چاند کے ليے عنقريب الگ ٹائم زون کا تعيّن


”ناسا“ ، چاند کے لیے الگ ٹائم زون کا تعین کرنے جا رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہی کہ بہت جلد چاند پر آمدورفت کا ایک ہجوم لگنے والا ہے اور ہمیں جلد ہی چاند پر وقت کے ایک درست اور جامع نظام (ٹائم کِیپنگ سسٹم) اور ایک مشترکہ گھڑی کی ضرورت پڑنے والی ہے، تاکہ وہاں جانے والے مشنز (مُہموں ) کو مربوط بنایا جا سکے اور ان کو پیش آنے والی ممکنہ آفات سے بچایا جا سکے۔ وقت کی رفتار زمین کے مقابلے میں چاند پر تھوڑی تیز ہوتی ہے، کیونکہ چاند کا حجم (ماس) زمین سے چھوٹا ہے اور اس کی کششِ ثقل کمزور ہے۔ اسی وجہ سے چاند کو اپنا الگ ٹائم زون دیا جا رہا ہے۔

امریکا کے خلائی تحقیقی ادارے ”نیشنل ایرو ناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن“ (ناسا) / ”قومی ہوا بازی اور خلائی انتظامیہ“ کے مطابق وہ 2026 ء کے آخر تک چاند اور دیگر آسمانی اجسام کے لیے ایک متفقہ معیاری وقت مقرر کرے گا۔ ”ناسا“ کے خلائی مواصلات اور نیویگیشن کے سربراہ ”کیون کوگنس“ نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ”رائٹرز“ کو دیے ہوئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ ”یہ درخواست وہائٹ ہاؤس (خاص طور پر اس کے ’آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی‘ ) کی جانب سے 2 اپریل 2024 ء کو موصول ہوئی تھی۔ ہماری زمینی گھڑی چاند پر ایک مختلف رفتار سے حرکت کرے گی۔“

زمین اور چاند کے وقت کا فرق محض 58.7 مائیکرو سیکنڈ فی زمینی دن ہے۔ (ایک مائیکرو سیکنڈ ایک سیکنڈ کا دس لاکھواں حصہ ہوتا ہے۔ ) مائیکرو سیکنڈز اکثر الیکٹرانکس، کمپیوٹنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن ایپلی کیشنز میں پیمائش کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

زمین پر، ”کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم“ (یُو ٹی سی) دنیا بھر کے تمام ٹائم زونز کی مطابقت کے لیے استعمال ہونے والا معیاری وقت ہے۔ زمین کا مشرقی وقت، ”یُو ٹی سی“ سے چار گھنٹے پیچھے ہے۔ نیا بننے والا یہ قمری ٹائم زون، ”کوآرڈینیٹڈ لُونر ٹائم“ (ایل ٹی سی) کے نام سے جانا جائے گا۔ البتہ یہ ابھی تک طے نہیں ہو پایا کہ آیا چاند کا ایک ہی ٹائم زون ہو گا یا ایک سے زیادہ۔

مربوط قمری وقت کہاں استعمال کیا جائے گا؟

”ایل ٹی سی“ کا استعمال زمین اور چاند کے درمیان والے فاصلے، زمین کے ارد گرد کے علاقے (جو چاند تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے مدار، بشمول چاند کی سطح سے گزرتا ہے۔ ) میں کارروائیوں میں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ قمری مدار (چاند کے گرد کسی چیز کے مدار) اور ”ارتھ۔ مُون لیگرینج پوائنٹس“ (زمین اور چاند کے کششِ ثقل کے زیر اثر چھوٹے حجم والی اشیاء کے لیے توازن کے پوائنٹس) میں بھی اس کا استعمال کیا جائے گا۔ ”لیگرینج پوائنٹس“ دو اجسام (اس مثال میں۔ زمین اور چاند کے درمیان خلا میں کششِ ثقل سے متوازن مقامات کو کہا جاتا ہے ) ، جن میں خلائی جہاز جیسی اشیاء درست پوزیشن میں رہ سکتی ہیں۔ ”اسپیس ڈاٹ کام“ نامی ویب سائٹ کے مطابق ”لیگرینج پوائنٹس“ تک پہنچنا آسان ہے، اور بہت سے خلائی جہاز ان مقامات کو مشاہدات کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

چاند کے لیے عین وقت کی آخر ضرورت کیوں ہے؟

یہ زمین اور چاند کے درمیان والے 58.7 مائیکرو سیکنڈز کے فرق کے بارے میں فکر کرنے کی طرح نہیں لگتا۔ مثال کے طور پر، آنکھ جھپکنے میں 0.1 سے 0.4 سیکنڈ، یا ایک لاکھ سے چار لاکھ مائیکرو سیکنڈز لگتے ہیں۔ لیکن خلائی مُہموں اور مشنز میں وقت کا ذرا سا فرق بھی بہت اہم ہو جاتا ہے، جس میں ان مشنز کے ساتھ رابطے، ان پر نظر رکھنے (ٹریکنگ) اور ان کی سمت شناسی (نیویگیشن) کے لیے وقت کی انتہائی درستی کی ضرورت ناگزیر ہوتی ہے۔ ”رائٹرز“ کی رپورٹ کے مطابق، خلائی جہازوں کے درمیان محفوظ ڈیٹا کی منتقلی اور زمین کے درمیان مماثل مواصلات، قمری سیٹلائٹس، بیس اور خلابازوں کے لیے بھی ”ایل ٹی سی“ کی اشد ضرورت ہے۔ اور چونکہ مستقبل کے مشن صرف امریکا ہی کی جانب سے نہیں بھیجے جائیں گے، بلکہ کثیر الاقوامی (ملٹی نیشنل) ہوں گے، اس لیے ان تمام شرکاء کو ایک ہی وقت کے ساتھ ہم آہنگ اور منسلک ہونے کی اشد ضرورت ہوگی۔

کیا چاند کا نظامِ وقت زمین جیسا ہو گا؟

تقریباً۔ زمین کے معیاری اوقات میں سے ”یُو ٹی سی“ دنیا بھر کی 85 ٹائم لیبارٹریوں میں 450 انتہائی درست ایٹمی گھڑیوں کا ایک گروپ استعمال کرتا ہے۔ آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کی ہدایات سے پتہ چلتا ہے کہ چاند پر ”گھڑیوں کا ایک جوڑا“ چاند کے ”ایل ٹی سی“ کو ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”ایل ٹی سی“ میں مندرجہ ذیل باتوں کا ہونا ضروری ہے :

زمین اور چاند کے درمیان موجود اجسام، خلائی جہازوں اور مشنز وغیرہ سے متعلق پتہ لگانے کی صلاحیت (ٹریس ایبلٹی) اور زمین کے مربُوط یونیورسل ٹائم (یُو ٹی سی) کے ساتھ ان کا ایک تناسبی تعلق۔

بہت کم وقت کی پیمائش کے لیے مخصوصیت اور درستی کے ساتھ ساتھ، عین سائنسی مطالعے کی خلائی جہازوں کی لینڈنگ کے لیے ضرورت۔

زمین سے تعلق ختم ہونے کی صورت میں مشنز کی خود کفالت۔

توسیع پذیری (اسکیل ایبلٹی) ، تاکہ دیگر خلائی اجسام یا ماحول اسے استعمال کر سکیں۔

”ناسا“ ، قمری ٹائم زون بنانے اور لاگو کرنے کے لیے امریکا کے کامرس، دفاع، ریاست اور ٹرانسپورٹیشن کے محکموں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

Facebook Comments HS