کیا ہمیں بھی کبھی چھٹی ملے گی؟


عالمی دنوں کی فہرست میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز دن مجھے ”یوم مزدور“ لگتا ہے جس کا مزدوروں کی فلاح و بہبود سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن اس کا اچھا پہلو یہ ہے کی اس کی وساطت سے ملک بھر میں صرف مزدور کو چھوڑ کر ہر خاص و عام کے لئے سرکاری تعطیل کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔ جس کا بھرپور فائدہ میرے جیسے خوش نصیب بھی بنا کسی لاجک کے مفتی میں اٹھا لیتے ہیں۔ اب اس پر ہنسیں کہ روئیں کہ مزدوروں کو سرکاری سطح پر مراعات اور سہولیات دینا تو دور کی بات لیکن اپنے ہی اعزاز میں منائے جانے والے اس دن ہر بھی یہ بیچارہ غریب مزدور چھٹی نہیں کر پاتا۔ کیونکہ دیہاڑی کے حساب سے زندگی گزار کر اپنے کنبے کا بوجھ اٹھانے والا یہ عظیم انسان ایک دن کی چھٹی کی لگژری بھی افورڈ کرنے سے قاصر ہے۔

یہ وہ واحد لاوارث طبقہ ہے جو اپنے اور گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے سردی، گرمی، بارش دھوپ حتی کہ اپنے آرام تک کی پروا بھی نہیں کرتا اور آخری سانس تک محنت کش مزدور کے ٹائٹل کے ساتھ ہی قبر میں اتر جاتا ہے۔ اپنی رزق کی خاطر دوسروں کے گھروں کی تعمیر اور تزئین و آرائش میں ساری زندگی گزارنے والا یہ مزدور اپنے لیے ایک گھر نہیں بنا سکتا۔ برانڈڈ شاپس پر آنکھیں بند کر کے پیسہ لٹانے والی عوام کو صرف اسی کی ٹھیلے پر بھاؤ تاؤ یاد آتا ہے۔

جو کسان دھرتی کا سینہ چیر کر اناج اگاتا ہے اسی کے بچے اکثر روٹی کو ترستے ہیں۔ فیکٹری آؤٹ لیٹس پر کپڑا بننے والے محنت کشوں کو اپنے بچوں کے جسم ڈھانپنے کے لیے برینڈڈ کپڑا میسر نہیں آتا اور موچی کے بچے کو شاید ہی کبھی قیمتی جوتی نصیب ہوئی ہو گی۔ جبکہ مڈل مین، آڑھتی اور مالکان حضرات جن کی نہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری لیکن پھر بھی ان کی محنت کے بل بوتے پر ان سے کئی گنا زیادہ کما لیتے ہیں۔ اس مزدور کی عظمت تو صرف اس ہستی سے جانیئے جس نے محنت کش انسان کو اللہ کا دوست قرار دیا تھا اور اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کا حکم فرمایا۔

لیکن سرکاری سطح پر اعلانات کے باوجود ان سے سوتیلی اولاد والا سلوک کر کے محنت کی پوری اجرت نہیں دی جاتی۔ اور مل بھی جائے تو یہ اس کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انتہائی ناکافی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ محنت کش طبقہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار ہو رہا ہے۔ بڑی تعداد میں ان کے بچے خوراک دوائیوں اور صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ مہنگائی نے اگرچہ ہم سب کو متاثر کر رکھا ہے لیکن ان کی کمر صحیح معنوں میں توڑ کر رکھ دی ہے۔

پاکستان میں یکم مئی کی تعطیل کی داغ بیل ذوالفقار علی بھٹو نے ڈالی تھی۔ مقصد بھلے سیاسی ہو لیکن لیبر ڈے پر مزدور ریلی کی قیادت وہ خود کیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس آج کوئی ایک بھی سیاسی اور مذہبی جماعت بشمول بھٹو کے وارثین کو مزدوروں کی ترجمان پارٹی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ویسے تو آئین پاکستان سے میری زیادہ واقفیت نہیں ہے جو اگرچہ خود ایک بڑا المیہ ہے کہ ہم میں سے اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ کس موقعے پر ہمارا آئین ہمیں کیسے تحفظ دیتا ہے۔

اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ آئین کی عملی شکل انتہائی مسخ شدہ حالت میں ہمارا منہ چڑاتی ہے۔ لیکن یوم مزدور کے موقع پر سوچا کہ دیکھوں ہماری ریاست کا قانون اس بارے میں بھلا کیا فرماتا ہے۔ تو معلوم یہ ہوا کہ آئین پاکستان کی شق تین، سینتیس اور اڑتیس میں استحصال اور ذرائع پیداوار پر چند خاندانوں کے خاتمے کا واضح وعدہ کیا گیا ہے۔ ان شقوں کے الفاظ ذرا ثقیل ہیں لیکن بحیثیت ایک ذمہ دار شہری سمجھنا بہت ضروری ہیں۔

شق تین کے مطابق ”مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا“ شق 38 ”ریاست عام آدمی کا معیار زندگی بلند کر کے، دولت اور وسائل ِپیداوار و تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح سے جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفاد عامہ کو نقصان پہنچے اور آجر، اجیر اور زمیندار اور مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلا لحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل، عوام کی فلاح بہبود کے حصول کی کوشش کرے گی۔ 38 (e) مزید واضح کرتا ہے کہ“ ریاست، پاکستان کی ملازمت کی مختلف درجات میں اشخاص سمیت افراد کی آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کو کم کرے گی۔ ”

پچاس سال پہلے تحریر کی گئی شقوں پر آج بھی کتنا عمل درآمد ہو رہا ہے اس پر کسی دلیل اور ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ زمینی حقائق سب کے سامنے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یکم مئی کو یوم مزدور کی مناسبت سے سرکاری و نجی سطح پر انسانی حقوق تنظیموں کے تحت ائر کنڈیشنڈ ہوٹلز میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ جس میں مزدوروں اور محنت کشوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔ اخبار کی شہ سرخیوں کے لئے کچھ ریلیز بھی نکال لی جائیں گی جبکہ عوامی سطح پر بھرپور چھٹی انجوائے کی جائے گی۔ لیکن تقریبات اور چھٹی منانا حل نہیں ہے جب تک استحصال پر مبنی سرمایہ دارانہ، جاگیر دارانہ اور غیر منصفانہ نظام ختم نہیں کیا جاتا غریب عوام کو بنیادی حقوق نہیں مل سکیں گے۔

ایسے میں مجھے ساغر صدیقی کا وہ تاریخ ساز شعر یاد آ گیا جو صدر ایوب کے بلاوے پر جانے سے انکار کے موقع پر آپ نے کہا تھا۔ وہ شعر سے زیادہ ہر دور کے حکمرانوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

Facebook Comments HS