متبادل ذرائع توانائی اور کپیسٹی چارجز


آج کی دنیا میں توانائی سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے حصول کے لیے نہ صرف روایتی طریقوں کے بجائے جدید متبادل اور قابل تجدید طریقوں پر انحصار کا رجحان بڑھ رہا ہے بلکہ اس سلسلے میں مزید نت نئے طریقے دریافت کیے جا رہے ہیں جن میں جوہری اور شمسی توانائی کے علاوہ ونڈ پاور جنریشن، ٹائیڈل پاور جنریشن اور کولڈ فیوژن جنریشن قابل ذکر ہیں۔

کولڈ فیوژن جنریشن دراصل جوہری فیوژن کی وہ شکل ہے جس میں تابکاری اور حدت کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ فیوژن ری ایکشن وہی عمل ہے جو ہائیڈروجن بم میں کار فرما ہوتا ہے جس میں دو ہلکے ایٹمی نیوکلیس باہم جڑ کر ایک نیوکلیس بناتے ہیں جس کے نتیجے میں فالتو ہو جانے والی بائنڈنگ انرجی خارج ہو جاتی ہے جسے برقی توانائی میں تبدیلی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فی الحال تجرباتی مراحل میں ہے جو اگر قابل عمل ہوا تو یقیناً ایک دیرپا اور سستا ترین ذریعہ توانائی ہو گا۔

ونڈ پاور جنریشن یا ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے اب تک ملک میں صرف روایتی ونڈ ٹربائنز کا ہی استعمال کیا جا رہا ہے جن کی لاگت اور دیکھ بھال ایک مہنگا عمل ہے جبکہ جدید دنیا نہایت چھوٹے حجم کے سستے ٹربائنز استعمال کر رہی ہے جن کی تنصیب کہیں پر بھی کی جا سکتی ہے حتی کہ ہائی وے کی گرین بیلٹس پر بھی۔

اسی طرح ٹائیڈل پاور جنریشن یعنی سمندری لہروں کے ذریعے بجلی کی پیداوار کا طریقہ جو استعمال میں تو ہے لیکن بہت بڑے پیمانے پر اس کا استعمال اب تک نہیں کیا گیا، اس لیے توانائی کے حصول میں اس کا کردار بہت واجبی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک ایسے ٹائیڈل پاور جنریشن یونٹس نہیں بنائے گئے جو نہ صرف دیرپا ہوں بلکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت سستی اور آسان ہو۔

جہاں تک جوہری توانائی کا تعلق ہے تو اس میں بہت سے ایسے عوامل بھی کار فرما ہیں جو ماحول دوست نہیں ہیں جس وجہ سے بھی اسے مختلف ممالک میں مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس لحاظ سے شمسی توانائی بجلی کے سستے اور آسان حصول کا فی الحال سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طریقہ کار کو اس وقت دنیا میں قابل تجدید توانائی کا مقبول ترین ذریعہ بن چکا ہے جبکہ حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے اب اس تک عوام کی با آسانی رسائی ہے۔

حالیہ کچھ سالوں میں گھروں، کارخانوں، پیٹرول پمپس، مویشیوں کے باڑوں، ٹیوب ویل اور دیگر بہت ساری جگہوں پر شمسی توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کی جا رہا ہے جبکہ آلات کی مسلسل کم ہوتی قیمت نے اسے اور بھی سہل بنا دیا ہے۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بڑھتے رجحان سے حکومت کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ 30 سال قبل لگائے گئے تھرمل پاور پلانٹس سے کیے گئے معاہدے ہیں۔

حکومت کے نجی پاور پلانٹس سے معاہدوں کے مطابق یہ کمپنیاں جو بجلی پیدا کرتی ہیں اس کے استعمال ہونے پر تو قیمت کی ادائیگی کی ہی جاتی ہے لیکن اگر یہ بجلی استعمال نہ بھی ہو تب بھی حکومت ان کمپنیوں کو ادائیگی کرنے کی پابند ہے جسے ”کپیسٹی چارجز“ کہتے ہیں۔

کپیسٹی چارجز دراصل وہ رقم ہے جو حکومت ان کمپنیوں کو اس لیے دینے کی پابند ہے کیونکہ انہوں نے یہ کام حکومتی ایما پر ہی شروع کیا، گویا حکومت نے انہیں کرائے پر لیا لہذا کرایہ تو بہرحال دینا ہی ہو گا۔ جتنی بجلی استعمال ہوگی اس کی قیمت کے علاوہ جو بجلی استعمال نہیں ہوگی اس کی قیمت کی بھی حکومت بطور کپیسٹی چارجز ادائیگی کی پابند ہے۔

اس وقت حکومت کو ان کمپنیوں کو استعمال کی جانے والی بجلی کی قیمت کی مد میں 20 روپے 60 پیسے فی کلو واٹ دینے ہوتے ہیں جبکہ کپیسٹی چارجز کی مد میں تقریباً 14 روپے فی کلو واٹ کی اضافی ادائیگی کی جاتی ہے۔

شمسی توانائی کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے حکومت اس خوف کا شکار ہے کہ اگر لوگوں کا انحصار متبادل ذرائع پر بڑھے گا تو کپیسٹی چارجز کی رقم میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوتا جائے گا کیونکہ نہ استعمال ہونے والی بجلی کی مقدار بھی بڑھ جائے گی جس سے خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ بہرحال یہ عوام کا براہ راست مسئلہ نہیں، عوام کا براہ راست مسئلہ مسلسل مہنگی ہوتی بجلی ہے جس سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ لازماً متبادل ذرائع اختیار کریں گے۔

نجی کمپنیوں سے یہ معاہدے سب سے پہلے بے نظیر دور میں کیے گئے جس کے بعد نواز شریف نے ان معاہدوں میں مزید اضافہ کیا اور کرتے ہی چلے گئے۔ جس وجہ سے ایک طرف مہنگی ترین بجلی کا مسلسل عذاب مسلط ہوا تو ساتھ ہی ماحول کو شدید نقصان پہنچا جبکہ گردشی قرضوں کا دلدل اضافی ہے جو اس وقت تقریباً 60 کھرب روپے یا تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رقم کتنی ہے، ؟ یہ سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے کہ یہ حکومت کئی ماہ سے 1.1 ارب ڈالر کی رقم کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی منت خوشامد کر رہی تھی۔

30 سال پہلے جب بے نظیر یہ معاہدے کرنے جا رہی تھیں اس وقت یقیناً شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنا آج کی طرح سستا نہیں تھا لیکن اتنا بھی مہنگا نہیں تھا جتنے مہنگے معاہدے ان نجی کمپنیوں سے کیے گئے۔ اس کے بجائے اگر حکومت متبادل اور قابل تجدید ذرائع پر پیسہ خرچ کرتی تو آج پاکستان میں نہ صرف سستی ترین بجلی کی بہتات ہوتی بلکہ ماحول پر پڑنے والے برے اثرات اور جناتی گردشی قرضوں سے بھی ہم آزاد ہوتے۔

 

Facebook Comments HS