صدیق عالم کا تازہ ناول ”مرگِ دوام“۔


یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ اجمل کمال نے اپنے جریدے سہ ماہی ”آج“ میں مکمل ناول شایع کیا بلکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا کرچکے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے انہوں نے صدیق عالم کے تازہ ناول ”مرگِ دوام“ کے حوالے سے اپنی ایک فیس بک پوسٹ کے آخر میں ایک جملہ لکھا جس کا مفہوم یہ بنتا تھا : ”میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی موت سے پہلے یہ ناول پڑھ لیا۔“ اجمل صاحب کی غیر جذباتی شخصیت اور خشک مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مجھ سمیت کئی لوگ یہ جملہ پڑھ کر نہ صرف چونکے بلکہ اسے سنجیدگی سے بھی لیا کیوں کہ اس کے پیچھے مارکیٹنگ کا کوئی حربہ کارفرما نہ تھا بلکہ یہ جملہ ان کے دل و دماغ سے بے ساختہ نکلتا محسوس ہوا۔ ان کے اندر کے زیرک اور ہوشیار قاری نے اسے یہ زبردستی لکھوایا۔ ہر پر چے کا مدیر اول و آخر ایک قاری ہی ہوتا ہے۔

اجمل کمال نے اتنی بڑی بات یوں ہی نہیں کہہ دی بلکہ اس کا ایک پس منظر موجود ہے اور وہ ہے صدیق عالم کا مرگِ دوام سے پہلے کا فکشن۔ افسانہ نگاری ہو یا ناول نگاری، صدیق عالم کو دونوں پر کماحقہ دسترس حاصل ہے۔ وہ ہمیشہ خود کو دوہرانے کے باز رکھتے ہیں، اسی لیے ان کا ہر افسانہ دوسرے سے مختلف اور ہر ناول دوسرے سے بالکل الگ دکھائی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ان کی ہر نئی تصنیف قارئین کو چونکاتی اور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اردو کے بہت کم ادیب ان خصوصیات کے حامل ہیں۔

ناول ”مرگِ دوام“ کا بے نام راوی صیغہ واحد متکلم میں اپنی، اپنے آس پاس کے لوگوں اور اس خانماں خراب دنیا کی کہانی انوکھے اور دلچسپ پیرائے میں سناتا ہے۔ اس ناول کا آغاز ایک سرکاری دفتر کے کشادہ لیکن ٹوٹے پھوٹے اور غلیظ پیشاب خانے سے ہوتا ہے جہاں اس کی مڈبھیڑ ایک پراسرار شخص سے ہوتی ہے جسے وہ سند باد کا نام دیتا ہے۔ الف لیلہ کا سند باد دنیا بھر کے سمندروں، جزیروں اور ساحلوں پر آباد شہروں میں بھٹکتا تھا جب کہ مرگِ دوام کا سند باد راوی کے دفتر کی موتری میں اس طرح نمودار ہوتا ہے کہ یہ جگہ اس کی اکلوتی پہچان بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ آج کی دنیا کا سند باد ہے۔

پہلی موہوم ملاقات کے بعد راوی اس کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے اور جب اسی موتری میں وہ سند باد کی دوسری ہلکی سی جھلک پاتا ہے تو اس مرتبہ اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن سند باد کئی منزلہ عمارت کے زینے میں بھاگ کر غائب ہوجاتا ہے اور راوی اس کا تعاقب کرنے کے باوجود اس کا چہرہ ٹھیک طرح نہیں دیکھ پاتا۔ سند باد اسے ایک عجیب ذہنی خلجان میں مبتلا کر دیتا ہے۔

ناول مرگِ دوام کا راوی ہی اس کا مرکزی کردار بھی ہے جو ایک آئی سی ایس افسر ہے اور ٹرانسپورٹ کے محکمے میں ایک سیکریٹری کے ماتحت کام کرتا ہے۔ وہ اپنی بوڑھی اور بیمار ماں کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہتا ہے۔ اسی اپارٹمنٹ کی کسی منزل پر واقع ایک کوچنگ سینٹر میں گندھارا نام کی لڑکی ہر روز پڑھانے آتی ہے۔ اس سے پہلی مڈ بھیڑ کے بعد دھیرے دھیرے راوی اس سے بے تکلف ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر یہ بے تکلفی مستقل دوستی میں بدل جاتی ہے۔

