈیننس کو منسوخ کر دیا گیا، کابینہ نے سنٹرل سپیریئر سروسز میں خواتین کے لیے 10 فیصد کوٹہ ریزرو کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس سے پہلے تمام سرکاری محکموں میں خواتین کے لیے 5 فیصد کوٹہ تھا۔

آگے دور آتا ہے آصف علی زرداری کا جس کی حکومت کی اولین ترجیح خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کو حل کرنا تھا، جس میں بہت سے ایسے بل منظور کیے گئے جس نے معاشرے کے اندر خواتین کے مقام کو  نئی جان ے دی۔ مثلاً کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ 2010 کو اپنانا، فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ، ایسڈ کنٹرول اینڈ ایسڈ کرائم ایکٹ اور پریوینشن آف ویمن پریکٹسز ایکٹ، انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2012 نافذ کیا، وومن ان ڈسٹریس اینڈ ڈیٹینشن فنڈ ایکٹ 2011 جس میں مستحق خواتین کو مالی (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) اور قانونی مدد فراہم کرنے کے حوالے سے سہولیات مہیا کرنے کا عہد کیا گیا۔

مزید یہ کہ تشدد کا شکار خواتین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اضلاع میں خواتین کے لیے 26 شہید بے نظیر بھٹو سینٹرز قائم کیے گئے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تقریباً 10 لاکھ خواتین براہ راست امداد حاصل کر رہی ہیں، جبکہ خواتین کے حقوق کی پامالی پر نظر رکھنے کے لیے نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کو مضبوط بنایا گیا۔ 2012 ء میں ویمن ڈویلپمنٹ ڈویژن بنایا گیا، یہ خواتین کی وزارت ہے جو ان کے لئے کام کر رہی ہے۔ اسی طرح خواتین کے تحفظ کے لئے خاتون محتسب کا ادارہ بھی فعال ہے جو ہراسمنٹ اور وراثت کے معاملات دیکھ رہا ہے۔ عدلیہ میں خواتین کو زیادہ نمائندگی دینے کی تجویز زیر غور تو آئی مگر اس پر کام نہ ہو سکا۔ اور حکومت کو گھر جانا پڑا۔

نواز شریف کی قیادت میں حکومت پاکستان، اس پختہ یقین کے ساتھ کہ خواتین کو جو کہ معاشرے کا نصف حصہ ہیں، کو مساوی مواقع فراہم کیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا، خواتین کے حقوق کو بڑھانے کے لیے مناسب اقدامات کیے تاکہ ان کے برابر ہونے میں مدد مل سکے۔ نواز شریف نے پاکستان کے نوجوانوں کو اپنا روشن مستقبل بنانے میں مدد کرنے کے لیے پرائم منسٹر یوتھ لون شروع کیا، جس میں اسکیم کا 50 فیصد خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے میں مدد ملے اور اس طرح خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔

ہمارے ہاں خواتین کے لئے ہراسمنٹ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے تقریباً 90 فیصد لڑکیاں کسی نہ کسی طرح ہراساں ہو رہی ہیں، اس حوالے سے 2018 ء میں ویمن پروٹیکشن اتھارٹی بنائی گئی، اب پنجاب میں ویمن پروٹیکشن ایپ بھی بنائی گئی ہے جو خواتین کو تحفظ دینے کے لیے بہترین ہے۔ اس کی آگاہی کے لئے اب تک 12 یونیورسٹیز میں سیشنز منعقد کیے جا چکے ہیں اور آگاہی کا یہ سلسلہ مزید جاری ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں بہت زیادہ قانون سازی ہو چکی ہے اور اس وقت اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے، خواتین کے حوالے سے قانون سازی کے وقت دیکھنا یہ ہے کہ کس خاتون کے لئے قانون بنا یا جا رہا ہے۔ وہ خاتون دیہی ہے یا شہری۔ اگر دیہی علاقے سے تعلق رکھتی ہے تو کیا وہ کسی غریب ہاری کی بیٹی ہے یا کسی جاگیردار وڈیرے کی، کیا وہ خود کسان ہے یا سیاست میں ہے؟

اچھا ملک وہ ہے جہاں ہر شخص کو اس کے ٹیلنٹ اور پوٹینشل کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو، کیا ہم اس منزل پر گامزن ہیں؟ مزدور کا لفظ صرف مرد سے منسوب کیا جاتا ہے اور خواتین کی محنت مزدوری کو کسی کھاتے میں نہیں لکھا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی کارپٹ، ٹیکسٹائل، فیبرک و کھیل کی صنعتیں خواتین کی وجہ سے چل رہی ہیں، شیخوپورہ، پسرور، سیالکوٹ و جنوبی پنجاب کے شہروں سمیت ملک بھر میں خواتین گھروں سے کام کر رہی ہیں اور جی ڈی پی میں مردوں کی نسبت زیادہ حصہ ڈال رہی ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے بلکہ انہیں تو مزدور ہی تسلیم نہیں کیا جاتا جو افسوسناک ہے۔

بدقسمتی سے ہماری حکومت کو تعلیم یافتہ، قابل افراد اور محققین کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ارباب اختیار کو میٹنگز اور فیصلہ سازی میں پڑھی لکھی خواتین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں معاشرے کی ذہنیت بدلنے کے لئے کام کرنا ہو گا، اس کے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے، اس کے لئے فیملی انسٹی ٹیوشن انتہائی اہم ہے، گھر سے ہی عورت کا مقام بنا یا جائے، لڑکے اور لڑکی دونوں کی تربیت کی جائے اور انہیں سکھایا جائے کہ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا ہے اور کس طرح عورت کو اس کے حقوق اور عزت دینی ہے۔ اس کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔

Facebook Comments HS