کسان کی حالت زار: دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ
دہقاں ہے کسی قبر کا اگلا ہوا مردہ
بوسیدہ کفن جس کا ابھی زیر زمین ہے
اقبال کا یہ شعر جاگیردارانہ شکنجے میں جکڑے کسان کی حالت زار بیان کرتا ہے۔ وہ کسان جو افلاس کے ہاتھوں پستے ہوئے جاگیردار کی زمین پر ہل چلا رہا ہے وہ دراصل اپنے کفن کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہے محنت کی بے ثمری کا ایسی لرزا دینے والی منظر کشی اقبال جیسا شاعر ہی کر سکتا ہے۔ ان کے بقول حاکمان وقت اپنے عیش و عشرت کا سامان یوں کرتے ہیں۔
اس کے آبِ لالہ گوں کی خونِ دہقاں سے کشید
تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا
کسانوں کی خون پسینے کی کمائی سے خراج اور ٹیکس وصول کر کے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہوئے شراب کے جام لنڈھاتے ہیں۔ گویا غریب کسانوں کے کھیت کی مٹی ان کے لیے کیمیا ثابت ہو رہی ہے۔ اور یوں
اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے، مردِ غریب و بے نوا
جو انہیں وہ غریب اور مفلس مہیا کرتے ہیں جو شب و روز خون پسینہ بہاتے ہیں۔ اقبال کے یہ اشعار کیا پاکستان میں سراپا احتجاج کسان کی حالت زار کے عکاس نہیں؟ کسان کی محنت کا ثمر کھانے والے آڑھتی اور بیوپاری کروڑوں پتی بن جاتے ہیں مگر اس غریب کے دن نہیں پھرتے اور نہ ہی مالی آسودگی اس کے گھر کا رخ کرتی ہے۔ یوں مڈل مین ہی ساہوکار بن کر دونوں ہاتھوں سے کسان کو لوٹ کر خود مالا مال ہو جاتا ہے۔ دیہی معاشرہ کے رہن سہن سے آگاہ افراد، یقیناً گواہ ہیں کہ کس طرح کسان رات کو سانپوں اور بچھوؤں سے لڑ کر فصلوں کو پانی لگاتا ہے۔ مرغوں کی اذان کے ساتھ صبح کاذب کے وقت ایک مرتبہ پھر یقینِ کامل اور امیدِ واثق کا استعارہ بن کر ایک نئی صبح کا آغاز کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ نہ تو اسے اس کے خوابوں کی تعبیر مل پاتی ہے اور نہ ہی اس کی فصلِ گل میں خوشیوں کے پھول کھل پاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے باغِ تمنا میں نت نئی آرزوؤں کے بیج بوتا ہے مگر اس کی معاشی حالت جوں کی توں رہتی ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک اور اس پر اللہ کا خاص انعام ہے کہ چاروں موسم یہاں ہوتے ہیں وسیع و عریض زرخیز سونا اگلتی زمینیں ہیں تو معدنیات سے بھرے پہاڑ، کہیں دریاں تو کہیں سارا سال کھلی رہنے والی بندر گاہیں ہیں، پھلوں سے لدے باغات جس میں انواع و اقسام کے پھل اور میوے ہوتے ہیں۔ مگر یہاں بھی سرمایہ دارانہ نظام کا اژدھا پھن پھیلائے ساری خوشحالی کو نگلتا چلا جا رہا ہے۔ ہر سال کسانوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے وہ بے چارے اپنی ساری جمع پونجی اپنی فصل پر لگانے کے بعد قرض دار ہر کر انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو جائز منافع حاصل ہو گا اور اس سے وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرسکیں گے۔ سادہ کسان کو اس بات کی خبر نہیں ہوتی کہ اس کا استحصال کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ جان بوجھ کر گندم یا گنا اور دوسری فصلیں خریدنے میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کاشتکار اونے پونے داموں فروخت کر کے چلے جائیں۔ اسی لیے زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم، چینی، آلو، ٹماٹر جیسی چیزیں باہر سے درآمد کرنی پڑتی ہیں۔
