گاؤں، چھت اور تارے


تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دن

بچپن کا وہ دور جس میں رات کو گاؤں میں مکان کی چھت پر چارپائی ڈال کر تاروں کو تکتے تھے۔ پاس پڑے ریڈیو سے خاموشی میں فلمی گانے یا خبریں سنی جاتیں۔ ”یہ ریڈیو پاکستان ہے : اس وقت رات کے نو بج چکے ہیں۔ اب آپ خبریں سنیں“ ریڈیو پر یہ آواز کتنی بھلی معلوم ہوتی۔ دور کی دنیا میں بیٹھا کوئی شخص ریڈیو کی لہروں کے دوش پر اُڑتا ہم سے گویا باتیں کرتا۔ ریڈیو کے ڈائل کو گھما کر فریکوینسی تبدیل کرتے تو نجانے کتنے مختلف چینل ریڈیو پکڑتا۔

کوئی آواز بے حد صاف اور کچھ میں اتنا شور کہ آواز دب جاتی۔ اور پھر آسمانوں کو تکنا۔ صاف آسمان پر ستاروں کی چھت۔ ٹمٹماتے ستارے۔ ٹھنڈے دودھ میں سیون اپ کی بوتل ڈال کر پینا اور بس ریڈیو سننا۔ چارپائی کے بان کی کتنی سوندھی خوشبو ہوتی۔ مچھردانی کے اندر خود کو محفوظ ہونے کا کتنا احساس ہوتا، ٹھنڈی چادروں پر لیٹے آسمان کو جب تکتے تو چشمِ تخیل میں نجانے کتنے منظر دیکھتے؟ ذہن میں سوالات اُبھرتے کہ یہ ستارے کتنے دور ہوں گے ؟ یہ کیوں بنے ہیں؟ کیا مرنے کے بعد انسان ستارہ بن جاتا ہے؟

یوں لگتا جیسے ہر ستارہ کسی پراسرار دنیا کو جانے کا راستہ ہے۔ ان پر کون سی مخلوقات بستی ہو نگی؟ کیا وہ بھی ہمیں دیکھ رہی ہوں گی ؟ کون یہاں رہتا ہو گا؟ ایک ستارے کو دیکھتے تو آنکھیں پاس کے کسی اور مدہم ستارے پر مرکوز ہو جاتیں۔ آسمان جیسے کُھلنے لگتا۔ اپنے راز اُگلتا۔ ارے ابھی تو یہ ستارا نہیں تھا اتنا مدہم یہ اچانک کیسے نمودار ہو گیا؟ آسمان پر کتنے ستارے ہوں گے ؟

لوگوں سے سنا تھا مت گنو ستارے ورنہ چہرے پر تل نکل آئیں گے۔ یہ سب سوال اور خیال لیے آنکھوں میں نیند کی پریاں اُترتیں اور ایک سکون کی نیند لیے ہم صبح پرندوں کے چہکنے پر اُٹھتے۔ یا پھر ماں جی کی لسی رڑکنے کی آواز سے اٹھتے، مدھانی کی چاٹی کی لسی میں رس گھولتی آواز اور دور کسی مسجد سے صبح کی اذان ہوتی۔ گھروں میں نلکوں کے بہنے کا شور ہوتا۔ گھر والے اُٹھتے، زندگی پھر سے حرکت میں آتی۔ ناشتے کے لیے چولہے جلتے۔

ماں اور بڑی بہن پراٹھے بنانے کو توا سینکتی۔ ساتھ کیتلی میں چائے اُبلتی۔ جاؤ سکول کی تیاری کرو۔ منہ ہاتھ دھو لو۔ منہ ہاتھ دھو کر ناشتے کو بیٹھتے تو ذہن میں ایک ہی خیال آتا کہ جبال سکول بہت دور ہے اور جانا بھی پیدل ہے دیر ہو گئی تو ”سر“ نے بہت مارنا ہے۔ بھاگو! ماں کہتی رکو ناشتہ تو کر لو۔ نہیں امی ابھی ٹائم نہیں جبال سے سینگنیاں لے کہ یا کچھ اور کھا لوں گا۔ اسمبلی میں دیر سے پہنچے تو سزا ملے گی۔

زندگی کی بھاگ دوڑ کب سے ہے؟ صاحبو ہم مستقبل کی تلاش میں اپنے ماضی کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ زندگی ہم پر کتنی تیزی سے گزرتی ہے۔ ہم وقت کے گھوڑے پر سوار نجانے کیا ڈھونڈتے ہیں؟ آج سکول چھوڑے عرصہ بیت گیا۔ آج ستاروں کی حقیقت معلوم ہے۔ آج دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے مگر پھر بھی لگتا ہے مستقبل کی دوڑ میں وہ وقت، وہ لمحے مجھ میں آپ میں، ہم سب میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں ماں کے ہاتھ کے گوندھے آٹے کی روٹی کی تاثیر آج بھی موجود ہے مگر ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ وہ بس اب یاد بن کہ رہ گئے ہیں۔

یاد رکھنا وہ لمحے معصوم اور زندگی کی خوبصورتی ہیں۔ انہیں خود میں محفوظ کر کے رکھیں۔ بہت قیمتی ہیں۔ خوش رہیں۔ ماضی کی طرف سفر یہی ہے کہ گاؤں، چھت، تارے اور ستاروں سے بھرے شفاف آسمان کو یاد کیا جائے۔ صاحبو جب ستاروں اور آسمانوں کے سفر پہ نکلو تو کسی ان دیکھی کہکشاؤں میں اتر کر مجھے صدائیں دینا میں تمہیں وہاں ملوں گا۔

 

 

Facebook Comments HS