بھگوان کا گورکھ دھندا
میرا خیال تھا کہ بھگوان سے ملنا بہت آسان ہو گا۔ خاص طور پر اگر آپ کو سورگ میں جگہ مل گئی ہو تو آپ اپنے آپ کو ایک طرح سے وی آئی پی ہی سمجھتے ہیں۔ ایک انتہائی اہم شخص جس پر مرنے کے بعد جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں جسے بھگوان کی آشیرباد میسر ہو، جس سے بھگوان سہمت ہو، اسے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ وہ تو چنیدہ ہے جو چاہے کرے، جو سمجھے، اس پر عمل کر ڈالے۔ سورگ باشی ہونے کا مطلب تو یہی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا اور میں یہی سمجھا کہ اب سب کچھ ممکن ہے ہو گا وہاں پر۔
مرنے کے بعد سورگ تک پہنچنے میں دن لگ گئے۔ تیرا دن تک تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے۔ ہر طرف ایک طرح سے کنفیوژن سی پھیلی ہوئی تھی۔ ایک لمحے میں جس گھر میں میرا ٹھکانہ تھا ایک ایسی اداسی کی چادر پھیلی کہ میں خود بھی حیران ہو گیا۔ موت کے بعد کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ سب کے ہی ساتھ ایسا ہوتا ہو گا، بندہ مرتا تو صرف ایک دفعہ ہے۔ میری نظروں کے سامنے ہی سب کچھ ہو رہا تھا۔ پہلے تو میری بیوی مکمل طور پر خاموش ہو گئی پھر رونا شروع کیا تو اس قدر روئی کہ میں خود بھی پریشان ہو گیا۔ میرا خیال نہیں تھا کہ وہ اس قدر زیادہ روئے گی کہ اپنے آنسوؤں پر قابو ہی نہیں پا سکے گی۔ پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ وہ کتنی شدت کے ساتھ مجھ سے محبت کرتی رہی ہے۔ یہ کوئی بناوٹی ادا نہیں تھی، یہ کوئی نخریلا عمل نہیں تھا، یا کسی بات کو منوانے کے لیے جعلی آنسو نہیں تھے۔ وہ رو رہی تھی اور پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اس کا رونا دیکھ کر مرنے کے بعد مجھے شدید تکلیف ہوئی تھی۔ من تو یہ چاہا کہ فوراً اسی مردہ بدن میں چلا جاؤں جو صحن کے بیچ میں برف کے بڑے بڑے سلیبوں پر رکھا ہوا تھا۔ دونوں پیروں کو انگوٹھوں کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔ ناک میں نہ جانے کیوں روئی کے پھاہے ڈال دیے گئے تھے۔ مگر ایسا ممکن نہیں تھا یہ تو صرف بھگوان ہی کر سکتے تھے اور بھگوان کبھی بھی اپنے بنائے ہوئے قانون توڑتے نہیں ہیں۔
مرنے سے پہلے میں خود ہی دوستوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں مرے ہوئے لوگوں کو اس طرح دیکھ چکا تھا لیکن اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال نہیں آیا تھا۔ اب جب کہ میں مر چکا تھا میرا مردہ شریر میرے گھر کے صحن میں اسی طرح سے رکھ دیا گیا تھا جو صدیوں کی ریت ہے، میرے انگوٹھے بندے ہوئے تھے اور میری ناک اور کان میں روئی کے پھاہے رکھے گئے تھے، اس عجیب و غریب حلیے میں مجھے اپنے شریر کو دیکھ کر ہنسی آ گئی تھی۔
گھر میں سب کی نظروں سے اوجھل ادھر ادھر گھومتے ہوئے مجھے عجیب سا لگ رہا تھا مگر مجھے خوشی بھی بہت ہو رہی تھی۔ کس قدر لوگ جمع ہو گئے تھے، قریب اور دور کے پڑوسی، چھوٹی اور بڑی مارکیٹ کے دکاندار، محلے کے گھروں کے ڈرائیور، مالی اور گھر میں کام کرنے والے لوگ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ لوگ مجھے جانتے تھے اور چاہتے تھے۔
