آزادی صحافت کا عالمی دن
ہر سال تین مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ابتداء اقوام متحدہ کی ایماء پر آج ہی کے دن تین مئی 1993 کو ہوئی تھی۔ اس طرح سال رواں میں یہ اکتیسواں عالمی یوم آزادی صحافت ہے۔ اس دن سے پہلے شاید صحافت اور قلم کی اتنی بری حالت نہ ہو جتنی اب 1993 کے بعد ہو چکی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے کبھی یہ دن منایا بھی نہیں جاتا تھا۔ قلم اور صحافت کی حالت زار مختلف خطوں اور ممالک میں مختلف لیکن بہت اچھی نہیں رہی ہے بلکہ مزید جکڑی جا رہی ہے۔
طاقت کے حد سے زیادہ استعمال، بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان، سیاست کے اندر رواداری و جمہوری اصولوں کے فقدان کے باعث صحافت بری طرح خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ غزہ میں جاری دو سو دنوں کی جنگ میں ایک سو صحافیوں کی ہلاکتوں نے اب صحافت پیشہ کو خطرات سے کھیلنے والا پیشہ بنا دیا ہے۔ اب تو یہ حالت ہو چکی ہے کہ کسی کے خلاف خبر لگانے پر صحافی کسی بھی کسی اندھی گولی شکار ہو سکتا ہے۔ موجودہ دور مفادات کا دور ہے جس میں اداروں کے مالکان نے قلم اور صحافت کی حرمت کی پاسداری کا نعرہ ترک کر کے مفاد پرستی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔
اس صورتحال میں ایک صحافی اپنا روزگار ہی نہیں بلکہ جان چھن جانے کے خطرہ سے بھی دوچار ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بیشمار صحافتی تنظیمیں موجود ہونے کا باوجود مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ملک ہو یا ترقی پذیر، دونوں ممالک میں صحافت خطرات میں گھری دکھائی دیتی ہے۔ آزادی صحافت کان منانے کا بنیادی مقصد تجدید عہد کرنا ہوتا ہے کہ صحافت سے وابستہ سبھی صحافی اور تنظیمیں ہر قسم کے دباؤ سے بالاتر ہو کر اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دیتی رہیں گی اور تشدد پسند عناصر اور ریاستی دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام الناس کو سچی خبروں کی ترسیل جاری رکھیں گی لیکن یہ اب بہت آسان نہیں رہا۔
اگر اپنے ملک کی بات کریں تو کیا کریں؟ یہاں تو لاٹھی اور بھینس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ملک کا چوتھا ستون قرار دینے کے باوجود ملکی صحافت مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ صحافیوں کو دباؤ میں رکھنے کے لئے ہر قسم کے سیاسی و دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک عالمی صحافتی تنظیم ”فریڈم نیٹ ورک“ کی ایک تازہ ترین رپورٹ جو اسی دن کی مناسب سے جاری کی گئی ہے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال میں چار صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے جبکہ جبکہ 104 مقدمات درج ہوئے۔
200 صحافیوں کو حکومتی اداروں کی طرف سے نوٹس جاری کیے گئے۔ پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں ”پیکا“ قوانین کے تحت آن لائن انفرادی رائے دینے پر بھی قانونی کارروائی کردی جاتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی طرح صحافت کی تاریخ آج بھی نازک دور سے گزر رہی ہے۔ یہ نازک دور کب ختم ہو گا کوئی نہیں جانتا۔ تین مئی جمعہ کے دن جاری ہونے والی رپورٹرز ود اؤٹ بارڈرز (RSF) کے مطابق ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2024 میں پاکستان اس سال 152 نمبر ہے جبکہ گزشتہ سال اس کا 150 واں نمبر تھا۔
