بابر، پاکستانی ٹیم اور دوستی یاری
پاکستان کی سلیکشن کمیٹی نے دورہ آئر لینڈ اور انگلینڈ کے لیے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کی کپتانی بابر اعظم کر رہے ہیں۔ 25 مئی سے قبل ورلڈ کپ اسکواڈ کا اعلان کرنا لازمی ہے۔ بابر اعظم، صائم ایوب اوپننگ بلے باز ہوں گے۔ صائم ایوب کو ان کے جارحانہ انداز کی وجہ سے موقع دیا جا رہا ہے۔
مڈل آرڈر میں محمد رضوان، عثمان خان، سلمان علی آغا، فخر زمان، محمد عرفان خان، اعظم خان اور افتخار احمد کو شامل کیا گیا۔ افتخار احمد کو مسلسل ناکامیوں کے باوجود موقع فراہم کیا جا رہا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
محمد حارث افتخار احمد کے اچھے متبادل ثابت ہوسکتے ہیں جن کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے
اور اعظم خان کو ان کے سی پی ایل ( کیریبین لیگ) کے تجربے کی وجہ سے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعظم خان اسپن بولنگ کو کھیلنے میں نہایت مہارت رکھتے ہیں۔
اگر پاکستان کی بولنگ کے اوپر نظر ڈالی جائے تو تو عماد وسیم، شاداب خان اور ابرار احمد بطور اسپنر شامل کیا گیا ہے۔ اسامہ میر کو پی ایس ایل میں بہترین کارکردگی کے باوجود ابرار احمد کو موقع دیا گیا ہے۔
فاسٹ بالنگ کا شعبہ نہایت مضبوط نظر آ رہا ہے۔
شاہین شاہ آفریدی، محمد عامر، نسیم شاہ، حارث روث، محمد عباس آفریدی شامل ہیں۔
سرپرائز اینٹری حسن علی کی ہوئی ہے۔ جو کہ اس وقت انگلینڈ میں کاونٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
حسن علی کے برعکس محمد وسیم کو پاکستانی ٹیم کو حصہ ہونا چاہیے تھا جو گزشتہ دو سال سے ٹیم کے ساتھ ہیں۔ اور 2023، 22 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے سب سے نمایاں بالر تھے۔ محمد وسیم کی خاصیت یہ ہے کہ آخری اوور میں یارکر کر سکتے ہیں۔ اور بیٹسمین کو کھل کر کھیلنے نہیں دیتے۔
بابر اعظم پر سابق کرکٹرز کی جانب سے سب سے تنقید اس بات پر کی جاتی ہے کہ وہ دوستی یاری کو میرٹ پر فوقیت دیتے ہیں۔ جیسے گزشتہ ورلڈ کپ میں محمد نواز، شاداب خان کو بری فارم کے باوجود بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔ اور ابرار احمد کو ریزرو کھلاڑیوں میں رکھا گیا۔ جس کے باعث پاکستانی اسپنرز ورلڈ کپ میں کوئی خاطر خواہ پرفارمنس نہیں دے سکے۔
حالیہ اسکواڈ کو دیکھا جائے تو پی۔ ایس۔ ایل میں سب سے زیادہ وکٹس لینے والے بالر محمد علی ہیں، محمد وسیم گزشتہ دو ورلڈ کپ سے ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان کی جگہ دو سال سے ٹیم کا حصہ نہ ہونے والے حسن علی کی شمولیت بہت سے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ اور اگر کارکردگی کو دیکھا جائے تو بھی بہت سے بالر حسن علی سے قدرے بہتر ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ آئر لینڈ اور انگلینڈ میں اچھی کارکردگی سے اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں گی۔

