ڈیلی ریزولوشن


اگر آپ اپنے سال کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو اپنے ہر دن کو فتح کرنے کا طریقہ سیکھیں!

اس سال کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہے، یکم جنوری کا دن یاد کیجئے جب آپ نے اس سال کو اپنی زندگی کا بیسٹ آف دی بیسٹ ائر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ آپ نے اپنے لئے اہداف کی ایک طویل فہرست بنائی تھی۔

یہاں میرا آپ سے ایک سوال ہے آپ نے ابھی تک اپنے اہداف کے حصول کے لئے کتنا کام کیا ہے، کیا آپ اپنی پروگریس سے مطمئن ہیں۔ جس رفتار سے آپ نے پہلے چار مہینے کام کیا ہے کیا اسی رفتار سے آگے بھی کام کر کے آپ اپنے اہداف کو حقیقت بنا سکتے ہیں؟

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ تقریباً 97 فیصد لوگ پہلے مہینے کے اندر اندر ہی اپنے اہداف کو بھول چکے ہوتے ہیں، اور انھیں یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ انھوں نے جس ڈائری پر اپنے اہداف تحریر کیے ہیں وہ ہے کہاں۔

لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں اس کے پیچھے بہت سی نفسیاتی وجوہات ہیں، جیسے کہ آپ کے اہداف آپ سے تبدیلی چاہتے ہیں، ایک نئی اور مختلف روٹین کا تقاضا کرتے ہیں جو کہ بہت سے لوگ نہیں کر پاتے۔ خود کو تبدیل کرنا ہی دنیا کا کٹھن ترین مرحلہ ہے۔ جو شخص اس مرحلے کو طے کر جائے اس کے آگے پھر دنیا سرنگوں ہو ہی جاتی ہے۔

وزن کم کرنا ہے تو پانچ بجے اٹھ کر بھا گنا ہو گا، پتے کھانے ہوں گے، میٹھا چھوڑ نا ہو گا، اپنے محبوب حلووں سے کنارہ کشی کرنی ہوگی۔ گو یا اپنے آپ کو نئے سرے سے ایجاد کرنا ہو گا۔ یہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے جسے ہر روز جینا پڑتا ہے اور تبھی اس نیت کی عمر 10 یا 15 دن تک ہوتی ہے۔

تاہم یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ ان تین فیصد کے بارے میں ہے جو اپنے خوابوں کو لکھتے ہیں، جیتے ہیں اور پھر سچا کر دکھاتے ہیں۔

اپنے لئے گولز طے کرنا، انھیں لکھنا ایک بات ہے اور ان کے حصول کے لئے راستے میں ملنے والے درد ہو گلے لگانا دوسری بات۔

بہت سے لوگ یہی درد سہنے سے گریز کرتے ہیں اور اپنے گولز سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔

اگر آپ نے کسی جزیرے پر پہنچنا ہے تو کشتی پر سوار ہونا ہو گا۔ آپ نے طے کر لیا ہے کہ آپ کو کس جزیرے پر جانا ہے اور کشتی پر بھی سوا ر ہوچکے ہیں مگر جب تک چپو نہیں چلائیں گے کشتی نہیں چلے گی اور منزل قریب نہیں آئے گی۔ چپو چلاتے ہوئے آپ کو درد تو ہو گا۔ تھکاوٹ بھی ہوگی، بازو دکھنے لگیں گے لیکن اگر آپ چپو چلانا چھوڑ دیں گے تو قریب آتی منزل بھی دور ہونے لگے گی۔

یہی مثال آپ کے اہداف کی ہے۔ آپ کی روزانہ کی سرگرمیاں اور اپنے گولز کو حاصل کرنے کے لئے سہ جانے والا درد اس چپو کی مانند ہی ہے جس کے چلنے سے کشتی نے اپنی منزل تک پہنچنا ہے۔

اگر آپ منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں اور مسلسل اپنی کشتی کے چپو چلائے رکھنا چاہتے ہیں تو نیو ائر ریزولوشن کو بھول جائیں۔ اور روزانہ کے پروسس پر توجہ دینا شروع کر دیں۔ بس اپنی کشتی کو سمندر میں اتاریں اور چپو چلانا شروع کر دیں۔ یقین کیجیے کہ یہی کامیابی کی کلید ہے۔ ڈیلی ریزولوشن کیا ہے اور کیسے تمام کامیاب لوگ اسی کو فالو کر کے اپنے اپنے شعبے کے ایورسٹ سر کرتے ہیں۔ آئیے اس کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔

1۔ آٹو پر آ جائیں :

اپنے اہداف کے مطابق ایک روٹین سیٹ کریں اور انھیں حاصل کرنے کے لئے اسے روزانہ کی بنیاد پر فالو کرنا شروع کریں۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو معمولی سے ورزش سے شروع کریں اور ہر دن اسے اسے تھوڑا بڑھاتے جائیں، اسی طرح اگر آپ صبح سویرے اٹھنے کی عادت اپنانا چاہتے ہیں تو ہر روز اٹھنا شروع کریں۔ اگر آپ تیس دن تک ایسا کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ کو یہی کام کرنا مشکل نہیں لگے گا۔

2۔ 30 دن کا چلہ لگائیں :

یوں تو چلہ چالیس دن کا ہوتا ہے لیکن سال کے چوں کہ بارہ مہینے ہوتے ہیں تو اس حساب اسے تیس دن کے بارہ چلے لگانا آسان ہو جائے گا۔ اس کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ 365 دنوں کی بجائے تیس دنوں کا حساب کتاب رکھنا آسان ہے اور آپ اپنے آپ کو دسمبر تک انتظار کرنے کی بجائے اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کو پکڑ سکتے ہیں۔ کسی کام کے لیے اگر آپ چلہ لگانے کو تیار ہیں تو اس میں آپ کی کامیابی کے امکانات 80 فیصد بڑھ جائیں گے۔