مرنے کے فوراً بعد سے ہی لوگ گھر آنا شروع ہو گئے۔ سب سے پہلے تو محلے والے آنا شروع ہوئے۔ بیٹا بہو امریکا سے اور بیٹی لندن سے روانہ ہو چکی تھی۔ اسی لیے ان کے انتظار میں میرے مرے ہوئے جسم کو برف کی سلوں پر رکھا گیا تاکہ گلنے سڑنے سے بچایا جا سکے۔ سارے گھر والوں نے سفید کپڑے پہن لیے تھے۔ میں انہیں دیکھ رہا تھا، ان کو سن رہا تھا اور دل ہی دل میں خوش بھی ہو رہا تھا کہ اتنے زیادہ لوگ میرے گھر کا چکر لگا رہے تھے۔ مجھے لگتا تھا کہ تیسرا دن مکمل نہ ہو تو اچھا ہے، کتنی رونق لگی ہوئی ہے گھر میں۔
سمانا، پرانا، ادھانا، اپانا اور وبانا کا کام شروع ہو چکا تھا۔ جس کے رو سے میری روح جسم کے مختلف حصوں سے آہستہ آہستہ نکلتی جا رہی تھی۔ بھگوان کے بنائے ہوئے کروڑوں سال کے اصول اپنے طریقے سے عمل پیرا تھے۔ دوسرے دن ہی تقریباً سب لوگ پہنچ گئے تھے اور مجھے جلانے کا مکمل اہتمام ہو چکا، پنڈت جی گھر پر آ کے کئی دفعہ پوجا پاٹ کرچکے تھے اب صرف امریکا سے آنے والے بیٹے کا انتظار تھا، پھر جیسے ہی وہ پہنچا تھا ویسے ہی ایک بار پھر شور بپا ہو گیا تھا وہ اپنی بہن اور اپنی ماں کے گلے لگ کر زار و قطار رویا، بظاہر لاپروا نظر آنے والا میرا بیٹا مجھے اتنا چاہتا ہو گا، میرے من کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ بیٹے کے آنے کے بعد اور پنڈت جی کی ہدایت کے مطابق مرگھٹ میں میرا جسم لے جا کر جلا دیا گیا تھا۔ جسم جلنے کے باوجود میری روح ابھی تک گھر ہی میں تھی اور موت کے تیرہویں دن تک مجھے وہیں رہنا تھا بچپن سے ہم سب کو یہی کچھ بتایا جاتا ہے اور مرنے کے بعد یہ سب کچھ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔
شریر کے جلائے جانے کے دوسرے دن شام کو میرے دفتر کے سارے لوگ میرے گھر آئے تھے جہاں پنڈت جی پہلے سے موجود تھے۔ انہوں نے ان سب کے سامنے ان سے مل کر میرے لیے پراتھنا کی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر اچھا لگا تھا کہ دفتر کے زیادہ لوگ شکل سے ہی اداس لگ رہے تھے، جیسے انہیں میرے مرنے کا شدید غم اور افسوس ہو۔ میں نے دفتر میں کام میں کبھی کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ ہر ایک کا خیال رکھا تھا، ان کے کام آیا تھا، خاص طور پر جو نچلا عملہ تھا ان کے دکھ درد میں ہمیشہ شامل رہا تھا۔ جب تک وہ لوگ موجود رہے میں ہر ایک کے پاس گیا، ان کے جسموں کے درمیان سے ہوتا ہوا پھر دوبارہ اپنے خاندان کے ساتھ آ کر مل جاتا تھا۔ یہ سب کچھ کرنے میں مجھے کافی مزا آ رہا تھا۔
مجھے بڑی خوشی ہوئی اس دن جب ہماری سوسائٹی کے سارے ملازمین ڈرائیور میرے گھر آئے۔ وہ میری موت کا آٹھواں دن تھا، انہوں نے ہمارے گھر میں کھانا کھایا تھا، پنڈتوں کے ساتھ بیٹھ کر میرے لیے دعائیں کی تھیں، میری بیوی، میرے بچوں سے ملے تھے۔
