کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟
فرض کریں آپ کے کھٹکھٹانے سے یہ دروازہ کھل بھی جائے تو آپ اپنے ماضی کے کس دور میں جانا پسند کریں گے؟
وہاں جہاں کی بیش قیمت یادوں کی مہک کسی عطر کی ماند ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی ہو، یا اس مقام پر جہاں ماضی کی کسی ہولناک لغزش نے آپ کا حال گہنا دیا ہو، یا پھر وقت کا وہ دوراہا جو ابھی آیا نہ ہو، مگر جس کے آنے کی چاپ آپ کو خوف زدہ کیے رکھتی ہو۔
وقت جیسے گمبھیر موضوع کو احاطہ تحریر میں لانے والے بڑے ادیب و تخلیق کار ماضی کے ہر اس پیچیدہ و تلخ مقام سے گزرتے ہیں، جہاں خامہ خوں چکاں اور انگلیاں فگار ہوئی جاتی ہیں اور وقت کی واردات تخلیق کار کے قلم کی نوک سے پھسلتی، سیدھی قاری کے دل میں کھب جاتی ہے۔ درد کی یہی کسک ہے جو لکھنے اور پڑھنے والے کے مابین احساس کا ایک پل تعمیر کرتی ہے۔
عہد حاضر کے ناول نگاروں میں اسامہ صدیق ایسے منفرد، حیرت انگیز اور چونکا دینے والے تخلیق کار ہیں، جو وقت کی محیر العقل پرواز کو اپنی کہانیوں میں بن دینے کا ہنر جانتے ہیں۔ جو صرف ماضی کو مڑ کر نہیں دیکھتے بلکہ حال کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے اور مستقبل کی آہٹ کو سن لینے کا ادراک و شعور بھی رکھتے ہیں۔
وہ وقت کے ایسے جہاں گرد ہیں جنھوں نے اپنے پہلے ناول ”چاند کو گل کریں تو ہم جانیں“ میں ماضی، حال اور مستقبل میں، وقت کی سہ جہتی کائنات کو بقائے دوام کے اسرار و رموز، اور فنا سے نبرد آزما ہوتی اجڑتی مٹتی تہذیبوں کے نوحے کو بڑی مہارت اور سلیقے سے اپنے ناول میں رقم کر دیا ہے۔
گزشتہ برس ان کا دوسرا ناول ”غروب شہر کا وقت“ منظر عام پر آیا تو وقت کا بے قرار موضوع ان کے اس ناول کے بھی ہر حصے سے چھلکتا محسوس ہوا۔ اب کی بار ان کی توجہ ایک ہی شہر موجود پر مرکوز ہے، وہ اسے ہر سمت، ہر جانب اور ہر رخ سے اپنی تمام تر تاریخ، تہذیب اور زندہ دلی کے مٹتے اثاثوں سمیت اپنے ناول میں امر کر دینا چاہتے ہیں۔
ماضی، حال اور مستقبل کی پیچیدہ گلیوں کا باہمی انسلاک کرتا یہ ناول زندگی کی بکھری ہوئی، ٹکڑوں میں بٹی کہانیوں پر مشتمل ہے، جہاں ماضی کی پر رونق یادوں میں جلوہ افروز ہوتا شہر لاہور، جس نے جانے کتنوں کو اپنی پہلی محبت کے خمار کا اسیر رکھا، اب حال کی بوسیدگی و تمازت کو جھیلتا، جھلستا عنقریب مستقبل میں اپنے زوال کا نوحہ رقم ہونے پر آزردہ دکھائی دیتا ہے۔