دو نمبر نیچے آیا ہے حالانکہ اس سال ملک میں جمہوری اور سول حکومت کا دور دورہ تھا۔ مزید المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی قسم کے ضابطہ اخلاق یا اصولوں کی پابندی کرنے کا کوئی رواج پروان نہیں چڑھ سکا نہ ہی ایک صحافی بننے کا کوئی طریقہ کار موجود ہے۔ کسی اخبار یا نیوز چینل میں نوکری کر کے پریس کارڈ بنوا کر کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ تعلیمی معیار قابلیت اور اہلیت نہیں پرکھی جاتی۔ اسی لئے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
صحافت میں قلم کا تقدس سچ کا ساتھ دینے اور سچ لکھنے میں پوشیدہ ہے لیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ جرمنی میں ایک صحافی بننا ڈاکٹر بننے سے زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔ پاکستان کے مسائل پہلے سے زیادہ الجھے دکھائی دیتے ہیں۔ خواہ وہ سیاسی ہوں، معاشی ہوں یا صحافتی۔ لیکن ان سبھی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ مغربی جمہوری ممالک میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں لیکن ہمارے پتہ نہیں کون ہے؟ یہاں طاقتور کی زبان اور قلم کی جنبش ہی سب کچھ ہوتا ہے۔
آج بھی یہی کچھ وہ رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے اندر سیاسی و مذہبی انتہا پسندی نے نچلی سطح پر گہرے اثرات ڈالے ہیں اور صحافت بھی اس سے بچ نہ سکی۔ جس کی مثالیں مختلف گاہے بگاہے پابندیوں کی دھمکیوں اور نت نئے اداروں کی تشکیل کی شکل میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ دباؤ ڈالنا ہمارے معاشرتی و سماجی کلچر کا ایک اہم جزو بن چکا ہے اسی لئے صحافت اور صحافی تنظیمیں بھی ان دباؤ سے آزاد نہیں ہیں۔ جھوٹی خبر شائع کرنے پر پکڑنے کا کوئی موثر نظام نہیں ہے اور جو قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد نہ ہونے سے وہ بانجھ ہوچکے ہیں۔
نفرت انگیز خبروں اور تعصب پھیلانے والے مضامین کی اردو صحافت میں اشاعت عام ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے اندر اردو پرنٹ میڈیا اور انگریزی میڈیا کا واضح فرق موجود ہے۔ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ اردو پرنٹ میڈیا نے ملک کے اندر مذہبی انتہا پسندی کے فروغ میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ شہ سرخیوں میں توازن ہونے کی بجائے انتہا پسندی نمایاں ہوتی ہے۔ وقت گزرتا ہی جا رہا ہے جیسا بھی ہے۔ ”رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز“ کی آزادی صحافت کے عالمی دن پر جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق یہ سال بھی صحافیوں کے لئے کوئی خوش کن ثابت نہ ہوا۔
آزادی صحافت میں افریقی ملک اریٹیریا سب سے بدترین ملک قرار پایا۔ عالمی صحافتی ادارے کی رپورٹ میں دنیا کے تین چوتھائی ممالک ”برے“ قرار دیے گئے ہیں۔ آزادی صحافت کے حوالے سے پہلی تین پوزیشنیں یورپین ممالک نے حاصل کی ہیں۔ ان میں ناروے پہلے نمبر پر، ڈنمارک دوسرے اور سعیڈن تیسرے نمبر پر رہا ہے۔ آزادی صحافت میں نچلے درجے کے دس ممالک میں چین، ایران، شمالی کوریا، شام اور اریٹیریا شامل ہیں۔ ایشیا پیسفک دنیائے صحافت کے لئے دوسرا خطرناک ترین خطہ قرار دیا گیا جس میں دنیا کے دس خطرناک ممالک میں پانچ ایشین ممالک شامل ہیں جن میں میانمار ( 171 ) ، چین ( 172 ) ، شمالی کوریا ( 177 ) ، ویت نام ( 174 ) اور افغانستان ( 178 ) شامل ہیں۔ رپورٹ میں بیان کردہ رینکنگ کے اہم ممالک میں برطانیہ کا 57، امریکہ 55 ویں نمبر پر رہا۔ سعودی عرب کا 166 اور عرب امارات کا 160 واں نمبر رہا۔