اگر کسانوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے تو غذائی قلت دور، اناج اور دیگر سبزیوں کی درآمدی اخراجات سے نجات مل سکتی ہے۔ اپنی ضروریات سے زیادہ پیداوار ہم دوسرے ملکوں کو برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں جس سے ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے۔
کسان پر 22 اقسام کے ٹیکس عائد ہیں۔ آبیانہ ٹیکس 1958 سے آج تک آٹھ سو گنا بڑھایا جا چکا ہے۔ آبیانہ وصولی صرف پنجاب کے کسانوں سے ہوتی ہے۔ سندھ، بلوچستان اور دوسرے صوبوں سے نہیں کی جاتی حالانکہ وہاں بھی نہریں اور ٹیوب ویل ہیں۔ آب پاشی کا نظام ہے اس کے علاوہ امپورٹڈ وزیر اعظموں کے حکم پر آبیانے پر ہر سال 25 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ مشرقی پنجاب (بھارت) میں لگانوں کی شرح پنجاب (پاکستان) سے آدھی ہے۔ وہاں ٹریکٹر، ڈیزل، ٹیوب ویل اور کھادیں سستی ہیں۔ بھارت میں فصلیں یہاں سے دوگنی ہوتی ہیں۔ بھارتی پنجاب کا کسان خوشحال اور یہاں کا مفلوک الحال کیوں ہے؟
کہا جاتا ہے کہ کسان ٹیکس نہیں دیتے لیکن کسانوں پر یہ 22 زرعی لگان نافذ ہیں۔ 1 مالیہ، ۔ 2 آبیانہ، ۔ 3 چولہا ٹیکس، 4۔ لوکل ریٹ ٹیکس، ۔ 5 ایڈیشنل لوکل ریٹ ٹیکس، ۔ 6۔ پیشہ ورانہ ٹیکس، 7 محصول ٹیکس، ۔ 8۔ ٹال ٹیکس، ۔ 9۔ ترقی ٹیکس، ۔ 10۔ ضلع ٹیکس، ۔ 11۔ میونسپل کمیٹی ٹیکس، ۔ 12۔ باغ ٹیکس، ۔ 13 چوکیدار ٹیکس، ۔ 14 زرعی مشینری ٹیکس، ۔ 15۔ اقرا ٹیوب ویل بجلی پر ایڈیشنل سرچارج، ۔ 16۔ سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی، ۔ 17۔ رجسٹری فیس کے ساتھ الگ ضلع ٹیکس، ۔ 18۔ منڈی مویشیاں پر فی جانور ٹیکس، ۔ 19۔ ملز ٹیکس (شوگر ملیں ) کسان سے ٹیکس وصول کرتی ہیں، ۔ 20۔ زرعی ٹیکس معین قریشی دور سے ہر چھوٹے بڑے کاشتکار پر فلیٹ ریٹ پر نافذ کیا گیا، ۔ 21۔ مالکانہ ٹیکس، ۔ 22۔ جگا ٹیکس جو محکمہ مال کے اہلکار کسانوں سے وصول کرتے ہیں۔
پاکستانی کسان اپنی خوراک کی ضروریات کے ساتھ، دیہات کی ساٹھ، ستر فیصد آبادی کی روٹی کا بندوبست بھی کر رہا ہے اور شہروں میں بھی گندم بھیج رہا ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ اگر کسان کی فصل کم ہو یا کاشت صرف اپنی ضرورت کی حد تک ہو اور پاکستان کو اربوں ڈالرز کی اجناس باہر سے مہنگے داموں منگوانی پڑیں تو اس پر کتنا زر مبادلہ خرچ ہوتا؟