ناول کی ابتداء ہی قبرستان کی سنسان سٹپٹا دینے والی ویرانی میں خود سے ہم کلام ہوئے شخص سے ہوتی ہے، جو حیات و ممات کو زیر زمیں خاک نشینوں کی مضطرب نگاہوں سے ٹٹولتا خود بھی حالت اضطراب میں گم ہے۔ وہ شمالی پہاڑوں کی ایک سرد اماوس کی رات میں، کائنات کی وسعتوں میں دور تک پھیلی ستاروں کی جھلملاتی کہکشاں کو تحیر خیز نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی پہچان کا طالب ہے اور اپنی ٹکڑوں میں بٹی زندگی میں بار ہا جھانک رہا ہے۔ جہاں کہیں گزرے زمانے کے دلربا فسانے ہیں، تو کہیں جوانی کی دل پذیر یادیں، کہیں کالج کی بپتا تو کہیں درسگاہوں کے زوال کا احوال، کہیں پرانے مکانوں کی سانس لیتی سرگوشیاں، تو کہیں دھند میں لپٹا کسی نازنین کا وجود۔ کہیں طیبہ خالہ کا پاکیزہ تخیل، تو کہیں لفظوں میں دھڑکتی دلگیر شاعری کے درد بھرے بول۔
اسامہ صدیق ذہین، قابل، باصلاحیت اور وسیع المطالعہ ادیب ہیں اردو اور انگریزی کے جدید و قدیم ادب، نیز تاریخ و تہذیب کے گمشدہ موضوعات پر ان کی دسترس قابل رشک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ان کا بسیط مطالعہ ناول کے کثیر مقامات پر صاف جھلکتا دکھائی دیتا ہے بلکہ ناول کی تکنیک، کہانی کا جدت آمیز پلاٹ، زبان و بیان کی ندرت اور اسلوب میں کلاسیکی انداز نگارش کی آمیزش اس ناول کو قدیمی زبان و ادب کے حسن سے مرصع کر کے جدید دور کے بالمقابل لا کھڑا کرتی ہے۔
ناول میں ”تب اور اب“ کے درمیان لرزاں زندگی کی لو کہیں دھیرے سے ماضی کے رومان سے روشن ہوتی ہے تو کہیں حال کی تیزی سے لڑکھڑا جاتی ہے۔ ناول کے سبھی کردار ایک ایسے مرکز کے اسیر ہیں جہاں بے بسی خود کسی کردار کی صورت سب پر مسلط نظر آتی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار خالد کی نظر سے ہم اپنے گزشتہ پچاس سالوں کے درد و کرب کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ناول نگار بڑی چابکدستی سے مختلف کرداروں کے ذریعے پاکستان کے مقتدر طبقات کے چہروں کو عیاں کرتے جاتے ہیں اور ہم قاضی الاول جیسے ان کرداروں کی صورت انصاف، عدلیہ، افسر شاہی اور مقتدر عسکری قوتوں کے نت نئے رنگ ڈھنگ دیکھتے ہیں، جن کی حب الوطنی کے شعبدوں نے گزشتہ ستر سالوں سے اس قوم کو بے بس کیے رکھا ہے۔ ذرا ناول کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
”قاضی الاول اور ان کا سٹاف انصاف کے متلاشیوں سے بھرے برامدوں اور راہداریوں میں یوں رستہ بناتے نکلے جیسے بنی اسرائیل بحیرہ احمر چیرتے نکلے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ تب ماضی کا قدیم فرعون تعاقب میں تھا اور اب دور حاضر والا ان کے آگے۔“
ناول میں لاہور ایسے قدیم شہر کی گلیوں میں تہ در تہ ملفوف تاریخ و تہذیب کے مٹتے آثار کا نوحہ ایسے دلگیر انداز میں رقم کیا گیا ہے کہ قاری کہیں اس درد کو اپنی روح میں اترتا محسوس کرتا ہے تو کہیں اپنا دل کسی مٹھی میں بند محسوس کرتا ہے۔ ذرا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
