حجاب امتیاز علی کی افسانہ نگاری میں تانیثی عنصر

افسانوی مجموعے "صنوبر کے سائے اور رومان” کا تیسرا افسانہ” مرد اور عورت ہے”۔اس افسانے میں دو جنسوں مرد اور عورت کے متعلق معاشرے میں پائے جانے والے تضاد کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔
اس افسانے میں حجاب امتیاز علی نے ہمارے اجتماعی احساس کو جھنجھوڑتے ہوئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایک حقیقت کو خیال کا جامہ پہنایا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عورت جس سے محبت کرتی ہے وہ اس کے سوا کسی دوسرے مرد کا خیال تک بھی ذہن میں لانا حرام سمجھتی ہے۔ اس مجموعے میں شامل تمام افسانوں میں مکالماتی انداز استعمال کر کے ان کو منفرد اور دلچسپ بنایا گیا ہے۔
ایک اور افسانوی مجموعہ "وہ بہاریں یہ خزائیں” کے پہلے افسانے میں مصنفہ ماضی کی راکھ کریدنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔اس کہانی میں بہت سے پہلو اور کہانیاں جذب ہیں۔افسانے کا ایک نسوانی کردار ایسا ہے جو عورتوں کی نفسیات کے نمائندہ کردار کے طور پر ابھرتی ہے۔وہ کردار ان گلیوں،اور ان مناظر کو جہاں اس کا بچپن اور جوانی کے خوبصورت دن گزرے ہوتے ہیں جہاں وہ آزادی سے زندگی گزارتی تھی کی یادوں کو تازہ کرتی ہے۔جوانی کی بہاروں کو یاد کرتے ہوئے ماضی کے دریچوں پر جا پہنچتی ہے جو کہ اس کی زندگی کا قیمتی باب تھا۔
حجاب امتیاز علی کے ان افسانوں میں ایک خاص خوبی یہ نظر آتی ہے کہ وہ نسوانی کرداروں کی کیفیات ، جذبات اور محسوسات کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کا بر محل اور عمدہ استعمال کرتی ہیں ۔
اس افسانوی مجموعہ”وہ بہاریں یہ خزائیں "کے چھٹے افسانے” صبح کا ناشتہ” میں حجاب نے خصوصیت کے ساتھ نسائی جذبات اور احساسات کو منفرد پیرائے میں پیش کیا ہے ۔ جو کہ افسانوی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔ انھوں نے صنف نازک کے لطیف جذبات کو بیان کرتے ہوئے ایسے بر محل الفاظ ،موزوں اور نفیس تراکیب کا استعمال کیا ہے جس سے وہ قاری کو مکمل طور پر محصور اور مسحور کر لیتی ہیں ۔
حجاب امتیاز علی جس شوخی اور بے باکی سے افسانہ تحریر کرتی ہیں اُس کی مثال اردو میں کم ہی ملتی ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں فرسودہ اور قدیم رسم و رواج کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔ وہ ترقی یافته ، آزاد اور بلند خیال مصنفہ ہیں۔ اس لئے اُن کے یہاں فرسودہ اور قدیم رسم و رواج کے خلاف بغاوت کی لہر صاف نظر آتی ہے۔ ان کی رومان پسندی، شوخی و بے باکی اور فرسودہ رسم و رواج کے خلاف بغاوت وغیرہ اُن کے اپنے نظریات ہیں لیکن اس سے اُن کی مذہب پرستی پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اُن کا خدا اور رسول پر یقین تھا۔ وہ صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔ انہوں نے افسانوں میں اکثر مسائل کو اسلامی نظریہ سے پیش کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں انسانیت اور تعمیری عناصر صاف جھلکتے ہیں اور ان کے افسانوں میں بڑی دوراندیشی پائی جاتی ہے۔ یہ افسانے سماج کئ ناسوروں کو مختلف صورتوں میں پیش کرتے ہیں اور ان میں اصلاح کی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔
Facebook Comments HS