دسویں دن شرادھا کی رسم والے موقع پر میں اس وقت حیران ہو گیا جب تین ایسے لوگ گھر پر آئے جن سے میں شدید نفرت کرتا تھا، جنہوں نے ساری زندگی مجھے اور میرے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی زندگی کا مقصد ہی مجھے تباہ کرنا تھا۔ وہ تینوں آگے پیچھے اس دن آئے تھے، مجھے یقین تھا کہ یہ کوئی منصوبہ بندی کر کے آئے ہیں۔ مجھے حیرت تو اس وقت ہوئی جب میں نے دیکھا کہ میرے بیٹوں اور یہاں تک کہ میری بیوی نے بھی ان کی پذیرائی کی۔ صرف بیٹی تھی جو انہیں دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔ بیٹیاں زندگی میں بھی باپ کا ساتھ دیتی ہیں، مرجانے کے بعد اپنے باپ کا تحفظ کرتی ہیں، مجھے اچھا لگا مگر میں نے سوچا تھا کہ زندہ رہ جانے والے رشتہ داروں کو آگے بڑھنا چاہیے، غلطیوں کو معاف کر کے۔ یہ سوچ کر میں نے انہیں معاف کر دیا کہ اب تو میں مر ہی چکا ہوں اور مرنے کے ساتھ ہی دنیا کے غم بھی ختم ہو گئے ہیں۔
تیرہویں دن میری مکتی ہو جائے گی پھر میں اس گھر میں نہیں ہوں گا۔ ایسے گھر میں جہاں میں نے زندگی کے بڑے اچھے سڑسٹھ سال گزار دیے تھے۔ شادی کے تین سال بعد اس بڑے نئے گھر میں میں پتا جی، ماتا جی اور چھوٹی بہن کے ساتھ منتقل ہو گیا تھا۔ اسی گھر میں چھوٹی بہن کی شادی ہوئی تھی۔ پتا جی، ماتا جی کا دیہانت ہوا تھا اور میرے بچے پیدا ہوئے تھے، اسی گھر میں لکشمی نے میری مدد کی تھی اور میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا۔ اسی گھر میں بھگوان میرے لیے بڑا دیالو بن گیا تھا، اب مجھے اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکلنا ہو گا اس سنسار میں میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا کہ مجھے نرکھ میں بھیجا جائے۔ میرا خیال تھا کہ میں سورگ میں ہی جاؤں گا پھر جنموں کے اس چکر سے نجات مل جائے گی۔
تقریباً روزانہ ہی مندروں کے پنڈت، گرو بھگتی چیلے گھر کا چکر لگا رہے تھے۔ مکھ اگنی کے تین دن کے بعد سے ہی میری بیوی کے بھائی اشوک نے کچھ ایسا انتظام کیا تھا کہ ہمارے گھر کے بڑے سے لان کے ایک جانب بھوجن مستقل پک رہا تھا۔ میں نہ صرف یہ کہ دیکھ رہا تھا بلکہ لوگوں کے بات چیت کرنے کی آوازیں بھی بالکل صاف صاف آ رہی تھیں۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی تھی کہ مرنے کے بعد میرے سننے کی حس میں زبردست اضافہ ہوا تھا۔ ساری ملی جلی آوازیں اکٹھے آ رہی تھیں لیکن ہر ایک الگ آواز کو میں سمجھ بھی رہا تھا۔ میں نے صاف سنا تھا کہ مکیش جی نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ کوشش کرو کہ نینا میری چھوٹی بیٹی سے کچھ رشتہ بن جائے۔ رشتے پر تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا مگر انہوں نے اسے کہا یہ تھا کہ اس کے نام پر دولت بہت ہے۔ میں حیران ہو گیا تھا کہ مکیش جی بھی اندر سے دولت پرست ہیں۔
مکتی ملنے اور آتما کے آزاد ہونے میں دو دن ہی رہ گئے تھے کہ میں نے دیکھا کہ بنساری میرا گہرا دوست جس کی بیوی حادثے میں دو سال پہلے مر گئی تھی، اپنے دوست مہان سے مل کر میرے گھر میں ہی میری بیوی کو پھنسانے کے منصوبے بنا رہا تھا۔ میری بیوی بڑی خوبصورت عورت تھی۔ سارے گھر میں سفید کپڑے میں ملبوس وہ کسی دیوی کی طرح لگ رہی تھی۔ مجھے دنیا چھوڑنے میں سب سے زیادہ دکھ اسی بات کا تھا کہ میں اس سے جدا ہو گیا تھا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بنساری ہی میری بیوی پر ڈورے ڈالنے کے چکر میں ہو گا۔ ابھی مجھے مرے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے تھے۔ ابھی تو تیرہویں بھی نہیں ہوئی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میرے بعد میری بیوی بچوں کے مسائل میں ہی الجھ کر خوش رہے گی مگر پنساری کچھ ہی اور منصوبہ بندی کر رہا تھا، مجھے تکلیف ہوتی تھی۔