”ہر پرانا شہر اپنے اندر اپنا ماضی سموئے ہوتا ہے، تہ در تہ مخفی۔ کئی پرتوں میں پوشیدہ۔ صرف انہی کے لیے عیاں جو دیکھنے کی نگاہ رکھتے ہیں۔ میرے شہر کے بھی کئی پرانے ادھ مٹے چہرے ہیں، جن کے بکھرے اور مبہم نقوش ان مشہور گلی محلوں، پرانے بازاروں، قدیم مکانوں، بھولے بسرے قریوں اور خاص کوچوں میں ملتے ہیں۔ اور قبرستانوں میں بھی۔ جہاں زیر زمین مدفون شہر تہ در تہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔“
اپنے زندہ و بارونق شہر کے پر شکوہ ماضی کا احوال بڑے دلدوز انداز میں تحریر کرتے ہوئے، وہ آخر یہ لکھنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ: ”یہ شہر بہت سے اچھے برے وقتوں سے گزرا، اجڑا اور پھر سے بس گیا، لیکن اب آخر ایسا کیا ہے کہ یہ مجھے ایسے اجڑتا نظر آ رہا ہے کہ شاید ہی کبھی بس پائے۔“
ناول کے اس اجڑے ویران شہر کے سنسان مقامات پر کسی مافوق الفطرت وجود کی موجودگی ایک ایسی آسیبی فضا تخلیق کرتی ہے جو دیگر کرداروں کے لیے ماورائے عقل ہے۔ ”کبھی کہیں“ موجود رہنے والا یہ آسیب اسی حضرت انساں سے نالاں ہے، جس نے جنگلوں کے ساتھ اپنے تمام رشتے، ناتے اور اثاثے بھی اجاڑ ڈالے، جو آدمیت کی معراج سے نیچے گرا اور انسان کو انسان کا غلام بنا ڈالا۔ بوئے آدم زاد سے پریشاں یہ آسیب ایک جگہ کچھ یوں شکوہ سنج ہے :
”یہ جو اب کا آدم زاد ہے، یہ کوئی اور ہی مخلوق ہے، جس کی اپنی جون بدل رہی ہے۔ جس کا حلیہ مسخ ہو رہا ہے، لہجہ تو پہلے بگڑ چکا، جس کا چہرہ بھی اب بگڑ رہا ہے۔ اس کی ہر چیز میں بگاڑ ہے، یہ قربت رکھنے کے لائق نہیں، اس کا قرب تو اب خود وحشت ناک ہے۔“
ناول میں بین السطور جا بجا عہد حاضر کے کثیر مسائل کا احاطہ بڑے سلیقے سے کیا ہے، جن میں فرقہ واریت، اقرباء پروری، خوشامدی درباری لوگ، نا اہلوں کو نوازے گئے بلند مراتب، مذہبی منافرت، شدت پسندی و ریاکاری، کرونا جیسی سنگین وبا، سموگ کا فطرت کو ماند کرتا تعفن، آبی مسائل، وسائل کی قلت، بڑھتی آبادی کا جن، پسماندگی کی تہ کو چھوتے بے تحاشا ذہنی و نفسیاتی مسائل شامل ہیں۔ ناول کے ایک اہم کردار طیبہ کے ان مسائل پر خیالات ملاحظہ کیجیے :
”یہ ساری بے اعتنائی اور عدم دلچسپی ایک نفسیاتی کیفیت ہے، اقوام مغرب ہر علم میں ہم جیسوں سے اتنا آگے چلی گئی ہیں، جب کہ ہم ابھی تک نو آبادیاتی شکنجوں میں پھنسے، قرضوں میں جکڑے، نا اہل اور بیہودہ حکمرانوں کے ستائے اور وحشیانہ طور پر بڑھتی آبادی کے بوجھ تلے دبے، ایک بھیانک احساس کمتری کا شکار ہیں۔“
