نظریاتی سیاست کا فقدان


جمہوریت سے سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انقلاب کا نعرہ بے معنی ہو گیا ہے۔ عرصہ دراز پہلے ایشیا سبز اور سرخ کے نعرے دلوں کو گرماتے تھے۔ ان دنوں انقلابی
جدوجہد کسی رومان سے کم نہ تھی۔ اس دوران میں ملکی سطح پر کوئی تبدیلی جز وقتی ٹھہراؤ کا سبب بن جاتی تھی اور کچھ عرصہ بعد پھر سے تعلیمی، صنعتی اور عوامی اداروں میں انقلاب کی گونج سنائی دینے لگتی تھی۔ نظام سے نالاں ہونے کے باوجود باہم برسرپیکار یہ انقلابی کسی مشترکہ جدوجہد پر تیار نہ ہوتے تھے۔ اسی دوران میں اقتدار پر شب خون مارا جاتا اور طویل عرصے تک ملک دلدل میں پھنس جاتا تھا۔ شب خون مارنے والوں کے خلاف جدوجہد میں انقلاب فراموش ہو جاتا تھا۔

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ شب خون کسی ممکنہ سبز اور سرخ انقلاب کا راستہ روکنے کی سعی ہوتا تھا۔ اسی دوران میں اجتماعیت پر کاری ضرب لگائی جاتی رہی۔ مرکزی دھارے سے الگ مختلف مذہبی، علاقائی اور لسانی گروہوں کو پذیرائی ملنے لگی۔ حتیٰ کہ ملکی سطح پر انھیں بھرپور نمائندگی حاصل ہو گئی۔ قتل و غارت، بھتہ خوری، دہشت اور اسلحے کا چلن عام ہو گیا۔ ملکی سلامتی کو شدید خطرے کے باعث ان کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا اور ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس عفریت کو قوم نے بھگتا اور تادیر اس کے اثرات محسوس ہوتے رہے۔ ان سے نجات ملی تو دو بڑے محاذ کھل گئے۔ پختون اور بلوچ موومنٹ کو وسیع پیمانے پر عوامی تائید بھی حاصل ہے۔

ضیاء الحق کے عہد حکومت میں شعور سنبھالنے والے حب الوطنی کے خاص معیار رکھتے تھے۔ در اصل سیاسی تربیت اور ماحول نہ ہونے کی وجہ سے انھیں حب الوطنی کے خاص سانچوں میں ڈھال دیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ دہائیوں چلتا ہے اور عرصے بعد سوشل میڈیا کی سہولت کے نتیجے میں نئے زاویوں سے دیکھنے کا آغاز ہوا۔ اب حب الوطنی خاص معیار کی مرہون منت نہیں ہے۔ اس معیار میں دراڑ پیدا کرنے میں خود عاقبت نا اندیش حکمرانوں کی کرپشن، بد دیانتی، ظلم و جبر اور اقربا پروری کو دخل حاصل ہے۔

جن لوگوں کو حب الوطنی کے خاص معیار کے تحت بحث مباحثے کرتے دیکھا گیا اب وہی لوگ نئے زاویوں سے دیکھنے والوں کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ حقوق کی عدم دستیابی اور ظلم و تشدد کے نتیجے میں مرکز گریز قوتوں کو متحرک ہونے کا موقع ملتا ہے اور یوں خلفشار اور بد امنی کا سلسلہ دراز ہو جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں محض جز وقتی فائدے کے لیے جمہوری اصولوں سے روگردانی کرتی ہیں۔ باہم سیاسی اخلاقیات طے کرنے کے بجائے اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کا ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا جاتا ہے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ حکومت میں سیاسی جماعت حب الوطن اور اپوزیشن میں آتے ہی غدار ہو جاتی ہے۔ یہ کھیل اسی طرح جاری رہتا ہے۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مختلف اوقات میں حب الوطنی اور غداری کے اعزازات رکھتی ہیں۔ نظریاتی سیاست کے خاتمے کی وجہ سے مفاد پرست عناصر کو پنپنے کا موقع ملا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت شاید صرف جماعت اسلامی نظریاتی سیاست کر رہی ہے۔ گزشتہ کم و بیش چالیس برسوں سے زائد عرصے میں بائیں بازو کی نظریاتی جماعت منظر عام پر موجود نہیں ہے۔

بائیں بازو کے بڑی تعداد میں دانش ور، رائٹر، صحافی، ماہرین تعلیم دکھائی دیتے ہیں مگر سیاسی جماعت نظر نہیں آتی ہے۔ کچھ خاندان جاگیر دار، ملاں، سرمایہ دار اور تاجروں کی صورت میں سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کوئی ایجنڈا، منشور یا لائحہ عمل نہیں ہے۔ صرف عوامی جذبات کو بھڑکا کر سیاست کی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں انتخابات نہیں ہوتے ہیں اور فرد واحد کو کلی اختیارات حاصل ہیں۔ عوام کو ان خاندانوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے نظریاتی سیاست کی طرف لوٹنا ہو گا۔

کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو نظریاتی سیاست گوارا نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نظریاتی لوگ نسبتاً ایمان دار ہوتے ہیں اور ان سے کمپرومائز کرنا سخت مشکل ہوتا ہے۔ ہماری سیاست سے نظریاتی پہلو کو منصوبہ بندی کے تحت خارج کیا گیا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت کسی اصول یا ضابطے کے تابع نہیں ہے۔ سیاست دان مسلسل اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں۔ جب تک یہ کسی جمہوری ایجنڈے پر اتفاق نہیں کریں گے، عوام کی زندگی میں آسانی پیدا نہیں ہو گی۔

 

Facebook Comments HS