گھر کے سارے مرد اپنے بال منڈوا چکے تھے اور گھر میں چوتھی ساتویں اور دسویں دن کی پوجا پاٹ اور دعائیں بڑے شد و مد کے ساتھ جاری تھیں اور ہر کام وقت پر ہو رہا تھا، میرے لیے سورگ کا راستہ تیار کیا جا رہا تھا۔ میں لوگوں کو دیکھ کر خوش تو ہو رہا تھا مگر ساتھ ساتھ بعض دوستوں، رشتہ داروں اور عزیزوں کے رویے کو دیکھ کر کچھ بے چینی سی ہو رہی تھی۔ زندگی میں دنیا اچھی لگتی تھی پر مرنے کے بعد دیکھنے میں یہ آ رہا تھا کہ دنیا اتنی اچھی جگہ نہیں ہے۔ مجھے کئی حیرتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ گھر کے کچھ نوکر میرے مرنے کے غم سے بری طرح نڈھال تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے شدید افسوس ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی کچھ ایسے بھی تھے جنہیں میں بے انتہا وفادار سمجھتا تھا ان میں وفا نام کی کوئی چیز دیکھنے میں نہیں آ رہی تھی۔ وہ بعض دفعہ مذاق میں یا سنجیدگی سے میرے بارے میں کچھ ایسی باتیں کر رہے تھے جو انہیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ میں ان کی باتیں نہیں سن رہا ہوں۔ میں نہ صرف یہ کہ ان کی باتیں سن رہا تھا بلکہ حیران ہونے کے ساتھ پریشان بھی ہونا شروع ہو گیا تھا، ان لوگوں کے دو چہرے تھے جن کو میں زندگی میں بہت ایماندار سمجھتا تھا۔
پھر تیرہواں دن بھی آ گیا اور میں یکایک اپنے گھر سے گھر والوں کو چھوڑ کر سورگ پہنچ گیا۔ میں خوش تھا کہ اب دنیا سے دور نہ جانے کتنے فاصلے پر ایک ایسی سورگ میں پہنچ گیا ہوں جہاں امن و آشتی ہے اور ہر طرف چین ہی چین ہے۔ کسی قسم کی چنتا اور تردد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، سب کچھ خودبخود ہوجاتا ہے۔
پھر کچھ ایسا ہوا کہ میں پریشان ہو گیا، بھگوان سے ملنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ ادوشی اور دیوا دونوں ہی میرے اصرار پر پریشان ہو گئے کہ مجھے بھگوان سے ملنے کی اتنی چنتا کیوں ہو رہی ہے۔ میں بار بار ان سے کہہ رہا تھا کہ مجھے بھگوان سے ملنا ہے مگر بھگوان کے پاس تو وقت ہی نہیں تھا۔ میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ سورگ میں بھی دھرتی جیسا حال تھا، کوئی شنوائی نہیں تھی۔ یہاں کے فریادی کا یہ حال تھا تو نرکھ میں لوگوں کا کیا حال ہو گا۔ یہ سوچتے ہی مجھے بڑا عجیب سا احساس ہوا۔ اب دل تو تھا نہیں کہ جس کے دھڑکنے اور بیٹھنے کا ذکر کرتا۔ ایک عجیب طرح کی بے چینی اور احساس کا جیسے سمندر تھا جو دور کہیں پاتال کی طرف چلا جا رہا تھا۔
آخر مجھے بھگوان کا بلاوا آہی گیا اور ایک دیوا مجھے بھگوان کے پاس لے گئی۔ بھگوان کو بیان کرنا بڑا مشکل ہے۔ بس کچھ ایسا لگا تھا کہ میں بہت زبردست وزن کے نیچے آ گیا ہوں جو اصل میں بہت ہلکا بھی ہے۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بھگوان ایسے ہوں گے مگر سچی بات یہ ہے کہ میں بتا نہیں سکتا ہوں کہ بھگوان کیسے تھے، ان کا کیا رنگ روپ تھا، وہ کچھ بھی نہیں تھے مگر تھے، وہ کبھی بھی نہیں تھے مگر کہیں تھے۔ بھگوان نے پوچھا تھا کہ میرا کیا مسئلہ ہے اور میں کیوں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔
مجھے حیرت ہوئی کہ بھگوان کو میرے من کی باتوں کا پتہ نہیں ہے۔ وہ تو مہان ہوتے ہیں، انہیں تو سب پتہ ہوتا ہے آگے کا بھی، پیچھے کا بھی۔ بھگوان تو پھر بھگوان ہے اسے تو پتہ ہونا چاہیے مگر شاید اس طریقے میں بھی بھگوان کا کوئی بڑا بھید ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ بھگوان مجھے دیکھتے ہی میرے مسئلے کو حل کر دیتے، انہیں مجھ سے سوال کرنے کی اچھا کیوں تھی۔ مرنے کے بعد بھی بھگوان کو سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔ آخر بھگوان اتنے پیچیدہ کیوں ہیں میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔
پھر نہ جانے کیسے مجھ میں اتنی طاقت آ گئی کہ میں نے جواب دینا شروع کر دیا۔ بھگوان بس ایک ہی اچھا ہے، مرنے کے بعد ایک ہی خواہش۔ سورگ میں سب کچھ ہے مگر ایک چیز ایسی ہے جو مجھے پریشان کر رہی ہے۔
وہ کیا ہے منش، بھگوان نے اسے پوچھا جیسے انہیں پتہ ہی نہیں ہے۔ نہ جانے بھگوان ایسے کیوں کرتا ہے اسے سب پتہ ہے لیکن ظاہر یہ کرتا ہے کہ اسے کچھ پتہ نہیں، مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ بھگوان کے اس بھید کے پیچھے کیا راز ہے۔
میں نے کہا تھا بھگوان جب میں دنیا میں تھا تو دنیا کی باتیں آشکارا تھیں سب دیکھتا تھا، سنتا تھا، سمجھتا تھا پھر ان سب کو بدلنے روکنے یا آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا تھا مگر اب جو سورگ میں، میں ہوں تو بھی دنیا سے میرا تعلق نہیں ٹوٹا ہے میں تو سب کچھ دیکھ رہا ہوں پربھو، محسوس کر رہا ہوں، لمحہ لمحہ مجھے سب کچھ نظر آ رہا ہے۔ بھگوان لوگ میرے بچوں کو لوٹنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوست میری بیوی پر ڈورے ڈال رہے ہیں، میری بچی کے لیے عجیب عجیب لوگ نہ جانے کیا کرنا چاہ رہے ہیں۔ مجھے یہ پتہ ہے کہ جو بھی لوگ میرے پریوار کے ساتھ جو بھی کرنا چاہ رہے ہیں ان کا توڑ ہے، انہیں روکا جا سکتا ہے، انہیں تباہ بھی کیا جا سکتا ہے، پر سورگ میں رہ کر یہ تو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب کسی دیوا کو یہ کہہ دیں کہ میرا دنیا سے رشتہ، رابطہ، تعلق سب کچھ ختم کردے تاکہ میں دنیا کو نہ دیکھوں نہ محسوس کروں اور نہ ہی سمجھوں۔
میں خاموش ہوا ہی تھا کہ بھگوان نے کہا دنیا تو ایسی ہی جگہ ہے۔ دنیا میں تو یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ کبھی تمہارے سامنے، کبھی اس وقت جب تم دھرتی پر نہیں ہوتے ہو۔ دھرتی پر رہنے والے لوگ بدلتے نہیں ہیں، یہ تم نے کیوں سمجھا کہ تمہارے مرنے سے وہ بدل جائیں گے، تمہیں مکتی مل گئی ہے مگر ان کو تو وہی کرنا ہے جو کرنا ہے۔
تو پھر ایسی دھرتی ایسے لوگ تو نے بنائے کیوں ہیں؟ مہاراج ضرورت کیا تھی، ایسی آتماؤں کی، اس گورکھ دھندے کی۔ چاہنے کے باوجود زور سے بول پڑا تھا۔ میں اور بھی کچھ بولنے والا ہی تھا کہ میرا تعلق۔۔۔