مثال کے طور پر اگر وڈیوز بنانا چاہتے ہیں تو تیس دنوں بعد اپنی پروگریس چیک کر سکتے ہیں، اگر مطالعہ کرنے کی عادت اپنا چاہتے ہیں تو تیس دنوں بعد دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے کس حد تک اپنی عادت کو پختہ کرنے کے لئے کام کیا ہے۔

30 دن پکا رہنے کے لیے شروع میں اپنی پسند کا پڑھیں اور پھر اپ گریڈ کر لیں۔ فیس بک کا پڑھنا اس میں شمار مت کریں۔ آدھا وقت روزانہ کتاب کے ساتھ گزاریں۔ اگر ہو سکے تو مطالعے کے لئے وقت مختص کر دیں اور پھر اس وقت میں صرف مطالعہ ہی کریں۔

3۔ جرنل لکھنا شروع کریں!

جرنل لکھنے کے جادوئی اثرات ہیں۔ بہت کی تحقیقات سٹریس اور پریشانی ڈائری لکھنے کے حیران کن تھیرا پیونک اثرات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اگر کاغذ قلم استعمال کریں تو بہتر ہے۔ اگر اس میں پرائیویسی کا ایشو ہو تو بلٹ جرنل یا مختلف ایپس استعمال کر لیں۔

4۔ گولز سلیکشن پر توجہ دیں :

ماہرین کے مطابق گولز کے حصول میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے کچھ گولز آپس میں متصادم ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس گنی چنی توانائی اور محدود وقت ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ گولز سلیکشن کی جائے۔ اگر آپ کے گولز 30 عدد ہیں تو ان کو کم کرتے ہوئے 10 تک پہنچ جائیں، اور اگر 10 عدد ہیں انھیں کم کر کے تین عدد تک کر دیں۔ آپ کو دعوے سے کہ سکتا ہوں اگر آپ کے پاس تین عدد گولز ہیں جن کے سسٹم پر آپ روز کام کرنے کو تیار ہیں اور تیس دن تک ایسا کر جاتے ہیں تو آپ کو اس ضمن میں کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

5۔ اگلے دن کی پلاننگ کرنا نہ بھولیں :

ہر روز دن ختم ہونے پر اگلے دن 6 کاموں کی فہرست بنائیں۔ کسی صورت میں بھی فہرست اس سے بڑی نہ ہو۔ ان 6 کاموں کو ترتیب دے لیں اور سب سے ضروری کام کا سب سے پہلے آغاز کریں۔

ایک کام مکمل کرنے سے پہلے اگلا کام مت کریں۔ دن کے اختتام پر اگلے دن کے چھ کاموں کی فہرست بنا لیں۔ یہ طریقہ جادوئی اثر کا حامل ہے۔ اس رویے کو اپنی شخصیت کا لازمی حصہ بنا لیں۔ اس کے بعد اپنی ترقی کی رفتار دیکھ کر آپ خود بھی حیران ہو جائیں گے۔

6۔ ڈیڈ لائن متعین کریں :

ایک واضح اور متعین شدہ ڈیٹ کے بغیر ہدف صرف ایک خواہش ہے، خیال ہے، خواب ہے۔ اپنے مقصد کو حقیقت تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے اس کی تکمیل کی واضح تاریخ طے کی جائے۔

اپنے بڑے مقصد کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں اور ہر روز اس کا ایک نوالہ بنا کر کھاتے جائیں، ایک دن آئے گا کہ آپ اس کا آخری نوالہ بھی حلق سے اتار چکے ہوں گے۔

7۔ اہداف کے مطابق اپنا ماحول ترتیب دیں :

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ماحول کا گولز کے ساتھ کیا تعلق ہے، تو جناب بہت گہرا تعلق ہے۔ ماحول ہی ہوتا ہے جو آپ کی عادتیں بناتا بھی ہے اور بگاڑتا بھی ہے۔

اگر یہ بات سمجھنے میں آپ کو مشکل پیش آ رہی ہے تو اس مثال کو غور سے بڑھیں۔

اگر آپ سوتے ہوئے فون اپنے سرہانے رکھ کر سوتے ہیں تو اٹھتے ہی سوشل میڈیا اور ای میل چیک کرتے ہوئے روزانہ ایک سے دو گھنٹے ضائع کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔

وہ لوگ جو صبح اٹھنے کے بعد تیار ہونے تک فون چیک نہیں کرتے، وہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ بچا لیتے ہیں۔

اگر فریج میں کولڈ ڈرنک رکھے ہوئے ہیں تو ہر روز ایک گلاس آپ کے گلے سے اتر کے ہی دم لے گا۔ اسی ماحول کو اپنے گول کے حساب سے ارینج کر لیں تو یہ آپ کا معاون ثابت ہونے لگے گا۔

یاد رکھیں کہ اپنے گولز تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ آپ خود ہیں۔ اپنے آپ کو آہستہ آہستہ نئی عادات سیکھ کر اپنے گولز کے مطابق عمل کرنا سیکھیں۔

اس آرٹیکل کو پڑھنے کا فائدہ آپ کو تب ہو گا جب آپ صرف موٹی ویٹ ہونے کی بجائے عمل کر گزریں گے۔
تو پھر کیا آپ عمل کے لئے تیار ہیں؟

Facebook Comments HS