لاہور: ایک تلاش اک ملال


اس روز میں نے دفتر سے آدھی چٹھی لی ہوئی تھی۔ گھر میں کچھ کام تھا۔ فراغت کے بعد میرے پاس کچھ گھنٹے فری تھے۔ ویسے بھی کئی روز سے رات گئے تک کام کر رہا تھا۔ ذہن تھوڑی بریک مانگ رہا تھا۔ ایک اچھوتا خیال میرے دماغ میں داخل ہوا۔

میں نے کار نکالی اور مال روڈ کا رخ کیا۔ موبائل پر بالی وڈ کا صوفی میوزک لگا لیا۔ میں اپنے منصوبے کی جزئیات کے بارے میں سوچنے لگا۔ جیسے ہی کار ائرپورٹ روڈ پر داخل ہوئی راحت فتح علی خان کے ”سجدہ“ کے بول بلند ہوئے : ”تیری کالی اکھیوں سے جند میری جاگے۔“

ان دنوں میری کام کی ٹیبل پر اے حمید کی ”دیکھو شہر لاہور“ پڑی ہوئی تھی۔ رات کو گھر جانے سے پہلے جب ہال تقریباً خالی ہو جاتا تو اس کے کچھ صفحے پڑھ لیتا۔ آئیڈیا یہ تھا کہ اے حمید نے اپنی کتاب میں مصری شاہ سے پاک ٹی ہاؤس تک ایک ٹریک کا ذکر کیا تھا۔ مجھے اس رستے سے گزرنا تھا۔ بس میں نے ترتیب کو الٹا کر دیا۔

میں چیک پوائنٹ سے گزر کر کینٹ میں داخل ہوا۔ اب اے آر رحمان کا ”کن فیکون“ چل رہا تھا۔ پے در پے اشاروں سے گزرتا ہوا مال روڈ پر آ گیا۔ انارکلی پہنچنے تک ”مولا میرے مولا“ اور ”بھر دو جھولی میری یا محمد (ص)“ سن چکا تھا۔ میوزیم کی پارکنگ میں گاڑی ٹھہرا دی۔

میں روڈ پار کر کے پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوا۔ ایک جگہ بیٹھ کر ویٹر کا انتظار کرنے لگا۔ دیواروں پر ادیبوں اور شاعروں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ میں بہت پرجوش محسوس کر رہا تھا۔ ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا جو ماضی میں ادب، آرٹ اور صحافت کا مسکن رہ چکی تھی۔ کیا محفلیں برپا ہوتی ہوں گی! کیا دور چلتے ہوں گے!

دیواروں پر لگے پورٹریٹ بھی اس بات کی گواہی دے رہے تھے : ساغر، احمد فراز، ناصر کاظمی، میرا جی۔ احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی، قتیل شفائی۔ اللہ کیا کیا نام تھے! مجھے محسوس ہوا کہ میرا انتظار طویل ہو رہا تھا۔ ابھی خاصی مسافت طے کرنا تھی۔ میں نے بیرے کو آواز دی۔

چائے اور فرائز کا آرڈر دے دیا۔ یقیناً پندرہ منٹ سے کم وقت میں کھانا نہیں آنا تھا۔ میں نے جیب سے موبائل نکالا اور کنڈل پر ایک کتاب ”The Introvert ’s Way“ پڑھنے لگا۔ موجودہ باب کا نام تھا: ”مجھے مشاہدہ کرنا پسند ہے۔“ اس میں لکھا تھا کہ خاموش طبع لوگ دنیا، اس کے طور طریقوں اور اتار چڑھاؤ کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ دنیا کو اپنے وجود کا احساس کیے بغیر۔ میں خود بھی کچھ یہی کرنے جا رہا ہوں، میں نے سوچا۔