”اگر کوئی ہماری توجہ اس جانب دلائے کہ سمندر پار کس نے کن نئے ستاروں پہ کمند ڈالی تو ہم اسے برا جانتے ہوئے اس کی تضحیک کرتے ہیں۔ ہمارا تاریخی و تہذیبی آشیانہ گو شاخ نازک پہ استوار نہ تھا لیکن آزادی کے حصول کے بعد کے حکمرانوں نے ہماری تہذیب کے سب ثمر آور درخت کاٹ کر، پیچھے بد تہذیبی اور جہالت کے کیکٹس چھوڑ دیے ہیں۔“
حالات کی ان تمام سختیوں اور تلخیوں کو جھیلتے کردار جب کہیں محبت کی بارش میں بھیگتے ہیں تو کیسی خوبصورت باتیں کہہ جاتے ہیں :
”اور یہ بھی کہ محبت کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، یہ ہر اس رنگ میں ڈھل جاتی ہے، جو محبوب کا رنگ ہو۔“
”تب“ اور ”اب“ کے درمیان صرف ناول کی تکنیک ہی معنی خیز نہیں بلکہ گزشتہ پچاس سالوں پر محیط وقت کا بہاؤ بھی تلاطم خیز ہے۔ یہ اپنے اندر کئی زمانوں کی روایات کو سمیٹے لیے جا رہا ہے۔ شاید یہی وہ المیہ ہے جسے ہماری ایسی نسلوں کو سہنا ہوتا ہے جو ایک صدی کے اختتامی عشروں پر جنم لیتی ہیں، جن کے ہاتھ نہ گزشتہ صدی کا اثاثہ آتا ہے اور جنھیں نہ نئی صدی کی سبک رفتاری ساتھ لیے پھرتی ہے۔ در حقیقت یہ کئی زمانوں کے مابین ڈولتی نسلوں کے دکھ ہیں۔
ناول کی حسن ترتیب میں انیسویں صدی کے کلاسیکی افسانوی ادب کے معنی خیز منتخب نثری ٹکڑوں کی تزئین و آرائش خاصی دیدہ زیب و معنی پرور ہے۔ اس کلاسیکی ادب میں سبھی شاہکار فن پارے ہیں، جیسے ؛ داستان باغ و بہار، الف لیلہ، سنگھاسن بتیسی، فسانہ ء عجائب، داستان امیر حمزہ، بیتال پچیسی، طلسم ہوش ربا، مذہب عشق اور توتا کہانی کے ساتھ ساتھ جدید شعراء جن میں مجید امجد، ن۔ م۔ راشد، سلیم الرحمان وغیرہ کے پر فکر شعری اقتباسات اور ناول کے کچھ صفحات پر پھیلے اچھوتے انوکھے اسکیچز ناول کو قدیم و جدید کے رنگوں سے سنوار کر، ایک ایسی جدت آمیز تخلیقی بنت میں ڈھال دیتے ہیں جو بیک وقت علامتی بھی ہے اور کثیر المعنی بھی۔ جس میں ماضی سے حال تک کا سفر ہی نہیں مستقبل کی رمزیں بھی پوشیدہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس ناول پر جتنا بھی لکھا جائے، اس کے موضوعات پر جتنی بھی بات کی جائے، اس میں موجود تاریخ و تہذیب کے معدوم ہوتے جتنے بھی نشانات کی بازیافت کی جائے، اس کے سبھی پہلوؤں کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں۔
مصوری کے ایک حسین و نادر فن پارے سے سجے دل پذیر سرورق کے ساتھ عمدہ و دلنشیں حسن طباعت بھی قابل داد ہے، جس کے لیے بک کارنر جہلم کے محترم گگن شاہد صاحب اور محترم امر شاہد صاحب کے لیے خصوصی تحسین، کہ عہد حاضر کے ایسے اہم اور چونکا دینے والے ادب پارے کو یوں اہتمام اور دل سے شائع کیا۔
اس کثیر موضوعاتی و کثیر معنوی ناول کی تخلیق پر محترم اسامہ صدیق صاحب کو تہ دل سے مبارکباد اور ان کے لیے بہت سی نیک تمنائیں۔


