والدین اور اولاد میں اختلاف کیوں؟
اکثر اخبارات میں والدین کی جانب سے عاق ناموں کے اشتہارات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ بکھرتی ہوئی روایتی خاندانی اکائی میں پستے ہوئے لوگوں میں ظالم و مظلوم کے فرق کی لکیر دن بدن معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ زیادہ تر عاق کرنے کے اشتہارات کی ایک جیسی عبارت میں بیٹے کی نا خلفی اور نا ہنجاری کی وجہ بنا کر والدین اسے اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے بے دخل کرنے کا نقارہ پیٹتے ہیں تا کہ اس نے انہیں جو تکلیف پہنچائی اس کا خمیازہ وہ بھگت سکیں۔ فطرت انسانی کا تقاضا ہے کہ اپنی ذات سے ہونے والی زیادتی کا مداوا انسان انتقامی رویے سے کرنا چاہتا ہے، اور یہ انتقامی رویہ رشتوں ناتوں کی پہچان سے مبرا ہوتا ہے۔ایسے والدین کا مسئلہ ان کی توقعات ہیں جو وہ اپنی اولاد سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ ان توقعات میں سب سے بڑی توقع والدین کی مطلق العنانی کو بلا اکراہ تسلیم کرنا ہے۔
پاکستان کے معاشرتی نظام میں مذہب اور تمدن کا ایک خود غرضانہ اور کافی حد تک غیر منصفانہ آمیزہ اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مذہب کا تڑکا والدین اپنی ہر جائز نا جائز بات کو اپنی اولاد کے لیے فرض قرار دینے کے لیے لگاتے ہیں۔ بد قسمتی سے اپنی تمام عمر اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ سازی کرنے کے با وجود والدین ہمیشہ اپنی اولاد کو اپنے زیر تسلط رکھنے کے اسقدر عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ اولاد کا ان سے پوچھے بغیر کوئی بھی قدم اٹھانا انہیں اپنی بے قدری اور اولاد کی خود سری محسوس ہونے لگتا ہے۔ آج بھی والدین اپنی اولاد کو صرف انہیں سہولیات فراہم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اپنی اس سوچ کو درست ثابت کرنے کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں مگر ایک قابل غور بات یہ بھی ہےکہ یہی والدین جو اپنے حقوق کے لیے مذہب کا سہارا لیتے ہیں، ان کی طرف سے ناجائز کمائی پر عاق نامے کا اشتہار شاذ ہی کی کسی کی نظر سے گزرا ہو۔ دوسری طرف جیسے ہی بات اس کمائی کو اولاد ان کی توقعات کے خلاف خرچ کرنا شروع ہو تو وہی اولاد نا سمجھ بن جاتی ہے اور اسے بات بات پر روک ٹوک شروع کر دی جاتی ہے۔ تلخ حقیقت یہی ہے کہ زیادہ تر والدین اچھی اولاد اسی کو سمجھتے ہیں جو روبوٹ کی مانند ان کے اشاروں پر ناچتی رہے۔
آج کل خاندانی مسائل میں سب سے عام مسئلہ جس کی والدین شکائت کرتے ہیں وہ اولاد کا بدل جانا ہے۔ والدین ہمیشہ اپنی ایسی اولاد کے پاس رہنا پسند کرتے ہیں جو انہیں سہولیات اور مالی آزادی دے سکتی ہے۔ اس سے بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کو ہمیشہ بڑے ہونے یا ذمہ دار ہونے کا لالی پاپ دے کر ان سے وہ تمام کام کرواتے ہیں جو بنیادی طور پر اس کی ذمہ داری ہوتا ہی نہیں ۔بڑا بیٹا یا بیٹی اپنی عمر کا خاصہ حصہ اطاعت والدین میں اپنے بہن بھائیوں کی پرورش یا ان کی شادیوں میں گزار دیتے ہیں اور پھر انہیں والدین کی خود غرضی کا ادراک ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے وہ اپنے لیے کچھ بھی نہیں کر پائے، جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ خود سے شاکی رہتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ ہمیشہ توقعات پر پورا اترنے کی سعی میں لگے بھی رہتے ہیں اوراکثر ناکام رہنے پر انہی والدین کی طنز و تشنیع کا شکار بھی رہتے ہیں۔
یہ سادہ سی حقیقت ہے کہ ہر نسل اپنے وقت کے حساب سے اڈاپٹ کرتی ہے۔ موجودہ نوجوان نسل پوری دنیا میں ایک انقلاب کی چشم دید گواہ ہے۔ اس نسل نے انٹرنیٹ کی پیدائش کے بعد مختلف تہذیبوں کے اختلاط کے اثرات کو جذب کیا ہے جس کی وجہ سے اس کے پاس اپنے حقوق سے آگاہی گذشتہ نسل سے کہیں زیادہ ہے۔ موجودہ نوجوان نسل سے گذشتہ نسل ہٹ دھرم بھی ہے اور آمرانہ مزاج بھی رکھتی ہے ۔ اس اس نسل کو اپنے والدین اور اپنی اولاد میں ایک ایسی کشمکش کا سامنا ہے جس میں وہ نا چاہتے ہوئے بھی پس رہی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اثرات ان کی اولادوں پر واضح ترین ہیں جس میں انہیں اپنے بڑھاپے میں اکلاپے کی توقع ہےاور بزرگ نسل کی پھٹکار ان کا مقدر ہے کہ وہ اپنے والدین کے حقوق پورے کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ جنریشن گیپ شاید کبھی ختم نہیں ہو سکے گا۔