آرڈر آ گیا۔ بد مزہ چائے۔ فرائز کچھ ٹھیک تھے۔ میں نے عجلت میں کھایا۔ بل ادا کر کے باہر آ گیا۔ دائیں جانب مڑ کے فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔ کانوں میں ہینڈ فری لگا لی۔ کیلاش کھیر کا ”سیاں“ چل رہا تھا۔ چرچ کے آگے سے گزر کے نیلا گنبد کی سائیکل مارکیٹ پہنچا۔ پھر کنگ ایڈورڈ کالج کے پاس سے ہوتا ہوا میو ہسپتال کے گیٹ پر آ گیا۔ ہسپتال کے اندر سے ایک رستہ گوالمنڈی جانے کا شارٹ کٹ تھا۔

اب سنیدھی چوہان کا ”عشق صوفیانہ“ چل رہا تھا۔ ہسپتال کی زندگی میں مجھے عجب کشش محسوس ہوتی ہے۔ ہوٹلوں کی طرح ہسپتالوں کا بھی اپنا ایک ردھم ہوتا ہے۔ دور دراز علاقوں سے مریض آئے ہوئے تھے۔ سفید یونیفارم میں ڈاکٹر آ جا رہے تھے۔ میڈیکل کالج کے طلبا کی بڑی تعداد سینئرز کے تجربے سے استفادہ کے لیے موجود تھی۔ میں ایمرجنسی کے پاس سے گزرا۔ کیفیٹیریا میں بہت رش تھا۔ اس کے بعد ایگزٹ گیٹ آ گیا۔

ہسپتال سے نکل کر میں بائیں جانب مڑ گیا۔ عاطف اسلم کا ”تاجدار حرم“ لگا ہوا تھا۔ وہاں ایک لنڈا بازار تھا۔ آگے سے دائیں جانب نسبت روڈ پر آ گیا۔ ایک طرف کئی کئی منزلہ پرانی حویلیاں تھیں جو اب مخدوش حالت میں تھیں۔ میں چیمبر لین روڈ پر گوالمنڈی کی طرف چلا گیا۔ یہ روڈ آگے جا کر ریلوے روڈ کو کراس کرتا ہوا سرکلر روڈ پر جا کر ختم ہوتا ہے۔

ریلوے روڈ سے پہلے پہلے کھانوں کی دکانیں تھیں۔ حویلیوں کی تزئین و آرائش کی ہوئی تھی۔ ریلوے روڈ سے آگے پلاسٹک اور کیمیکل کی مارکیٹ تھی۔ بڑے بڑے پلازے اور نسبتاً نئے مکان تھے۔ جیسے جیسے میں چیمبر لین روڈ پر آگے گیا، رش بڑھتا گیا، سڑک تنگ ہوتی گئی، گلیوں میں تاریکی پھیلتی گئی، اور فضا میں کیمیکلز کی بو بڑھتی گئی۔ سرکلر روڈ پر نکل کر کچھ کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع ملا۔ مگر ٹریفک کا شور اور لوگوں کا اژدہام بدستور قائم تھا۔

وہاں سے میں موچی گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ راحت کا ”آس پاس ہے خدا“ چل رہا تھا۔ اندرون شہر میں آ کر آپ ایک مختلف دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ تھوڑا آگے جا کر سڑک تنگ ہو گئی۔ وہاں زندگی جام ہو چکی تھی۔ موٹر سائیکل، ریڑھی بان، پیادہ پا سب ایک دوسرے میں الجھے ہوئے۔ آس پاس کے دکاندار آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ ان کے لیے یہ سب معمول کی بات تھی۔

میں دائیں جانب ایک تنگ و تاریک گلی میں گھس گیا۔ دونوں جانب اونچے اونچے پرانے گھر۔ عدنان سمیع کا ”نور خدا“ لگا ہوا تھا۔ کچھ آگے جا کر میں بازار کی طرف واپس آ گیا۔ وہاں رش قدرے کم تھا۔ میرے سامنے سے لوگ آرہے تھے۔ میں نے خود کو ماضی میں جاتا ہوا محسوس کیا۔ اے حمید اپنے دوستوں کے ہمراہ یہاں سے گزرتے ہوں گے۔ ادب، موسیقی اور چائے کی باتیں ہوتی ہوں گی۔ وقت وقت سے ٹکرا جاتا ہے۔ حال، ماضی سے مصافحہ کرتا ہے۔ پس منظر میں سکھوندر سنگھ کا ”پیا ملیں گے“ چل رہا تھا۔ اور پھر سب (وقت، لوگ اور میوزک) اپنی اپنی راہ لیتے ہیں۔