فرانس میں اٹھارہویں صدی میں مزدور اپنی اجرت کا نصف روٹی پر خرچ کرتا تھا۔ 1788 اور 1789 میں غلے کی پیداوار بہت کم ہو گئی، تو مزدور کی اجرت، 88 فیصد روٹی پر خرچ ہو نے لگی۔ روٹی کی قیمتیں آسمان کو پہنچ گئیں۔ ابھی غریب روٹی کو ترس رہے تھے کہ نمک پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا جو اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ لوگ بغاوت پر تُل گئے اور ان حالات میں فرانس کی ملکہ کا وہ جملہ جلتی پر تیل کا کام کر گیا کہ روٹی نہیں مل رہی تو کیک کھا لو۔
پاکستانی کسان ساری لوٹ مار کے باوجود غلہ پیدا کر رہے ہیں، جس کا اس وقت کوئی خریدار نہیں۔ حاکمان وقت ڈریں اس وقت سے جب کروڑوں لوگ غلہ تلاش کر رہے ہوں اور انہیں غلہ نہ ملے، اور پھر جو کچھ فرانس کے بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ ہوا، اس کی تفصیلات پڑھ کر آج تین سو سال بعد بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ موجودہ بحران کی وجہ نگران حکومت کا گندم امپورٹ کرنے کا وہ اجازت نامہ ہے جو دو ماہ بعد نئی آنے والی فصل سے پہلے دیا گیا۔ لاکھوں ٹن گندم دو ماہ پہلے لا کر مارکیٹ میں پھینک دی جائے گی تو کسانوں کی گندم کون خریدے گا؟ حکومت نے غیرملکی کسانوں کو تو ڈالرز دے دیے لیکن اپنے کسان کو روپے میں بھی ادائیگی کے لیے تیار نہیں۔
وافر گندم کے باوجود 35 لاکھ 87 ہزار ٹن گندم در آمد کی ای سی سی نے نجی شعبے کو اجازت دی۔ یکم اپریل 2024 تک 43 لاکھ ٹن گندم حکومت کے پاس موجود تھی، مارچ میں سندھ کی گندم کی نئی فصل آنے کے باعث گندم درآمد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس غلط فیصلے سے ایک ارب ڈالر زرمبادلہ بھی ضائع ہوا اور گندم کے کاشت کار بھی رل گئے۔ سرکاری ریٹ 3900 روپے تھا تو اب ڈھائی سے تین ہزار روپے کے درمیان مڈل مین دے رہا ہے۔ اب کسانوں کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ کم قیمت پر اپنی گندم بیچیں اور نقصان اٹھائیں۔ سارا سال کسانوں نے فیکٹریوں کی مقرر کردہ قیمت پر کھاد خریدی، سرکاری ریٹ پر تیل اور بیج خریدا، سرکاری ریٹ سے بجلی کے نرخ ادا کیے، لیکن اب جب ان کی فصل آئی ہے تو سرکار اپنے ریٹ پر بھی گندم نہیں خرید رہی۔ ایسے میں کسان احتجاج نہ کرے تو اور کیا کرے۔
سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا یہ کہنا کہ گندم حکومت نے نہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر نے امپورٹ کی تھی۔ ہم نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تھا۔ ”عذر گناہ بد تر از گناہ“ کا مصداق ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں گندم سستی ہوئی تو پرائیویٹ سیکٹر نے گندم خرید کر ان کے بقول اس کا فائدہ اٹھایا۔ سوال یہ ہے کہ سرمایہ داروں نے لوٹ مار کرلی لیکن مقامی کسان اسی فیصلے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اس کا جواب وہ دینے کے لیے تیار نہیں۔ خدا کرے کہ ”تنگ آمد بہ جنگ آمد“ کے مصداق کسان علامہ اقبال کے اس شعر پر من و عن عمل پیرا ہونے کا عزم نہ کر لیں کہ:
جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
اگر ایسا ہوا تو پھر کوئی راہ سجھائی نہیں دے گی