اس کا گندھارا کے گھر آنا جانا شروع ہوجاتا ہے اور وہ اس کے اہلِ خانہ سے، جن میں اس کے ماں باپ اور بھائی شامل ہیں، نہ صرف متعارف ہوتا ہے بلکہ ان سب سے اس کا بھی گہرا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ ہر روز گندھارا کے گھر جانا اور اس کے ساتھ سمندر کے ساحل پر گھومنا اور دیر تک وقت گزارنا اس کا معمول بنتا چلا جاتا ہے لیکن وہ اتنی قربت کے باوجود اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتا اور اسے اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے داخل کرنے کی درخواست نہیں کر پاتا جب کہ وہ اکثر تنہائی میں اس کا سراپا ذہن میں لا کر مشت زنی بھی کرتا رہتا ہے۔ دوسری طرف گندھارا کی نابینا ہوتی ماں یہ امید لگائے رہتی ہے کہ وہ کب اس کی بیٹی کو شادی کی پیش کرے اور اس کی شادی ہو لیکن اس بے چاری کی یہ امید بر نہیں آتی۔

اس ناول کی کہانی انڈیا کے کئی علاقوں اور دنیا کے کئی ملکوں اور شہروں کا پھیرا لگاتی ہے لیکن ناول کے سب سے اہم حصوں اور اہم ترین کرداروں کا تعلق انڈیا کے دو شہروں مدراس اور کلکتہ سے محسوس ہوتا ہے۔ ناول کا راوی اپنے سیکریٹری کے ساتھ میٹرو ٹرین کا سروے کرنے کلکتہ جاتا ہے تو ایک دن میٹرو میں سفر کرتے ہوئے اس کی آنکھیں اچانک اپنی جانب گھورتے ہوئے سند باد سے ٹکرا جاتی ہیں۔ وہ اس کے دیکھنے کے انداز سے اسے پہچان لیتا ہے اور اس موقعے کو ضائع کرنا نہیں چاہتا، اسی لیے وہ سند باد سے مکالمے کا آغاز کر دیتا ہے۔

اسے سند باد پر شدید غصہ آتا ہے لیکن اس کی باتیں اسے اتنی دلچسپ اور تحیر آمیز لگتی ہیں اور اسے اتنی بری طرح الجھاتی ہیں کہ وہ اس کے اشارے پر ناچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس طرح سند باد اسے جھانسا دے کر ایک قدیم عمارت کی چھت پر لے جانے میں کامیاب ہوجاتا ہے جہاں اس نے برسوں سے اپنا ٹھکانہ قائم کر رکھا ہے۔

سند باد کی اکثر و بیشتر باتیں ناقابلِ یقین لگتی ہیں۔ وہ اسے اپنی عمر ایک سو چالیس سال بتاتا ہے۔ وہ چالیس سال پہلے مر گیا تھا لیکن پھر موت کا شکار ہو کر غیر مرئی وجود میں تبدیل ہو گیا، جس کی وجہ سے وہ آج تک دنیا میں چکر لگا رہا ہے۔ وہ پر امید تھا کہ اسے کوئی ایسا انسان ضرور ملے گا جو وہ نہ صرف اسے دیکھ سکے گا بلکہ وہ اس کا دکھ سمجھنے کی کوشش بھی کرے گا۔ سند باد کے خیال میں اب اس کی نجات کا وقت آ پہنچا ہے۔

وہ بالکل اچانک راوی کے ہونٹوں کا بوسہ لے کر اس بلند عمارت کی چھت سے کود جاتا ہے۔ عمارت سے چھلانگ سند باد لگاتا ہے لیکن سڑک پر ناول کے راوی کی لاش پڑی ہوئی ملتی ہے۔ پولیس اس کی موت کی تصدیق کرتی ہے اور میڈیا اس کی موت کی خبر نشر کر دیتا ہے جب کہ وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل زندہ سلامت موجود رہتا ہے۔ اس کی کایا کلپ ہوجاتی ہے اور وہ اپنا مرئی اور مادی وجود کھو بیٹھتا ہے اور ایک غیر مرئی وجود سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔

فکشن ہماری دنیا کے متوازی ایک الگ اور یکسر مختلف قسم کی دنیا تخلیق کرنے کا نام ہے، جس کی اپنی منطق، اپنا نظام و قانون، اپنی آب و ہوا اور اپنی فضا ہوتی ہے۔ ہمارا عام تجربہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم ختم ہوجاتا ہے اور اس جسم کو ٹھکانے لگانے کے لیے مختلف مذاہب کے لوگ مختلف قسم کے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جسم کے مکمل خاتمے کے بعد جو کچھ باقی ہے اسے لوگ روح یا آتما کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن اس ناول میں صدیق عالم نے فکشن کی منطق کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے روح کا نام نہیں دیا بلکہ وہ اسے غیر مرئی وجود کہتے ہیں یعنی ایسا وجود جو دوسروں کی نظروں سے اوجھل رہنے کے باوجود موجود رہتا ہے۔

ناول ”مرگِ دوام“ کا مرکزی کردار غیر مرئی وجود میں تبدیل ہونے سے مرگِ دوام حاصل کرنے تک ایک طویل اور غیر مختتم سفر سے دوچار ہوتا ہے۔ اس سفر کے دوران وہ دو تین بار واپس مدراس بھی جاتا ہے جہاں اس کی بوڑھی ماں اس کی موت کے صدمے سے نڈھال ہے اور دھیرے دھیرے زندگی کی طرف لوٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ راوی اپنی ماں کی حالت ِ زار دیکھتا رہتا ہے لیکن وہ اپنے غیر مرئی وجود کی وجہ سے اس کی ڈھارس نہیں بندھا پاتا، اسے کوئی تسلی نہیں دے پاتا۔ اس کا غیر مرئی وجود اسے محض ایک تماشائی بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ایک خاموش تماشائی۔

دوسری طرف جب وہ گندھارا کے گھر جاتا ہے تو اس کی تنہائی کو دیکھ کر راوی کا تاسف گہرا ہوجاتا ہے۔ وہ گندھارا کی ماں کا اندھے پن دیکھ کر اداس ہوتا ہے اور اس کے بھائی کی زندگی کی بربادی پر دکھ محسوس کرتا ہے لیکن وہ ان سب کے لیے کچھ نہیں کر پاتا۔ اس کے پاس کفِ افسوس ملنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔ وقت گزرنے کے ساتھ گندھارا سنیاس لے لیتی ہے۔ اس کا بھائی خود کو بے تکی مصوری میں غرق کر لیتا ہے اور جوکروں کی تصویریں بناتا رہتا ہے اور وہ اس کے بنائے جوکروں میں ناول کے راوی کو اپنی تصویر جھلکتی دکھائی دیتی ہے جب کہ درحقیقت وہ صرف اس کی نہیں بلکہ ہم سب کی حقیقی تصویریں ہیں۔

غیر مرئی وجود کے طور پر گزرنے والے تیس برسوں میں ناول کا راوی دور از کار کے طویل و دشوار سفر کرتا ہے، بے شمار ٹھکانے بدلتا ہے۔ اس دوران اس کی ماں مر جاتی ہے اور اپنی ساری جائیداد ایک رشتے دار کے نام کر جاتی ہے جو اس کا اپارٹمنٹ فروخت کر دیتا ہے اور ایک عیسائی خاندان جسے خرید کر اس میں رہنے لگتا ہے جب کہ دوسری طرف گندھارا کے ماں باپ بھی مر جاتے ہیں اور وہ خود سنیاس لے لیتی ہے اور تین مہینے تک بھوکا رہنے کی وجہ سے مر جاتی ہے، اس کا بھائی اس کی لاش کا انتم سنسکار کرنے کے بجائے اسے کمرے میں چھپائے رکھتا ہے۔ وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے اور اسپتال میں دل کا دروہ پڑنے سے مر جاتا ہے۔ گندھارا نے اپنا گھر سنیاسیوں کے نام کر دیا تھا اس لیے وہ سنیاسی اسے ایک سیٹھ کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں جو وہاں پر ہوٹل بنانا چاہتا ہے۔

راوی اپنے گھر میں بسنے والے عیسائی خاندان کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔ وہ ان کے دکھوں کو شدت سے محسوس تو کرتا ہے لیکن اس کا اظہار کسی سے بھی نہیں کر پاتا۔ اس خاندان کے دو لڑکے تھیلیسیمیا کے مرض سے مر جاتے ہیں اور وہ اداس گھرانا پوری طرح سوگواری میں ڈوب جاتا ہے۔ تب ان کے ساتھ اس کا رہنا ممکن نہیں رہتا اور وہ انہیں چھوڑ کر ایک بار پھر سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہے۔

ناول کے ایسے ہی اہم کرداروں میں منشیات فروش مراد اور پیالی بیگم بھی شامل ہیں جن کی کہانی قاری کو نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ ان کے برے انجام پر ناول کے راوی کی طرح قاری بھی کفِ افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں پاتا۔

راوی کے غیر مرئی وجود میں ڈھلنے کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ غیر مرئی وجود کا حامل صرف ناول کا راوی نہیں ہے، میں بھی ہوں بلکہ اس دنیا میں بسنے والا ہر آدمی تقریباً غیر مرئی وجود میں تبدیل ہو چکا ہے کیوں کہ ہم سب اپنی بے بسی اور مجبوری و لاچاری کے ساتھ ایک فاصلے پر رہتے ہوئے اپنے گردوپیش بسے لوگوں کو دھیرے دھیرے موت کی جانب بڑھتے دیکھتے رہتے ہیں اور لاکھ چاہنے کے باوجود ہم کسی کے لیے کچھ نہیں کر پاتے۔ ہم سب مرئی ہونے کے باوجود سراسر غیر مرئی ہیں۔ ہمارا ہونا نہ ہونا برابر ہے، ہم سب کھوکھلے ہیں۔ ٹی ایس ایلیٹ کے الفاظ میں :

We are the hollow men
We are the stuffed men.

ناول مرگِ دوام کے راوی کی مرئی سے غیر مرئی وجود میں ہو چکی یہ کایا کلپ کافکا کی شہرہ آفاق کہانی میٹا مارفوسس میں دکھائی گئی کایا کلپ سے بھی یکسر مختلف محسوس ہوتی ہے اور اس سے کہیں زیادہ ہول ناک بھی۔ کافکا صنعتی معاشرے کے ہاتھوں انسان کے کاکروچ بننے کی کہانی سناتا ہے جب کہ صدیق عالم دنیا بھر کے ملکوں کی حکومتوں کی خود غرضی اور کارپوریٹ ورلڈ کی ہوس ناکی اور سفاکی کے ہاتھوں دنیا بھر کے انسانوں کے مرئی سے غیر مرئی وجود میں منقلب ہونے اور ان کی مرگِ دوام کا پیغام دیتے نظر آتے ہیں اور یہ پیغام سراسر مبنی بر حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ دنیا میں بسنے والے تمام انفرادی انسان غیر مرئی وجود کے مالک ہیں اور مرگِ دوام کے علاوہ ان کا کوئی دوسرا مقدر نہیں ہے۔ وہ پوری طرح بے بس و لاچار ہیں۔ وہ کسی کے لیے کچھ بھی کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ غزہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔

صدیق عالم نے اپنے اس ناول کے ذریعے انسان کو لاحق کئی طرح کے مستقل خطرات کی جانب اشارے کیے ہیں کیوں کہ ایک ناول نگار اس کے سوا کر ہی کیا سکتا ہے۔ اب میں بھی اجمل کمال کی طرح یہ کہ سکتا ہوں : ”میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی موت سے پہلے یہ ناول پڑھ لیا۔“

Facebook Comments HS