میں گلیوں، چوکوں، محلوں اور بازاروں سے گزرتا ہوا مسجد وزیر خان کے احاطے میں نکل آیا۔ کچھ دیر سستانے کے لیے مسجد کے بیرونی صحن میں بنے ایک تھڑے پر بیٹھ گیا۔ موبائل میں ”The Introvert ’s Way“ پڑھنے لگا۔ اگلا چیپٹر دروں بیں لوگوں کی انرجی ایکویشن کے بارے میں تھا۔ جب وہ خود میں توانائی کا وفور محسوس کرتے ہیں تو وہ سماجی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ مگر جیسے ہی توانائی کا لیول کم ہو جائے تو اسے ریچارج کرنے کے لیے انہیں گوشہ تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ میری طبیعت بھی ایسی ہی واقع ہوئی تھی۔ مثلاً اس دن میں نے تجربہ کیا کہ لوگوں کی آنکھوں میں زیادہ نہیں دیکھنا۔ میرا یہ خیال تھا کہ یوں میں اپنی انرجی کا تحفظ کر سکوں گا۔ اور واقعی ایسا ہوا کہ کئی کلومیٹر چلنے کے باوجود میں ہنوز ہشاش بشاش تھا۔ سفر پھر سے شروع ہو گیا۔

میں دہلی گیٹ اور یکی گیٹ کے درمیان والے گلی محلوں سے گزرتا ہوا اندرون شہر کے باہر واقع ایک باغ میں آ گیا۔ جاوید علی کا ”عرضیاں“ لگا ہوا تھا۔ کچھ لوگ باغ میں واک کر رہے تھے۔ میں پاس ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔ کچھ فاصلے پر سے ریل گاڑی گزر رہی تھی۔ میں نے جیب سے ایک کاغذ نکالا۔ اور اس کی تہیں درست کر کے پڑھنے لگا۔ یہ ایک خط تھا جو ملتان کے ایک پروفیسر نے اے حمید کے نام لکھا تھا۔ مصنف نے اسے اپنی کتاب میں نقل کیا تھا۔ میں نے تصویر لے کر پرنٹ نکال لیا تھا۔

مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ مجھے اپنی آخری منزل پر پہنچنا تھا۔ میں دو موریہ پل کے نیچے سے گزرتا ہوا مصری شاہ کے علاقے میں داخل ہوا۔ مسجدوں سے اذانیں بلند ہونے لگیں۔ ہر طرف فولادی کام کی ورک شاپس تھیں۔ دھات کوٹنے کی دلخراش آوازیں آ رہی تھیں۔ فضا میں زنگ زدہ آلات کی بو رچی بسی ہوئی تھی۔ جھٹ پٹے نے ہر شے پر سیاہی کا ایک اور سٹروک پھیر دیا تھا۔ میری ہمت بس وہاں جواب دے گئی۔

کہاں ہے اے حمید کا لاہور؟ کہاں ہے وہ تہذیب کی گداز، وہ باغوں کی مہک اور وہ چائے خانوں کی محفلیں۔ میں کیا تلاش کر رہا تھا؟ کس تجسس میں یہاں آیا تھا؟ کیا امیدیں تھیں! لیکن اب دل میں صرف ایک اداسی تھی۔ اک ملال تھا۔ میں الٹی گنگا بہا رہا تھا! حال سے ماضی میں فرار چاہتا تھا۔ مگر افسوس اب گزرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آ سکتا۔ پرانا لاہور صرف اے حمید کی کتابوں میں موجود تھا۔ میں نے واپسی کا ارادہ کیا اور لوٹ کر اپنے گھر آ گیا۔

 

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid